कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

غزہ میں فلسطینی نسل کشی کے 200 دن،انسانی تاریخ کا بدترین قتل عام

جنیوا :24؍اپریل: فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی پر 200 دن کی وحشیانہ اسرائیلی جنگ کے بعد جنگ کے نتائج اس کی شدت اور فلسطینی شہریوں کو براہ راست اور جان بوجھ کر نشانہ بنانے کے لحاظ سے بھیانک دکھائی دے رہے ہیں۔ "اسرائیل” کو قوانین کی تعمیل کرنے کا پابند کرنے میں شرمناک بین الاقوامی ناکامی نے فلسطینیوں کے وحشیانہ قتل عام اور جنگی جرائم میں خونی دشمن کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ بدقسمتی سے سلامتی کونسل ،اقوام متحدہ، عالمی عدالت انصاف اور انسانیت کے دفاع کے دیگر عالمی ادارے فلسطینیوں کی منظم نسل کشی روکنے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔یورو-میڈیٹیرینین ہیومن رائٹس مانیٹر نے ایک بیان میں غزہ میں نسل کشی کے جاری جرائم کے تباہ کن نتائج کی تعداد کا جائزہ شائع کیا ہے۔اس بات کا ذکر کیا کہ "اسرائیل” اسی رفتار اور خوفناک طریقوں سے اپنا حملہ جاری رکھے ہوئے ہیاور جارحیت روکنے کے مطالبات کو یکسر اور پوری ڈھٹائی کے ساتھ نظر انداز کر رہا ہے۔ امریکی اور یورپی مدد سے جاری وحشیانہ اسرائیلی جنگ بین الاقوامی بیانات آگے نہیں بڑھتے۔قابض افواج منظم طریقے سے اور سوچے سمجھیمنصوبے کے تحت اجتماعی سزا کے عمل کے ایک حصے کے طور پرفلسطینی شہریوں کو نشانہ بنانے کی غیرانسانی پالیسی پرعمل پیرا ہے جس کا مقصد قتل و غارت گری کے ساتھ شہریوں کو بے گھر کرکے غزہ کی پٹی سے انہیں نکال باہر کرنا ہے اور اس مکروہ مشن پرامریکی اور مغربی ممالک کا اسلحہ اور جنگی ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں۔بیان کے مطابق حملے کے 200 دنوں کے دوران قابض فوج نے 42,510 فلسطینیوں کو شہید اور لاپتا کیا جن میں 38,621 عام شہری شامل ہیں جن میں 15,780 بچے اور 10,091 خواتین شامل ہیں۔ اب بھی کئی ہزار شہدا ملبے تلے دبے ہیں جبکہ ہزاروں لاپتہ ہیں جن کا انجام معلوم نہیں ہے۔آبزرویٹری کے مطابق غزہ میں دو سو دنوں سے جاری قتل عام میں اوسطا ہر روز 212 فلسطینیوں کو شہید کیا جاتا ہے۔اسرائیل روزانہ 79 بچوں اور 50 خواتین کوشہید اور زخمی کرتا۔ یہ عرب اسرائیل تنازع کی تاریخ اور عصری جنگوں کے تناظر میں خوفناک تعداد ہے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ ان کے عملے نے ہزاروں مخصوص جرائم کا ریکارڈ مرتب کیا ہے جن میں قابض فوج نے فلسطینی شہریوں کو ضرورت اور تناسب کے بغیر نشانہ بنایا۔ یعنی انہوں نے شہریوں کو جائز اہداف میں تبدیل کیا، جن میں ان کے رہائشیوں کے سروں پر گھروں اور پناہ گاہوں پر بمباری۔ ماورائے عدالت قتل عام کیا گیا۔اندھا دھند بمباری کا مقصد شہریوں میں خوف ہراس پھیلانا اور نسل کشی کے جرم کو آگے بڑھانا ہے۔ شہید ہونے والوں میں 140 صحافی، 485 طبی کارکن اور 66 سول ڈیفنس کے اہلکار شامل ہیں۔غزہ میں وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی قابض فوج نے غزہ کی پٹی میں خاندانوں کے خلاف 3 مزید اجتماعی قتل عام کیے ہیں جن میں 32 شہید اور 59 زخمی ہیں جنہیں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہسپتالوں میں داخل کیا گیا۔اس نے تصدیق کی کہ گذشتہ سات اکتوبر سے اب تک اسرائیلی جارحیت میں 34,183 شہید اور 77,143 زخمی ہوئے ہیں۔وزارت صحت کا کہنا ہے کہ ملبے کے نیچے اور سڑکوں پر اب بھی متعدد شہدا اور زخمی دبے ہوئے جن تک ایمبولینس اور شہری دفاع کا عملہ ان تک نہیں پہنچ سکتا۔گذشتہ 7 اکتوبر سے "اسرائیلی” قابض افواج غزہ کی پٹی پر تباہ کن جنگ چھیڑ رہی ہے، جس کے نتیجے میں دسیوں ہزار شہید، زخمی اور لاپتہ ہونے کے علاوہ 20 لاکھ افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔ غزہ کی پٹی کا تقریبا 70 فیصد بنیادی ڈھانچہ اور عمارتیں تباہ کی گئی ہیں۔
فلسطینیوں کی نسل کشی میں امریکہ برابر کا مجرم ہے:حماس
غزہ:24؍اپریل: اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] نے امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کے غزہ جنگ کے حوالے سے متنازع بیانات اور حماس کو معاہدے تک پہنچنے میں رکاوٹ کا ذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔حماس کی طرف سے جاری ایک بیان کی نقل مرکزاطلاعات فلسطین کو موصول ہوئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بلنکن کے بیانات کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ امریکی وزیرخارجہ کی طرف سیحماس کو معاہدے تک پہنچنے کے لیے لچک نہ دکھانے کا الزام سراسر جھوٹ ہے۔ حماس نے غزہ میں قتل وغارت گری روکنے کے لیے ثالث ممالک کے ذریعے اسرائیل سے بالواسطہ مذاکرات میں بار بار لچک دکھائی ہے مگر صہیونی ریاست کی ہڈ دھرمی کے نتیجے میں جنگ بندی کی مساعی آگے نہیں بڑھ سکی ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل غزہ کی پٹی میں جنگ اور فلسطینی قوم کی نسل کشی جاری رکھنا چاہتا ہے اور اس جرم میں امریکہ صہیونی ریاست کے ساتھ برابر کا مجرم ہے۔ اسرائیل اور امریکہ غزہ جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں اور وہ جنگ بندی کے لیے ہونے والی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔انہوں نے نشاندہی کی کہ حماس اور مزاحمتی فورسز کے مطالبات پہلے دن سے ہی واضح ہیں اور وہ وہی ہیں جو انہوں نے گزشتہ مارچ میں پیش کیے تھے۔ تمام فریقوں اور ثالثوں نے ان کا خیرمقدم کیا تھا اور وہ ہمارے عوام کے قومی موقف اور ان کے مفادات کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ غزہ کی پٹی میں عارضی کے بجائے مستقل جنگ بندی کی ضرورت ہے۔ اسرائیلی قابض فوج کو غزہ سے نکلنا ہوگا اور فلسطینی شہریوں کو ان کے گھروں کو واپس آنے کی غیرمشروط اجازت ہوگی۔حماس نے اس بات پر زور دیا کہ ہماری قوم کے خلاف نسل کشی کی جنگ میں مکمل شراکت دار کے طور پر امریکی کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ امریکہ فلسطینیوں کی نسل کشی کے لیے اسرائیلی غاصب دشمن کو اسلحہ دیتا ہے اور صہیونی فوج نہتے فلسطینیوں پراس اسلحے کو استعمال کررہی ہے۔امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ وہ "یرغمالی مذاکرات” کے ذریعے کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے دبا ڈالتا رہے گا۔انہوں نے اپنے بیانات میں دعوی کیا کہ حماس نے گذشتہ چند ہفتوں میں یرغمالیوں کے مذاکرات میں اپنا مقصد تبدیل کیا اور اپنے مطالبات کو تبدیل کیا۔انہوں نے کہا کہ گیند اب حماس کے کورٹ میں ہے اور اگر اسے فلسطینی عوام کے مفادات کا خیال ہے تو اسے مجوزہ معاہدے کو قبول کرنا چاہیے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے