कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

غزہ میں جنگ بندی کی قرارداد پر امریکی ویٹو کے بعد سلامتی کونسل میں غصے کی لہر

نیویارک:5؍جون:امریکہ نے بدھ کے روز غزہ میں جنگ بندی اور محصور علاقے میں انسانی امداد کی بلا رکاوٹ رسائی کی اپیل پر مبنی قرارداد کو ویٹو کر کے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے دیگر ارکان کے غصے کو بھڑکا دیا۔ امریکہ نے اپنے اقدام کو اس دلیل کے ساتھ درست قرار دیا کہ یہ متن اس تنازع کے حل کے لیے جاری سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔فرانس اور برطانیہ کے سفیروں نے ووٹنگ کے نتائج پر "افسوس” کا اظہار کیا، جب کہ چینی سفیر فو کونگ نے براہ راست امریکہ کو اس صورت حال کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے اسے "سیاسی مفادات سے دست بردار ہو کر منصفانہ اور ذمہ دارانہ موقف اختیار کرنے” کی دعوت دی۔الجزائر کے سفیر عمار بن جامع نے کہا کہ "خاموشی نہ مردوں کا دفاع کرتی ہے، نہ مرتے ہوں کا ہاتھ تھامتی ہے، اور نہ ہی ظلم کے نتائج کا سامنا کرتی ہے۔” سفیر عاصم افتخار احمد نے امریکی ویٹو پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے غزہ میں فلسطینیوں کی "نسل کشی کی کھلی اجازت” اور "سلامتی کونسل کے ضمیر پر ایک اخلاقی داغ” قرار دیا۔سلووینیا کے سفیر سموئیل زبوگار نے کہا کہ "جب انسانیت کو غزہ میں براہ راست آزمائش کا سامنا ہے، تو یہ قرارداد ہمارے مشترکہ احساسِ ذمہ داری سے جنم لے چکی ہے، یہ ذمہ داری ہم غزہ کے عام شہریوں، اسیر اسرائیلیوں، اور تاریخ کے سامنے ادا کرتے ہیں۔” وہ پکار اٹھے "بس! بس … بہت ہو گیا!”امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاس میں بطور صدر واپسی کے بعد یہ پہلا ویٹو ہے جو واشنگٹن نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں استعمال کیا ہے۔ووٹنگ سے قبل امریکی مندوب ڈورتھی شیا نے کہا کہ "یہ قرارداد ایسی جنگ بندی کی کوششوں کو نقصان پہنچائے گی جو زمینی حقائق کی عکاسی کرتی ہو اور حماس کی حوصلہ افزائی کرتی ہو۔ نیز، یہ قرارداد اسرائیل اور حماس کے درمیان ایک جھوٹی مساوات قائم کرتی ہے۔” انھوں نے مزید کہا کہ "یہ متن نہ صرف اس وجہ سے ناقابل قبول ہے کہ اس میں کیا درج ہے، بلکہ اس وجہ سے بھی کہ اس میں کیا شامل نہیں کیا گیا۔” انھوں نے اسرائیل کے "اپنے دفاع کے حق” پر زور دیا۔یہ سلامتی کونسل، جس میں پندرہ رکن ممالک شامل ہیں، کی جانب سے غزہ کی جنگ پر پہلا ووٹ تھا، جو نومبر کے بعد ہوا۔ اس سے قبل سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں امریکہ نے ایسی ہی ایک قرارداد کو روکا تھا، جو جنگ بندی کا مطالبہ کرتی تھی اور یہ جنگ تقریبا 20 ماہ سے جاری ہے۔سلامتی کونسل کی جانب سے غزہ کے بارے میں آخری قرارداد جون 2024 میں منظور ہوئی تھی، جس میں ایک امریکی منصوبے کی حمایت کی گئی تھی جو مرحلہ وار جنگ بندی اور اسرائیلی قیدیوں کی رہائی پر مشتمل تھی، تاہم جنگ بندی جنوری 2025 تک مثر نہ ہو سکی۔اس حالیہ قرارداد کو سلامتی کونسل کے دس غیر مستقل ارکان نے پیش کیا، جس کے حق میں 14 ووٹ آئے، جبکہ مخالفت میں صرف امریکہ نے ووٹ دیا۔قرارداد میں "فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی” اور قیدیوں کی غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔ ساتھ ہی "غزہ میں تباہ کن انسانی صورت حال” پر روشنی ڈالی گئی اور "غزہ میں انسانی امداد کی بلا رکاوٹ، فوری اور غیر مشروط رسائی” پر زور دیا گیا، تاکہ اقوام متحدہ سمیت دیگر فریقین کی جانب سے امداد محفوظ اور مثر طریقے سے پہنچائی جا سکے۔
تاریخ ہمارا احتساب کرے گی
دو ماہ سے زائد جاری شدید محاصرے کے بعد اسرائیل نے 19 مئی سے اقوام متحدہ کی چند امدادی گاڑیوں کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دی۔ ادھر اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یہ امداد صرف "سمندر میں ایک قطرہ” ہے، جب کہ غزہ قحط کے خطرے سے دوچار ہے اور جنگ و محاصرہ جاری ہے۔اسی دوران، امریکہ کی معاونت یافتہ "غزہ ہیومینیٹرین فانڈیشن” نے 26 مئی سے غزہ میں امدادی سامان کی تقسیم شروع کی۔ تاہم بدھ کے روز ادارے نے اپنے مراکز عارضی طور پر بند کر دیے، کیوں کہ ان کے اطراف حالیہ دنوں میں اسرائیلی فائرنگ سے درجنوں افراد جاں بحق ہو چکے تھے، جیسا کہ غزہ کے شہری دفاع کے ادارے نے بتایا۔اقوام متحدہ نے اس فانڈیشن سے تعاون سے انکار کر دیا کیوں کہ اس کی مالی معاونت کے ذرائع "مشکوک” ہیں اور یہ بنیادی انسانی اصولوں کی پاسداری نہیں کرتی۔ اقوام متحدہ نے ان مراکز کو "مہلک جال” قرار دیا جہاں بھوکے فلسطینیوں کو "خاردار تاروں کے درمیان” مسلح نجی محافظوں کے نرغے میں چلنا پڑتا ہے۔اقوام متحدہ میں فلسطینی سفیر ریاض منصور نے منگل کے روز کہا "آپ سلامتی کونسل میں غصہ دیکھ رہے ہیں… اور پھر بھی بے بسی کو قبول کرتے ہیں؟ آپ کو حرکت میں آنا ہو گا۔” انھوں نے اقوام متحدہ کے انسانی امور کے رابطہ کار ٹام فلیچر کے اس خطاب کا حوالہ دیا جس میں انھوں نے غزہ میں "نسل کشی کو روکنے” کا مطالبہ کیا تھا۔منصور نے خبردار کیا کہ اگر ویٹو استعمال کیا گیا، تو دبا "ان پر ہو گا جو سلامتی کونسل کو اس کی ذمہ داری ادا کرنے سے روکتے ہیں”، اور مزید کہا: "تاریخ ہم سب کا احتساب کرے گی کہ ہم نے فلسطینی قوم کے خلاف اس جرم کو روکنے کے لیے کیا کیا۔”اسرائیل پر بین الاقوامی دبا بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ غزہ میں جنگ ختم کرے، جو سات اکتوبر 2023 کو حماس کے جنوبی اسرائیل پر غیر معمولی حملے کے بعد شروع ہوئی تھی۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے