कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

غزہ میں امداد تقسیم کے پوائنٹس کو نشانہ بنانے کی ویڈیو اور عینی شاہدین کی روداد

غزہ:2؍جون:غزہ کے فلسطینی شعبے کے طبی عملے کے مطابق اتوار کو اسرائیل نے غزہ ہیومینیٹیرین فانڈیشن کے زیر انتظام ایک امدادی تقسیم کے پوائنٹ کو نشانہ بنا ڈالا ۔ اس حملے میں غزہ کے جنوب میں واقع رفح میں کم از کم 26 افراد جاں بحق ہوگئے۔
عینی شاہدین کی روداد
عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی فوج نے اتوار کی صبح غزہ کی پٹی کے وسطی محور نتساریم میں امدادی تقسیم پوائنٹ کے قریب فلسطینیوں پر فائرنگ کی اور اس حوالے سے آوازیں سنی گئیں۔ اس کے بعد جمع ہونے والے لوگ بمباری سے بھاگنے لگے۔ ایک عینی شاہد نے بتایا کہ لوگ صبح چار بجے سے جمع ہونا شروع ہو گئے تھے، المواصی علاقے میں اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے تاکہ امریکی کمپنی سے غذائی اور انسانی امداد حاصل کر سکیں۔ اچانک ہم نے دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سنیں۔ پھر لوگ ہر سمت بھاگنے لگے۔ میں نے لوگوں کو خون میں لت پت گرتے دیکھا۔ ہمیں معلوم نہیں تھا کہ فائرنگ کہاں سے آ رہی ہے۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے فائرنگ
ایک اور عینی شاہد نے کہا کہ ہم بھاگنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن صورتحال افراتفری کا شکار تھی۔ بچے، خواتین اور بوڑھے چیخ رہے تھے۔ کچھ زخمیوں کو گدھا گاڑیوں پر ہسپتال لے جایا گیا کیونکہ مسلسل بمباری کی وجہ سے ایمبولینسیں دیر سے پہنچیں۔ ایک اور عینی شاہد نے یہ بھی کہا کہ یہ ایک ہولناک منظر تھا جہاں درد کی چیخیں دھماکوں کی آوازوں میں گھل مل گئی تھیں۔ عام شہریوں میں خوف و ہراس کی کیفیت بڑھ گئی۔سول ڈیفنس کے ترجمان محمود بصل نے بتایا کہ کم از کم 10 فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں اور 100 سے زائد دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ اسرائیلی گاڑیوں نے ان ہزاروں شہریوں پر فائرنگ کردی تھی۔ جو رفح کے مغرب میں امریکی امدادی مقام کے قریب پہنچ رہے تھے۔ انہوں نے کہا ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو خان یونس کے ناصر ہسپتال منتقل کیا گیا۔غزہ میں حکومتی میڈیا آفس نے اس حملے کی مذمت کی اور اسے "بار بار ہونے والا قتل عام” قرار دیا جو "بھوکے شہریوں” کو نشانہ بنا رہا ہے اور اسرائیلی فوج پر الزام لگایا کہ وہ امدادی تقسیم کے پوائنٹس کو بڑے پیمانے پر قتل کے جال میں تبدیل کر رہی ہے۔بیان میں ایک آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیٹی کے قیام کا مطالبہ کیا گیا تاکہ ان جرائم کی دستاویزات تیار کی جا سکیں۔ یاد رہے اسرائیلی فوج نے رفح اور کرم ابو سالم جیسی گزرگاہوں کو بند کیا ہوا ہے اور بین الاقوامی تنظیموں کی جانب سے غزہ کی جانب انسانی امداد کی ترسیل رک گئی ہے۔یو این رپورٹس کے مطابق مسلسل بمباری کی وجہ سے بار بار لوگ نقل مکانی کر رہے ہیں۔ بھوک کا بحران ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتا جارہا ہے۔ لاکھوں افراد کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ بچوں کی حالت انتہائی نازک ہے۔ اب تک کئی بچے بھوک کی وجہ سے موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے