कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

غزہ میں اقوام متحدہ کی طرف سے قحط کا اعلان، کیا دنیا کا مردہ ضمیر اب بھی نہیں جاگے گا؟

غزہ:24؍اگست:غزہ میں قابض اسرائیل کی طرف سے جاری 686 روزہ نسل کشی اور مسلسل بمباری کے بعد بالآخر اقوام متحدہ نے اس المناک حقیقت کا اعتراف کر لیا ہے کہ جنگ سے تباہ حال علاقے میں قحط پھوٹ پڑا ہے۔ یہ اعلان اس امر کا عالمی اقرار ہے کہ قابض اسرائیل نے فلسطینی عوام کو دانستہ طور پر بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے اجتماعی سزا دی اور نسل کشی کی راہ ہموار کی۔ سوال یہ ہے کہ اس اعتراف کے بعد عملی طور پر کیا اقدامات اٹھائے جائیں گے تاکہ دو ملین سے زائد فلسطینی شہریوں کو بمباری یا بھوک سے مرنے سے بچایا جا سکے۔عالمی سطح پر قحط کی نگرانی کرنے والی تنظیم "آئی پی سی نے جمعہ کو اعلان کیا کہ غزہ کی گنجان آبادی والے علاقے میں قحط برپا ہو چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پانچ لاکھ سے زائد فلسطینی انسان ناقابل برداشت بھوک اور شدید غذائی قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔اقوام متحدہ کی سرپرستی میں شائع کردہ "مرحلہ وار غذائی سلامتی کی درجہ بندی میں کہا گیا ہے کہ غزہ کے نصف ملین سے زائد شہری بھوک، غربت اور موت کی دہلیز پر کھڑے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق رواں ماہ کے اختتام تک یہ قحط وسطی علاقے دیر البلح اور جنوبی علاقے خان یونس تک پھیل جائے گا۔ ادارے نے خبردار کیا ہے کہ قحط کو روکنے کے لیے فوری اقدام نہ کیا گیا تو جون سنہ2026 تک غذائی قلت تیزی سے بڑھ جائے گی۔اگرچہ قابض اسرائیل نے اکتوبر سنہ2023 میں اپنے حملے کے آغاز پر ہی کھانے پینے کو بہ طور ہتھیار استعمال کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن بعد ازاں اس نے حقیقت چھپانے کی خاطر محدود اور نمائشی امداد کے بہانے تراشے، جو کسی بھی طور انسانی ضروریات کو پورا نہیں کرتے۔
اعلان کی اہمیت
قحط کے اس اعلان کی اہمیت اس کی نایابی میں ہے۔ دنیا میں چند مواقع پر ہی باضابطہ قحط کا اعلان کیا گیا ہے، جیسا کہ صومالیہ میں سنہ2011، جنوبی سوڈان میں سنہ2017 اور سنہ2020، اور دارفور میں سنہ2024 میں اعلان کیا گیا۔اس اعلان کے لیے تین شرائط کا بیک وقت پورا ہونا ضروری ہے: کم از کم بیس فیصد گھرانے شدید غذائی قلت کا شکار ہوں، تیس فیصد بچے شدید غذائی کمی سے متاثر ہوں، اور ہر دس ہزار افراد میں روزانہ دو افراد سے زائد کی موت بھوک اور فاقوں سے واقع ہو رہی ہو۔
قابض اسرائیل کی منظم سازش
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ غزہ میں قحط کوئی حادثہ نہیں بلکہ قابض اسرائیل کی جانب سے دانستہ طور پر پیدا کردہ تباہی ہے۔ یہ انسانیت پر ایک سنگین اخلاقی الزام ہے۔ گوتریس نے کہا کہ جب الفاظ غزہ کے جہنم کو بیان کرنے سے قاصر ہو گئے تو اب ایک نیا لفظ شامل ہو گیا ہے: قحط۔ یہ صرف کھانے کی کمی نہیں بلکہ انسان کو زندہ رکھنے والے پورے نظام کا شعوری انہدام ہے۔گوتریس نے واضح کیا کہ غزہ کے لوگ بھوک سے مر رہے ہیں، بچے دم توڑ رہے ہیں اور جو طاقتور اس المیے کو روکنے کے ذمہ دار ہیں وہ بری طرح ناکام ہو چکے ہیں۔ انہوں نے قابض اسرائیل کو بین الاقوامی قانون کے تحت ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ یہ صورتحال سزا کے بغیر مزید جاری نہیں رہ سکتی۔
2006 سے جاری بھوک کی پالیسی
یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ قابض اسرائیل نے سنہ2006 سے غزہ کا محاصرہ کر رکھا ہے اور یہاں داخل ہونے والی خوراک اور اشیائے ضروریہ کی مقدار کیلوریز کی پیمائش کے تحت متعین کی جاتی رہی ہے تاکہ لوگ صرف زندہ رہ سکیں۔ مگر اکتوبر سنہ2023 کے حملے کے بعد اس درندگی کو کئی گنا بڑھا دیا گیا۔ یہ سب دائیں بازو کی انتہا پسند اسرائیلی حکومت کے سیاسی اور انتقامی عزائم کو پورا کرنے کے لیے کیا گیا جس پر اب عالمی ادارے بھی خاموش نہیں رہ سکتے۔
نسل کشی کے لیے بھوک کا ہتھیار استعمال
جنوبی افریقہ کی وزارت خارجہ کے قانونی مشیر زہیر لاہر نے کہا کہ اس رپورٹ نے بالکل وہی ثابت کیا ہے جس کا ان کی حکومت بارہا ذکر کر چکی ہے کہ قابض اسرائیل منظم انداز میں غزہ کے عوام کو ختم کرنے کے لیے قحط مسلط کر رہا ہے۔ یہ نسل کشی کے عزم اور اس پر عملدرآمد کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ رپورٹ عالمی عدالت انصاف میں جنوبی افریقہ کے کیس کو مزید مضبوط کرے گی اور دیگر ممالک بھی اس کیس میں شامل ہوں گے۔
منظم مہم
سابق سربراہ اقوام متحدہ کمیشن برائے انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کے ماہر ولیم چاباس نے کہا کہ یہ رپورٹ غزہ میں دانستہ بھوک مسلط کرنے کی مہم کو ثابت کرتی ہے۔ ان کے مطابق ثبوتوں کی بھرمار ہے اور اب ضروری ہے کہ قابض اسرائیل پر بین الاقوامی قوانین اور عالمی عدالت انصاف کے فیصلے لاگو کیے جائیں۔
زمینی حقائق اس سے کہیں زیادہ خوفناک
یورومیدیٹرین آبزروریٹری نے کہا کہ یہ اعلان اگرچہ تاخیر سے کیا گیا مگر اس نے ناقابل تردید حقیقت آشکار کر دی ہے کہ قابض اسرائیل نے قحط کو جان بوجھ کر غزہ پر مسلط کیا ہے۔ ادارے کے مطابق حقیقت میں ڈیڑھ ملین سے زائد فلسطینی شدید بھوک سے دوچار ہیں جو اقوام متحدہ کے تخمینے سے کہیں زیادہ ہے۔وزارت صحت غزہ کے مطابق قحط اور غذائی قلت کے باعث اب تک 271 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں 112 بچے شامل ہیں۔ تاہم زمینی حقائق اس سے کہیں بڑے ہیں کیونکہ صحت کا پورا نظام تباہ ہو چکا ہے اور ہلاکتوں کا مکمل اندراج ممکن نہیں رہا۔
قابض اسرائیل کا مجرمانہ فیصلہ
یہ تمام تر تباہی ایک مجرمانہ فیصلے کا نتیجہ ہے جو قابض اسرائیل نے نسل کشی کے دوسرے ہی دن کیا جب اس کے وزرا نے اعلان کیا کہ "غزہ کے باسیوں کے لیے نہ کھانا ہوگا نہ پانی۔ اس کے بعد امداد اور اشیائے ضروریہ کو روکنے کے لیے ایک منظم پالیسی لاگو کر دی گئی تاکہ بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا سکے۔
رپورٹس کے مطابق 27 مئی کو قابض اسرائیل نے نام نہاد "غزہ ہیومنیٹیرین نامی ادارہ قائم کیا جس کے تحت امدادی تقسیم کے مراکز دراصل موت کے جال بن گئے۔ ان مراکز پر براہ راست فلسطینیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ صرف اس منصوبہ بندی کے تحت 2 ہزار 36 افراد شہید اور 15 ہزار 64 زخمی ہوئے۔ ہزاروں مزید فلسطینی اس وقت مارے گئے جب وہ امدادی ٹرکوں سے خوراک لینے کی کوشش میں قابض فوج اور امریکی کرائے کے قاتلوں کے حملوں کا نشانہ بنے۔ان مراکز کو دانستہ اس طرح ڈیزائن کیا گیا کہ بڑی تعداد میں کمزور، بیمار، معذور یا بے سہارا افراد وہاں تک پہنچ ہی نہ سکیں اور بھوک سے آہستہ آہستہ موت کا شکار ہوں۔اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا عالمی برادری اس قحط اور نسل کشی کے بعد عملی اقدامات کرے گی تاکہ لاکھوں فلسطینیوں کو بچایا جا سکے، یا یہ اعلان بھی محض کاغذی بیانیہ بن کر رہ جائے گا۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے