कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

عید الفطر، رمضان کے بعد کی زندگی کا امتحان

تحریر:ڈاکٹر مولانا محمد عبد السمیع ندوی
اسسٹنٹ پروفیسر، مولانا آزاد کالج، اورنگ آباد
موبائل: 9325217306

ماہِ رمضان المبارک اپنی تمام تر برکتوں، رحمتوں اور مغفرتوں کے ساتھ رخصت ہو جاتا ہے، اور اس کے بعد عید الفطر کی خوشیاں ہمارے دروازے پر دستک دیتی ہیں۔ بظاہر یہ خوشی کا دن ہے، لیکن درحقیقت یہ ایک مومن کے لیے امتحان کا آغاز بھی ہے۔ رمضان ایک تربیتی کیمپ تھا، اور عید اس بات کا اعلان ہے کہ اب اس تربیت کو عملی زندگی میں نافذ کرنے کا وقت آ گیا ہے۔
رمضان المبارک میں ہم سب نے ایک خاص روحانی فضا محسوس کی۔ مساجد آباد رہیں، نمازوں میں خشوع و خضوع پیدا ہوا، تلاوتِ قرآن کا اہتمام بڑھ گیا، اور نیکیوں کی طرف رغبت میں اضافہ ہوا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ کیفیت صرف ایک مہینے تک محدود رہنی چاہیے؟ کیا اللہ تعالیٰ صرف رمضان کا رب ہے؟ یقیناً نہیں! وہ سارا سال، ہر لمحہ ہمارا رب ہے۔
مثبت پہلو: رمضان کی برکتوں کو جاری رکھنا:
ایک سچے مومن کی پہچان یہ ہے کہ وہ رمضان کے بعد بھی اپنی عبادات کو جاری رکھے۔ اگر کسی نے رمضان میں پانچ وقت کی نماز کی پابندی اختیار کی، تو اسے چاہیے کہ وہ عید کے بعد بھی اسی پابندی کو برقرار رکھے۔ اگر قرآن کی تلاوت کی عادت بنی، تو اسے ترک نہ کرے۔ اگر تہجد، صدقہ، صبر اور تقویٰ کی کیفیت پیدا ہوئی، تو اسے اپنی زندگی کا حصہ بنائے۔
حقیقت یہ ہے کہ رمضان ہمیں خود کو بدلنے کا موقع دیتا ہے، اور کامیاب وہی ہے جو اس تبدیلی کو مستقل بنا لے۔ ایسے لوگ ہی درحقیقت عید کی خوشیوں کے مستحق ہیں، کیونکہ انہوں نے رمضان کے پیغام کو سمجھا اور اپنی زندگی میں نافذ کیا۔
منفی پہلو: عید کے بعد عبادات سے غفلت:
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو صرف رمضان میں ہی نمازی بنتے ہیں۔ جیسے ہی عید کا دن گزرتا ہے، مساجد ویران ہونے لگتی ہیں، صفیں خالی ہو جاتی ہیں، اور وہی لوگ جو تراویح میں پہلی صف میں نظر آتے تھے، اب فرض نمازوں سے بھی غافل ہو جاتے ہیں۔
یہ طرزِ عمل نہایت تشویشناک ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ ہم نے رمضان کو صرف ایک رسم کے طور پر لیا، اس کی روح کو نہیں سمجھا۔ ایسے لوگ درحقیقت اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ اگر عبادت صرف ایک مہینے تک محدود ہو جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے اللہ سے تعلق کو وقتی بنا لیا، جبکہ اسلام ہمیں دائمی تعلق کا درس دیتا ہے۔
اسی طرح عید کے بعد بہت سے لوگ دوبارہ گناہوں کی طرف لوٹ جاتے ہیں، جیسے فلموں، گانوں، بے حیائی اور فضول مشاغل میں مشغول ہو جانا۔ زبان کی حفاظت ختم ہو جاتی ہے، جھوٹ، غیبت اور فضول باتیں عام ہو جاتی ہیں۔ یہ سب اس بات کی دلیل ہے کہ رمضان کی تربیت ہمارے دلوں میں راسخ نہیں ہو سکی۔
اصل کامیابی کیا ہے؟
اصل کامیابی یہ نہیں کہ ہم نے رمضان میں کتنی عبادت کی، بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ رمضان کے بعد ہماری زندگی میں کیا تبدیلی آئی۔ اگر ہماری نمازیں برقرار رہیں، اخلاق بہتر ہو گئے، اور ہم گناہوں سے بچنے لگے، تو سمجھ لیجیے کہ ہمارا رمضان کامیاب رہا۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے: "نیکی وہ نہیں جو قبول ہو جائے، بلکہ نیکی وہ ہے جو قبولیت کے بعد بھی جاری رہے۔” اس لیے ہمیں اپنے اعمال کا جائزہ لینا چاہیے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔
ہماری ذمہ داری کیا ہے؟:
ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس بات کی ترغیب دیں کہ وہ رمضان کے بعد بھی دین پر قائم رہیں۔ مساجد سے تعلق مضبوط کریں، قرآن سے رشتہ جوڑیں، اور اپنے اخلاق و کردار کو بہتر بنائیں۔
خاص طور پر علماء، ائمہ اور اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام الناس کی صحیح رہنمائی کریں، انہیں عید کے بعد کی زندگی کے تقاضوں سے آگاہ کریں، اور دین کو صرف رمضان تک محدود نہ رہنے دیں۔
عید الفطر صرف خوشی منانے کا دن نہیں، بلکہ یہ عہد کی تجدید کا دن ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب ہم یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ ہم رمضان کے بعد بھی اللہ کے بندے بن کر رہیں گے، نہ کہ صرف رمضان کے مسلمان۔
اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم رمضان کے پیغام کو اپنی زندگیوں میں زندہ رکھیں، اپنی عبادات کو جاری رکھیں، اور عید کو حقیقی معنوں میں کامیابی کا جشن بنا سکیں۔ آمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے