कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

عید الاضحی اور قربانی کا حقیقی پیغام

تحریر:عارف عزیز (بھوپال)

’’عیدالاضحی‘‘ نویدِ مسرت کا دن ہے کہ جسے تین دن تک منانے کا حکم دیا گیا، یہ دراصل عطیم پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے لخت جگر، نور نظر حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی اطاعت وفرماں برداری کی یادگار ہے۔ یہ دن ہمیں یہ فلسفہ اور پیغام دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے محترم و عزیز بندے اطاعت الٰہی اور حکم ربانی میں بڑی سے بڑی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ حضرت ابراہیمؑ اور اسمٰعیلؑ کی اطاعت و فرماں برداری کو ربّ ذو الجلال نے اِس قدر پسند فرمایا کہ رہتی دنیا تک کے لئے قربانی کو سنتِ ابراہیمی کے نام سے جاری کر دیا۔
قربانی کے حوالے سے قرآن پاک کی سورۃ الکوثر میں ارشاد ہوتا ہے: ’’بے شک ہم نے آپ کو کوثر عطا کیا پس فرمایا کہ رہتی دنیا تک کے لئے قربانی کیجئے یقینا آپ کا دشمن ہی بے نام و نشان رہے گا۔‘‘ حضرت ابراہیم ؑعلیہ السلام کی زندگی کو رب العزت نے بے شمار امتحانات، آزمائشوں سے گزارا۔ صفا و مروہ کے بے آب و گیاہ پہاڑوں پر حضرت ہاجرہ اور شیرخوار، حضرت اسماعیل علیہ السلام کو تنہا چھوڑ دینا ہو یا پھر اللہ کی رضا، خوشنودی اور حکم کی اطاعت پر سرتسلیم خم کرتے ہوئے آتش نمرود میں بنے خطر کود جانا۔ اگر واقعات کو سامنے رکھا جائے اور اس بات پر غور کیا جائے کہ ایک بوڑھا باپ کہ جس نے بڑی امیدوں اور آرزوؤں سے قدرت سے فرزند کی دعا کی تھی، اللہ نے ان کو اسماعیل علیہ السلام کی شکل میں ہونہار، ثابت قدم، اولوالعزم فرزند عطا کیا، جس نے اپنے پروردگار کی فرماں برداری میں وہ عظیم قربانی پیش کی، جس پر دنیا ناز کرتی رہے گی۔ امتحان اور آزمائش کی اس گھڑی میں ایثار و قربانی کے پیکر، حضرت اسماعیل علیہ السلام نے جو مظاہرہ کیا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خوشنودی رب العزت کے لئے جو چھری اپنے نور نظر پر چلائی، یہ ادا اللہ کو اس قدر پسند آئی کہ رہتی دنیا تک کے لئے اس کو منظور و مقبول فرما لیا اور امت میں اسے جاری فرما دیا۔ حدیث پاک ہے: ’’جس شخص نے خوشی اور اخلاص سے قربانی کی وہ اس کے لئے دوزخ سے آڑ اور رکاوٹ بن جائے گی۔‘‘ ’’عیدالاضحی‘‘ کا یہ تہوار ہمیں اس بات کا درس دیتا ہے کہ ہم اللہ کی خوشنودی اور اس کی رضا کے لئے اپنی قیمتی متاع کو راہِ خدا میں قربان کر دیں، جس طرح کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آج سے ہزاروں سال قبل کیا تھا۔ قربانی کو دین کے حقیقی جذبے سے کریں تاکہ حصول تقویٰ کا مقصد حاسل ہوسکے، کیوں کہ اللہ تعالیٰ کو قربانی کے سلسلے میں جو چیز پسند ہے، وہ اس کا تقویٰ ہے۔ اس لئے کوشش کی جائے کہ حصول تقویٰ اور رب العزت کی خوشنودی کی خاطر قربانی کی جائے تاکہ ہمارا رب ہم سے راضی ہوجائے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے