कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

عیدتوایک لمحہ ہے اصل عید رمضان ہی ہے

تحریر:ڈاکٹرمحمدسعیداللہ ندویؔ

عید ملت اسلامیہ کا خاص تہوار ہے۔ ساری دنیا کے مسلمان عیدالفطر کا تہواربڑے جوش وخروش کے ساتھ مناتے ہیں۔ عید خوشی کا تہوار ہے۔یہاں پر یہ بیان کرنا بھی ضروری ہے کہ رمضان المبارک کی آخر میں جو رات ہوتی ہے( چاند رات ) یہ ایک بابرکت رات ہے اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے انعامات ملنے والی رات ہے، اسی لیے حدیث میں اس رات کو ’’لیلۃالجائزہ‘‘یعنی انعام ملنے والی رات کہا گیا ہے۔رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں مسلمان روزے رکھتے ہیں اور خصوصی نمازیں پڑھتے ہیں۔ مسلمانوں کواللہ نے عیدالفطر کی شکل میں رمضان کا تحفہ عطاکیاہے۔
اس موقع پر غریبوں میں کھانے اور اناج کی تقسیم کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ یہ تہوار لوگوں کو ہم آہنگی، پرامن اور خوشحال معاشرے کی تعمیر کے لیے کوشش کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔عید کے موقع پر ہم خود کو انسانیت کی خدمت کے لیے پھر سے وقف کرنے اور غریبوں اور ضرورت مندوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کا عہد کریں۔
مسلمان عید الفطر پر مسکینوں اور ناداروں میں حسب توفیق نقد و جنس خیرات کے طور پر تقسیم کرتا ہے اور خدا تعالی کا شکر بجالاتا ہے کہ یارب تو نے مجھے مفلسی اور فاقہ کشی سے بچایا۔ میں تیر اصدق دل سے شکر گزار ہوں۔ روزہ سے روزہ دار کا دل اور جسم دونوںپاک ہو جاتے ہیں۔
مسلمانوں کو اللہ عز وجل اوراس کے رسول نے سب سے بہترین اور انوکھے انداز میں عید منانے کا حکم دیا ہے۔ دنیا کی دوسری قومیں اپنی عید میں بے حیائی وبرائی کے کاموں میں مصروف نظر آتی ہیں۔ مذہب اسلام کے علاوہ جتنے بھی مذاہب کے لوگوں کے تہوار اور عید منانے کے طریقے ہیں جب ان کا گہرائی سے مشاہدہ کیا جا تا ہے تو یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ دیگر قوم اپنی خوشیوں میں صرف اپنی اولا دکو شامل کرتی ہیں، اپنے قرب وجوار کے غربا ومساکین اور ضرورت مندوں کا کوئی خیال نہیں کیا جا تا ہے۔ بلکہ حقیقی بھائی ، بہن اور ماں باپ کو بھی نذر انداز کر دیا جا تا ہے لیکن مذہب اسلام دنیا کا ایک ایسا واحد مذہب ہے جو یہ درس دیتا ہے کہ اپنے عزیزاقارب اور پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کرو، اپنی خوشیوں میں دوسرے ضرورت مندوں کو بھی شامل کرو۔
مذہب اسلام جس طرح بندوں کو خالق و مالک حقیقی سے معاملہ ٹھیک رکھنے ، اس کی عبادت کرنے کا حکم دیتا ہے، اسی اہمیت کے ساتھ بندوں کو آپس میں اپنے معاملات درست کرنے اور ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ یہ امیروں کوغریوں کا نگہبان ٹھہراتا ہے کہ وہ زکوٰۃ ، صدقہ وخیرات کی صورت میں غریبوں پراپنی دولت صرف کریں۔انہیں تنگدستی ،ناخواندگی سے نجات دلائیں۔
اسلام بڑی ہی حسن تدبر کے ساتھ امیروں سے دولت نکالتا ہے اورغریبوں میں تقسیم کا حکم دیتا اور اس کا انتظام کرتا ہے۔ زکوٰۃ ،عشر،قربانی ، صدقہ وخیرات ، وراثت یہ دولت مندوں سے دولت نکالنے کے ذرائع ہی ہیں۔اور ان کے مصارف کا تعین اور حکام کو اس کی نگرانی کا ذمہ دار ٹھہرانا اس دولت کوحق داروں تک پہنچانے ہی کا اہتمام ہے۔ مسلمانوں کو عید منانے کا بہترین طریقہ بتایا گیا کہ بے راہ روی اور گناہ والے کھیل کود کی اجازت نہ دی بلکہ ہرقسم کے گناہوں سے روکا گیا اور کہا گیا کہ عید کا دن تو کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کی کبریائی بیان کرنے کا دن ہے۔عید کا دن اللہ کے ان بندوں کو اپنی خوشیوں میں شریک کرنے کا ہے جو محتاج ہیں۔اسی لئے تو زکوٰۃ وعشر اور خاص عید کے موقع پر صدقہ فطرادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے تا کہ معاشرے میں جہاں اہل ثروت دولت مند حضرات اپنے بچوں کیلئے نئے نئے لباس بنوائیں اور قسم قسم کے لذیذ کھانے کا انتظام کر یں تو ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ دولت سے ان غریبوں کو بھی دیں کہ وہ لوگ بھی اپنے بچوں کیلئے نئے لباس اور عمدہ قسم کے کھانے کا انتظام کرسکیں۔
مذہب اسلام نے زکوٰۃ وفطرہ کاحکم اس لئے دیا ہے تا کہ معاشرے سے غربت ختم ہو جائے اور سماج کے غربا ومساکین اپنی ضروریات پوری کرسکیں۔ ہر صاحب نصاب مسلمان کو صدقہ فطر ادا کر نے کا حکم دیا گیا ہے تا کہ عید کی خوشی میں ضرورت مند بھی شامل ہوسکیں۔ عید سعید کے موقع پر قوم مسلم جتنی رقم خرچ کر دیتی ہیں شاید کہ کسی قوم کو نصیب ہو۔
عید خوشی و مسرت کا تہوار ہے- یہ نفرتوں کو مٹانے والا تہوار ہے- یہ بھائی چارے اور امن کا پیغام دیتا ہے- ملک میں امن اور محبت کو بڑھانے کا کام کرتا ہے۔ وہ عید ہے جو رمضان کے روزوں کے خاتمے پر ہے۔ فطر کے معنی ہیں کھولنا۔اس لئے جب ماہ رمضان کے تیس روزے ختم ہو جاتے ہیں تو ماہ شوال کی پہلی تاریخ کو روزے کھول دیے جاتے ہیں اور عید منائی جاتی ہے۔اس عید پر اہل اسلام اس بات کے لیے اللہ پاک کا شکر ادا کرتے ہیں کہ ان کے روزے بحریت انجام پائے اور انہوں نے عبادت کر کے خدا تعالی کی رضامندی حاصل کی۔رمضان کے آخری دن شام کو ہلال عید دکھائی دیتا ہے تو اس کا اعلان نقاروں کو بجا کر کیا جاتا ہے۔اور لوگ خوشی سے پھولے نہیں ساتے ایک دوسرے کو عید مبارک کہتے ہیں۔اگلی صبح عمدہ کھانے خاص طور پر سویاں تیار کی جاتی ہیں۔اس دن ہر کمانے والا بالغ مسلمان اپنی اور اپنے اہل و عیال کی طرف سے صدقہ فطر غریبوں اور محتاجوں کو دیتا ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے