कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

عیدالفطر ، تہوار کے جاہلی تصور کا اسلامائزیشن

تحریر:ڈاکٹر مرضیہ عارف (بھوپال)

تہوار اجتماعی خوشی اور شادمانی کا دن ہے اسے انسان اور انسانی سماج کی فطری ضرورت بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔ اسلام نے تہوار کو منانے کا ایک پاکیزہ تصور دیکر انسان کو انسانیت کی تعلیم دی ہے ، زندگی کو ترتیب سے گزارنے کا ایک طریقہ سکھایا ہے اور اجتماعی وانفرادی زندگی میں خوشی و غم کے اظہار کا جو سبق دیا ہے، دنیا کی دوسری تہذیبوں میں اس کی مثال نہیں ملتی۔
یہ خوشی سال میں دو دن منائی جاتی ہے ایک شوال کی پہلی تاریخ کو جسے’’عیدالفطر‘‘ کہتے ہیں دوسری ذی الحجہ کی دسویں تاریخ جس کو ’’عیدالاضحی‘‘ کا نام دیا گیا ہے، نبی کریم ﷺ جب مکہ سے مدینہ تشریف لائے تو آپ نے مدینہ میں مہربان اور نوروز دو دن لوگوں کوخوشیاں مناتے دیکھا اور فرمایا کہ ان تہواروں کے بجائے ’’عیدالفطر‘‘ اور ’’عیدالاضحی‘‘ کے مواقع پر مسلمان خوشیاں منائیں ، اس لئے اسلام میں دو دن کے علاوہ کسی تیسرے دن عید یا تہوار منانے کی اجازت نہیں ہے، عید کے یہ دن گویا تہوار کے پرانے جاہلی طور طریقوں کا ’’اسلامائزیشن‘‘ ہے اور ان کا اصل مقصد اجتماعی خوشی ہے، اس کو دونوں عیدوں میں برقرار رکھا گیا ہے البتہ ان میں غیر شائستہ کھیل وکود کے بجائے سنجیدگی اور مہذب تفریح کو جگہ دی گئی ہے۔
اسلامی عیدوں کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ انہیں قمری کلنڈر کے چاند سے جوڑ دیا گیا ہے ، اس طرح نئے چاند کا نظر آنا تہوار کی آمد کا ایک آسمانی اعلان بن جاتا ہے اور اس چاندکو دیکھ کر جس دعا کی تعلیم دی گئی ہے اس کے الفاظ ہیں۔ اللھم اہلہ علینا بالامن والایمان والسلامۃ والاسلام ربی وربک اللہ یعنی اے اللہ اس چاند کو ہمارے ئے امن اور یقین کا چاند بنادے اس کو سلامتی اور اطاعت کا چاند بنادے، میرا رب بھی اللہ ہے اور اس چاند کا رب بھی اللہ ہے۔
یہ ایک اجتماعی دعا ہے جسے پڑھ کر انسان کے اندر یہ احساس جاگ اٹھنا چاہئے کہ پوری کائنات خدائے تعالیٰ کی عیال ہے اور سب کا خدا ایک ہے۔
ویسے تو سبھی عیدین میٹھی ہوتی ہیں، میٹھی نہ ہوں تو عید کس کام کی لیکن ہماری زبان میں ’’عیدالفطر‘‘ کے تیوہار کو میٹھی عید کہا جاتا ہے کہ اس میں شیر خرما، سوئیوں اور مٹھائیوں کا عمل دخل زیادہ رہتا ہے۔ یہی ایک ایسا ہر دلعزیز اسلامی تہوار ہے جس میں غیر مسلم بھی شوق سے شریک ہوتے ہیں۔ عطر، الائچی، پان اور شیرینی سے ان کی تواضح کی جاتی ہے اور اس طرح گویا بھائی چارہ کی ترویج ہوتی ہے۔
لفظ ’’عید‘‘ کے معنی خوشی کا موقع یا تہوار، اسلام سے پہلے کا لفظ ہے۔جو فیسٹول یا جشن کے معنوں میں استعمال ہوتا تھا۔ آج تک سامی زبانوں میں یہی معانی ہیں جو ’’جوبلی‘‘ کے معنی میں بھی آتے ہیں جیسے ’’گولڈن جوبلی‘‘ کو ’’عیدالذہبی‘‘ لکھتے ہیں۔ قرآن حکیم میں صرف ایک بار یہ لفظ آیا اور خوشی کے تہوار یا جشن کے معنی میں ہی آیا ہے جب حضرت عیسیٰ کے حواری انہیں طعنے دینے لگے کہ ’’کیا تمہارے رب میں یہ طاقت ہے کہ وہ آسمان سے ہم پر پکا پکا یا لذیذ کھانا (مائدہ) اتارے؟‘‘ تو حضرت عیسیٰ نے دعا فرمائی:
قال عیسیٰ بن مریم اللھم ربنا انزل علینا مائدۃ من السماء تکون لنا عیدا لاولنا وآخرنا وآیۃ منک وارزقنا وانت خیرالرازقین (سورہ مائدہ) آگے کے بیان سے پتہ چلتا ہے کہ پکی پکائی کھانے والوں پر آسمان سے لذیذ کھانے نہیں اترے عیسیٰ کے رب نے اپنے رسول کی صداقت ثابت کرنے کے لئے (آیۃ منک) مفت خوروں کا منہ نہیں بھرا۔
یہ عید عرب میں اسلام کی آمد سے پہلے منائی جاتی تھی اہل کتاب مناتے تھے مسلمانوں نے بھی مہینہ بھر کی سخت آزمائش کے بعد اس عوامی جشن کو اتنی اہمیت دی کہ عید کی نماز سے پہلے اذان نہیں رکھی، جس کا بظاہر مفہوم یہ معلوم ہوتا ہے کہ سبھی روزہ داروں کو عید کی صبح کا انتظار رہتا ہے انہیں پکارنے کی ضرورت نہیں، خود ہی دوڑے چلے آئیں گے امتحان دینے والے طلباء اپنے کامیاب ہونے کی خوشی کے لئے کسی نقیب یا آواز لگانے والے کے محتاج نہیں ہوتے۔ خود ہی اپنی محنت کا انعام حاصل کرنے کے لئے بے صبر رہتے ہیں۔ حق یہ ہے کہ عید الفطر کی سچی خوشی اسی کو نصیب ہوتی ہے جس نے مہینہ بھر اپنی تمام خواہشوں کا امتحان دیا ہو اور جس نے یہ امتحان پاس کرلیا وہ زندگی کے سخت سے سخت امتحان میں پورا اترنے کی اہلیت اپنے اندر پیدا کرلیتا ہے۔
عید ایک پاکیزہ اور مہکتا ہوا تہوار ہے بدن صاف ہو، لباس صاف ہو (مسنون ہے کہ نیا ہو) گھر صاف ہو، نیت صاف ہو ، فطرہ دینے میں شریعت کی ایک مصلحت یہ بھی کہ امت میں کوئی ننگا بھوکا نہ رہ جائے گھر بار کی، بال بچوں کی خوشی، اس تہوار کو واقعی عید بنادیتی ہے، جنہیں اپنے بچے نصیب نہ ہوں وہ دوستوں اور عزیزوں کے بچوں کی خوشی میں شریک ہوں۔
اسلام نے اپنے ماننے والوں کو عید کے تہوار پر بھی ایسی ایسی ہدایتیں لکھ کر دے دی ہیں کہ اگر عمل کرتے تو مثالی امت بن جاتے مگر تعلیم اور تعمیل میں ہمیشہ خلیج حائل رہی۔ روزہ داروں کے سامنے ’’روزہ خواروں‘‘ کی پلٹن بھی ملے گی اور ’’عید‘‘ کو عیش ونشاط کا بہانہ بنانے والوں کو بھی۔ یہاں تک کہ ’’عید‘‘ کے تعلق سے جو شاعری کی گئی ہے اس میں کہیں ’’ہلال عید‘‘ کو شراب خانے کی گم شدہ چابی بتایا گیا ہے تو کہیں رسم اور دستور کے بہانے کسی کو گلے لگنے کی ترغیب دی گئی ہے ۔ میں تو فی الحال یہی ترغیب دے سکتی ہوں کہ عید اور اس کی ’’خوشیاں‘‘ اس خوبی، نفاست اور دلکشی کے ساتھ منائی جائیں کہ دیکھنے والے بھی اس میں شریک ہو، جس طرح روزہ داروں کے صبر ، استقلال اور احتیاط کو دیکھ کر بعض غیر مسلم بھی روزہ رکھنے لگے ہیں۔
موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کاالمیہ یہ ہے کہ ان کا معاشرہ اسلامی تعلیمات اور خصوصیات سے خالی ہوتا جارہا ہے مسلمان زبان سے جو کہتے ہیں وہ کرتے نہیں ہیں۔ اس کے اثرات ان کے تہواروں پر بھی مرتب ہورہے ہیں لہذا اسلام اور تہواروں کے بارے میں مسلمانوں کو اپنے قول وعمل کے تضاد کو دور کرلینا چاہئے، انگریزی کا ایک قول ہے کہ ’’کیک کا مزہ اس کے کھانے میں ہے‘‘ ٹھیک اسی طرح اسلام کی افادیت واہمیت کا اندازہ اسی وقت ہوسکتا ہے جب مسلمان اس پر خود عمل پیرا ہوں اور اپنے مذہب کو ایک چلتا پھرتا نمونہ بناکر دنیا کے سامنے پیش کریں تاکہ وہ رفاہ عام کا سبب بنے۔٭

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے