कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

عورت کی عزت، نئی نسل اور طلاق کا کلچر،ایک خاموش المیہ

از قلم: محمود علی لیکچرر

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ بچے صرف نصیحتوں سے نہیں بلکہ اپنے گھروں کے ماحول سے سیکھتے ہیں۔ ماں باپ، دادا دادی اور نانا نانی ان کے پہلے استاد ہوتے ہیں۔ وہ جو دیکھتے ہیں، وہی ان کی شخصیت کا حصہ بن جاتا ہے۔ اگر گھر میں احترام ہو تو بچہ احترام سیکھتا ہے، اور اگر ناانصافی ہو تو وہی ناانصافی اس کے مزاج میں رچ بس جاتی ہے۔
ہمارے معاشرے کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ایک حقیقت بار بار سامنے آتی ہے کہ ماضی میں عورت کو وہ مقام نہیں دیا گیا جس کی وہ حقدار تھی۔ اسے اکثر کمزور، تابع اور خاموش رہنے والی ہستی سمجھا گیا۔ اس کی تعلیم محدود رکھی گئی، اس کی رائے کو نظر انداز کیا گیا، اور کئی مواقع پر اس کی عزت کو بھی مجروح کیا گیا۔ اگرچہ ہر گھر ایسا نہیں تھا، مگر مجموعی رویہ یہی رہا۔
یہ سوچ نسل در نسل منتقل ہوتی رہی۔ جو بچے ایسے ماحول میں پروان چڑھے، انہوں نے لاشعوری طور پر یہی سیکھا کہ مرد برتر ہے اور عورت کو دب کر رہنا چاہیے۔ یوں ایک ذہنیت بغیر کسی سوال کے آگے بڑھتی رہی۔
مگر وقت بدلا۔ تعلیم عام ہوئی، شعور بیدار ہوا اور عورت نے اپنے حقوق کو پہچانا۔ آج کی عورت پڑھی لکھی، خودمختار اور باخبر ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ معاشرہ پوری طرح تبدیل نہیں ہوا۔ پرانی سوچ اور نئی حقیقت کے درمیان کشمکش پیدا ہو گئی ہے۔
آج کی پڑھی لکھی عورت ایک تضاد کا شکار ہے۔ ایک طرف تعلیم اسے خود اعتمادی اور اظہار کا حوصلہ دیتی ہے، جبکہ دوسری طرف معاشرتی دباؤ اسے خاموش رہنے پر مجبور کرتا ہے۔ اسے صبر اور برداشت کا مشورہ دیا جاتا ہے، چاہے اس کے لیے اسے اپنی ذات ہی کیوں نہ قربان کرنی پڑے۔
یہ کشمکش اس کی ذہنی صحت کو متاثر کرتی ہے۔ وہ بظاہر مضبوط نظر آتی ہے مگر اندر سے ٹوٹ رہی ہوتی ہے۔ اس کی آواز دب جاتی ہے اور اس کی شناخت ایک سوال بن جاتی ہے۔
اس تمام صورتحال کا سب سے گہرا اثر بچوں پر پڑتا ہے۔ جب بچہ دیکھتا ہے کہ اس کی ماں پڑھی لکھی ہونے کے باوجود اپنی رائے آزادانہ طور پر نہیں دے سکتی یا اس کے ساتھ انصاف نہیں ہو رہا، تو اس کے ذہن میں الجھن پیدا ہوتی ہے۔ کچھ بچے باپ کی برتری کو اپناتے ہیں جبکہ کچھ ماں کی خاموشی کو۔ یوں ایک نئی نسل تیار ہوتی ہے جو یا تو ظلم کو دہراتی ہے یا اسے برداشت کرتی ہے—دونوں صورتیں نقصان دہ ہیں
ذاتی خواہشات کو مذہب کے نام پر جائز ٹھہرانا
ہمارے علما نے اسلام کی تعلیمات کو عام کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، اور بہت سے علما نے عدل، ذمہ داری اور تقویٰ پر زور دیا ہے۔ تاہم بعض خطباء نے چار شادیوں کی اجازت کو غیر متوازن انداز میں پیش کیا، اسے فضیلت یا سنت کے طور پر عام کیا، جبکہ عدل اور عورت کے حقوق کو نظر انداز کر دیا گیا۔
اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بعض افراد نے ذاتی خواہشات کو دینی رنگ دینا شروع کر دیا۔ اگرچہ بہت سے علما اس ضمن میں مثبت کردار ادا کر رہے ہیں، لیکن بحیثیت رہنما ان کی ذمہ داری ہے کہ دین کو مکمل اور متوازن انداز میں پیش کریں۔
اگر تعددِ ازدواج کو غلط طریقے سے اپنایا جائے تو اس کے کئی منفی اثرات سامنے آتے ہیں
– خاندانی انتشار اور بیویوں کے درمیان تنازعات
– بچوں میں ذہنی دباؤ اور عدم تحفظ
– عورت کے حقوق کی پامالی
– معاشی بوجھ اور ذمہ داریوں میں اضافہ
غیر منصفانہ تعددِ ازدواج عورت میں احساسِ کمتری اور ڈپریشن پیدا کر سکتا ہے، جبکہ مرد بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے۔
اصل مسئلہ: تعلیم یا تعبیر؟
یہ کہنا درست نہیں کہ صرف علما ذمہ دار ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے
– مذہبی تعلیمات کی غلط تعبیر
– معاشرتی مردانہ بالادستی
– دین کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرنا
اسلام ایک متوازن دین ہے:
– اس نے اجازت دی، مگر شرط کے ساتھ
– ذمہ داری دی، مگر احتساب کے ساتھ
لہٰذا تعددِ ازدواج کو عام روایت بنانے کے بجائے ایک استثنائی حل سمجھنا چاہیے۔
اسلامی نقطۂ نظر
اسلام نے چار شادیوں کی اجازت دی ہے، مگر یہ اجازت مشروط ہے۔ قرآن مجید (سورۃ النساء) میں واضح ہے:
اگر تم انصاف نہ کر سکو تو ایک ہی کافی ہے
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اصل مقصد عدل ہے، نہ کہ خواہشات کی تکمیل۔ اسلام نے اسے عمومی ترغیب کے طور پر پیش نہیں کیا بلکہ مخصوص حالات میں ایک سماجی حل کے طور پر رکھا۔
تاریخی پس منظر
ابتدائی اسلامی دور میں جنگوں کی وجہ سے بیواؤں اور یتیموں کی تعداد بڑھ گئی تھی۔ اس وقت تعددِ ازدواج ایک سماجی ضرورت تھی۔ لیکن آج کے دور میں حالات بڑی حد تک بدل چکے ہیں
طلاق کے مختصر اسباب
محبت کی کمی
اعتماد کا ٹوٹنا
مزاج کا نہ ملنا
گھریلو جھگڑے اور انا
معاشی مسائل
سسرالی مداخلت
پرانی محبت یا ماضی کی وابستگی
احترام کی کمی
بات چیت کا فقدان
تشدد یا بدسلوک
*طلاق اور پرانی محبت: ایک ان دیکھا سبب*
حل کر نہ سکے جس کو حکیموں کے مقالات
وہ عقدۂ مشکل ہمیں عشق نے سکھلا دیا
طلاق کی وجوہات میں ایک اہم مگر پوشیدہ سبب پرانی محبت بھی ہے۔ یہ ایک ایسا اثر ہے جو بظاہر نظر نہیں آتا مگر آہستہ آہستہ رشتے کو کمزور کر دیتا ہے۔
ادھوری محبت انسان کے دل میں ایک گوشہ بنا لیتی ہے۔ وقت کے ساتھ یہ یاد بن جاتی ہے، مگر بعض اوقات یہ یاد حال کی زندگی میں مداخلت کرنے لگتی ہے۔ نتیجتاً انسان اپنے شریکِ حیات سے مکمل طور پر جڑ نہیں پاتا۔
سب سے خطرناک پہلو “موازنہ” ہے۔ ماضی کی محبت ہمیشہ خوبصورت لگتی ہے، جبکہ حال کی زندگی حقیقتوں سے بھری ہوتی ہے۔ یہ غیر منصفانہ تقابل رشتے میں دوری پیدا کرتا ہے۔
سوشل میڈیا نے اس مسئلے کو مزید بڑھا دیا ہے۔ پرانے تعلقات کا دوبارہ سامنے آنا جذبات کو تازہ کر دیتا ہے، جو ایک مضبوط رشتے کو بھی ہلا سکتا ہے۔
تاہم، مسئلہ محبت نہیں بلکہ اس کا “ادھورا حساب” ہے۔ اگر انسان ماضی کو ایک مکمل باب سمجھ کر بند کر دے تو وہی تجربہ اسے بہتر انسان بنا سکتا ہے۔
نتیجہ
عورت کی عزت صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کی بنیاد ہے۔ اگر ماں باعزت ہوگی تو نسل متوازن ہوگی۔ اگر ہم اپنی آنے والی نسلوں کو بہتر دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں آج ہی اپنی سوچ رویوں اور ترجیحات کو بدلنا ہوگا۔
ورنہ یہ خاموش المیہ یونہی جاری رہے گا اور ہم صرف تماشائی بنے رہیں گے۔
فرشتے سجدہ میں تھے، آدمؑ خطا میں تھے
یہی تو فرق ہے، انسان دعا میں تھے

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے