कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

عنوان: ’’علم کے سوداگر، حسد کے پجاری اور محنت کش استاد‘‘

ایک دسویں جماعت کی طالبہ کی سچائی پر مبنی آپ بیتی

میں، سال 2025 میں دسویں جماعت کے بورڈ امتحان میں 79.80 فیصد نمبرات کے ساتھ کامیاب ہوئی ہوں۔ یہ کامیابی میرے لیے فخر کا باعث ہے، لیکن اس سے بڑھ کر میرے اندر جو شعور بیدار ہوا ہے، وہ زیادہ قیمتی ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ میری یہ کہانی صرف میری کامیابی تک محدود نہ رہے، بلکہ اُن سچائیوں کو بھی بیان کرے جو اکثر طلبہ کے دل میں دب کر رہ جاتی ہیں۔
جب میں نے دسویں جماعت میں قدم رکھا تو اپنے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے ایک مشہور ٹیوشن کلاس جوائن کیا، جہاں کے دونوں اساتذہ نہایت قابل، بااخلاق اور خلوص سے پڑھانے والے ہیں۔ ایک استاد Ph.D ہیں اور NEET جیسے قومی سطح کے امتحان کے طلبہ کو پڑھاتے ہیں، دوسرے انجینئر ہیں۔ دونوں کا چودہ سالہ تجربہ ان کی تدریسی مہارت کو ثابت کرتا ہے۔ وہ دن میں دو وقت پڑھاتے ہیں، مگر صرف ایک وقت کی فیس لیتے ہیں، اور اپنے پیشہ کو عبادت سمجھتے ہیں، نہ کہ تجارت۔
یہ حقیقت اُس مشہور اسکول سے جُڑی ہے جو اردھاپور میں "معیاری تعلیم” کے لیے جانا جاتا ہے، مگر افسوس، وہاں کے بعض اساتذہ کا رویہ نہایت غیر پیشہ ورانہ اور غیر اخلاقی ہے۔ یہ اساتذہ اکثر کلاس میں غیر حاضر رہتے ہیں، موبائل میں مشغول رہتے ہیں، طلبہ کے سوالوں پر جھنجھلاتے ہیں، اور تعلیم کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ جب ہم طلبہ اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے ٹیوشن لینے لگے، تو یہی اساتذہ ہمیں روکتے رہے اور کہتے کہ وہاں فیس زیادہ ہے، مت جاؤ۔
سوال یہ ہے کہ فیس ہمارے والدین دے رہے ہیں، محنت ہم کر رہے ہیں، اور پڑھا کون رہا ہے؟ وہ جو دو وقت محنت سے پڑھا کر ایک وقت کی فیس لیتے ہیں — آپ کو ان سے مسئلہ صرف اس لیے ہے کہ وہ آپ سے بہتر پڑھاتے ہیں؟ سچ تو یہ ہے کہ جب کسی کے علم اور نیت سے مقابلہ ممکن نہ ہو تو لوگ حسد کرنے لگتے ہیں۔
یہ حسد اُس وقت کھل کر سامنے آیا جب انہی اسکول کے اساتذہ نے میری طرح تین سال سے ٹیوشن پڑھنے والی ایک طالبہ کو بہلا پھسلا کر وہاں سے نکالا، اور محض یہ ثابت کرنے کے لیے کہ ٹیوشن کی ضرورت نہیں، اُسے نقل اور بےایمانی کے ذریعے اسکول کا’’ٹاپر‘‘ بنایا۔ رمضان جیسے بابرکت مہینے میں یہ سب کرنا صرف علم کی نہیں، ایمان کی بھی توہین ہے۔ اے حسد کرنے والو! کچھ خدا کا خوف کرو۔ یہ وقتی کامیابیاں آخرکار رسوائی کا سبب بنتی ہیں۔
میں چاہتی تو اُن لوگوں کا نام لے سکتی تھی، مگر میرا مقصد کسی کی عزت اچھالنا نہیں، بلکہ سچ کہنا ہے۔ سچ ہمیشہ تلخ ہوتا ہے، مگر وہی اصلاح کی بنیاد بنتا ہے۔
آج میں جس کامیابی پر کھڑی ہوں، وہ میرے ٹیوشن کے اساتذہ کی محنت، خلوص اور نیت کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے نہ صرف میرے تعلیمی مسائل کو سمجھا بلکہ میرے اندر اعتماد اور صلاحیت پیدا کی۔ اُن کی دیانت داری اور تعلیم کے ساتھ محبت نے مجھے ایک بہتر انسان بنایا۔ وہ سچے معنوں میں استاد ہیں، جو اپنی روزی حلال طریقے سے کماتے ہیں اور دوسروں کی بہتری کے لیے کام کرتے ہیں۔
میں اسکول کے اُن اساتذہ سے کہنا چاہتی ہوں: حسد بند کریں، اور سچائی کے ساتھ اپنا فرض ادا کریں۔ تعلیم کو تجارت نہ بنائیں، اور نہ دوسروں کی ترقی سے جلیں۔ استاد کا مقام بہت اونچا ہوتا ہے، مگر وہی استاد عظیم بنتا ہے جو خود بھی سیکھنے کا جذبہ رکھتا ہے، اور دوسروں کو سیکھنے کا حق دیتا ہے۔
آخر میں میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتی ہوں کہ وہ ہمیں سچ پر قائم رہنے کی توفیق دے، ہمارے اندر حسد کی جگہ خلوص پیدا کرے، اور ہمارے ان محنتی، ایماندار اساتذہ کو جزائے خیر عطا فرمائے، جو واقعی تعلیم کو عبادت سمجھتے ہیں۔
مرسلہ: ایک طالبہ، ناندیڑ

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے