कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

عنوان: رمضان کی رخصتی، عید کی خوشیاں اور فلسطین کے زخم

از قلم:محمد شہزاد جامعی
پیش کردہ سیّد عبدالقدوس علی

رمضان المبارک کے آخری ساعتیں آن پہنچے ہیں۔ وہی مہینہ جس میں رحمتیں برستی ہیں، برکتیں اترتی ہیں اور دلوں کو سکون نصیب ہوتا ہے۔ مگر جیسے ہی یہ مبارک مہینہ رخصت ہوتا ہے، دل پر ایک عجیب سی اداسی چھا جاتی ہے۔ وہ سحری کی رونقیں، افطار کے مسکراتے چہرے، تراویح کی برکتیں اور شب قدر کی پرنور ساعتیں—سب ایک خوبصورت خواب کی مانند لگتی ہیں جو اب بیداری میں بدل رہا ہے۔ لیکن اس بیداری میں ہمیں ایک اور حقیقت کا سامنا ہے—فلسطین کے مظلوموں کی چیخیں، اُن کے بہتے آنسو اور اُن کے زخمی خواب۔
عید: خوشی یا غم؟
عید خوشی کا دن ہے، مسرت اور شکرانے کی گھڑی۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب دنیا بھر کے مسلمان اپنے روزوں کی قبولیت کی امید میں مسرت کے چراغ جلاتے ہیں۔ ننھے بچے نئے لباس میں چمکتے ہیں، گھروں میں خوشبو بکھرتی ہے اور دل محبتوں سے معمور ہو جاتے ہیں۔ لیکن اس سال، یہ خوشیاں ہمارے دل کو مکمل طور پر مسرور نہیں کر پا رہیں، کیونکہ ہماری آنکھوں کے سامنے فلسطین کی وہ سرزمین ہے جہاں نہ کوئی چاند رات کی خوشی ہے، نہ صبحِ عید کی مسکراہٹیں۔ وہاں کی گلیاں لاشوں سے بھری ہوئی ہیں، مسجد اقصیٰ کی زمین آنسوؤں اور خون سے تر ہے، اور ننھے معصوم ہاتھ نئے کپڑوں کے بجائے شہادت کا کفن پہن چکے ہیں۔
عید کی خوشیوں میں اعتدال اور فلسطین سے اظہارِ یکجہتی:
ہمیں خوشی منانے کا حق ہے، لیکن یہ خوشی بے حسی میں نہ بدلے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اگر ہماری عید قہقہوں سے گونج رہی ہے، تو فلسطین کی ماؤں پر غم کے انبار ہیں۔ اگر ہمارے دسترخوان نعمتوں سے بھرے ہیں، تو وہاں افطار کے لیے کھجور تک میسر نہیں۔ ایسے میں ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی خوشیوں میں اعتدال پیدا کریں، مظلوم فلسطینیوں کو یاد رکھیں اور اپنی استطاعت کے مطابق اُن کے لیے صدقات، دعائیں اور عملی اقدامات کریں۔
ہم کیا کر سکتے ہیں؟:
1. دعائیں: عید کے دن خاص طور پر فلسطین کے مظلوموں کے لیے دعا کریں کہ اللہ ان کی مدد فرمائے، ظالموں کو نیست و نابود کرے اور دنیا میں عدل و انصاف قائم کرے۔
2. مالی تعاون: جو تنظیمیں فلسطین کی مدد کر رہی ہیں، ان میں اپنا حصہ ڈالیں تاکہ وہاں کے لوگوں تک ضروری امداد پہنچ سکے۔
3. آگاہی اور شعور: سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے فلسطین کی حقیقت کو دنیا کے سامنے لائیں، تاکہ ظالموں کا چہرہ بے نقاب ہو اور عالمی ضمیر بیدار ہو سکے۔
4. اپنی زندگی میں سادگی: اگر ہم عید کی خریداری میں غیر ضروری اسراف کو ترک کر دیں اور وہ رقم کسی مظلوم خاندان کی مدد کے لیے وقف کر دیں، تو یہ حقیقی خوشی کا ذریعہ ہوگا۔
5. آئندہ نسلوں کو شعور دینا: اپنے بچوں کو فلسطین کی تاریخ سے آگاہ کریں، انہیں سکھائیں کہ امتِ مسلمہ ایک جسم کی مانند ہے، جس کا ایک حصہ زخمی ہو تو دوسرا بے چین رہتا ہے۔
ہماری عید، اُن کی امید:
ہماری خوشیوں کو فلسطین کے غموں سے جوڑنا بے حد ضروری ہے۔ اگر ہم اپنے گھروں میں عید کے دسترخوان پر بیٹھے ہوئے فلسطین کے یتیم بچوں کو یاد رکھیں، تو ہماری خوشی حقیقی بنے گی۔ اگر ہم اپنے قہقہوں میں فلسطینی مظلوموں کے لیے دعا شامل کر لیں، تو ہماری عید قبولیت کے قریب ہوگی۔ اگر ہم اپنی مسکراہٹوں کے ساتھ اُن کی تکلیف کو محسوس کریں، تو شاید یہ عید ہمارے لیے بھی باعثِ نجات بن جائے۔یہ وقت بے حسی کا نہیں، یہ وقت امت کے درد کو محسوس کرنے اور اپنے عمل سے محبت کا ثبوت دینے کا ہے۔ آئیے، اس عید کو خوشی اور ہمدردی کے امتزاج سے منائیں، کہ جب ہماری خوشی فلسطینی بھائیوں کے درد کا مداوا بنے گی، تبھی عید کی حقیقی روح مکمل ہوگی۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے