कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

علم کی قدر و منزلت

مولانا میر ذاکر علی محمدی پربھنی 9881836729
بذریعہ ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف

علم سے ہی ہماری بقاء ہے۔ پگھلنا علم کے خاطر مثال شمع زیبا ہے۔ بغیر علم کے نہیں جانتے کہ ہم خدا کیا ہے۔ علم سے آدمی دنیا کی حقیقت اور اللہ کی معرفت تک رساٸ کرتا ہے۔ اسی لیے حصول علم کو اول درجہ پر اہمیت اور فوقیت حاصل ہے۔ اللہ نے سب سے پہلے علم کا ہی تذکرہ کیا ہے۔ جو انسان نہیں جانتا تھا۔ علم کی بیش بہا نعمت سے انسان کے مقدر کو دوبالا کیا ہے۔ اور انسان کا سب سے بڑا زیور سب سے بڑا ہتھیار اور سب سے بڑا ہدایت اور رشد کا راستہ علم ہے۔ جس کو اللہ نے قلم سے سکھایا۔ آپ ﷺ کا ارشاد ہے فرمایا اطلبو العلم او بالصین۔ علم حاصل کرو اگرچہ کہ آپ کو چین ہی جانا کیوں نہ پڑے۔ چونکہ قرآن کی پہلی آیت اقرأ ہے جس نے اپنے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھنے کا حکم کیا۔ علم کی اور عالم کی فضیلت پر آپ ﷺ نے فرمایا۔ عالم بنو یا متعلم بنو یا ان کو سننے والے بنو یا ان سے عقیدت اور محبت کرنے والے بنو۔ پانچویے یعنی ان سے بغض وعناد رکھنے والے نہ بنو اللہ ہلاک کردےگا ۔ یعنی ایسی ہلاکت جو نمونہ عبرت ہو۔ شاتم عالم کے خاندان کی دس پشتوں تک کوٸ عالم اللہ پیدا نہیں کریگا۔ علم کی فضیلت عالم کے علم سے لوگوں کو نفع اور رشد و ہدایت کا ذریعہ ہوگا۔ متعلم یعنی علم سیکھنے والے کی فضیلت یہ بتاٸ ہے کہ فرشتے اور تمام سمندر کی مخلوقات متعلم کے لیے دعا کرتی ہے۔ کیونکہ دنیا میں سب سے زیادہ علم کو فوقیت اور اہمیت دی گٸی ہے۔ اللہ نے تمام کاٸنات میں ایک ذرہ علم کی تقسیم کی ہے۔ اور بقیہ سارا علم اللہ کے پاس ہے۔ بے شک وہ خبر اور علم رکھنے والا ہے۔ قوموں کا زوال علم کی ناقدری ہے۔ اور قوموں کا عروج حصول علم ہی ہے۔ اسی لیے کہا گیا عالم یعنی علم کا جاننے والا اور جاہل جو علم نہ جانتا ہو وہ ہر گز برابر نہیں ہوسکتے۔ بنا اور نابینا مساوی نہیں ہوسکتے۔ آپ ﷺ کی آمد سے قبل عرب کے باشندوں کی جو حالت زار تھی وہ اظہر من الشمس ہے۔ یعنی جہالت عام تھی شراب نوشی ان کے گھٹی میں پڑی تھی۔ نوزاٸیدہ بچیوں کو زندہ در گور کرنا ان کے لیے کوٸ معنی نہیں رکھتا تھا۔ظلم ستم خون آشامی گویا کہ ان کا شیوہ تھا۔ جب اللہ ان کے سدھار اور رشد و ہدایت کے لیے آپ ﷺ کو مبعوث فرمایا۔ اور قرآن میں اللہ نے آپ صلعم کو سب امور سے پہلے پڑھنے اور لکھنے کا حکم صادر کیا۔ جس کے ذریعہ آپ نے اپنے علم و فضل کے ذریعہ ساری انسانیت کو اللہ کی وحدانیت اور علم کی اہمیت اور افادیت کو فروغ دیا۔ یہی وجہ تھی کہ عرب کے باشندوں نے شراب کو سڑکوں پر بہادیا جب آپ ﷺ نے اسکی حرمت اور مضر اثرات کو واضح کیا۔ چونکہ ساری انسانیت کو اللہ نے آپ صلعم کے ذریعہ علم سیکھنے اور سکھانے کو لازم قرار دیا جس کے بغیر فتوحات اور معرکہ آراٸیاں سر کرناممکن نہیں۔ جس قوم کا اولین مقصد حصول علم کو لازم قرار دیا گیا ہم میں اس کا فقدان پایا جاتا ہے۔ جبکہ علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔یعنی اس سے کسی کو مفر نہیں۔ حصول علم لازمی ہے اور علم ہمارے بدن کا لازمی حصہ ہے ۔ انسان اور علم دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ آپ ﷺ کا ارشاد ہے جو علم حاصل کرنے کے لیے رخت سفر باندھتا ہے اللہ اس کے لیے جنت کا راستہ ہموار کرتے ہیں ۔ اور یہاں تک کہ فرشتے اس کے لیے پر نچھاور کرتے ہیں۔ اور سمندر کی مچھلیاں دعا کرتی ہیں۔ العلماء ور ثة الانبیاء اہل علم انبیاء کے وارث ہوتے ہیں۔ کیونکہ علم انبیاء اور اسلاف کا اثاثہ ہے۔ علم اور قلم ایسی امانت ہے جس کے علم و فضل سے قوموں کی تابناک زندگیاں روشن اور بام عروج پر پہنچ سکتی ہے۔ اور رشد و ہدایت کا منبع بنتی ہے۔ اور یہی علم اور قلم کی خیانت سے اور کتمان علم سے قوموں کے عروج کی راہیں مسدود ہوجاتی ہے۔ اگر آپ کو علم نہ ہوتو اہل علم سے رجوع ہوں ۔ ان سے دریافت کریں۔جہاں دین کا علم سیکھنے کو فرض قرار دیا گیا۔ وہیں عصری علوم سے بھی مکمل طور پر آشنا ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ دینی تعلیم کو ہم عصری تعلیم سے جدا اور الگ نہیں کرسکتے۔ ہماری تعلیم کا تناسب دیگر اقوم کی نسبت انتہاٸ کم اور افسوسناک ہے۔ ہماری آبادی کے لحاظ سے تعلیمی تناسب خاطر خواہ ہونا چاہیے تھا ۔ لیکن ویسا نہیں ہے۔ لیکن مزید وقت کا تقاضا یہ ہے دین کی تعلیم پر حتی الامکان کاوشیں اور مسلم بچوں کی دینی تعلیم پر ذہن سازی کی جاے۔ کیونکہ دینی تعلیم کی نسبت بچوں کا زیادہ تناسب عصری تعلیم پر ہے۔ جبکہ دینی مدارس میں اس کا تناسب بہت کم ہے۔ لہذا ہمیں عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کو مقدم کرنا چاہیے۔ اور دین کی تعلیم کو فروغ دینا ہمارا ہمارا اولین مقصد ہونا چاہیے جس کے بغیر کامیابی اور کامرانی ممکن نہیں ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے