कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

علماء دین ائمہ مساجد و معلمین اور مدارس کی کفالت: امت کی بقاء کا بنیادی فریضہ

تحریر:ڈاکٹر مولانا محمد عبد السمیع ندوی
اسسٹنٹ پروفیسر، مولانا آزاد کالج، اورنگ آباد
صدر، مجلس وفاق العلماء والائمہ، اورنگ آباد (مہاراشٹر)
موبائل: 9325217306

رمضان المبارک رحمتوں، برکتوں اور مغفرت کا مہینہ ہے۔ یہ مہینہ صرف عبادات، روزہ اور تلاوتِ قرآن تک محدود نہیں بلکہ ایثار، ہمدردی اور اجتماعی ذمہ داری کا درس بھی دیتا ہے۔ اسی مہینے میں انسان اپنے مال کو پاک کرتا ہے، دل کو نرم کرتا ہے اور ضرورت مندوں کی مدد کے ذریعے اللہ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم اکثر ان طبقات کو نظر انداز کر دیتے ہیں جو دین کی بقا اور امت کی رہنمائی کے لیے اپنی زندگیاں وقف کیے ہوئے ہیں۔
علماء کرام اور دینی مدارس امت کے حقیقی محافظ اور فکری و روحانی معمار ہیں۔ یہ وہ ادارے ہیں جہاں قرآن و حدیث کی روشنی میں نئی نسل کی تربیت ہوتی ہے، جہاں سے معاشرے کو صالح، دیانت دار اور بااخلاق افراد میسر آتے ہیں۔ مدارس کے اساتذہ نہایت قلیل مشاہرے پر اپنے شب و روز اسی خدمت میں گزار دیتے ہیں۔ وہ دنیاوی آسائشوں سے دور رہ کر دین کی حفاظت اور اشاعت کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ ان کی محنت اور قربانیوں کے نتیجے میں اسلامی شناخت محفوظ رہتی ہے اور معاشرے میں دینی شعور باقی رہتا ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ علماء اور مدارس کے ذمہ داران عموماً خوددار اور قناعت پسند ہوتے ہیں۔ وہ کسی کے سامنے سوال نہیں کرتے، اپنی مشکلات کو بیان کرنے سے گریز کرتے ہیں اور اللہ پر بھروسا رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے مدارس اور اساتذہ شدید مالی مشکلات کا شکار ہوتے ہیں، لیکن ان کی زبان پر شکوہ نہیں آتا۔ ایسے باوقار طبقے کی مدد کرنا صرف صدقہ نہیں بلکہ درحقیقت دین کی خدمت میں حصہ لینا ہے۔
رمضان المبارک اس فریضے کی ادائیگی کا بہترین موقع ہے۔ اس مہینے میں نیکیوں کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔ اگر ہم اپنی زکوٰۃ، صدقات اور عطیات کا رخ علماء اور مدارس کی طرف کریں تو یہ نہ صرف ہمارے لیے صدقہ جاریہ بنے گا بلکہ آنے والی نسلوں کی دینی و اخلاقی تربیت کا ذریعہ بھی ہوگا۔ یہ دراصل ایک ایسی سرمایہ کاری ہے جس کا نفع دنیا اور آخرت دونوں میں حاصل ہوگا۔
آج کے دور میں فکری یلغار، اخلاقی زوال اور مادہ پرستی کے بڑھتے ہوئے رجحانات نے امت کو سنگین چیلنجوں سے دوچار کر دیا ہے۔ ایسے حالات میں دینی مدارس کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اگر یہ ادارے کمزور ہو جائیں تو معاشرہ دینی شناخت اور اخلاقی اقدار سے محروم ہو سکتا ہے۔ اس لیے ان کا استحکام پوری امت کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم علماء کی عزت افزائی کو صرف زبانی حد تک محدود نہ رکھیں بلکہ عملی طور پر ان کے ساتھ کھڑے ہوں۔ ان کی معاشی ضروریات کا خیال رکھیں، ان کے اداروں کی کفالت کریں اور انہیں باوقار زندگی گزارنے کا موقع فراہم کریں۔ اگر ہر صاحبِ حیثیت فرد ایک مدرسہ، ایک استاد یا ایک حافظِ قرآن کی ذمہ داری لے لے تو امت کے بڑے مسائل آسانی سے حل ہو سکتے ہیں۔
رمضان المبارک ہمیں یہی پیغام دیتا ہے کہ ہم اپنی عبادات کے ساتھ ساتھ دین کے خادموں کی مدد کریں، کیونکہ یہی وہ طبقہ ہے جو ہماری دینی شناخت اور روحانی وراثت کو محفوظ رکھے ہوئے ہے۔ آئیے اس مبارک مہینے میں عہد کریں کہ ہم اپنے مال کو صحیح جگہ خرچ کریں گے اور دین کی خدمت کرنے والوں کے لیے مضبوط سہارا بنیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاص، وسعتِ قلب اور خدمتِ دین کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے