कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

عصر حاضر کا سماجی بحران

تحریر: مولانا میر ذاکرعلی محمدی پربھنی۔ 9881836729
بذریعہ ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف

آج دنیا تحقیقات ، حیرت انگیز سائنس، ریسرچ ایجادات اور ( inventions) اختراعات میں کامیابی حاصل کی ہے ۔ اور یہی نہیں انسان نے چاند پر بھی قدم رکھا ہے اور چاند کی خاک کو چھانا ہے۔ لیکن اج اگر ہم ( Scientific ) علمی اعتبار سے (Analysis) جائزہ لیں تو دنیا میں سب سے زیادہ یونیورسٹیز کالیجیس اور سائنٹیفک ادارے ہیں۔لیکن ہم اس بات کا مشاہدہ کر رہے ہیں کہ آج جو ( Social crisis) سماجی اور معاشرتی بحران ( creat() پیدا ہوا ہے ۔ وہ نہایت ہی افسوس ناک اور انسانیت کو زک پہونچانے والا ہے۔ اگر ہم ماضی پر نظر دوڑائیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ تعلیم سے زیادہ ( Training) تربیت پر محنت اور اخلاقی اقدار کو پروان چڑھانے کی مکمل سعی ٹریننگ اور تربیت دی جاتی تھی۔ آج اس کے برعکس معاملہ ہے۔ تربیت اور آداب ، انسانیت اور اخوت، کا فقدان ہے۔ آج (intellectual) تعلیم یافتہ سماج اور معاشرے میں انگنت برائیاں تیزی سے جنم لے رہی ہیں۔ اور عام ہورہی ہیں معاشرتی اور سماجی بحران چھایا ہوا ہے۔ اخلاقی اقدار پامال ہو رہی ہے، کسی کو کسی کی عزت و احترام کا خیال نہیں رہا پہلے استاذ کا ( Respect) ادب و احترام یہ تھا کہ شاگرد اپنے استاذ کی جوتیاں سیدھی کرنے میں پہل کرتے تھے۔ اورآج یہ حال ہے کہ ، کہ استاذ کو شاگرد کا ادب کرنا پڑ رہا ہے۔ ابن انشا ایک مشہور اردو شاعر اور غزل گو تھے، جن کا اصل نام شیر محمد خان تھا ۔ وہ ایک مرتبہ جاپان کی ایک یونیورسٹی کے پروفیسر دوست سے ملنے گئے۔ جب ان کی ملاقات ہوئ اور جب وہ محو گفتگو تھے، انہوں نے دیکھا کہ پروفیسر دوست کے عقب سے طلباء ( Jumping) کود کود جارہے ہیں۔ تب ابن انشاء نے اپنے دوست سے پوچھا ، یہ طلباء آپ کے عقب سے کود کود کر کیوں جارہے ہیں؟ پروفیسر دوست نے جواب دیۓ ۔ یہ سب میرے ( Students) شاگرد ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ میرے ( Shade) سایہ کو روند کر جائیں، جو میرے عقب میں دھوپ کی وجہ سے پڑ رہا ہے۔ لہذا وہ ادب و احترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے کود کر جارہے ہیں۔ یہ ہوتا ہے استاذ کا ادب و احترام۔ آج یہ حال ہے کہ کچھ اہل علم بھی استاذ کو سلام کرنے میں پس و پیش کرتے ہیں۔ اور سلام کے منتظر رہتے ہیں۔ گویا کہ ہم سے اخلاقی اقدار کا فقدان نظر آتا ہے۔ ہر انسان خود نمائ اور اپنے آپ میں گم ہے۔
ہم معاشرے اور سماج پر نظر ثانی کریں، تو ہماری نسل نو موبائل کی عادی ہو چکی ہے۔ ہم میں نوجوان ، بچے بوڑھے سب موبائل کے شکنجہ اور فراق میں لگے ہوئے ہیں۔ ہماری قوم و ملت کے نوجوان رات دیر تک پڑوسیوں کے گھروں کے سامنے چبوتروں پر بیٹھ کر موبائل چلاتے ہیں۔ جو اپنے (precious time) قیمتی وقت کو ضائع کر رہے ہیں۔ اور جان لو کہ وقت ایک تلوار کے مانند ہے۔ اس کا درست استعمال کریں۔ ورنہ وہ آپ کو کاٹ دیگی اور آپ کا مسقبل تابناک ہوگا۔ کوئ بھی سماج ، یا معاشرہ تہذیب وتمدن، تہذیب و ثقافت ، ادب و اخلاق، اور حسن اخلاق سے الگ تھلگ رہکر اپنی ملی اور مذہبی تشخص کو باقی نہیں رکھ سکتا، یہی وجہ ہے کہ انسان کو ماڈرن تعلیم کے ساتھ مذہبی تعلیم اور تربیت کی اشد ضرورت ہوتی ہے، جس کی وجہ سے وہ انسان کی طرف سے ہونے والی نا انصافیوں پر قدغن لگا سکتا ہے۔ ورنہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ زندگی کے مختلف شعبوں اور دفاتر میں جو نا انصافیاں ہوتی ہیں وہ سب پر عیاں ہیں۔ یہ لوگ تو دفاتر کے اعلی شعبوں میں کام کرتے ہیں اور تعلیم بھی اعلی ہوتی ہے۔ لیکن انہیں ( Religious education) مذہبی تعلیم اور انسانیت نواز تربیت نہ ہونے کی وجہ سے اپنے عہدہ اور قلم سے انصاف کرنے کے بجاے ( Injustice ) ناانصافیاں رقم کرتے جو ایک ظلم عظیم ہے۔ جن کے دلوں میں اور قلوب میں خشیت الہی ہے ۔ وہ انصاف پرور اور عدل و انصاف کے پیکر اور حامی ہوتے ہیں۔ واقعہ میں ملتا ہے کہ ایک بڑھیا کی گاۓ بادشاہ کے لشکریوں نے ذبح کیا اور کھا گیۓ۔ جبکہ گاۓ کا دودھ بڑھیا خاتون کے گزارے کا ایک واحد ذریعہ تھا۔ خاتون بہت پریشان ہوئی اور رات بڑی مصیبت میں بسر کی۔ صبح جب وہ بادشاہ سے شکایت کرنے کے لیے محل کی طرف روانہ ہوئی، تو معلوم ہوا کہ بادشاہ شکار کی غرض سے پل پر کھڑے ہوئے ہیں۔ خاتون شکایت کے لیے وہاں پہنچی۔ اور بادشاہ کو ماجرا سنایا۔ تب بادشاہ گھوڑے سے نیچے اترا، بوڑھی خاتون نے کہا۔ اے بادشاہ سلامت میرا فیصلہ اس پل پر کر یا پھر پل صراط پر۔ آپ چاہے دونوں جگہوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ تب بادشاہ نے اس خاتون سے کہا۔ میں یہیں عدل کرتا ہوں، پل صراط پر عدل و انصاف کرنے کی میری ہمت اور وقعت نہیں۔ بادشاہ نے اس خاتون کو گاۓ کے بدلے ستر گائیں دی۔ اج اگر کوئی وزیر اعظم یا وزیر اس طرح چلتے پھرتے روڈ پر آنا فانا لوگوں سے عدل کریں تو لوگ انہیں پاگل کہینگے۔ کیونکہ ہماری روایت (Tendency) بن گئ ہے کہ ہم ظلم و ستم ، افراتفری، میں جینے کو ہی بہتر سمجھ ر ہے ہیں۔ آج کا سماجی بحران یہ بھی ہے کہ ظالم کو ظالم اور حق کو حق کہنے کی جسارت نہیں۔ جبکہ حدیث میں ہے، حق اور سچ بات وقت کے ظالم اور سفاک بادشاہ کے سامنے کہنے سے پس و پیش نہیں ہونا چاہیے۔ اگر کوئ اکثریت غلط کام میں مصروف عمل ہے، تو وہ اکثریت کی بنیاد پر درست اور حق نہیں ہوسکتا۔ اور چند لوگ راہ راست اور حق اور سچ کا ساتھ دیتے ہیں تو وہ کامیاب ترین لوگ ہیں اگرچہ کے چند ہوں۔ کیونکہ اسلام میں (Majority) ، اور ( minority) مائناریٹی کا کوئ سوال نہیں۔ جب حق اور ایمان کی دولت سے لبریز ہوں تو تین سو تیرہ بھی ہزاروں پر بھاری ہیں۔ چنانچہ اللہ کا فرمان ہے، اور اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ جس کامفہوم یوں ہے۔ قرآن نے حق اور انصاف کی تعلیم دی ہے۔ کہ کسی بھی حال میں حق اور سچ کو ترک نہیں کرنا چاہیے ۔ گرچہ کے اس نسبت سے والدین کے خلاف ہی کیوں نہ جانا پڑے۔ جب ہم۔ اس بات پر عمل پیراء ہوں گے تو سچ انصاف، اخوت، اور انسانیت نوازی کا سیلاب امڈ پڑیگا۔ اور اور سماج معاشرہ اور ہمارے درمیان جو بحران پیدا ہوا ہے اس کا انسداد اور خاتمہ ہوگا۔ ورنہ یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ اخلاق کا مظاہرہ صرف امیر ترین اور طاقت ور کے سامنے ہی کیا جارہا ہے۔ جو ایک مفاد پرستی اور کم ظرفی کی علامت ہے۔ سماجی بحران یہ بھی ہے کہ اعلی اور خطیر تنخواہ پانے والے آفیسرس غرباء سے رشوت کی مانگ کرتے ہیں ، جو ایک افسوس ناک بات ہے چنانچہ انسانی معاشرہ اور سماج میں در پیش سماجی بحران کا انسداد اور اس کا حل اسلامی تعلیمات اور اس کے دستور میں ہی مضمر ہے۔ جو عدل و انصاف ، اخوت اور بھائ چارہ ، اور انسانیت کا درس دیتا ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے