कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

عزّتِ نفس کا خیال بھی رکھنا چاہیے

از قلم مفتی محمد اسلم جامعی
(استاذ دارالعلوم محمدیہ قدوائی روڑ مالیگاؤں)
بذریعہ ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف پربھنی

خداوند قدوس نے مشتِ خاک کو جامۂ انسانیت پہنا کر شرافت و کرامت کا تاج اس کے سر پر رکھا اور اسلام جیسا عظیم الشان مذہب عطا فرمایا جس میں زندگی گزارنے کے اصول و ضوابط پنہاں ہے، اسی نے انسان کو عزّتِ نفسی کا درس دیا کیوں کہ انسانی زندگی میں عزّتِ نفس ایک ایسا قیمتی جوہر اور کارآمد سرمایہ ہے جو انسان کی شخصیت، وقار اور خود اعتمادی کا حصہ ہے، کہ اس کے بغیر انسان پُر اعتماد نہیں نظر آتا، اس لیے شریعتِ مطہرہ نے انسان کواس بات پر متنبہ کیا کہ تواضع کی راہ اختیار کرنے میں اپنی چاہت یا منشاء سے کوئی ایسا طریقہ اختیار نہ کرے جس سے اپنی ذات کی تذلیل ہو، یا بے غیرتی، خساست، چھچھورا پن یا ذلت و رسوائی ظاہر ہو، چناں چہ امام ترمذی رح نے اپنی سنن میں ایک روایت بیان کیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا لَا یَنْبَغِیْ لَلْمُؤمِنِ أن یُذِلَّ نفسه قالوا کیفَ یُذِلُّ نفسه قال یَتَعَرّضُ من البلاءِ لِماَ لَا یُطِیُقُ (ترمذی شریف جلد ٢صفحہ صفحہ ٥١ کتاب الفتن) مؤمن کے لیے مناسب نہیں کہ وہ اپنے آپ کو ذلیل کرے صحابہ کرام رض نے پوچھا کہ کوئی اپنے آپ کو کیسے ذلیل کرے گا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ایسی بلاؤں کے درپے ہوں جو اس کی طاقت کے باہر ہو، روایتِ بالا پر غور کریں کتنے بہترین انداز میں عزّتِ نفس کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا اورہر اس کام سے باز رہنے کی تاکید کی گئی جس سے عزّتِ نفس پر ضرب پڑھتی ہو، شرّاح کرام نے اس روایت کے تحت اس بات کی وضاحت بطورِ خاص کیں کہ انسان ایسی ذمہ داری قبول نہ کریں جس کی لیاقت، صلاحیت، یا قابلیت اپنے اندر نہ پاتا ہو، بعض اوقات انسان کسی غرض، لالچ، بڑائی، ناموری، جھوٹی شان یا کسی جذبۂ تسکین کی خاطر غیر متحمل چیزوں کی ذمہ داری قبول کرتا ہے مگر قابلیت، سلیقہ مندی کے فقدان کی صورت میں ذلت و رسوائی کے گھنگھور دلدل میں پھنس جاتا ہے، جس سے عزّتِ نفس پر بڑا گہرا اثر ہوتا ہے، اس لیے ناقابلِ تحمل ذمہ داری کے ساتھ ہر ایسے کام سے اجتناب کریں جس سے عزّتِ نفس پر بُرا اثر پڑے، حضرت مفتی سعید صاحب پالنپوری رح فرماتے ہیں کہ فقہاء کرام نے اس حدیث سے ضابطہ بنایا کہ خود کو رسوا کرنا جائز نہیں، یعنی ایسا کام کرنا (اگر چہ وہ جائز ہو) جس کے نتیجہ میں رسوائی ہو مناسب نہیں، مثلاً 1) کرنسی بلیک میں کیش کرانا، 2) ریل میں بغیر ٹکٹ سفر کرنا، 3) ٹیکس چوری کرنا اور اس کے لیے غلط حساب بنانا وغیرہ بہت سی جزئیات ہے جن کا انجام رسوائی ہے، پکڑے جانے پر عزت خاک میں مل جاتی ہے، اس لیے مؤمن کو اس قسم کے امور سے بچنا چاہیے (تحفة الالمعی جلد ٥ صفحہ ٦٣١ کتاب الفتن) ملا علی قاری رح نے مرقاة المفاتيح اور مولانا ادریس کاندھلوی رح نے التعلیق الصبیح میں لَا یَنْبَغِیْ کا معنی لَا یَجُوْزُ لکھا ہے یعنی اپنے اختیار سے ایسے امور کی انجام دہی جائز نہیں جس سے عزّتِ نفس پر کاری ضرب پڑے، علاوہ ازیں امام ترمذی رح نے اپنی سنن میں اور امام قزوینی رح نے سنن ابن ماجہ میں اس روایت کو کتاب الفتن میں ذکر کیا اور صاحبِ مشکوة المصابيح نے اس روایت کو کتاب الدعوات میں ذکر کیا، کتاب الفتن میں ذکر کرنے کی غالباً یہ وجہ ہے کہ غیر مُتحمّل چیزوں کے بار سے انسان آزمائش میں مبتلا ہوجاتا ہے، اور کتاب الدعوات میں ذکر کرنے کی وجہ غالباً یہ ہے غیر متحمّل چیزوں کے بار کی دعا بھی نہیں مانگنا چاہیے، عزّتِ نفس میں بظاہر کبر کی بو کا شائبہ لگتا ہے، مگر وہ درحقیقت کبر نہیں ہوتا، بل کہ وصفِ محمود ہے، اور اپنے موقع پر عزّتِ نفس کو ملحوظ رکھنا مستحسن چیز ہے۔

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے