कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

عباسی حکومت میں کتابوں اور کتب خانوں کی اہمیت

تحریر:ابو خالد قاسمی آسامی
استاذ جامعہ اسلامیہ گلزار قرآنیہ ، کلچھینہ غازی آباد

عہدِ عباسی اسلامی تاریخ کا وہ سنہری دور ہے جس میں علم، تصنیف و تالیف اور کتب خانوں کی غیر معمولی ترقی ہوئی۔ اس زمانے میں علمی سرمایہ صرف حافظے تک محدود نہیں رہا بلکہ کتابی شکل میں محفوظ ہونے لگا۔ یہی وجہ ہے کہ اس دور میں تقریباً ہر صاحبِ علم کے پاس ذاتی کتب خانہ موجود ہوتا تھا اور معاشرے میں کتابیں عزت و وقار کی علامت سمجھی جاتی تھیں۔
سب سے پہلے اس دور میں تصنیف و تالیف اور ترجمہ کی تحریک نے عربوں کی اس کمی کو دور کیا کہ ان کے پاس تحریری علمی سرمایہ کم تھا۔ اب لوگ صرف یادداشت پر نہیں بلکہ کتابت و تصنیف پر بھی فخر کرنے لگے۔ اس کے نتیجے میں علمی ذخیرہ بڑی تیزی سے بڑھا اور مختلف علوم و فنون کی کتابیں مرتب ہوئیں۔
عباسی خلفاء، وزراء اور امراء اپنے محلوں میں باقاعدہ کتب خانے قائم کرتے تھے اور قیمتی کتابیں جمع کرتے تھے۔ ابوبکر بن یحییٰ الصولی کے واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ خلیفہ راضی باللہ کے محل میں بھی لائبریری موجود تھی اور یہ روایت پہلے کے عباسی خلفاء میں بھی جاری تھی۔ اس سے پہلے کے خلفاء میں سفاح، منصور، مہدی، ہادی، ہارون رشید، امین، مامون، معتصم، واثق، متوکل، منتصر، مستعین، معتز، مہتدی، معتمد، معتضد، مکتفی اور مقتدر شامل ہیں۔ مؤرخین نے خاص طور پر منصور، ہارون رشید اور مامون کے ذاتی کتب خانوں کا ذکر کیا ہے۔
(اخبار الراضی باللہ والمتقی للہ، ص: 39)
علم کی عام اشاعت کے لیے صرف محلوں تک ہی لائبریریاں محدود نہیں تھیں بلکہ مساجد میں بھی عوام کے لیے کتب خانے قائم کیے جاتے تھے۔ ابو نصر احمد بن حامد اصفہانی اور حسان بن سعید المنیعی نے کئی مساجد میں عوام و خواص کے لیے لائبریریاں بنوائیں۔
(وفیات الاعیان، ج:1، ص:60-61 ؛ الانساب، ص:543)
اسی طرح عام گزرگاہوں اور راستوں کے کناروں پر بھی کتب خانے قائم کیے جاتے تھے تاکہ لوگ آسانی سے کتابوں سے استفادہ کرسکیں۔ یاقوت حموی کے بیان کے مطابق بعض شہروں میں اس قسم کی دس دس لائبریریاں موجود تھیں۔
(کتاب الحیوان، ج:1، ص:60-61)
مسلمانوں میں مطالعہ کا غیر معمولی شوق تھا۔ مثال کے طور پر ابوبکر صولی جب راضی باللہ اور اس کے بھائی ہارون کو تعلیم دے رہے تھے تو اسی زمانے میں انہوں نے فقہ، ادب اور لغت کی کتابوں پر مشتمل لائبریری قائم کرنا شروع کردی تھی اور دونوں بھائیوں کی الگ الگ ذاتی لائبریریاں تھیں۔
(اخبار الراضی باللہ والمتقی للہ، ص:39-40)
اس زمانے میں کتابیں گھر اور محفلوں کی زینت بھی سمجھی جاتی تھیں۔ بعض مالدار لوگ صرف اس مقصد سے کتابیں خریدتے تھے کہ معاشرے میں انہیں اہلِ علم سمجھا جائے۔
(نفح الطیب من غصن الاندلس الرطیب، ج:3، ص:10-11)
علماء اپنی اولاد کے لیے بھی الگ کتب خانے قائم کرتے تھے۔ مثلاً ابوالحسن علی بن عبداللہ الطائی نے اپنے بیٹوں ابوالبرکات اور ابوعبداللہ کے لیے الگ الگ لائبریریاں بنوائیں، جب کہ ان کے پاس پہلے سے اپنی ذاتی لائبریری بھی موجود تھی۔
(معجم الادباء، ج:6، ص:22)
بعض کتب خانوں کے مالکان مطالعہ کرنے والوں کی مالی مدد بھی کرتے تھے۔ ابن سوار اور ابوالقاسم موصلی اپنی لائبریریوں میں آنے والے طلبہ کو روپے پیسے اور دیگر تحائف دیتے تھے۔
(احسن التقاسیم فی معرفۃ الاقالیم، ص:413 ؛ معجم الادباء، ج:2، ص:20)
کتابوں کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ بیٹیوں کو جہیز میں بھی کتب خانے دیے جاتے تھے۔ مثال کے طور پر مشہور محدث امام اسحاق بن راہویہ کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے عبداللہ زغدانی کی بیٹی سے اس لیے نکاح کیا تاکہ امام شافعی کی تصانیف پر مشتمل کتب خانہ حاصل ہوسکے۔
(الانساب، ص:286)
اہلِ علم کتب خانوں کے حصول کے لیے سفر بھی کرتے تھے اور شعرا لائبریریوں کی تعریف میں اشعار کہتے تھے۔ مشہور شاعر ابوالعلاء المعری نے بغداد کے کتب خانہ دارالعلم کو دیکھ کر اس کے منتظم کی تعریف میں اشعار کہے۔
(انباہ الرواۃ، ص:176)
اس دور میں کتابوں سے محبت اس حد تک تھی کہ بعض لوگ تنگیِ معاش کے باوجود اپنی کتابیں فروخت نہیں کرتے تھے۔ ابراہیم الحربی کا واقعہ مشہور ہے کہ اس نے اپنے بچوں کو بھوکا رکھا مگر اپنی لائبریری کی ایک کتاب بھی فروخت نہ کی۔
(تاریخ بغداد، ج:6، ص:33)
کتب خانوں کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ انہیں رہن پر بھی دیا اور لیا جاتا تھا، گویا ان کی حیثیت زمین اور جائیداد جیسی تھی۔ بعض اوقات کتابیں چوری ہوکر بازار میں فروخت بھی ہوجاتی تھیں۔
کتابوں کے لیے باقاعدہ عمارتیں بھی تعمیر کی جاتی تھیں۔ مثال کے طور پر سابور بن اردشیر نے بغداد کے محلہ کرخ میں ایک شاندار کتب خانہ تعمیر کیا۔ اسی طرح ابوالشیخ بن محمد نے اصفہان میں لائبریری کی عمارت بنوائی۔
(کتاب المنتظم، ج:7، ص:172 ؛ خریدۃ القصر، ص:25)
خلفاء اور حکمران بڑے علماء کے کتب خانے حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ جب امام احمد بن حنبلؒ کا انتقال ہوا تو خلیفہ متوکل علی اللہ نے ان کے بیٹے سے ان کا کتب خانہ خریدنے کی کوشش کی مگر انہوں نے انکار کردیا۔
(تاریخ الاسلام، ص:82)
علم اور کتابوں سے محبت کا ایک واقعہ یہ بھی ہے کہ ابومعشر فلکی حج کے سفر پر نکلا مگر راستے میں ایک لائبریری دیکھ کر مطالعے میں ایسا مشغول ہوا کہ اپنا سفر حج تک بھول گیا۔ اسی طرح کا واقعہ یاقوت رومی کے ساتھ بھی پیش آیا۔
(معجم الادباء، ج:5، ص:467 ؛ معجم البلدان، ج:5، ص:114)
اس دور میں کتابیں لکھنے والوں کی بڑی قدر کی جاتی تھی۔ اگر کوئی مصنف اپنی کتاب حکمرانوں یا وزیروں کو پیش کرتا تو اسے مال و دولت اور قیمتی تحائف دیے جاتے تھے۔ مثال کے طور پر وہب بن ابو اصیبعہ نے اپنی کتاب "عیون الانباء فی طبقات الاطباء” وزیر کمال الدین کو پیش کی تو اسے بہت سے انعامات سے نوازا گیا۔
(عیون الانباء فی طبقات الاطباء، ج:3، ص:286-287)
چونکہ اس زمانے میں طباعت کا نظام موجود نہیں تھا اس لیے مصنفین اپنی کتابوں کے کئی نسخے خود لکھتے تھے تاکہ اصل نسخہ محفوظ رہے۔ وزیروں کے محلوں میں کاتبوں کا باقاعدہ انتظام ہوتا تھا اور بعض جگہوں پر چالیس چالیس تخت لگے ہوتے تھے جہاں کتابیں نقل کی جاتی تھیں۔
(تاریخ بغداد، ج:12، ص:281 ؛ کتاب المنتظم، ج:3، ص:136)
الغرض عہدِ عباسی میں علم دوستی اور کتب بینی کا ایسا ماحول تھا کہ معاشرے کے عوام و خواص سب کتابوں کے شوق میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے تھے۔ کتابیں حاصل کرنا، لائبریریاں قائم کرنا اور مطالعہ کرنا نہ صرف علمی ضرورت تھا بلکہ سماجی عزت، وقار اور ثقافتی ترقی کی علامت بھی سمجھا جاتا تھا۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے