कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

’’ عالمی یومِ ماحولیات اور اسلام کا فطرت دوست پیغام ‘‘

تحریر: خان اجمیری(عرف خان میڈیم)
زوجہ ڈاکٹر خان خرم زبیر
B.sc [Cs & C.B.Z ] B.Ed MCA
ڈائریکٹر اسٹڈی اسمارٹ کوچنگ کلاسیس اردھاپور ضلع ناندیڑ مہاراشٹرا

دنیا بھر میں ہر سال 5 جون کو یومِ ماحولیات منایا جاتا ہے تاکہ انسانوں کو یہ یاد دلایا جا سکے کہ وہ فطرت کے ساتھ کیسا رویہ اختیار کر رہے ہیں۔ آج دنیا میں جو ماحولیاتی مسائل درپیش ہیں، جیسے آلودگی، گلوبل وارمنگ، جنگلات کی کٹائی، پانی کی قلت، وہ سب انسان کی اپنی کوتاہیوں کا نتیجہ ہیں۔ لیکن اگر ہم قرآن و حدیث کی روشنی میں دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے ہمیں صدیوں پہلے ہی ماحول کی حفاظت کا حکم دیا تھا۔
اسلام دینِ فطرت ہے۔ اس کا ہر حکم انسان کی بھلائی، زمین کی آبادی اور فطری توازن کے تحفظ پر مبنی ہے۔ قرآن کریم بار بار زمین، آسمان، پہاڑ، دریا، درخت، پھل، جانور اور پرندوں کا ذکر کرتا ہے تاکہ انسان ان پر غور کرے اور اللہ کی عظمت کو پہچانے۔ سورہ البقرہ میں ارشاد ہوتا ہے کہ وہی اللہ ہے جس نے زمین کو تمہارے لیے فرش بنایا، آسمان کو چھت بنایا، پانی برسایا اور اس سے پھل پیدا کیے۔ ان سب نعمتوں کو استعمال کرنے کی اجازت ضرور دی گئی ہے، لیکن ان کے ساتھ ظلم یا بربادی کی اجازت نہیں۔
قرآن میں فرمایا گیا ہے کہ زمین میں فساد نہ پھیلاؤ جبکہ وہ درست کر دی گئی ہو۔ آج درخت کاٹنا، پانی ضائع کرنا، دھواں چھوڑنا، زمین کو زہریلے کیمیکل سے آلودہ کرنا، سب فساد میں شمار ہوتا ہے۔ اسلام ہمیں فطری توازن قائم رکھنے کا حکم دیتا ہے۔ سورہ الرحمٰن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اُس نے آسمان کو بلند کیا اور میزان (توازن) قائم کی تاکہ تم حد سے نہ بڑھو۔ جب انسان اس توازن کو بگاڑتا ہے تو ماحول بیمار ہو جاتا ہے، موسم بدل جاتے ہیں، بیماریاں پھیلتی ہیں، زلزلے، طوفان اور قحط آتے ہیں۔
نبی کریم ﷺ کی تعلیمات میں بھی ماحولیات کی بڑی اہمیت ملتی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو مسلمان درخت لگاتا ہے یا کھیتی کرتا ہے، پھر اس میں سے انسان یا جانور کچھ کھاتا ہے تو وہ اس کے لیے صدقہ بن جاتا ہے۔ آپ ﷺ نے پانی کے ضیاع سے منع فرمایا، یہاں تک کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو وضو میں پانی زیادہ بہانے سے بھی روکا، حالانکہ وہ دریا کنارے تھے۔ آپ ﷺ نے جانوروں پر رحم کی تعلیم دی، اور ایک عورت کو صرف اس لیے جہنم کی سزا سنائی کہ اس نے بلی کو بھوکا مار دیا تھا۔
اسلام میں صرف عبادات کو دین نہیں سمجھا جاتا، بلکہ صفائی، رحم دلی، پرہیزگاری، اور ماحول کی حفاظت بھی دین کا حصہ ہے۔ جب ہم درخت لگاتے ہیں، پانی بچاتے ہیں، زمین کو آلودہ ہونے سے بچاتے ہیں، یا جانوروں کو ستانے سے باز رہتے ہیں تو یہ سب عبادت میں شمار ہوتا ہے۔ افسوس کہ آج ہمارا طرزِ عمل ان تعلیمات کے بالکل برعکس ہے۔ ہم درختوں کو کاٹ کر زمین کو بنجر بنا رہے ہیں، ندیوں میں کچرا ڈال کر پانی کو زہر آلود کر رہے ہیں، شور و دھواں پھیلا کر فضا کو خراب کر رہے ہیں، اور پھر شکایت کرتے ہیں کہ بیماریاں بڑھ رہی ہیں، بارشیں کم ہو رہی ہیں، گرمی ناقابلِ برداشت ہو گئی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہم خود اپنے ہاتھوں سے اپنی زمین کو برباد کر رہے ہیں۔ قرآن فرماتا ہے: خشکی اور تری میں فساد ظاہر ہو گیا ہے لوگوں کے اعمال کی وجہ سے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ زمین پھر سے سرسبز ہو، ہوا صاف ہو، پانی میٹھا ہو، دریا روان ہو، پھول کھلیں اور پرندے چہکیں، تو ہمیں اپنی روش بدلنی ہوگی۔ ہمیں اللہ کی نعمتوں کی قدر کرنی ہوگی، درختوں سے دوستی کرنی ہوگی، جانوروں پر رحم کرنا ہوگا، اور اپنی زمین کو عبادت سمجھ کر سنوارنا ہوگا۔
ایک مسلمان کی زندگی صرف نماز، روزے، حج اور زکوٰۃ تک محدود نہیں، بلکہ وہ زمین پر اللہ کا خلیفہ ہوتا ہے۔ اس کا فرض ہے کہ وہ زمین کو آباد رکھے، نہ کہ برباد کرے۔ اگر ہم واقعی اسلام پر عمل کرنا چاہتے ہیں تو ماحول کی حفاظت کو بھی اپنی زندگی کا مقصد بنانا ہوگا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم کم از کم ہر سال ایک درخت لگائیں، پانی اور بجلی کی بچت کریں، پلاسٹک سے پرہیز کریں، کوڑا کرکٹ صاف طریقے سے ٹھکانے لگائیں، اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیں۔
اگر ہم انفرادی طور پر چھوٹے چھوٹے قدم اٹھائیں تو ایک بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔ ہم میں سے ہر ایک اس زمین کا ذمہ دار ہے۔ یہ زمین ہمیں اللہ کی امانت کے طور پر ملی ہے، اور ہم سے اس کی حفاظت کے بارے میں سوال ہوگا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر قیامت قائم ہو رہی ہو اور کسی کے ہاتھ میں پودا ہو تو وہ اسے لگا دے۔ یہ حدیث ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ماحول سے محبت صرف دنیاوی فائدے کے لیے نہیں، بلکہ آخرت کی کامیابی کے لیے بھی ضروری ہے۔
ہمیں چاہیے کہ ہم یومِ ماحولیات کو صرف رسمی دن کے طور پر نہ منائیں، بلکہ اس دن اپنے اعمال کا جائزہ لیں، اپنی زمین سے رشتہ جوڑیں، اور اللہ کے بنائے ہوئے فطری نظام کے ساتھ ہم آہنگ زندگی گزاریں۔ اگر ہم نے قرآن و سنت کے ماحول دوست پیغام کو اپنایا، تو نہ صرف زمین کی خوبصورتی لوٹے گی، بلکہ ہماری روحانی ترقی بھی ہوگی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

 

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے