कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

عالمی یومِ عربی زبان:زبانِ وحی، تہذیبی شناخت اور عالمی علمی ورثہ

از: ڈاکٹر مولانا محمد عبد السمیع ندوی
اسسٹنٹ پروفیسر، مولانا آزاد کالج آف آرٹس، سائنس اینڈ کامرس، اورنگ آباد
ڈائریکٹر: وی آئی پی پیامات شادی سینٹر، اورنگ آباد
موبائل نمبر: 9325217306

ہر سال 18 دسمبر کو دنیا بھر میں عالمی یومِ عربی زبان منایا جاتا ہے۔ یہ دن محض ایک زبان کی یاد منانے کا دن نہیں بلکہ ایک عظیم تہذیبی ورثے، فکری روایت اور علمی تاریخ کے اعتراف کا دن ہے۔ عربی زبان وہ زبان ہے جس نے صدیوں کے نشیب و فراز کے باوجود اپنی زندگی، تاثیر اور معنویت کو برقرار رکھا اور ہر دور میں انسانیت کی فکری رہنمائی کی۔اس دن کے انتخاب کی تاریخی وجہ یہ ہے کہ 18 دسمبر 1973ء کو عربی زبان کو باضابطہ طور پر اقوامِ متحدہ کی سرکاری زبانوں میں شامل کیا گیا۔ یوں عربی زبان کو عالمی سطح پر وہ مقام حاصل ہوا جو اس کے علمی، تہذیبی اور تاریخی کردار کا فطری تقاضا تھا۔ یونیسکو کے زیرِ اہتمام اس دن کو منانے کا مقصد دنیا کو یہ باور کرانا ہے کہ عربی زبان کسی ایک قوم یا خطے تک محدود نہیں بلکہ ایک عالمی زبان ہے۔عربی زبان دنیا کی قدیم ترین اور زندہ زبانوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ زبان طویل تاریخی سفر کے باوجود اپنی اصل ساخت، فصاحت اور بلاغت کو محفوظ رکھے ہوئے ہے۔ عربی کے الفاظ میں معنوی گہرائی، اسلوب میں روانی اور اظہار میں وسعت پائی جاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ زبان ہر دور میں اہلِ علم کی توجہ کا مرکز رہی ہے۔عربی زبان کو وہ دائمی شرف حاصل ہے کہ قرآنِ مجید اسی زبان میں نازل ہوا۔ قرآنِ کریم کی فصاحت و بلاغت نے عربی زبان کو نہ صرف دوام بخشا بلکہ اسے ایک عالمی روحانی مقام عطا کیا۔ عربی زبان دراصل فہمِ قرآن کی کنجی ہے، اور جب تک عربی زبان کو براہِ راست نہ سمجھا جائے، قرآن کے معانی، اس کی گہرائی اور اس کی فکری وسعت پوری طرح واضح نہیں ہو سکتی۔اسلامی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ عربی زبان محض مذہبی تعلیمات تک محدود نہ رہی بلکہ ایک مکمل علمی زبان کے طور پر ابھری۔ عباسی دور میں عربی زبان دنیا کی سب سے بڑی علمی زبان بن چکی تھی۔ طب، ریاضی، فلکیات، فلسفہ، کیمیا اور تاریخ جیسے علوم میں جو تحقیقی کام ہوا، وہ سب عربی زبان کے ذریعے محفوظ ہوا۔ بغداد، دمشق، قاہرہ اور اندلس کے علمی مراکز عربی زبان کے درخشاں نمونے تھے۔یہ بھی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ یورپ کی نشاۃِ ثانیہ میں عربی زبان کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ یونانی فلسفہ اور قدیم علوم کے تراجم عربی میں ہوئے، پھر انہی عربی کتابوں کے لاطینی زبان میں تراجم کے ذریعے یورپ کو فکری بیداری نصیب ہوئی۔ اگر عربی زبان اس علمی ورثے کی امین نہ بنتی تو جدید دنیا کی علمی تشکیل شاید ممکن نہ ہو پاتی۔آج کے دور میں بھی عربی زبان کی اہمیت کم نہیں ہوئی۔ دنیا بھر میں کروڑوں افراد عربی زبان بولتے، پڑھتے اور سمجھتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں عربی زبان ثقافتی شناخت کے ساتھ ساتھ معاشی، تجارتی اور سفارتی سطح پر بھی کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ اقوامِ متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں میں عربی زبان کی موجودگی اس کی عالمی حیثیت کا واضح ثبوت ہے۔بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں عربی زبان کو اکثر صرف مذہبی یا رسمی ضرورت تک محدود سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ عربی زبان ایک مکمل زندہ زبان ہے جو جدید تقاضوں کو پورا کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔ آج عربی زبان میں جدید سائنسی تحقیق، صحافت، ادب اور ڈیجیٹل مواد بڑی تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم عربی زبان کو صرف نصابی بوجھ نہ سمجھیں بلکہ فہم، تحقیق اور مکالمے کی زبان بنائیں۔عالمی یومِ عربی زبان ہمیں یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اپنے تعلیمی نظام پر سنجیدگی سے غور کریں۔ عربی زبان کی تعلیم کا مقصد صرف قواعد یاد کروانا نہیں بلکہ زبان کو سمجھنے، بولنے اور استعمال کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہونا چاہیے۔ اگر مدارس اور عصری تعلیمی ادارے جدید اسلوب کے ساتھ عربی زبان کی تدریس کو فروغ دیں تو نئی نسل میں اس زبان کے لیے فطری رغبت پیدا ہو سکتی ہے۔یہ دن اس حقیقت کی بھی یاد دہانی کراتا ہے کہ زبانیں قوموں کی تہذیبی شناخت ہوتی ہیں۔ جو قومیں اپنی زبان اور علمی ورثے کی قدر نہیں کرتیں، وہ آہستہ آہستہ اپنی شناخت کھو بیٹھتی ہیں۔ عربی زبان کی حفاظت اور ترویج دراصل ایک عظیم تہذیبی ورثے کی حفاظت ہے، جس کا تعلق صرف عرب دنیا سے نہیں بلکہ پوری انسانیت سے ہے۔آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ عالمی یومِ عربی زبان محض ایک رسمی دن نہیں بلکہ ایک فکری دعوت ہے۔ یہ دعوت ہے عربی زبان کو سمجھنے کی، اسے اپنانے کی اور اسے آنے والی نسلوں تک منتقل کرنے کی۔ عربی زبان ماضی کی یادگار نہیں بلکہ حال کی ضرورت اور مستقبل کی ضمانت ہے، اور عالمی یومِ عربی زبان اسی حقیقت کا واضح اظہار ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے