कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

ظلم کیا ہے؟

تحریر: مولانا میر ذاکر علی محمدی پربھنی 9881836729
بذریعہ نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف

قرآن کریم میں اللہ نے سب سے پہلے ظلم کی سزا اور اس سے متعلق فرمایا ہے۔ ان الشرک لظلم عظیم، یعنی خالق کائنات کے ساتھ کسی اور کو شامل کرنا جس کو شرک کہتے ہیں اور یہ کرہ ارض پر سب سے بڑا گناہ اور ظلم ہے،جس کو خداے برتر معاف نہیں کریگا۔ لہذا اس سے بچنا بہت ضروری ہے، بصورت دیگر آخرت کی تخریب کاری ہے۔ اس کے علاوہ ظلم کی اور بھی کئ قسمیں ہیں۔ مثلا ایک ظلم کسی اچھی اور نادر چیز کو نا مناسب جگہ پر رکھ دیا جاے۔ اور نا مناسب کو مناسب جگہ رکھ دیا جاے۔ نااہل کو اچھی جگہ اور اہل کو نامناسب جگہ پر رکھ دیا جاے یہ بھی ایک ظلم و ستم ہے، جو دور حاضر میں دید کو ملتا یے۔ بلکہ ہر جگہ اس غلط روش کا بول بالا ہے، جس کا سد باب ضروری ہے، جو ایک قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے، ظالم کو ظالم، اور حق کو حق نہ کہنا یا کہنے سے ڈرنا یہ بھی ایک ظلم ہے۔ چناں چہ حدیث میں ہے۔ وقت کے ظالم بادشاہ کے سامنے حق گوئ سے پس و پیش نہ کریں۔ ایک حدیث ہے، اگر آپ کوئ برائ یا برا عمل یا کسی معصوم پر ظلم و ستم ہوتے ہوے دیکھیں تو اسے چاہیے کہ اس کو طاقت یا سنگھرش سے روکیں، یا پھر اپنی زبان سے اس عمل کو منع کریں، یا پھر کم از کم دل میں برا سمجھیں۔ یہ تیسرے درجہ کا ایمان ہے۔ اگر کوئ یہ تینوں اوصاف سے عاری اور بے حس ہیں، تو یہ بھی ایک (cruelty) ظلم ہے۔ اسلام نے انسانیت اور اس کی بقاء کی تعلیم دی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل حال یہ تھا کہ عرب میں نومولود بچیوں کو زندہ درگور کرتے تھے، اور لڑکی کی ولادت کو منحوس سمجھا جاتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ظلم و ستم کو ختم کیا۔ اور صنف نازک کو بھی اعلی مقام عطا کیا۔ یہی نہیں بلکہ قرآن اور حدیث کی تعلمیات کا غیر مسلموں میں ستی جیسی خطرناک رسم کا جو دور قدیم کے بر صغیر میں رائج بیوہ کو شوہر کے چیتا پر خود کو نذر آتش کرنا ہوتا تھا اس کا سدباب ہوا عورت جس کو اللہ نے مرد کی پسلی سے پیدا فرمایا۔ اور ایک۔ دوسرے کو لباس قرار دیا، یعنی بیوی اور شوہر ایک دوسرے کے لیے ،اور بہترین نسل کی تشکیل کے لیے پیدا کیا۔ چناںچہ ایسی خطرناک رسم کے سد باب کے لیے اسلام کی تعلیمات کا کافی اثر ہوا جو ایک ظالمانہ عقیدہ تھا عورت اور مرد کو (The woman is recognized by Islam ,as a full and equal partner of man in the procreation of humankind مساوی حقوق ، کے ساتھ عزت و احترام عطا کیا، اور یہی نہیں اسلام میں شرعی حدود کے پاسداری کے ساتھ خواتین کو آزادی کے ساتھ جینے کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ وہیں مغربی تہذیب نے خواتین کو آزادی کے نام پر استحصال اور ان کے وقار کو کافی حد تک نقصان پہونچایا ہے۔ جو خواتین کے ساتھ ظلم کے سوا اور کچھ نہیں۔ ظلم و ستم کے خلاف سدا بلند کرنا ہر مسلمان بلکہ ہر انسان کے لیے ضروری ہے۔ اللہ کا عذاب ظلم کرنے والے پر بھی ،اور ظلم کے خلاف آواز نہ اٹھانا اور خاموش تماشائ بنے رہنے پر بھی اللہ کا عذاب نازل ہونا ممکن ہے۔ حق کو حق نہ کہنے والا گونگا ابلیس ہے۔ ہمارے لیے موثر طریقہ یہ بھی ہے کہ سیاسی اعتبار سے مستحکم اور مضبوط ہونے کی اشد ضرورت ہے۔ سیاسی بصیرت اور قائدانہ صلاحیت وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ظلم ،ناانصافی کے سد باب کے لیے دعا کے ساتھ مضبوط سیاسی قیادت ہونا چاہیے، کیونکہ جو دین سیاست سے خالی ہو ،وہ مکمل دین نہیں۔ اور جو سیاست دین سے خالی ہو وہ مکمل سیاست نہیں۔ جب سیاسی طاقت مفلوج ہوتی ہے ،وہاں اصول و ضوابط بھی اوروں کے ہوتے ہیں۔ غزوہ خندق ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے۔ جب غزوہ خندق پیش آئ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خندق کھودنے کا حکم صادر فرمایا، تاکہ دشمن ان تک رسائ نہ کرسکے، اگر ہر چیز دعا سے حل ہوجاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خندق کھودنے کا حکم نہ دیتے، بلکہ دعا سے ہی دشمنوں کا صفایا ہوجاتا، یہ ہمارے لیے ایک پراکٹیکل سبق ہے ، اور یہ سبق ہمیں بتاتا ہے کہ ہم ہر فلڈ میں آگے رہیں۔ اور اپنی سوجھ بوجھ کو درست رکھیں۔ کیونکہ اللہ اپنے بندوں پر رتی برابر بھی ظلم نہیں کرتا۔ فرمان الھی ہے۔ ان اللہ لیس بظلام للعبید uاور ظلم کو برداشت نہیں کرتا۔ جو دنیا میں رتی برابر بھی خیر کا معاملہ کریگا، اس کو بروز قیا مت دیکھ لیگا، اور جو ذرہ برابر بھی شر یعنی بدی کریگا، اس کا بدلہ بھی پاے گا.

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے