कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

صدقۂ فطر کی حکمت و اہمیت

تحریر:ابو خالد قاسمی آسامی
استاذ جامعہ اسلامیہ گلزار قرآنیہ ، کلچھینہ غازی آباد

حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی عبارت کی روشنی میں: رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ ایک عظیم نعمت اور روحانی تربیت کا مہینہ ہے۔ اس مہینے میں مسلمان روزے رکھ کر اپنے نفس کو قابو میں لانے، صبر و تقویٰ حاصل کرنے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے قریب ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ روزہ انسان کے ظاہر و باطن کو پاک کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے؛ لیکن انسان ہونے کے ناتے روزے کے دوران بعض کوتاہیاں اور لغزشیں ہو ہی جاتی ہیں۔ انہی کوتاہیوں کی تلافی اور روزے کی تکمیل کے لیے شریعتِ اسلامیہ نے ایک خاص صدقہ مقرر کیا ہے جسے صدقۂ فطر یا فطرانہ کہا جاتا ہے۔
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے اس صدقے کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ صدقۂ فطر روزہ داروں کے لیے طہارت اور ان کے روزوں کی تکمیل کا ذریعہ ہے۔ یعنی اگر روزے کے دوران کسی قسم کی کمی یا کوتاہی رہ گئی ہو تو یہ صدقہ اس کی تلافی اور تکمیل کا سبب بنتا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے نماز کے فرائض کے ساتھ سنتیں اور نوافل مقرر کیے گئے ہیں تاکہ اگر فرض نماز میں کسی قسم کی کمی رہ جائے تو وہ سنتوں اور نوافل کے ذریعے پوری ہو جائے۔
روزوں کی تکمیل کا ذریعہ
رمضان المبارک میں مسلمان دن بھر بھوک اور پیاس برداشت کرتا ہے، اپنے نفس کو قابو میں رکھتا ہے اور گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان سے کوئی غیر مناسب بات ہو جائے، غفلت کا لمحہ آ جائے یا عبادت میں وہ کمال حاصل نہ ہو سکے جو مطلوب تھا۔ ایسی صورت میں صدقۂ فطر ایک روحانی صفائی کا کام انجام دیتا ہے۔
یہ گویا روزے کی عبادت پر لگنے والی ایک مہرِ قبولیت ہے، جو اللہ تعالیٰ کے حضور بندے کی عبادت کو مزید کامل اور پاکیزہ بنا دیتی ہے۔
صدقۂ فطر کی ایک بڑی حکمت معاشرے میں ہمدردی، مساوات اور اجتماعی خوشی کو فروغ دینا بھی ہے۔ عیدالفطر مسلمانوں کی خوشی کا دن ہے۔ مالدار اور خوشحال لوگوں کے گھروں میں تو عید کے دن خوشیاں اور نعمتیں ہوتی ہیں، لیکن معاشرے میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو غربت اور محتاجی کی وجہ سے بنیادی ضروریات سے محروم ہوتے ہیں۔
اگر ایسے غریب لوگ عید کے دن بھی اسی طرح محرومی اور فقر میں رہیں تو عید کی اجتماعی خوشی کا مقصد ادھورا رہ جائے گا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق پر شفقت کرتے ہوئے مالدار مسلمانوں پر لازم قرار دیا کہ وہ عید سے پہلے صدقۂ فطر ادا کریں، تاکہ مسکین اور محتاج لوگ بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔
اسلام نے صدقۂ فطر کو عید کی نماز سے پہلے ادا کرنے کی تاکید کی ہے۔ اس کی حکمت یہی ہے کہ محتاج اور نادار لوگ عید کے دن کسی قسم کی پریشانی اور محتاجی میں مبتلا نہ ہوں۔ جب انہیں عید سے پہلے یہ مدد مل جاتی ہے تو وہ بھی خوشی کے ساتھ عید منا سکتے ہیں، اپنے بچوں کے لیے کچھ خرید سکتے ہیں اور معاشرے کی اجتماعی خوشیوں میں برابر کے شریک بن سکتے ہیں۔
حضرت تھانویؒ نے اس بات کی طرف بھی اشارہ فرمایا کہ اگر معاشرے میں مساکین اور محتاجوں کی تعداد زیادہ ہو تو صدقۂ فطر کو ایک منظم طریقے سے جمع کرنے کا انتظام ہونا چاہیے، جیسے بیت المال کے نظام کے ذریعے۔ اس سے یہ فائدہ ہوگا کہ محتاجوں کو یقین ہو جائے گا کہ معاشرہ ان کے حقوق کی حفاظت کرتا ہے اور ان کی ضروریات کو پورا کرنے کا باقاعدہ انتظام موجود ہے۔
یہ دراصل اسلام کے اس عظیم معاشرتی اصول کی طرف اشارہ ہے کہ معاشرے کے کمزور اور ضرورت مند افراد کی کفالت اجتماعی ذمہ داری ہے۔
صدقۂ فطر میں اسلام نے عبادت اور خدمتِ خلق کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔ ایک طرف یہ عبادت بندے کے روزوں کو پاکیزہ اور مکمل بناتی ہے، اور دوسری طرف معاشرے کے محتاج افراد کی مدد کا ذریعہ بنتی ہے۔
یوں یہ صدقہ انسان کے اندر ایثار، سخاوت اور ہمدردی کے جذبات کو بیدار کرتا ہے اور اسے یہ احساس دلاتا ہے کہ اس کی دولت میں دوسروں کا بھی حق ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے