कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں عقیدۂ اہلسنت

از قلم : مفتی احمد رضا حمران مرکزی (620666403)

جملہ اہلسنت و جماعت کامتفقہ عقیدہ ہے کہ تمام صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین عادل ہیں ۔ لہٰذا ان حضرات پر کسی قسم کا طعن کرنا یا انہیں برے الفاظ سے یاد کرنا قطعاً جائز نہیں ان سے بغض و عناد رکھنا اپنی ہی آخرت برباد کرنے کےمترادف ہے ۔
صحابی کی تعریف:
حافظ ابن حجر رحمہ ﷲ نے ’’ صحابی ‘‘ کی تعریف یوں کی ہے :
’’الصحابی من لقی النبی صلي الله عليه وسلم مؤمنا بہ ومات علی الإسلام ‘‘
یعنی ’’ صحابی اسے کہتے ہیں جس نے حالتِ ایمان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی اور اسلام پر ہی فوت ہوا ۔‘‘
پھر اس کی وضاحت کرتے ہوئے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اِس تعریف کے مطابق ہر وہ شخص صحابی شمار ہوگا جو رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حال میں ملا کہ وہ آپ کی رسالت کو مانتا تھا ۔ پھر وہ اسلام پر ہی قائم رہا یہاں تک کہ اس کی موت آگئی ، خواہ وہ زیادہ عرصے تک رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہا یا کچھ عرصے کے لئے اور خواہ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کو روایت کیا ہو یا نہ کیا ہو اور خواہ وہ آپ کے ساتھ کسی جنگ میں شریک ہوا ہو یا نہ ہوا ہو اور خواہ اس نے رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی آنکھوں سے دیکھا یا بصارت نہ ہونے کے سبب وہ آپ کا دیدار نہ کرسکا ۔ ہر دو صورت میں وہ ’ صحابیٔ رسول‘ شمار کیا جائے گا ۔البتہ ایسا شخص ’ صحابی‘ متصور نہیں ہوگا جو آپ پر ایمان لانے کے بعد مرتد ہوگیا۔
صحابیت کا عظیم اعزاز کسی بھی عباد ت و ریاضت سے حاصل نہیں ہوسکتا بلکہ یہ اللّٰہ کی عطا سے ہے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی فضیلت کے لئے یہ ایک ہی آیت کافی ہے۔ وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍۙ- رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ، تَرجَمۂ کنز الایمان: اور سب میں اگلے پہلے مہاجر اور انصار اور جو بھلائی کے ساتھ ان کے پَیرو(پیروی کرنے والے) ہوئے اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی اور ان کے لیے تیار کر رکھے ہیں باغ جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں یہی بڑی کامیابی ہے ۔ (پ ۱۱، التوبہ ۱۰۰)
علامہ ابو حیان محمد بن حیان اندلسی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں : وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍۙ ۔ باحسان سے مراد تمام صحابہ کرام علیہم الرضوان ہیں ۔ (تفسیر البحر المحیط ۹۶/۵ ، تمت الاول)
صحابی کے لیے لعن طعن سے بچو:
حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
(( لاَ تَسُبُّوْ أَصْحَابِیْ ، فَوَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَوْ أَنَّ أَحَدَکُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَھَبًا مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِہِمْ وَلاَ نَصِیْفَہُ ))
’’ میرے ساتھیوں کو گالیاں مت دینا ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر تم میں سے کوئی شخص اُحد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرے تو وہ نہ ان کے ایک مُدّ کے برابر ہوسکتا ہے اور نہ آدھے مُدّ کے برابر۔ ‘‘
تمام صحابہ کر ام رضی اللہ عنہم اہل خیر و صلاح ہیں اور عادل ہیں ، ان کا جب ذکر کیا جائے تو خیر کے ساتھ ان کا ذکر کرنا ) فرض ہے ۔ (بہار شریعت جلد اول صفحہ ۲۵۲)
اور کوئی ولی کتنے ہی بڑے مرتبہ کا ہو، کسی صحابی کے رتبہ کو نہیں پہنچ سکتا ۔ (بہار شریعت جلد اول صفحہ ۲۵۳)
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں : تابعین سے لے کر تا قیامت امت کا کوئی ولی کیسے ہی عظیم پایہ ( مرتبہ) کو پہنچے ہر گز ہرگز ان (یعنی صحابہ رضی اللہ عنہم) میں سے ادنیٰ سے ادنیٰ کے مرتبہ کو نہیں پہنچ سکتا ، اور ان میں کوئی ادنیٰ نہیں ۔ (فتاویٰ رضویہ، ج ۲۹،ص ۳۵۷)
امام اہلسنت مجدد دین و ملت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:(اس پاک فرقہ اہل سنّت و جماعت نے اپنا عقیدہ اور ) اتنا یقین کرلیا کہ سب ( صحابہ کرام) اچھے اور عدل و ثقہ، تقی، نقی ابرار (خاصانِ پروردگار ) ہیں۔ اوران ( مشاجرات ونزاعات کی) تفاصیل پر نظر گمراہ کرنے والی ہے، نظیر اس کی عصمتِ انبیاء علیہم الصلوۃ والثناء ہے کہ اہلِ حق ( اہلِ اسلام ، اہلسنت وجماعت) شاہراہِ عقیدت پر چل کر ( منزل) مقصود کو پہنچے ۔ اور ارباب ( غوایت واہل) باطل تفصیلوں میں خوض ( و ناحق غور) کرکے مغاک ( ضلالت اور) بددینی ( کی گمراہیوں) میں جا پڑے(فتاویٰ رضویہ جلد 29 ص58)
مشاجرات صحابہ کرام حضرت مرتضوی (امیر المومنین سیدنا علی المرتضی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے جنہوں نے مشاجرات و منازعات کیئے ۔ (اور اس حق مآب صائب الرائے کی رائے سے مختلف ہوئے ، اور ان اختلافات کے باعث ان میں جو واقعات رُونما ہوئے کہ ایک دوسرے کے مدِ مقابل آئے مثلاً جنگ جمل میں حضرت طلحہ و زبیر و صدیقہ عائشہ اور جنگِ صفین میں حضرت امیر معاویہ بمقابلہ مولٰی علی مرتضی رضی اللہ تعالٰی عنہم) ہم اہلسنت ان میں حق ، جانب جناب مولٰی علی ( مانتے) اور ان سب کو مورد لغزش) بر غلط و خطا اور حضرت اسد اللہ کو بدرجہا ان سے اکمل واعلٰی جانتے ہیں مگر بایں ہمہ بلحاظ احادیث مذکورہ (کہ ان حضرات کے مناقب و فضائل میں مروی ہیں) زبان طعن و تشنیع ان دوسروں کے حق میں نہیں کھولتے اور انہیں ان کے مراتب پر جوان کےلیے شرع میں ثابت ہوئے رکھتے ہیں ، کسی کو کسی پر اپنی ہوائے نفس سے فضیلت نہیں دیتے ۔ اور ان کے مشاجرات میں دخل اندازی کو حرام جانتے ہیں، اور ان کے اختلافات کو ابوحنیفہ و شافعی جیسا اختلاف سمجھتے ہیں ۔ تو ہم اہلسنت کے نزدیک ان میں سے کسی ادنٰی صحابی پر بھی طعن جائز نہیں چہ جائیکہ اُمّ المومنین صدیقہ (عائشہ طیبہ طاہرہ) رضی اللہ تعالٰی عنہا کی جناب رفیع اوربارگاہِ وقیع) میں طعن کریں ، حاشا ! یہ اللہ و رسول کی جناب میں گستاخی ہے ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 29 ص61،چشتی)

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان جو باہمی نزاعات اور مشاجرات ہوئے ہیں ان پر لب کشائی ہم مناسب نہیں سمجھتے ۔ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اسلام کےلیے مخلص ، اور حق گوئی و حق طلبی کےلیے کوشاں تھے ۔ مشاجرات صحابہ رضی اللہ عنہم میں بحث و تکرار سے گریز کرنا ضروری ہے ، کیونکہ اس کا نتیجہ سوائے خود کو شیطان کے حوالے کرنے کے اور کچھ نہیں ہے، علمائے امت نے بتکرار اس سے خبردار کیا ہے ۔ ہم صحبتِ رسول صلیٰ‌ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشّرف اور قابلِ صد احترام ہستیوں‌ کو حق اور ناحق کے پلڑوں‌ میں‌ رکھنے کی جرات نہیں‌ کرسکتے۔ رسول اللہ صلیٰ‌ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشادِ‌ گرامی ہے کہ میرے تمام صحابہ عادل ہیں ۔ عدالتِ صحابہ کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ان سے بشری غلطیاں بالکل سرزد نہیں ہوئیں یا ان سے خطاؤں کا قطعاً وقوع نہیں ہوا ، یہ خاصہ ومنصب تو انبیا علیہم السلام کا ہے ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا نہیں ۔ بلکہ حقیقتِ واقعہ یہ ہے کہ ان سے بشری غلطیوں کا صدور ہوا ہے ، مگر جب ان کو متنبہ کیا گیا تو فوراً وہ اس سے تائب ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی معافی کی ضمانت لی ہے ۔ جہاں تک اجتہادی خطاؤں کے صدور کا سوال ہے تو اس کے وقوع سے بھی کسی کو انکار نہیں ۔

اہل سنت اہل حق کا مذہب یہ ہے کہ سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں حسن ظن رکھا جائے۔ ان کے آپس کے اختلافات میں خاموشی اور ان کی لڑائیوں کی تاویل کی جائے۔ وہ بلا شبہ سب شیر سب مجتہد اور صاحب رائے تھے معصیت اور نافرمانی ان کا مقصد نہ تھا اور نہ ہی محض دنیا طلبی پیش نظر تھی، بلکہ ہر فریق یہ اعتقاد رکھتا تھا کہ وہی حق پر ہے اور دوسرا باغی ہے اور باغی کے ساتھ لڑائی ضروری ہے تاکہ وہ امر الہی کی طرف لوٹ آئے، اس اجتہاد میں بعض راہ صواب پر تھے اور بعض خطا پر تھے، مگر خطا کے باوجود وہ معذور تھے کیونکہ اس کا سبب اجتہاد تھا اور مجتہد خطا پر بھی گنہگار نہیں ہوتا۔ مولا ہمارے دلوں میں صحابہ کی محبت تا دم آخر رکھے آمین ـ

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے