कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

شیر میسور ٹیپو سلطان اور اُن کی ایجاد ’’راکٹ‘‘

از قلم : رازق حُسین
موبائیل نمبر : 8149588808

ٹیپو سلطان (1751–1799) برصغیر کی تاریخ کے اُن درخشاں سپوتوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی جرات، بصیرت، سائنسی ذہانت اور عسکری مہارت سے نہ صرف انگریز سامراج کی پیش قدمی کو روکا بلکہ دنیا کی جنگی تاریخ میں نئی بنیادیں بھی رکھیں۔ وہ صرف ایک مجاہدِ آزادی نہیں تھے بلکہ ایک ایسے حکمران تھے جو سائنس، ٹیکنالوجی، جدید ہتھیاروں اور نئے جنگی طریقوں میں گہری دلچسپی رکھتے تھے۔ ان کی حکومتِ میسور اس وقت ہندوستان کی سب سے منظم اور تکنیکی طور پر ترقی یافتہ ریاستوں میں شمار ہوتی تھی۔ ان کی سب سے بڑی اور یادگار ایجاد آئرن کیسڈ راکٹ (Iron-Cased Rockets) تھی جس نے عالمی جنگی تاریخ پر گہرا اثر چھوڑٹیپو سلطان کی پوری زندگی آزادی اور خود داری کی علامت رہی۔ انہوں نے انگریزوں کے خلاف چار جنگیں لڑی۔ انگریز انہیں اس لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتے تھے کہ وہ جدید ترین ہتھیfاروں اور نیا طرزِ جنگ متعارف کرd wewsfrfs vbcwc  رہے تھے، جس سے برطانوی طاقت کمزور پڑتی جارہی تھی۔
دنیا میں اس سے قبل بھی راکٹ موجود تھے، لیکن عام طور پر وہ بانس یا لکڑی کے خول میں بارود بھر کر استعمال کیے جاتے تھے۔ یہ ہلکے ہوتے تھے، آسانی سے ٹوٹ جاتے تھے اور ان کی مار بھی محدود ہوتی تھی۔
ٹیپو سلطان اور اُن کے انجینئروں نے پہلی مرتبہ یہ خیال پیش کیا کہ اگر بارود کو لوہے کے مضبوط سلنڈروں میں بھرا جائے تو:
راکٹ زیادہ دور تک جائے گا, زیادہ تباہی پھیلائے گا, دشمن کی صفوں میں شدید خوف پیدا کرے گا اور یہ جنگ کا نتیجہ بدل سکتا ہے۔
یہ ٹیکنالوجی اس دور کے لیے حیرت انگیز اور انقلابی تھی۔
ٹیپو سلطان کے راکٹوں کی ساخت اور خصوصیات:
ٹیپو سلطان کے راکٹ کئی حوالوں سے دنیا کے پہلے جدید راکٹ سمجھے جاتے ہیں:
1. لوہے کا مضبوط خول
راکٹ 8 سے 12 انچ تک لمبے لوہے کے خول پر مشتمل ہوتا جس میں بارود بھرا جاتا۔
2. راکٹ کی رینج 2 کلومیٹر تک ہوتی تھی۔
یہ اُس دور کا سب سے طاقتور راکٹ تھا جو دشمن کی صفوں سے بہت دور کھڑے ہو کر بھی فائر کیا جا سکتا تھا۔
3. روایتی راکٹ سے 4 گنا زیادہ تیز
لوہے کی مضبوط ساخت نے راکٹ کی رفتار اور حرارت دونوں میں اضافہ کیا۔
4. دھماکہ خیز اور جلانے والے اثرات
کئی راکٹ ایسے تیار کیے گئے جو قلعوں، گھوڑ سواروں اور توپ خانے کو تباہ کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے تھے۔
راکٹ بریگیڈ — ہندوستان کی پہلی جدید میزائل فورس
ٹیپو سلطان نے محض راکٹ ایجاد نہیں کیے بلکہ ان کے لیے باقاعدہ ایک فوجی شعبہ تشکیل دیا جسے آج کی زبان میں “Rocket Corps” کہا جائے گا۔ اس میں 5 ہزار تربیت یافتہ سپاہی شامل تھے۔
یہ سپاہی مخصوص انداز میں راکٹ حملے کرتے تھے۔ دشمن کے گھوڑسوار، توپ خانہ اور پیدل فوج ان حملوں سے بری طرح متاثر ہوتی تھی۔ رات کے وقت راکٹ حملے آسمان میں روشنی کے بڑے شعلے اور شور پیدا کرتے جس سے دشمن کی صفوں میں افراتفری مچ جاتی تھی۔
یہ دنیا کی تاریخ میں پہلا موقع تھا کہ کسی ملک نے راکٹوں کے لیے ایک منظم فوجی دستہ قائم کیا۔
جنگی میدان میں راکٹوں کا استعمال:
ٹیپو سلطان نے اپنے راکٹ کامیابی سے مختلف جنگوں میں استعمال کیے:
جنگ سری رنگا پٹنم:
اس معرکے میں راکٹوں نے انگریز فوج کو شدید نقصان پہنچایا۔ انگلیش افواج کے کئی کیمپ راکٹ حملوں سے تباہ ہوئے۔
کرنل بیلی کی شکست:
ٹیپو سلطان کے راکٹ حملے کرنل بیلی کی فوج کی پسپائی کا بڑا سبب بنے تھے۔ انگریز سپاہیوں نے اپنے خطوط میں لکھا کہ یہ راکٹ “آسمان پھاڑ کر آتے ہیں” اور ہر طرف آگ لگا دیتے ہیں۔
جب 1799ء میں انگریزوں نے دھوکے سے سری رنگا پٹنم پر قبضہ کیا تو انھیں ہزاروں راکٹ اور ان کے ڈیزائن ملے۔ انگریز سائنس دان ولیم کانگریو نے انہی نمونوں کو بنیاد بنا کر Congreve Rockets ایجاد کیے جو بعد میں:
برطانوی فوج، یورپی جنگوں، امریکی جنگِ آزادی میں استعمال ہوئے۔
اس طرح ٹیپو سلطان کی ایجاد نے دنیا کی عسکری تاریخ کا رخ بدل دیا۔
4 مئی 1799ء ٹیپو سلطان کی جنگِ آزادی کا آخری دن تھا۔
انگریزوں نے شدید حملہ کیا مگر ٹیپو سلطان نے قلعہ نہ چھوڑا۔
آخر کار وہ لڑتے ہوئے شہید ہوئے، مگر دشمن کے سامنے گھٹنے ٹیکنے سے انکار کر دیا۔
ان کا معروف قول آج بھی آزادی کی علامت ہے:
’’شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی ہزار سالہ زندگی سے بہتر ہے۔‘‘
ٹیپو سلطان نہ صرف ایک عظیم مجاہد اور حکمران تھے بلکہ جدید سائنس کے بانیوں میں سے ایک تھے۔
ان کی ایجاد آئرن کیسڈ راکٹ دنیا کے پہلے جدید راکٹوں میں شمار ہوتی ہے جنہوں نے یورپ اور امریکہ کی جنگی ٹیکنالوجی میں انقلاب برپا کیا۔
ٹیپو سلطان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ: علم قوموں کی بنیاد ہوتا ہے۔ ٹیکنالوجی طاقت کو جنم دیتی ہے اور آزادی وہ نعمت ہے جس کے لیے جان تک قربان کرنی پڑے تو دریغ نہیں کرنا چاہیے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے