कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

شیر میسور ٹیپو سلطان

تحریر: سعدیہ فاطمہ عبدالخالق
(معلمہ مدینتہ العلوم گرلز پرائمری اسکول ناندیڑ مہاراشٹر )

تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اور ساری نعمتیں اسی کی دی ہوئی ہیں ، مسلمانوں نے اپنے وطن ہندوستان کی بے مثال خدمات کیں اس کے دامن کو لعل و گوہر سے بھر دیا لیکن پھر اس ملک کی تاریخ میں وہ سیاہ دن بھی آیا جب انگریزوں نے اس کی سر زمین پر قدم رکھا اور پھر دھیرے دھیرے اس ملک کی ایکتا ، اس کی تہذیب اور اس کی دولت کو لوٹنے لگے اس خطرے کو سب سے پہلے جس نے محسوس کیا وہ مسلمان تھے کیونکہ انہوں نے اس ملک کو خون پسینے سے سینچا تھا اس لئے اس ملک کی آزادی ، سالمیت ، تہذیب اور ورثے کی حفاظت ان کا دینی و قومی فریضہ اور غیرت کا تقاضہ تھا آزادی کی تحریک بتاتی ہے کہ سب سے پہلے 1754ء میں کلکتہ کے علی وردی خان نے انگریزوں کو دھول چٹایا ، 1757ء میں سراج الدولہ نے جام شہادت نوش کیا ، 1757ء میں پلاسی اور 1764ء میں بکسر کے مقام پر مسلمانوں کی خون سے لالہ زار ہوا ، شیر میسور ٹیپو سلطان نے 1799ء میں یہ کہتے ہوئے موت کو گلے لگایا کہ گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے ، ۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمیں بھی یاد رکھیں جب تاریخ لکھیں گلشن کی
کہ ہم نے بھی جلایا ہے چمن میں آشیاں اپنا

ٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اڑ جاتے تھے
پاؤں شیروں کے بھی میداں میں اکھڑ جاتے تھے

مجھ سے سرکش ہوا کوئی تو بگڑ جاتے تھے
تیغ کیا چیز ہے ہم توپ سے لڑ جاتے تھے ،

ٹیپو سلطان ایک عظیم مجاہد ہونے کے ساتھ ساتھ پکے مسلمان بھی تھے وہ سادہ زندگی بسر کرتے اور شرعی لباس پہنتے تھے انہوں نے کبھی ایسا لباس آویزاں نہیں کیا جس سے نماز نہ ہوئی ، سوائے ٹخنوں اور کلائیوں کو چھوڑ کر پورے جسم کو چھپائے رکھتے گویا وہ شرم و حیا کا پیکر تھے آخری دور میں سبز رنگ کی دستار پہننے لگے تھے ، نماز فجر کے وقت تلاوت کرتے اور پورے دن باوضو رہتے نماز کے تو اتنے پابند تھے کہ جب شری رنگا پٹنم میں مسجد اعلیٰ کے افتتاح کا موقع آیا تو سوال یہ پیدا ہوا کہ امامت کون کرے گا اس وقت اپنے عہد کے علماء کرام اور مشائخ موجود تھے ، یہ طے ہوا کہ نماز کی امامت وہ شخص کرے جس کی کوئی نماز قضاء نہ ہوئی ہو کچھ دیر سکتہ طاری ہونے کے بعد سلطان آگے بڑھے اور کہا الحمدللہ میں صاحب ترتیب ہوں ، اور نماز کی امامت کی ، سلطان نباض وقت اور ایک اعلیٰ ایڈمنسٹریٹر تھے ، انہوں نے محسوس کر لیا تھا کہ مغربی ممالک میں انقلاب برپا ہونے کے بعد انگریزوں کے پاس جدید اسلحہ اور ساز و سامان کا انبار ہے اس کا مقابلہ پرانے اور فرسودہ جنگی ساز و سامان سے نہیں کیا جا سکتا بموجب ٹیپو سلطان نے جدید تکنیک سے اپنی افواج کو آراستہ کیا تو انگریزوں کا دل کا چین اور رات کا سکون جاتا رہا انہوں نے نہ صرف پیدل اور کولیری کے اوپر اپنی توجہ مرکوز کی بلکہ بحریہ کے بیڑے کو بھی اپنی فوج میں داخل کیا ، بحریہ کا قیام سلطان کا ایک عظیم کارنامہ تھا وہ ہندوستان کے ایک ایسے حاکم تھے جنہوں نے سب سے پہلے سمندری راستوں کی اہمیت کا احساس کیا اور اس کا باضابطہ نظم قائم کیا فوجی قواعد کے لئے کتاب فتح المجاہدین ترتیب دی مقناطیسی پہاڑوں سے جہازوں کو بچانے کے لئے لوہے کی جگہ تانبے کے تاروں کا استعمال سلطان کی ہی دین ہے اگرچہ ٹیپوسلطان کی زندگی کا بیشتر حصہ گھوڑے کی زین پر گزرا اس کے باوجود انہیں جتنا بھی وقت ملا انہوں نے حیدر علی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنی رعایا کی فلاح و بہبودی پر صرف کیا انہوں نے اپنی سلطنت میں جو مختلف محکمہ جات قائم کیئے تھے ان کی تعداد ننیانوے تھیں ، ٹیپو سلطان نے سلطنت کے انتظام میں رعایا کو شامل کرنے کی مہم کا آغاز کیا اور ایک مجلس ’’زمرہ غم نباشد‘‘ قائم کی جس کی پیش نظر شخصی اقتدار کے بجائے مشاورتی حکومت کا قیام عمل میں آیا انہوں نے کاویری ندی پر ایک ڈیم بنانے کی بنیاد رکھی جہاں بعد ازیں حکومت ہند نے کرشنا راجہ ڈیم تعمیر کرایا ، ریشم کی صنعت ٹیپو سلطان کی مرہون منت ہے ، میسور کی چمنڈاہل پر واقع مندر پر دیوی کے چرنوں میں انسانی سر کی بھینٹ چڑھائی جاتی تھی اس روایت کو ٹیپو سلطان نے موقوف کیا ، ٹیپو سلطان سے قبل دلت خواتین عام طور پر سینہ اور سر کھولے ہوئے پھرتی تھی انہوں نے حکم دیا کہ کوئی عورت کرتی اور اوڑھنی کے بغیر نہ نکلے ’’ فادر سوانگ ‘‘ لکھتے ہیں کہ حیدر علی سبھی مذہبوں کا خیال رکھتے تھے اور اسی طرح ٹیپو کے اقتدار میں بھی کسی طرح کی کوئی مذہبی تفریق نہیں پائی جاتی ٹیپو سلطان نے فرانسیسیوں کی درخواست پر میسور میں پہلے چرچ کی تعمیر کرائی وہ لاتعداد مندروں کی کفالت بھی کرتے تھے میسور گزٹ کے مطابق ٹیپو سلطان کے زیر نگراں 156 ہندو مندر و مٹھ تھے ، جب 1791ء میں سر نیگری کے مندر پر حملہ ہوا اور مندر میں موجود ہیرے جواہرات اور مال و دولت لوٹ لئے گئے ساتھ ہی کئی لوگوں کا قتل بھی ہوا بڑے پجاری نے ٹیپو سلطان سے فریاد کی ، سلطان اس ذلیل فعل پر سخت برہم تھے انہوں نے بڑے پجاری کو لکھا کہ وہ لوگ جنہوں نے ایک مقدس مقام کے خلاف یہ گندہ اور بہیمانہ اقدام کیا ہے وہ یقینا اپنے اس گناہ کا خمیازہ بہت جلد اٹھائیں گے اور مزید لکھا کہ لوگ ظلم اور غلط کام ہنستے اور مسکراتے ہوئے کرتے ہیں اور نتائج کا خمیازہ روتے ہوئے بھگتے ہیں اس کے متعلق ٹیپو سلطان اور پجاری کے درمیان ہوئی خط و کتابت کے 30 خطوط میسور کے تاریخی کتب خانے میں موجود ہیں ، اے سابسیٹور نے لکھا ہے کہ ٹیپو سلطان نے کئی مندروں کو مدد پہنچائی تھی انہوں نے ہندؤں کی مقامی رسموں کا بھی خیال رکھا اور اس میں کوئی مداخلت نہیں کی ، شراب بندی اور جنسی بے راہ روی روکنے جیسے سماج کے فلاح کام کئے ، ٹیپو سلطان اپنے ہندو فوجیوں کو کسی مہم پر لے جانے سے پہلے مندر میں پوجا کے لئے بھیج دیتے تھے ٹیپو سوامی کو جگت گرو مانتے تھے ٹیپو نے لکشمی کانتا کے مندر کو چاندی کے چار کلغن اور دیگر ساز و سامان دیے سنجو سدیشور مندر ٹیپو کے محل سے چند ہی قدم دوری پر تھا حیدر علی نے گوپور مندر کی بنیاد ڈالی تو ٹیپو نے تعمیر مکمل کروائی ، بعض شواہد یہ صاف ظاہر کرتے ہیں کہ ٹیپو سلطان نے کس طرح ہندوؤں کو اپنی حکومت کے اعلیٰ سے اعلیٰ عہدوں پر فائز کر رکھا تھا ، جس میں ٹیپو سلطان کا خزانچی کرشنا راؤ ، نگران ڈاک پولیس شیاملہ انیگر ، وزیر مملکت پورنیہ پنڈت ، جیسے لوگ ان کی حکومت میں شامل تھے ، بابائے قوم مہاتما گاندھی ، شیر میسور ٹیپو سلطان کی مذہبی رواداری کو اپنے اخبار ’’ ینگ انڈیا ‘‘ کے 23 جنوری 1930ء کے شمارے میں یوں خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ ’’ میسور کے فتح علی ٹیپو کو غیر ملکی مورخین نے اس طرح پیش کیا ہے کہ گویا وہ مذہبی تعصب کا شکار تھا‘‘ ان مورخین نے لکھا ہے کہ اس نے اپنی ہندو رعایا پر ظلم ڈھائے اور زبردستی مسلمان بنایا جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے ہندو رعایا کے ساتھ اس کے بڑے اچھے تعلقات تھے کرناٹک کے شعبہء آثار قدیمہ میں ایسے تین خطوط موجود ہیں جو ٹیپو سلطان نے 1793ء میں شر نگیری مٹھ کے شنکر آچاریہ کو لکھے تھے ان میں سے ایک خط میں سلطان نے شنکر آچاریہ کے ایک خط کے موصول ہونے کا ذکر کرتے ہوئے درخواست کیا ہے کہ اس کی اور ساری دنیا کی بھلائی بہبود اور خوشحالی کے لئے پرارتھنا کریں آخر میں شنکر آچاریہ سے یہ بھی درخواست کیا ہے کہ وہ میسور لوٹ آئیں کیونکہ کسی ملک میں اچھے لوگوں کے رہنے سے بارش ہوتی ہے فصل اچھی ہوتی ہے اور خوشحالی آتی ہے مہاتما گاندھی آگے لکھتے ہیں کہ سلطان نے ہندو مندروں بالخصوص شری وینکٹ رمن ، شری نواس اور شری رنگاناتھ کو زمینوں اور دیگر اشیاء کی شکل میں بیش قیمت تحائف دئیے ، کچھ مندر اس کے محلوں کے احاطے میں تھے ، یہ اس کے کھلے ذہن رواداری اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی زندہ دلیل ہے موجودہ عہد کے تاریخ نویسوں ہرئل بیکر ، محب الحسن چشتی ، عرفان حبیب اور سالیٹور کا ماننا ہے کہ ٹیپو کو بدنام کرنے میں اٹھارویں صدی کے مورخ کرکیاٹرک اور ولکس ، جیسے سامراجی مورخین کا اہم رول رہا ہے ، ٹیپو سلطان نے ہندوستان کو غلامی سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن غدار وطن اور ناموافق حالات کی وجہ سے ان کی تمام جدو جہد رائیگاں چلی گئی ، انگریزوں مراٹھوں اور نظام کی ناپاک اتحاد کے علاوہ ان کے آستین کے سانپوں میر صادق ، پنڈت پورنیا ، میر غلام علی ( لنگڑا ) ، بدر الزماں خان نائتہ ، میر معین الدین ، میر قمر الدین ، میر قاسم علی پٹیل ، اور میر نور الدین نے شیر میسور کو شہید کرا کر ہی دم لیا ، انگریز جنرل ہارس کو جیسے ہی ٹیپو سلطان کی شہادت کی قبر ملی اور وہ ٹیپو سلطان کی نعش کو دیکھنے آیا تو فرط خوشی سے چیخ اُٹھا کہ ’’آج ہندوستان ہمارا ہے ‘‘ سلطنت خداداد کو مٹانے کے لئے انگریزوں اور مہارانی میسور لکھشما مراٹھوں اور نظام کے درمیان ایک نہیں بلکہ متواتر نو سازشیں چلی، مشہور اسکاٹش شاعر اور تاریخی ناول نویس سر والٹر سکاٹ نے ٹیپو سلطان کی شکست اور گرفتاری پر جو رد عمل ظاہر کیا تھا وہ ٹیپو سلطان کے لیے سنہری خراج عقیدت پیش کرتا ہے ، اللّٰہ پاک ہم سب کو ایسی سازشوں سے بچائے رکھنا ، آمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے