कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

شکیل احمد… ایک سادہ مگر باوقارزندگی کا پیکر

از: شیخ اعجاز
(موظف مدرس مدینۃالعلوم ہائی اسکول ناندیڑ)

زندگی میں کچھ رشتے کسی ایک لمحے میں وجود میں نہیں آتے۔ وقت خود ان کی تعمیر کرتا ہے، دنوں اور برسوں کی خاموش رفاقت انہیں معنی عطا کرتی ہے۔ شکیل احمد کے ساتھ میرا تعلق بھی اسی نوعیت کا ہے۔ تقریباً تین دہائیوں پر پھیلی یہ رفاقت کبھی اظہار کی محتاج نہیں رہی، مگر ہمیشہ ایک گہری معنویت اپنے اندر سموئے رہی۔
28 فروری 2026 بظاہر ایک تاریخ ہے، مگر میرے لیے یہ ایک احساس کی سرحد ہے۔ یہ وہ دن ہے جب ایک مانوس رفیقِ سفر اپنی عملی زندگی کا طویل اور باوقار مرحلہ مکمل کر رہا ہے۔ میں شکیل احمد کی سبکدوشی کو محض ملازمت کے اختتام کے طور پر نہیں دیکھتا، اس لیے کہ فیض العلوم ہائی اسکول، ناندیڑ میں میں نے انہیں کبھی صرف دفتری فائلوں یا رسمی ذمہ داریوں تک محدود نہیں پایا۔ ان کی شناخت تدریس، رہنمائی اور انتظامی شعور کے ایک متوازن امتزاج سے تشکیل پاتی ہے۔ عملی زندگی کے آغاز میں اگرچہ انہوں نے مختصر عرصے تک دفتری امور انجام دیے، مگر ان کا اصل سفر درس و تدریس اور ادارہ سازی سے وابستہ رہا، جہاں وہ انتظامیہ اور ملازمین کے درمیان ایک متحرک، بااعتماد اور قابلِ اعتبار رابطے کے طور پر نمایاں رہے۔
ہماری دوستی کی بنیاد ابتدا میں مشترک ذوق، خصوصاً خطاطی، سے پڑی۔ یہ محض ایک شوق کی ہم آہنگی نہیں تھی بلکہ آہستہ آہستہ فکری قربت اور انسانی ربط میں ڈھلتی چلی گئی۔ ان برسوں میں میں نے ان کی محنت کو خاموش مگر مسلسل، ان کے سکوت کو بامعنی، اور ان کے مزاج کو ایک نایاب توازن سے آراستہ پایا۔ دینی اور اخلاقی معاملات میں بھی اکثر ہماری سوچ ایک ہی سمت چلتی رہی، جس نے اس تعلق کو محض ذاتی رفاقت نہیں بلکہ ایک مضبوط فکری بنیاد عطا کی۔
شکیل احمد کی پیشہ ورانہ زندگی جتنی قابلِ مثال ہے، اْن کی ذاتی زندگی اس سے بھی زیادہ سبق آموز محسوس ہوتی ہے۔ کم عمری ہی میں ذمہ داریوں کا وہ بوجھ ان کے کندھوں پر آن پڑا جس نے انہیں وقت سے پہلے سنجیدہ بنا دیا۔ والد کے ساتھ گھر کی ذمہ داریوں نے ان سے وہ بہت سی آسائشیں چھین لیں جو عموماً انسان کا حق سمجھی جاتی ہیں۔ اپنی ذات پر خرچ کرنے کی آزادی، خواب دیکھنے اور انہیں پورا کرنے کی فرصت، حتیٰ کہ اعلیٰ تعلیمی اہداف—یہ سب احساسِ ذمہ داری پر قربان ہوتے چلے گئے۔ یوں محنت اور کام کرنا رفتہ رفتہ ان کی فطرت کا حصہ بن گیا۔
فیض العلوم ہائی اسکول میں انہوں نے مختلف عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ اس تجربے نے انہیں ادارے کے تعلیمی، انتظامی اور دفتری تمام پہلوؤں سے روشناس کر دیا۔ حالیہ برسوں میں جب تعلیمی نظام تیزی سے بدلا اور اساتذہ کی ذمہ داریاں کلاس روم سے نکل کر سرکاری پورٹلز، ڈیٹا اپ لوڈنگ، تنخواہوں کے بل، رپورٹس اور تکنیکی تقاضوں تک پھیل گئیں، شکیل صاحب نے اس تبدیلی کو شکایت کے بجائے ذمہ داری کے طور پر قبول کیا۔ فائلوں کی ترتیب ہو یا طلبہ کے اندراج کا عمل، سرکاری خطوط ہوں یا نئے ضابطے—ادارے میں ان کا نام اعتماد اور اطمینان کی علامت بن چکا تھا۔ جو کام اپنے ذمے لیتے، اسے منطقی انجام تک پہنچائے بغیر چین سے نہیں بیٹھتے۔ نہ تھکن کا شکوہ کرتے اور نہ ذمہ داری سے فرار اختیار کرتے۔
طلبہ کی تعداد میں کمی جیسے حساس معاملات میں بھی انہوں نے محض دفتری تقاضے پورے کرنے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ خود شہر کے مختلف علاقوں میں جا کر والدین اور بچوں سے رابطہ کیا۔ یہ عمل محض انتظامی ضرورت نہیں بلکہ ان کے تعلیمی شعور اور انسان دوستی کا عملی اظہار تھا۔ سبکدوشی کے لمحے تک وہ تدریسی، غیر تدریسی اور انتظامی ذمہ داریوں میں یکساں طور پر مصروف رہے، گویا خدمت ان کے لیے عہدے سے مشروط نہ تھی۔
اس مستقل مزاجی اور محنت کے باوجود شکیل احمد کی شخصیت میں ایک انسانی کمزوری بھی موجود ہے، اور وہ خود اس سے پوری طرح باخبر ہیں۔ وہ اپنی ترجیحات بروقت متعین نہیں کر پاتے۔ یہ کسی غفلت یا لاپرواہی کا نتیجہ نہیں بلکہ اس نفسیاتی دباؤ کی پیداوار ہے جو کم عمری ہی سے ذمہ داریوں کے مسلسل بوجھ کے سبب ان کے اندر جمع ہوتا چلا گیا۔ فوری تقاضوں کو پورا کرتے کرتے دور رس فیصلوں کے لیے ذہنی فرصت کم رہ جاتی ہے، اور اسی سبب بعض معاملات میں تذبذب پیدا ہو جاتا ہے۔ اس کیفیت کا اعتراف وہ خود نہایت بے لاگ اور دیانت دار انداز میں کرتے ہیں۔ کسی چیز کو قرینے سے رکھ کر بھول جانا، یا کسی کام کو دوبارہ ابتدا سے شروع کرنا—یہ سب وہ اپنی ذات پر تنقیدی نگاہ سے بیان کرتے ہیں، اور یہی خود احتسابی ان کی شخصیت کو مزید معتبر بناتی ہے۔
ان کے نام کے ساتھ جڑا ہوا ایک واقعہ اس پہلو کو مزید واضح کرتا ہے۔ ابتدائی جماعت میں ان کے نام کے ساتھ ‘‘رحمانی’’ کا لاحقہ شامل ہو گیا، جو ان کے دادا عبدالرحمن صاحب کی نسبت سے تھا۔ شکیل صاحب اس لاحقے کو غیر ضروری سمجھتے تھے، مگر مسلسل مصروفیات اور فیصلے مؤخر کرنے کی عادت کے باعث یہ معاملہ برسوں التوا میں رہا۔ بالآخر ریٹائرمنٹ کے قریب آ کر انہوں نے نام کی اصلاح کا فیصلہ کیا تاکہ سرکاری دستاویزات میں یکسانیت قائم ہو سکے۔ اس ایک واقعے میں ان کی شخصیت کا پورا مزاج سمٹ آتا ہے: شعور ابتدا ہی سے موجود تھا، مگر فیصلہ ہمیشہ دیر سے ہوا۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ شکیل صاحب کی شخصیت میں وہ بہت سی صفات نمایاں ہیں جو میرے اپنے مزاج سے مختلف، بلکہ بعض پہلوؤں میں اس کے برعکس دکھائی دیتی ہیں۔ جہاں میں بات کو کھول کر، سوال اٹھا کر اور لفظوں میں ترتیب دے کر سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں، وہاں وہ خاموشی، برداشت اور عمل کے ذریعے اپنی بات کہتے ہیں۔ میری طبیعت میں تجزیہ اور اظہار کی خواہش غالب رہتی ہے، جبکہ ان کا مزاج کم گو مگر زیادہ کر گزرنے والا ہے۔ شاید یہی فرق مجھے ان کی شخصیت پر لکھنے پر آمادہ کرتا ہے، اس لیے کہ انسان بعض اوقات اپنے جیسے لوگوں سے نہیں بلکہ اپنے سے مختلف انسانوں سے زیادہ سیکھتا ہے۔ شکیل صاحب کی خوبیوں کا اعتراف دراصل اسی احساس کا اظہار ہے کہ وقار، خلوص اور ثابت قدمی ہمیشہ نمایاں آواز کے محتاج نہیں ہوتے۔
اسکول کے بعد بھی ان کا دن ختم نہیں ہوتا تھا۔ وہ ایک پرنٹنگ پریس چلاتے تھے اور اردو خطاطی میں مہارت رکھتے تھے۔ یہ فن محض شوق نہ تھا بلکہ سنجیدہ محنت اور اضافی ذمہ داری کا تقاضا کرتا تھا۔ یوں محنت ان کی زندگی کا مستقل عنوان بن گئی، جس میں آرام کے لمحات ہمیشہ مختصر رہے۔
دن بھر کی انہی ذمہ داریوں کے بعد وہ مختصر وقت نکال کر میرے یہاں آتے۔ یہ ملاقاتیں محض وقت گزاری نہیں ہوتیں بلکہ ذہنی دباؤ سے نجات کا ایک خاموش وسیلہ بنتیں۔ ان لمحوں میں مجھے اکثر باسو چیٹرجی کی فلم’ اْس پار ‘کا وہ منظر شدت سے یاد آتا ہے جہاں میلے کا ایک’ جوکر’ دن بھر لوگوں کو ہنساتا ہے، قہقہوں اور شور کے بیچ اپنی ذات کو فراموش کیے رکھتا ہے۔ مگر جب میلہ سمٹ جاتا ہے، روشنیاں بجھ جاتی ہیں اور تنہائی پھیل جاتی ہے تو وہی جوکر اپنی کمر سے بانسری نکالتا ہے اور خاموش رات میں اسے بجانے لگتا ہے۔ تب احساس ہوتا ہے کہ دن بھر کی ہنسی اس کا پیشہ تھی، اور بانسری اس کی روح کی آواز۔ بعینہ شکیل صاحب کے یہاں بھی یہی کیفیت دکھائی دیتی تھی۔ وہ کام اور ذمہ داریوں کے شور سے نکل کر ان مختصر لمحوں میں موسیقی، مسکراہٹ اور خاموش بیٹھک کے ذریعے خود سے جڑ تے تھے۔ ان کا معمول تھا کہ وہ میرے گھر آتے، مراٹھی لطیفے بڑے اشتیا ق سے سنتے، بے ساختہ مسکراتے اور پھر اپنے پسندیدہ گیتوں میں کھو جاتے۔ ان لمحوں میں وہ ایک ذمہ دار ملازم نہیں بلکہ ایک حساس انسان کے طور پر سامنے آتے تھے۔
موسیقی سے ان کا لگاؤ گہرا مگر متوازن رہا۔ یہ ذوق ان کے اندر کم عمری ہی سے موجود تھا، تاہم ایک طویل عرصے تک مذہبی تذبذب کے باعث وہ اسے دباتے رہے۔ بعد کے برسوں میں جب ان کا دینی فہم وسیع ہوا اور وہ مختلف اہلِ علم کے متنوع نقطہ? نظر سے واقف ہوئے، تو انہیں یہ اطمینان حاصل ہوا کہ موسیقی اپنی ذات میں ممنوع نہیں بلکہ اس کی حیثیت اس کے استعمال، موقع اور مفہوم سے متعین ہوتی ہے۔ یہی فکری وضاحت ان کے لیے ذہنی کشادگی کا سبب بنی، اور یوں یہ شوق بتدریج ان کی زندگی کا حصہ بنتا چلا گیا۔ گزشتہ چند برسوں میں ان کے لہجے کی نرمی، آنکھوں کی چمک اور گفتگو کے دوران موسیقی کے بے ساختہ حوالوں سے اس ذوق کی جھلک صاف دکھائی دینے لگی۔ محمد رفیع کے گیت انہیں خاص طور پر عزیز تھے، جن میں وہ درد، خلوص اور سچائی کا وہ احساس پاتے تھے جو بلاواسطہ دل تک اتر جاتا ہے۔
اسی ذوقی توازن کی ایک صورت انہیں بے مقصد سفر میں بھی نظر آتی ہے۔ اس حوالے سے ان کے مرحوم دوست ستار بھائی، جنہیں سب پیار سے ’’اچار والے‘‘ کہتے تھے، کا ذکر ناگزیر ہے۔ ہر اتوار ان دونوں کے لیے مخصوص ہوتا۔ ناندیڑ کے اطراف موٹر سائیکل پر مختصر سیر کے لیے نکل پڑتے؛ کہیں سڑک کنارے چائے پی لی جاتی، یا کسی اجنبی موڑ پر چند لمحے خاموش گزار کر واپس لوٹ آتے۔ یہی چھوٹی چھوٹی خوشیاں ان کے لیے زندگی کے توازن اور ذہنی سکون کا ذریعہ بنتی رہیں۔
بطورِ والد شکیل صاحب کی محبت میں نرمی اور تربیتی شعور نمایاں تھا۔ اولاد سے ان کا تعلق محض اختیار کا نہیں بلکہ اعتماد، قربت اور مسلسل حوصلہ افزائی پر قائم تھا۔ وہ اکثر فون پر اپنے ہر بیٹے کو ‘‘ہیلو بیٹے’’ کہہ کر مخاطب کرتے۔ یہ اندازِ خطاب ان کے یہاں کوئی رسمی جملہ نہیں تھا، بلکہ ایک ایسے رشتے کی علامت تھا جس میں شفقت بھی شامل تھی اور رہنمائی بھی۔
وہ اپنے سبھی بچوں سے بے حد محبت کرتے تھے اور ان کی صلاحیتوں پر گہرا یقین رکھتے تھے۔ 2024 میں حج کے موقع پر وہ خود وہاں موجود نہیں تھے، تاہم انہوں نے مجھ سے اپنی اولاد کے لیے دعا کی درخواست کی۔ میں نے کہیں یہ بات پڑھی تھی جو مجھے دعا کے باب میں بہت بامعنی محسوس ہوئی، کہ دعا کا تعلق بندے کے دل، اس کی ضرورت اور اس کے شعور سے ہے؛ اللہ اور رسول نے کبھی کسی کے لیے دعا کرنے کو محض ایک رسمی حکم کے طور پر نہیں باندھا بلکہ اسے دل کے خلوص سے وابستہ رکھا ہے۔ اسی احساس کے تحت میں نے یہ مناسب سمجھا کہ ایک باپ کی دعا اپنی اولاد کے حق میں خاص اثر رکھتی ہے، خصوصاً اس تناظر میں کہ قرآن میں انبیاء￿ کی دعائیں اپنی اولاد کے لیے بطورِ خاص نقل ہوئی ہیں۔ اسی یقین کے ساتھ طوافِ کعبہ کے دوران میں نے ویڈیو کال کے ذریعے شکیل صاحب سے خود دعا کرنے کو کہا۔ یہ کوئی رسمی عمل نہیں تھا بلکہ ایک باپ کے دل سے نکلی ہوئی دعا تھی۔ وقت نے اس دعا کی معنوی تعبیر دکھا دی۔
آج ان کے چار بیٹوں میں سے تین تعلیم کے شعبے، یعنی پیشہ? تدریس سے وابستہ ہیں، جو اسی تربیتی ماحول کا فطری نتیجہ ہے جس میں علم، ذمہ داری اور وقار بنیادی اقدار کے طور پر منتقل کی گئیں۔ شکیل صاحب نے ابتدا ہی سے ہر بچے کی صلاحیت کو سامنے رکھ کر تعلیم کا انتخاب کیا—کسی کو میکانیکل انجینئرنگ کی طرف بھیجا اور مزید مہارت کے لیے دہلی تک تعلیم دلوائی، کسی کو ایم ایس سی کروایا، کسی کو ڈی ایڈ، اور کسی کو گریجویشن کے ساتھ مختلف ڈپلوما کورسز۔ جب انہیں یہ احساس ہوا کہ محض حاصل شدہ تعلیم روزگار کی ضمانت نہیں بن پا رہی، تو انہوں نے عملی حکمت کے ساتھ بچوں کو تدریسی پیشہ ورانہ کورس، یعنی بی ایڈ اور ٹی ای ٹی کی طرف بھی متوجہ کیا، تاکہ ان کا مستقبل محفوظ اور باوقار بنیادوں پر استوار ہو سکے۔
اولاد کے ذکر کے ساتھ شکیل صاحب کے اپنے والد(نذیر احمد صاحب) کا حوالہ بھی ناگزیر ہے، جن سے ان کی محبت غیر معمولی تھی، اگرچہ اس کی گہرائی کا احساس انہیں والد کی وفات کے بعد پوری طرح ہوا۔ انہوں نے اپنے والد کو کسمپرسی کے عالم میں، محدود وسائل کے باوجود، اپنی اولاد کی تعلیم، تربیت اور شادیوں کی ذمہ داریاں نبھاتے دیکھا۔ عمر کے آخری دن تک وہ کام کرتے رہے، جیسے محنت ان کی زندگی کا آخری سہارا ہو۔ یہی منظر شکیل صاحب کے ذہن میں ایک خاموش سبق بن کر ثبت ہو گیا، جس نے ان کی اپنی زندگی کے انتخاب اور ترجیحات کو گہرے طور پر متاثر کیا۔
اسی طرح اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ گھر کے افراد کی ترقی اور اولاد کی سمت متعین ہونے میں ماں کا کردار اکثر خاموش مگر فیصلہ کن ہوتا ہے۔ شکیل صاحب کی اہلیہ نے بھی گھریلو ذمہ داریوں اور اولاد کی پرورش میں اپنا حصہ بغیر کسی دعوے کے ادا کیا۔ یہ وہ پس منظر ہے جس کے بغیر کسی بھی باپ کی محنت اور نیت مکمل صورت اختیار نہیں کر پاتی۔ یوں شکیل صاحب کی اولاد کی تعلیمی اور اخلاقی تشکیل ایک مشترکہ گھریلو فضا کا نتیجہ تھی، جہاں ذمہ داری، صبر اور خاموش قربانی بنیادی عناصر کے طور پر شامل رہے۔
ایک موڑ پر زندگی نے ہم دونوں کو ایک جیسے گہرے صدمات سے بھی دوچار کیا۔ ایک مختصر وقفے کے اندر ان کے والد اور میری شریکِ حیات کا اچانک انتقال ہو گیا۔ یہ ایسے دکھ تھے جن پر بات کرنا ہم دونوں کے لیے آسان نہیں تھا۔ ان دنوں ہم نے ایک دوسرے سے زیادہ گفتگو نہیں کی، نہ دلاسے کے جملے تلاش کیے، بلکہ خاموشی میں ایک دوسرے کی موجودگی کو سمجھا۔ یہی مشترک دکھ اور بے لفظ ہم آہنگی ہماری دوستی کو محض رفاقت سے آگے لے گئی اور اسے ایک گہرے روحانی ربط میں بدل گئی، جہاں ساتھ ہونا ہی سب سے بڑی تسلی بن گیا۔
شکیل صاحب کی زندگی کسی اعلان، کسی تمغے یا کسی رسمی اعتراف کی محتاج نہیں۔ انہوں نے جس خاموشی سے اپنے فرائض انجام دیے، وہی خاموشی ان کے وقار کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ وہ ان چراغوں میں سے ہیں جو خود جلتے ہیں مگر روشنی کا شور نہیں مچاتے۔ بہت سے لوگ انہیں پہچانتے ہیں، مگر خوش نصیب وہ ہیں جنہوں نے انہیں جانا۔
آج وہ عملی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو رہے ہیں، مگر ان کے سنوارے ہوئے نظام، ان کی دعا میں بھیگی ہوئی تربیت اور ان کی شخصیت کا ٹھہراؤ آنے والے وقت میں بھی اپنی موجودگی کا احساس دلاتا رہے گا۔ بعض زندگیاں ریٹائرمنٹ پر ختم نہیں ہوتیں، وہ کردار بن کر زمانے میں باقی رہتی ہیں—اور شکیل احمد کی زندگی بھی اسی قبیل کی ایک روشن مثال ہے۔

اخلاص و دیانت کا روشن استعارہ: شکیل رحمانی سر

مضمون نگار:محمد عبد العلیم
(موظف مدرس مدینۃ العلوم ہائی اسکول ناندیڑ)

تعلیمی ادارے صرف نصاب اور عمارتوں سے نہیں بنتے بلکہ ان معلمین کے اخلاص، کردار اور خاموش محنت سے اپنی اصل شناخت پاتے ہیں جو نسلوں کی تعمیر میں بے آواز مگر مسلسل مصروف رہتے ہیں۔ ایسے اساتذہ اپنی ذات سے بڑھ کر ایک روایت بن جاتے ہیں۔ شکیل رحمانی سر بھی انہی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جن کی زندگی تدریس، خدمت اور ذمہ داری کا حسین امتزاج ہے۔
ان سے میری پہلی ملاقات میرے نہایت قریبی دوست محترم شیخ اعجاز صاحب کے ہمراہ ان کے مدینہ پرنٹنگ پریس میں ہوئی۔ وہ لمحہ محض تعارف کا نہ تھا بلکہ ایک ایسی شخصیت سے شناسائی کا آغاز تھا جس کی سادگی میں وقار اور خاموشی میں گہرائی تھی۔ اسی نشست میں معلوم ہوا کہ وہ نہ صرف اردو کے خوش خط کاتب ہیں بلکہ فیض العلوم ہائی اسکول ناندیڑ میں بحیثیت معلم اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
چونکہ مجھے بھی اسی ادارے سے طالب علمی کا شرف حاصل رہا ہے اور بعد ازاں تدریس سے وابستگی بھی رہی، اس نسبت نے میرے دل میں ان کے لیے فطری احترام پیدا کر دیا۔ پہلی ملاقات کے بعد تعلق رسمی حدود سے نکل کر فکری اور اخلاقی ربط میں ڈھلتا گیا اور آج بھی اسی خلوص کے ساتھ قائم ہے۔ شکیل سر بلند اخلاق، نرم خوئی اور سادہ مزاجی کے پیکر ہیں۔ ان کے چہرے کی ہلکی سی مسکراہٹ ان کی درونی طمانیت کا پتہ دیتی ہے۔ وہ مصافحہ کرتے ہوئے جس گرمجوشی سے خیریت دریافت کرتے ہیں، اس میں بناوٹ نہیں بلکہ سچی اپنائیت ہوتی ہے۔ ہر ملاقات میں کچھ نہ کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔
وہ صرف ایک ماہر کاتب ہی نہیں بلکہ اردو کے کامیاب اور باصلاحیت استاد بھی ہیں۔ اردو کے ساتھ ساتھ مراٹھی زبان پر بھی انہیں اچھی دسترس حاصل ہے۔ ان کا مطالعہ وسیع اور عمیق ہے، اور یہی وسعت ان کے اندازِ تدریس میں جھلکتی ہے۔ درس و تدریس کے علاوہ ادارے کے غیر تدریسی امور میں بھی انہوں نے ہمیشہ ذمہ داری کا ثبوت دیا۔ اسٹاف کے سیلری بلز کی تیاری ہو یا دیگر انتظامی معاملات، ہر کام انہوں نے دیانت اور مہارت کے ساتھ انجام دیا۔ ان کی شخصیت اعتماد کی علامت بن چکی ہے اور ادارے کی انتظامیہ بھی ان پر مکمل بھروسا کرتی ہے۔
ان کے والد محترم بھی مجلسِ انتظامیہ میں خازن کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔ خدمت کا یہ تسلسل دراصل اقدار کی ایک ایسی وراثت ہے جو نسلوں کے ذریعے آگے بڑھتی ہے۔ والد کے انتقال کے بعد بھی شکیل سر نے اسی وقار اور ذمہ داری کے ساتھ اس روایت کو زندہ رکھا۔ بعض گھرانے صرف نام نہیں چھوڑتے بلکہ کردار کی مثال قائم کرتے ہیں، اور انہی مثالوں سے اداروں کی بنیاد مضبوط ہوتی ہے۔
میں نے جب بھی ان سے ملاقات کی، انہیں طلبہ اور ادارے کے مستقبل کے لیے فکرمند پایا۔ کسی بھی تعلیمی ادارے کی ترقی محض ظاہری ترقی نہیں ہوتی بلکہ اس کے پس منظر میں ایسے افراد کی محنت شامل ہوتی ہے جو خاموشی سے اپنے حصے کا چراغ روشن رکھتے ہیں۔ فیض العلوم ہائی اسکول ناندیڑ کی ترقی میں شکیل سر اور ان کے دیرینہ رفیق شیخ ذاکر سر کی بے لوث خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ اصل تعمیر اینٹ اور پتھر کی نہیں بلکہ اخلاص اور کردار کی ہوتی ہے۔
مدرسہ اور پرنٹنگ پریس کی مصروفیات کے باوجود وہ دینی و ادبی مطالعے کے لیے وقت نکالتے رہے۔ علمی نشستوں میں شرکت ان کے مزاج کا حصہ ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ سچا معلم زندگی بھر سیکھنے کے عمل سے جڑا رہتا ہے۔ ان کی شخصیت کا ایک خوشگوار پہلو یہ بھی ہے کہ وہ پرانے فلمی نغمات سے شغف رکھتے ہیں۔ سنجیدگی اور جمالیاتی ذوق کا یہ امتزاج ان کے مزاج کو ایک متوازن ہم آہنگی عطا کرتا ہے۔
36 برس 3 ماہ اور 25 دن پر مشتمل طویل تدریسی خدمات مکمل کرنے کے بعد وہ 28 فروری 2026 کو بحیثیت سپروائزر ملازمت سے سبکدوش ہو رہے ہیں۔ یہ ایک عہد کا اختتام ضرور ہے، مگر ایسے افراد اپنی موجودگی کو محض عہدے تک محدود نہیں رکھتے۔ ان کی خدمات شاگردوں کے کردار، ساتھیوں کی یادوں اور ادارے کی روایت میں زندہ رہتی ہیں۔ ان کی رخصتی کے بعد پیدا ہونے والا خلا محسوس تو ہوگا، لیکن ان کے روشن کیے ہوئے چراغ دیر تک رہنمائی کرتے رہیں گے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ انہیں صحت و عافیت کے ساتھ عمر دراز عطا فرمائے، ان کی آئندہ زندگی کو سکون اور خوشیوں سے بھر دے، اور ان کی خدمات کو ان کے حق میں صدق? جاریہ بنائے۔ آمین۔

فکر وفن کاسنجیدہ رفیق

از: حبیب مسعود
لیکچرار مدینۃ العلوم جونئیر کالج ناندیڑ

شکیل احمد رحمانی سے میری شناسائی نشست و برخاست کے ذریعے ہوئی۔ ابتدا میں وہ ہمارے دوست ذاکر سر کے توسط سے محفلوں میں شامل ہوئے اور رفتہ رفتہ مستقل رفیق بن گئے۔ وقت کے ساتھ اندازہ ہوا کہ ان کی شخصیت میں سنجیدگی، اعتدال اور سلیقہ نمایاں اوصاف ہیں۔
ان کا ظاہری حلیہ سادہ اور باوقار ہے، لیکن اصل تاثیر ان کے اندازِ گفتگو میں ہے۔ وہ نرم لہجے میں بات کرتے ہیں اور مخاطب کو پوری توجہ دیتے ہیں۔ لباس اور برتاؤ میں سادگی اور ترتیب نمایاں ہے، جو مجموعی شخصیت کو متوازن بناتی ہے۔
ان کی پیشہ ورانہ زندگی کا بڑا حصہ فیض العلوم ہائی اسکول و جونیئر کالج سے وابستہ رہا۔ اس ادارے میں طویل تدریسی خدمات کے دوران انہوں نے نہ صرف پڑھایا بلکہ خود بھی سیکھنے کا عمل جاری رکھا۔ بزرگ اساتذہ کی صحبت نے ان کی فکری تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اختلاف کے بجائے مکالمے اور ٹکراؤ کے بجائے مفاہمت کو ترجیح دیتے ہیں۔
فکری طور پر وہ مولانا وحید الدین خان کی تحریروں سے متاثر رہے ہیں۔ منفی حالات میں مثبت پہلو تلاش کرنے کا رجحان ان کی گفتگو اور رویے میں محسوس کیا جا سکتا ہے۔ عملی زندگی میں بھی انہوں نے اسی اعتدال کو اختیار کرنے کی کوشش کی ہے۔
شکیل صاحب فنِ کتابت سے خصوصی شغف رکھتے ہیں۔ نستعلیق سمیت مختلف رسم الخط میں ان کی مہارت نمایاں ہے۔ رقعوں کی کتابت اور رنگوں کے متوازن استعمال میں سلیقہ جھلکتا ہے۔ اس فنی ذوق کا اظہار پرنٹنگ پریس کے کاموں میں بھی ہوتا رہا ہے۔
گزشتہ کچھ عرصے سے موسیقی میں بھی ان کی دلچسپی بڑھی ہے۔ خصوصاً محمد رفیع کے نغمے وہ شوق سے سنتے ہیں۔ سفر ہو یا نشست، اکثر ان کے انتخاب میں یہی نغمات شامل ہوتے ہیں۔ اس شوق کو وہ ذاتی لطف تک محدود رکھتے ہیں اور محفل کو خوشگوار بنانے کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔
پیشہ ورانہ اعتبار سے وہ فرض شناسی اور وقت کی پابندی کو اہم سمجھتے ہیں۔ تدریس اور انتظامی ذمہ داریوں کو انہوں نے سنجیدگی سے نبھایا۔ کام کو ادھورا چھوڑنا ان کے مزاج کے خلاف ہے۔ ادارے میں انہیں ایک ذمہ دار اور قابلِ اعتماد استاد کے طور پر جانا جاتا ہے۔
گھریلو زندگی میں بھی انہوں نے تعلیم اور اخلاق دونوں پہلوؤں پر توجہ دی۔ ان کی کوشش رہی کہ نئی نسل جدید تعلیم کے ساتھ تہذیبی اقدار سے بھی وابستہ رہے۔
مجھے امید ہے کہ سبکدوشی کے بعد وہ اپنے علمی اور فنی تجربات کو مزید وسعت دیں گے اور کتابت کے فن کو نئی نسل تک منتقل کرنے کی کوشش جاری رکھیں گے۔ دعا ہے کہ وہ صحت اور عافیت کے ساتھ اپنی مصروفیات جاری رکھیں۔

 

 

 

 

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے