कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

شمع تصوف:حضرت مولاناپیر ذوالفقار احمد نقشبندیؒ صاحب

ایساکہاں سےلاؤں کہ تجھ ساکہوں جسے

از:محمد رضوان الدین حسینی
شریک دورہ حدیث دارالعلوم وقف دیوبند

’’ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں، ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم‘‘
اللہ تعالی کانظام بڑاعجیب ہے، وہ وقتافوقتاایسےافراد کو پیداکرتاہےجو اصلاح ورشد کامینارہ نور،اخلاق وکردار کاکوه ہمالہ،شریعت وطریقت کا حسین سنگم،دعوت ارشاداور تبلیغ کادرنایاب ہوتےہیں،اور ایک فرد کا سوز دل اور روح کی بےقراری ایک عالم کےلیےانقلاب کاذریعہ بن جاتی ہے،اور وہ بےدینی وخدافراموشی کےتیرہ وتاریک ماحول میں چراغ ہدایت بن کر جگمگاتا ہے،آفتاب کی طرح اس کی کرنیں پوری دنیائےانسانیت پر چھاجاتی ہیں،دیوانہ وار لوگ اس کےگرد پروانوں کی طرح جمع ہوتےہیں،اس کی اداوں پر فریفتہ اور ایثار و اخلاق کےگرویدہ ہوجاتےہیں،اس کی زبان سےنکلنےوالاایک ایک لفظ دل پر بجلی بن کر گرتاہےاور قلب کی دنیامیں تموج برپاکردیتا ہے،محبت اور ہمدردی میں ڈوبی گفتگو زندگی کارخ بدل دیتی ہے ،سادگی وبےنفسی،تواضع وفروتنی،اس کی عظمت کو مزید دوبالاکردیتی ہے،اور ایک تنہاانسان پوری دنیامیں اللہ کےنام کاورد پھیلانےوالابن جاتاہے،انہیں عظیم المرتبت اور ہمہ جہت شخصیات میں ایک انفرادی اور مثالی شخصیت حضرت مولاناپیر ذوالفقار احمد نقشبندیؒ صاحب کی بھی ہے،جنہیں کل تک ہم دام ظلہ،کےذریعہ سےیاد کرتےتھے لیکن آج رحمہ اللّٰہ لکھنا پڑھ رہاہے، جو نگاہ بلند کی حامل سخن دلنواز کےمالک جاں پرسوز سےمالامال تھے-
بلند قد وقامت،روشن چہرہ ،ہنس مکھ،ہمیشہ سرپر عمامہ سجارہا،سفید کپڑوں میں ملبوس ،بات میں مٹھاس،ہم نے اپنے بہت سے بزرگوں کو دیکھا ہے جن پر نگاہ پڑتی ہے تو ہٹنے کا نام نہیں لیتی ہے، بعینہٖ یہی کیفیت پیر صاحب کی تھی، چہرہ ایسا منور تر وتازہ اور شاداب کہ نگاہ پڑے تو ہٹنا بھول جائے ، لبوں پر کھیلتی مسکراہٹ آنکھوں میں یاد الٰہی کا سوز اور تڑپ ، طبیعت میں حد درجہ انکسار اور تواضع ، اپنی ہر ادا سے گہری چھاپ چھوڑنے والی شخصیت ، اہل دنیا کو مدتوں یاد رہے گی:
انوکھی وضع ہے، سارے زمانے سے نرالے ہیں
یہ عاشق کون سی بستی کے یارب رہنے والے ہیں
فقیر نےگرچہ حضرت کادیدار نہیں کیالیکن جو کچھ مشاہدین سےسنااور سردست سوشل میڈیا کےتئیں آپ کےبیانات سےمستفیدہوا،اور آپ کی تصاویر دیکھیں اسی کی روشنی میں یہ کچھ آپ کے ظاہری خد وخال کو بیان کرنےکی سعی کی-
آج جب قلم ان کے نام کے ساتھ “نوراللہ مرقدہ” لکھتا ہے تو یوں محسوس ہورہا ہے جیسے دل کی کسی گہرائی میں خاموشی چیخ بن کر ابھر آئی ہو۔ آنکھ نم ہے، روح بوجھل ہے، اور شعور اس حقیقت کو قبول کرنے میں دیر لگا رہا ہے کہ وہ ہستی، جس کی موجودگی دلوں کو زندگی بخشتی تھی، اب ظاہری دنیا میں ہمارے درمیان نہیں رہی۔
ہمارےدم سےقائم ہیں جہاں کی رونقیں
ہم نہ ہوں گےتو ہمیں یاد کرےگی دنیا
گزشتہ چند مہینوں میں اکابرِ امت کی یکے بعد دیگرے رحلت نے علمی و روحانی دنیا کو گہرے صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔ بلاشبہ دنیا فانی ہے، انسان یہاں آنے کے لیے نہیں بلکہ جانے کے لیے آتا ہے؛ مگر کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو محض فرد نہیں ہوتیں، وہ ایک عہد، ایک فکر، ایک تحریک اور ایک روشنی ہوتی ہیں۔ ان کی رحلت محض ایک جسمانی جدائی نہیں ہوتی بلکہ دلوں میں ایک خلا چھوڑ جاتی ہےایسا خلا جو مدتوں محسوس ہوتا ہے۔
حضرت پیر فقیر ذوالفقار صاحبؒ بھی انہی نابغۂ روزگار ہستیوں میں سے تھے۔ آپ علم و عرفان کا ایسا حسین امتزاج تھے جس میں شریعت کی پختگی، سنت کی پابندی، تصوف کی لطافت اور اخلاق کی بلندی ایک ساتھ جلوہ گر تھی۔
حضرتؒ کی پوری زندگی کا خلاصہ ان کے اپنے الفاظ میں سمٹ آتا ہے:
میں نے اللہ سے ٹوٹ کر محبت کی ہے۔
یہ جملہ محض ایک کیفیت نہیں بلکہ ایک مکمل منہجِ حیات تھا۔ آپ کا اٹھنا بیٹھنا، بولنا خاموش رہنا، لکھنا پڑھنا، ملنا جلناسب اللہ کی رضا کے گرد گھومتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ “اللہ، اللہ” کہتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوئے، گویا ذکر جس نے زندگی سنواری، وہی ذکر آخری سانسوں کا سرمایہ بنا۔
آپ نےخود ایک واقعہ بیان فرمایا کہ ایک شخص نےآپ سےسوال کیاکہ پیر صاحب آپ کاکیاحال ہروقت اللہ اللہ کرتےہیں اس کےعلاوہ کوئی کام نہیں اس کےجواب میں حضرت نےفرمایاکہ تم اللہ کےسامنےگواہی دیناکہ میرایہی کام تھامیراکام بن جائےگااس نےکہاکہ بےمعنی اللہ کہنےکاکیامطلب تو حضرت نےایک شعر پڑھا:
رٹیں گے ہم گرچہ مطلب کچھ نہ ہو
ہم تو عاشق ہیں تمہارےنام کے
آپ کو اللہ سےسچاعشق تھا،
ایک طالبِ علم کی حیثیت سے جب میں حضرتؒ کی زندگی پر نظر ڈالتا ہوں تو سب سے پہلے جو چیز دل کو مسخر کرتی ہے وہ اخلاص ہے۔ ایسا اخلاص جو نہ نمود کا طلبگار ہو، نہ شہرت کا محتاج۔ آپ نے دلوں پر حکومت کی، مگر کبھی اقتدار کا دعویٰ نہ کیا۔ لاکھوں نہیں، کروڑوں دل آپ سے جڑے، مگر ہمیشہ اپنےآپ کو“فقیر” کہتے رہے۔
وہ عمر جو عموماً خواہشات، آرزوؤں اور نفسانی تقاضوں میں گھری ہوتی ہے، حضرتؒ نے اسی عمر کو اللہ کی یاد میں وقف کر دیا۔ راتیں سجدوں میں گزرتیں، آنکھیں اشک بار ہوتیں، اور دل امت کے درد سے لبریز رہتا۔ یہ وہی کیفیت ہے جس سے انقلابِ باطن جنم لیتا ہے۔
اتباعِ سنت:
حضرت پیر صاحبؒ کی زندگی کا سب سے روشن پہلو اتباعِ سنت تھا۔ آپ نے سنت کو محض بیان نہیں کیا بلکہ اسے جیا۔ لباس سے لے کر اخلاق تک، عبادات سے لے کر معاملات تک ہر پہلو میں سنت کی جھلک نمایاں تھی۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے سنت آپ کے وجود میں رچ بس گئی ہو۔
ابتدائی و تعلیمی زندگی:ـ
مولانا پیر ذوالفقار نقشبندی صاحب ؒ کی پیدائش *1953ء* کو صوبہ پنجاب پاکستان کے شہر جھنگ میں ایک کھرل خاندان میں ہوئی، ان کے والدین نہایت دین دار اور عبادت گزار تھے، گھر میں نماز ، تلاوت کا بڑا اہتمام تھا، یہاں تک کہ تہجد کی بھی پابندی ہوتی تھی، اپنی والدہ محترمہ کے بارے میں لکھتے ہیں :
’’والدہ ماجدہ بھی پابند صوم و صلوٰۃ تھیں، راقم جب تین برس کی عمر کا تھا تو رات کے آخری پہر میں والدہ صاحبہ کو بستر میں موجود نہ پا کر اٹھ بیٹھتا ، دیکھتا تھا کہ وہ سرہانے کی طرف مصلّٰی بچھا کر نماز تہجد پڑھنے میں مشغول ہیں، راقم منتظر رہتا کہ نماز کب ختم ہوگی، والدہ صاحبہ نماز کے بعد دامن پھیلا کر اونچی آواز سے رو رو کر دعائیں مانگتیں، راقم نے اپنی زندگی میں تہجد کے وقت جس قدر اپنی والدہ صاحبہ کو روتے دیکھا ہے کسی اور کو اس قدر روتے نہیں دیکھا ، بعض اوقات والدہ صاحبہ راقم کا نام لے کر دعائیں کرتیں تو راقم خوشی سے پھر بستر پر سو جاتا۔‘‘ (حیات حبیب ص 744)
یقینا یہ والدہ محترمہ کی دعائے سحر گہی اور نالۂ نیم شبی کا نتیجہ ہے کہ آج ان کے بیٹے کا نام پورے عالم میں گونج رہا ہے اور تادم حیات ان سے دلوں کی اصلاح کا کام لیا جاتارہا ہے۔
مولانا ذوالفقار احمد نقشبندی صاحب ؒ کی تعلیم اسکولوں اور کالجوں میں ہوئی۔ انہوں نے کئی عصری کورس کئے *1972* ء میں بی ایس سی الیکٹریکل انجینئر کی ڈگری حاصل کرکے اسی شعبے سے وابستہ ہوگئے، پہلے اپرنٹس الیکٹریکل انجینئر ، پھر اسسٹنٹ الیکٹریکل انجینئر بنے ، اس کے بعد چیف الیکٹریکل انجینئر بن گئے ، جس زمانے میں وہ انجینئر بن رہے تھے اس زمانے میں جمناسٹک ، فٹ بال ، سوئمنگ کے کیپٹن اور چمپیئن بھی رہے۔ ان حالات میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا کہ کوئی طالب علم دین کی طرف مائل بھی ہوسکتا ہے، مگر یہ معجزہ ہوا، انہوں نے عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ ناظرہ بھی پڑھا ، ابتدائی دینیات ، فارسی اور عربی کی کتابیں بھی پڑھیں ، قرآن کریم بھی حفظ کیا، یہاں تک کہ جب وہ لاہور یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھے ان کا تعلق عمدۃ الفقہ کے مصنف حضرت مولانا سید زوار حسین شاہ صاحبؒ سے ہوگیا، جو نقشبندیہ سلسلے کے ایک صاحب نسبت بزرگ تھے، شیخ ذوالفقار احمد صاحبؒ نے ان سے مکتوبات مجدد الف ثانی سبقاً سبقاً پڑھی، ان کی وفات کے بعد وہ حضرت مرشد عالم خواجہ غلام حبیب نقشبندی مجددی ؒ کے دامن سے وابستہ ہوگئے، یہ 1980ء کی بات ہے، 1983ء میں خلافت سے سرفراز کئے گئے، اس دوران انہوں نے جامعہ رحمانیہ جہانیاں منڈی اور جامعہ قاسم العلوم ملتان سے دورۂ حدیث کی اعزازی ڈگری بھی حاصل کی ، اپنے مرشد کی وفات کے بعد وہ پوری طرح دین کے کاموں میں لگ گئے ، کئی سال امریکہ میں گزار کر بعدہ مستقل طور پر تادم حیات جھنگ میں مقیم رہیں، لڑکوں اور لڑکیوں کے متعدد دینی ادارے ان کی سرپرستی اور اہتمام میں چل رہے ہیں، پچاس سے زائد ملکوں کے اصلاحی و تبلیغی دورے بھی کرچکے ہیں، ہر وقت سرگرداں رہتے تھے، دینی و عصری علوم کی جامعیت حضرت والا کی امتیازی خصوصیت تھی، انگلش زبان پر عبور حاصل تھا انہیں دینی علوم کو عصری اسلوب میں اور مخاطب کی زبان میں پیش کرنے کا غیر معمولی طور پر ملکہ حاصل تھا، ہر سال رمضان المبارک کا مہینہ (صرف آخری عشرہ) افریقی ملک زمیبیامیں گزرتا رہا، جہاں حضرت اپنے مریدین اور خلفاء کی ایک بڑی جماعت کے ساتھ اعتکاف فرماتے تھے۔ہر سال حج کے ایام میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں مجلسیں لگتی تھیں اور بے شمار عقیدت مند،ان مجلسوں میں ان سے استفادہ کرتے تھے، گویا سال کے بارہ مہینے ان کا فیض جاری رہتا تھا ، یقیناآج مت ایک عظیم.نابغہ روزگار شخصیت سے محروم ہوچکی ہے۔
مولانا ذوالفقار احمد نقشبندی کو علماء دیوبند سے بڑی عقیدت تھی، اور یہ عقیدت ان کی ہر تقریر اور تحریر سے جھلکتی ہے آپ ان کی کوئی بھی تقریر سن لیں، یا کوئی کتاب اٹھا کر دیکھ لیں آپ کو علماء دیوبند کا ذکر ضرور ملے گا، اس کااندزہ اس بات سےلگایاجاسکتاہےکہ جب بھی آپ کےپاس دارالعلوم کے اساتذہ تشریف لاتےتو آپ اپنالحاف ان کےلیےبچھادیاکرتےتھےیہ بات آپ کےاجل خلیفہ حضرت مولانا سلمان بجنوری صاحب نےبتائی، یہ عقیدت ہی ماضی میں ان کے ہندوستان آنے کا سبب بنی تھی-
علمی و تصنیفی خدمات:ـ
تصوف کے ساتھ ساتھ حضرتؒ کی علمی و تصنیفی خدمات بھی نہایت گراں قدر ہیں۔ آپ کے مطالعے کی وسعت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سورۂ کہف کی تفسیر کے لیے آپ نےایک سو بیس تفاسیر کا گہرا مطالعہ فرمایا۔ یہ محض علم نہیں بلکہ علمی دیانت اور تحقیقی مزاج کی اعلیٰ مثال ہے۔
آپ کی کتب آج بھی طالبانِ سلوک کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ بے شمار خوشہ چین آپ کے علمی باغ سے فیض یاب ہو رہے ہیں، اور آئندہ بھی ہوتے رہیں گے۔ آپ کے خطبات، آپ کی مجالس، آپ کی تحریریں یہ سب آپ کے بعد بھی زندہ ہیں، کیونکہ جو بات اللہ کے لیے کہی جائے، وہ کبھی نہیں مرتی۔
فقیر کے ناقص علم و فہم کے مطابق حضرت کی قلمی خدمات نہایت وسیع اور ہمہ گیر ہیں۔ آپ کی تصانیف کی تعداد تقریباً دو سو کے قریب بتائی جاتی ہے، جن میں آپ کی روداراسفار، افادات، خطبات اور آپ کے علمی بیانات کو نہایت سلیقے اور محنت کے ساتھ سپردِ قلم کیا گیا ہے۔
راقمِ سطور کو بھی آپ کی متعدد کتب کے مطالعے کا شرف حاصل ہوا ہے۔ بالخصوص „تفسیری نکات: آخری دس سورتیں“ کے مطالعے کے دوران یہ کیفیت محسوس ہوئی کہ اگر پوری کتاب حفظ کر لی جائے تو بجا ہوگا؛ اس لیے کہ بیسیوں تفاسیر کے مطالعے کے بعد جو جامع، نچوڑ اور منتخب مواد فراہم ہو سکتا ہے، وہ حضرت نے اس مختصر مگر گراں قدر کتاب میں سمو دیا ہے۔
اس ایک کتاب کے مطالعے سے ہی حضرت کے علمِ قرآن، وسعتِ مطالعہ کا بخوبی اندازہ ہو جاتا
ہے۔ ایک طالبِ علم کے لیے یہ تصنیف نہ صرف فہمِ قرآن میں معاون ہے بلکہ ذوقِ علمی کو بھی جِلا بخشتی ہے۔مندرجہ ذیل آپ کی سرفہرست تصانیف ہیں:
فقہ کے بنیادی اصول
زادِ حرم
اولاد کی تربیت کے سنہرے اصول
خواتینِ اسلام کے کارنامے
حیا اور پاکدامنی
مغفرت کی شرطیں
علم نافع
اسیر برما
عشق الہی
دوائے دل
عشق رسول
خطبات فقیر 42کےقریب جلدیں
خطبات ذو الفقار40سےزاید جلدیں
عمل سے زندگی بنتی ہے
اہل دل کے تڑپا دینے والے واقعات
تفسیری نکات
سورہ کہف کےفوائددوجلدیں
پاجاسراغ زندگی
عشرہ مبشرہ
بیانات سیرت
معارف نبویﷺ
مثالی مرد
اصلاح کےلیےروحانی نسخے
سکون دل
دوائےدل
باادب بانصیب
خواتین کےلیےتربیتی بیانات
زبدۃ السلوک
دروس شمائل
گھرجنت کیسےبنے
سوئےحرم
تمنائےدل
دلوں کےفاتح
فقیرکاپیام نئی نسل کےلیے
شجرہ طیبہ
حیات حبیب
زمانہ طالب علمی کیسےگزاریں
مدارج السلوک
اصلاح دل
موت کی تیاری
قران مجید کےادبی اسرار ورموز
انمول حدیث
سورہ حجرات کےفوائد
ایمان ویقین کےتقاضے
متعدد سفر نامے
خطبات ہند دو جلدیں وغیرہ یہ چند سرفہرست کتب ہیـں –
مردین، متوسلین اور خلفاء کا فیض:
حضرتؒ کے مردین، متوسلین اور خلفاء کی تعداد اور خدمات کا دائرہ اس قدر وسیع ہے کہ اس کا احاطہ ممکن نہیں۔ دنیا کے مختلف گوشوں میں دلوں کی اصلاح، کردار کی تعمیر اور دین کی خدمت کا جو سلسلہ جاری ہے، وہ حضرتؒ کے فیضانِ نظر کا زندہ ثبوت ہے۔ اگر فیض پانے والوں کی یہ کیفیت ہے تو سوچئے اس مردِ قلندر کا مقام اللہ کے ہاں کیا ہوگا-
حضرت کے خلفائے کرام کی فہرست نہایت طویل ہے۔ دنیا کے مختلف خطّوں میں حضرت کے خلفاء موجود ہیں، جو اپنے اپنے علاقوں میں حضرت کی تعلیمات، ذکر و فکر اور اصلاح و تربیت کے مشن کو آگے بڑھا رہے ہیں-
زندگی شمع کی مانند جلاتا ہو
بجھ تو جاؤں گا مگر صبح تو کر جاؤں گا
۔ذیل میں چنداہم نام ذکر کیےجارہےہیں:
حضرت مولاناسیف اللہ صاحب مدظلہ (جھنگ)
حضرت رح کے دوسرے صاحبزادے ہیں۔ بڑی استعداد اور صلاحیتوں کے مالک ہیں۔ حضرت رح کی صحبت سے طویل عرصہ مستفید ہوئے، اسفار میں بھی سایہ کی طرح ساتھ رہے۔ حضرت کی تعلیمات کو اہتمام سے نوٹ کرتے تھے۔ مطالعے کا اعلیٰ ذوق رکھتے ہیں، ایک بڑی ذاتی لائبریری قائم کی ہے اور تصنیف و تالیف سے بھی شغف رکھتے ہیں۔ کئی مفید کتابیں تحریر کر چکے ہیں۔ ابتدا ہی سے حضرت کی تربیت میں رہے، ذکر و فکر کے پابند ہیں۔ زیمبیا اعتکاف میں خصوصی توجہات سے نوازے گئے اور 2009ء کے سالانہ اجتماع کے اختتام پر اجازت و خلافت عطا ہوئی۔
حضرت مولاناحبیب اللہ صاحب مدظلہ (جھنگ)
حضرت کے بڑے صاحبزادے ہیں۔ وفاق المدارس کے فارغ التحصیل عالم ہیں۔ مدرسہ میں تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ معہد الفقیر کے انتظامی امور کی ذمہ داری بھی آپ کے سپرد ہے۔ جامع مسجد زینب معہد الفقیر کے خطیب ہیں اور حضرت کے انداز میں بیان فرماتے ہیں۔ ابتدا سے حضرت جی کی تربیت میں رہے، ذکر و فکر کے پابند ہیں۔ زیمبیا اعتکاف میں خصوصی توجہات کے بعد 2009ء میں اجازت و خلافت عطا ہوئی۔
حضرت مولانا مفتی ابو لبابہ شاہ منصور صاحب (کراچی)
حضرت مولانا محمد سلمان بجنوری صاحب (استاذ دارالعلوم دیوبند) حضرت کے اجل خلیفہ، جنہیں حضرت سے خاص قربت حاصل رہی
حضرت مولانا احمد جان صاحب (روس)
حضرت مولانا اسلم پوریؒ صاحب (لاہور)
حضرت مولانا محمد امجد صاحب (لاہور)
حضرت مولانا حافظ محمد ابراہیم صاحب(لاہور)
حضرت مولانا شیخ اظہر اقبال صاحب (کراچی)
حضرت مولانا سید کاشف کریم صاحب (ریاض)
حضرت مولانا گل رئیس صاحب (بنوں)
حضرت مولانا مقصود اسلم صاحب (کرک)
حضرت مولانا ڈاکٹر محمد محسن صاحب (جھنگ)
حضرت مولانا حافظ مدثر عرفان صاحب (ڈیرہ غازی خان)
حضرت مولانا حافظ منیر احمد صاحب (کراچی)
حضرت مولانا شیخ مشتاق احمد صاحب (امریکہ)
حضرت مولانا مصطفیٰ کمال صاحب (سعودی عرب)
حضرت مولانا حافظ محمد میاں صاحب (ساؤتھ افریقہ)
حضرت مولانا موسیٰ اکوڈی صاحب (ساؤتھ افریقہ)
حضرت مولانا نذیر صاحب (موزمبیق)
حضرت مولانا ڈاکٹر نثار احمد صاحب (اسلام آباد)
حضرت مولانا احسان الحق بہاولپوری صاحب (بہاولپور)
حضرت مولانا احمد دین صاحب (گھوٹکی، سندھ)
حضرت حافظ انعام اللہ جاوید صاحب (گوجرانوالہ)
حضرت مولانا الیاس گھمن صاحب مدظلہ (پاکستان)
حضرت مولانا مفتی آفاق صاحب (اٹک)
حضرت مولانا ابراہیم کڈوا صاحب (مدینہ شریف)
حضرت مولانا ابو بکر صاحب (مدینہ شریف)
حضرت مولانا امام شامل صاحب (ساؤتھ افریقہ)
حضرت مولانا ایوب صاحب (زمبابوے)
حضرت مولانا شیخ ارسلان صاحب (لاہور)
مولانا محمد ایوب سورتی صاحب (انگلینڈ)
حضرت مولانا مفتی ایوب کشمیری صاحب (سرینگر، کشمیر)
حضرت مولانا محمد بلال صاحب (کینیا)
شیخ الحدیث حضرت مولانا تقی الدین ندوی مدظلہ (العین)
حضرت مولانا شیخ توقیر مدظلہ (دبئی)
حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد جعفر مدظلہ (جھنگ)
حضرت مولانا حافظ جنید صاحب (ساؤتھ افریقہ)
حضرت مولانا حاکم جان مدظلہ (روس)
حضرت مولانا مفتی حماد مدظلہ (لاہور)
حضرت مولانا محمد حسین آزادؒ (ملتان)
حضرت مولانا شیخ حسین عبدالستار مدظلہ (امریکہ)
حضرت مولانا ڈاکٹر حماد طفیل مدظلہ (طائف)
حضرت مولانا حماد محمود مدظلہ (اسلام آباد)
حضرت مولانا خلیل الرحمٰن انوری صاحب (فیصل آباد)
حضرت مولانا مفتی خالق یار صاحب (وزیرستان)
حضرت مولانا راویل تاج الدین صاحب (روس)
حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب (حاصل پور)
حضرت مولانا ڈاکٹر پروفیسر محمد سلیم صاحب (لاہور)
حضرت مولانا سردار شاہ صاحب (لاہور)
حضرت مولانا سجاد احمد صاحب (لاہور)
حضرت مولانا خلیل الرحمٰن سجاد نعمانی صاحب (انڈیا)
حضرت مولانا صلاح الدین سیفی صاحب(انڈیا)
حضرت مولانا سید محمود اسعد مدنی صاحب (انڈیا)
حضرت مولانا طلحہ صاحب نقشبندی (انڈیا)
*خلا جو شاید پُر نہ ہو*
ایسی شخصیات کا خلا صدیوں بعد بھی محسوس ہوتا ہے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ کے خزانے بے حد و حساب ہیں، مگر کچھ چراغ ایسے ہوتے ہیں جن کی روشنی کا بدل فوراً نظر نہیں آتا۔ ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ حضرتؒ کا نعم البدل عطا فرمائے، یقیناصدیوں میں ایسی شخصیت جنم لیتی ہے،
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نُوری پہ روتی ہے
بڑی مُشکِل سے ہوتا ہے چَمَن میں دِیدَہ ور پیدا
(حضرتِ علامہ اقبالؒ)
اللہ تعالیٰ حضرت پیر فقیر ذوالفقار صاحبؒ کے مرقد کو نور سے بھر دے، درجات بلند فرمائے، اور ان کے فیوض و برکات کو جاری و ساری رکھے۔ امتِ مسلمہ، اہلِ خانہ، خلفاء، متوسلین اور تمام محبین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزۂ نورستہ اِس گھر کی نگہبانی کرے
اللّٰہم اجعل مثواہ الجنة، وارفَع درجتہ فی العلیین۔
آمین یا رب العالمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے