कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

شراب- ام الخبائث

تحریر:مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
نائب ناظم امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ وجھارکھنڈ، پھلواری شریف، پٹنہ

شراب نوشی تمام گناہوں اور فساد کی جڑ ہے، اسی لئے شراب کو ام الخبائث کہا جاتا ہے، زمانہ جاہلیت میں حجاز میں لوگ کثرت سے شراب پیتے تھے، مکہ ومدینہ دونوں کا بھی یہی حال تھا، بعض سیرت نگاروں نے لکھا ہے کہ شراب ان کی گھٹی میں پڑی تھی، معدودے چند لوگ ایسے تھے جو اس سے پرہیز کرتے تھے، ہجرت کے بعد جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ تشریف لائے، مہاجرین کی ایک جماعت بھی آئی، ان حضرات نے اس کی قباحت اور شناعت کو محسوس کیا، چنانچہ اللہ رب العزت نے انسانی فطرت کو ملحوظ رکھتے ہوئے تین مرحلوں میں اسے حرام قرار دیا، پہلی آیت نازل ہوئی کہ شراب اور جوئے میں گناہ عظیم ہے اور لوگوں کے لیے اس میں منافع بھی ہیں، لیکن فائدہ کی بہ نسبت نقصان بڑا ہے (البقرہ:۲۱۹) نفسیاتی طورپر لوگوں کے دلوں میں جب یہ بات گھر کر گئی تو پھر دوسری آیت نازل ہوئی کہ اے ایمان والو! نشہ کی حالت میں نماز کے قریب بھی مت جاؤ، اس طرح دوسرے مرحلہ میں اوقات صلوٰۃ میں شراب کو حرام قرار دیا گیا، باقی اوقات میں پینے کی اجازت رہی، جب لوگ اس کے عادی ہوگیے تو مطلقاً حرام قرار دیدیا گیا، اللہ رب العزت کا ارشاد ہے: ’’اے ایمان والو! شراب، جوا، بت اور جوؤں کے تیر سب گندے شیطانی اعمال ہیں، اس سے بچو تاکہ کامیاب ہوسکو‘‘ (المائدہ:۹۰) بچنے کی حکمت بیان کرتے ہوئے اللہ رب العزت نے فرمایا: شیطان تو چاہتا ہی ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعہ آپس میں دشمنی پیدا کردے، اللہ کی یاد اور نماز سے غافل کردے، تو کیا تم اب بھی باز نہیں آؤگے‘‘ (المائدہ:۹۱) آیات حرمت کے نزول کے بعد صحابۂ کرام نے شراب کے مٹکے تک پھوڑ دیئے جن کے ہاتھ میں شراب تھی اسے اسی حالت میں پھینک دیا، سیرت نگار لکھتے ہیں کہ شراب پانی کی طرح اس دن مدینہ کی گلیوں میں بہہ رہی تھی، عرصہ دراز تک اس کی بو گلیوں سے آتی رہی، اس کی حرمت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ شراب پینے کے ساتھ اس میں کسی طرح کا تعاون کرنا بھی حرام قرار دیا گیا، یعنی شراب نچوڑنا، شراب تیار کرنا، شراب اٹھانا، شراب پلانے کے لیے ساقی کو طلب کرنا اور اس کا اس کام میں لگنا، شراب کی خرید وفروخت، شراب کو اپنے پاس رکھنا اور اس کی قیمت سے غذا حاصل کرنا سب حرمت کے دائرے میں آگیے، ابن ماجی اور ابوداؤد شرف کی روایت ہے کہ اللہ نے لعنت بھیجی ہے شراب پر، شراب پینے والے پر، پلانے والے پر، خرید وفروخت کرنے والے، اس کو نچوڑنے والے اور بنانے والے پر، شراب کے اٹھانے والے اور اس شخص پر جس کے لیے اٹھاکر لائی جائے، بخاری ومسلم کی متفق روایت ہے کہ شراب پیتے وقت شرابی کا ایمان باقی نہیں رہتا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دسترخوان پر کھانے کے لیے بیٹھنے سے منع کیا جس دسترخوان پر شراب پی جارہی ہو، جو شخص شراب پیئے گااور توبہ کے بغیر مرجائے گا تو وہ جنت کے شراب سے محروم کردیا جائے گا، اتنا ہی نہیں اسے نہر الغوطہ سے پلایا جائے گا، یہ نہر جہنم میں زناکار عورتوں کی شرم گاہ سے جاری ہوگا، اور اس کی بدبو سخت تکلیف پہونچائے گی (مسند احمد، ابن ماجہ) اسے طینۃ الخیال بلایا جائے گا جو جہنمیوں کے پسینے کو کہتے ہیں (مسلم، نسائی) شرابی قیامت کے دن پیاسا اٹھایا جائے، اس کی چالیس دن کے کی نمازیں قبول نہیں ہوںگی، تاآںکہ وہ توبہ کرلے، امام بخاریؒ نے حضرت ابن عمرؓ کا یہ اثر نقل کیا ہے کہ شراب پینے والے کو سلام نہ کرو، اس کی عیادت نہ کرو، مرجائیں تو جنازہ میں شریک مت ہو۔
شراب نوشوں کے بارے میں اس قدر سخت احکام ہمیں بتاتے ہیں کہ کسی بھی حال میں اس کو ہاتھ نہیں لگانا چاہیے، کیوںکہ وقتی طورپر نشہ کی وجہ سے نشاط کی کیفیت محسوس ہوتی ہے، آدمی غم والم کو اس کے ذریعہ دور کرنا چاہتا ہے، لیکن یہ سب کچھ حقیقی نہیں وقتی ہوتا ہے، نشہ کا اثر کم ہوا اور پھر وہی پریشانی شرابی کو گھیر لیتی ہے، عقل، ذہن ودماغ سب مشتعل ہوجاتے ہیں، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سلب ہوجاتی ہے اور معاملہ قتل وغارت گری تک جاپہونچتا ہے، بیوی کو طلاق دینے کے واقعات کثرت سے نشہ کی وجہ سے ہی ہوتے ہیں، جسم پر جو مضر اثرات پڑتے ہیں، وہ اس کے علاوہ ہیں، دھیرے دھیرے اعضاء رئیسہ کام کرنا بند کردیتے ہیں، کیوںکہ وہ شراب نوشی کی وجہ سے خراب ہوجاتے ہیں، ہضم کے نظام پر اس کا بڑا اثر پڑتا ہے، کھانے کی خواہش کم ہوجاتی ہے، شکل وصورت پر اس کے اثرات پڑتے ہیں اور اچھے خاصے خوبرو انسان کا چہرہ بگڑ کر رہ جاتا ہے، بڑھاپے کے اثرات جلد ظاہر ہوتے ہیں اور انسان سینکڑوں بیماریوں کا شکار ہوکر موت کے منہ میں چلا جاتا ہے، یقینا موت وقت پر ہی آئے گی، لیکن شراب کی وجہ کر جو بیماریاں اس کو لاحق ہوںگی، اس سے اللہ پورے طورپر واقف ہے، اس لیے شراب نوشی کی وجہ سے ان کی مدت عمر کی تعیین بھی اللہ کے یہاں سے اسی انداز میں ہوجاتی ہے۔
سماجی طورپر بھی شراب پینے والے کو اچھا نہیں سمجھا جاتا، اس کے ساتھ شریف لوگ اٹھنا بیٹھنا پسند نہیں کرتے ہیں، جو زیادہ پی لیتا ہے، وہ بسا اوقات نالی میں گر کر پڑا رہتا ہے، ہوش اس قدر بھی نہیں ہوتا کہ محسوس کرسکے کہ کہاں گرا ہوا پڑا ہے، اس کے علاوہ شراب نوشی میں اپنی کمائی کا بیش تر حصہ گنوا دیتا ہے، اس کی وجہ سے گھر کا معاشی نظام برباد ہوکر رہ جاتا ہے، بھوک مری، فاقہ کشی، خانگی زندگی کی بربادی، جھگڑا، لڑائی معمولات زندگی بن جاتا ہے اور زندگی اجیرن بن کر رہ جاتی ہے، شراب پینے والا اپنے توبہ پر بھی عام طورسے قائم نہیں رہتا اور منظر وہ ہوتا ہے جو ایک شاعر نے کہا ہے ؎
جام میرا توبہ شکن توبہ میرا جام شکن
سامنے ڈھیر ہے ٹوٹے ہوئے پیمانوں کا
میں نے برطانیہ میں دیکھا ہے کہ انگریز سنیچر اور اتوار کو شراب خانوں میں پینے پلانے کے لیے جمع ہوتے ہیں، پیتے پیتے نرم گفتگو گرم گفتگو میں بدل جاتی ہے اور لڑائی شدید ہوتی ہے، جسم کا کبھی کبھی اسلحے کا استعمال بھی ہوتا ہے، جو مشہور مے خانے ہیں، ان کے سامنے حفظ ماتقدم کے طورپر پولیس اور ایمبولنس بھی موجود رہتی ہے تاکہ ضرب شدید کی شکل میں انہیں فوراً اسپتال منتقل کیا جائے۔
بعض دواؤں میں بھی الکحل کی مقدار پائی جاتی ہے، خصوصاً ہومیو پیتھ کی دوائیں جو سیال شکل میں ہوتی ہیں ان میں الکحل زیادہ پایا جاتا ہے، یقینا الکحل ملی دواؤں کے استعمال کی گنجائش ہے اور ہومیو پیتھ دواؤں کا استعمال کیا جاسکتا ہے، لیکن الکحل کے کم مقدار کے اثرات بھی جسم پر پڑ کر صحت کے لیے مضر بن جاتے ہیں، ایک بڑے عالم کو پیٹ میں سخت ترین تکلیف ہوئی، مقامی علاج سے فائیدہ نہیں ہوا تو اسپتال میں منتقل ہوئے، ڈاکٹر نے جانچ کے بعد بتایا کہ یہ بیماری آپ کے کیسے ہوگئی، یہ تو صرف شراب پینے والے کو ہوتی ہے، مولانا بہت پریشان ہوئے کہ ایسا کس طرح ہوا، اس ظالم کو تو کبھی ہاتھ بھی نہیں لگایا، سوچتے سوچتے انہوں نے ڈاکٹر کو بتایا کہ میں شروع سے ہومیو پیتھ کے ذریعہ علاج کرتا رہا ہوں اور مختلف امراض میں ہومیو پیتھک کی سیال دوائیں لیتا رہا ہوں، ڈاکٹر نے کہا کہ ہاں یہی وجہ ہوسکتی ہے، سیال دواؤں میں موجود الکحل نے دھیرے دھیرے کام کیا اور نوبت بایں جا رسید اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہومیو پیتھک دوائیں استعمال نہ کی جائیں، ضرورت کی جائیں، لیکن توازن اور اعتدال کی ساتھ جو شریعت میں بھی مطلوب ہے۔
شراب ہی والا حکم ان تمام چیزوں کے لیے ہے جو نشہ آور ہوتی ہیں، آج کل ہمارے جوانوں میں افیم، کوکنیں، ہیروئن، گانجہ، بھانگ وغیرہ کے استعمال کا عام مزاج بن گیا ہے، لوگ نشہ کی سوئیاں لیتے ہیں، ہیروئن کو لیکر ٹیڈ (سیال) بناکر اپنے جسم میں انجکٹ کرتے ہیں اور عادی ہوکر انجکشن نہ ملے تو بے ہوش ہوجاتے ہیں اور اس کے حصول کے لیے خون اور گردے وغیرہ بھی فروخت کردیتے ہیں، حالاںکہ انکا خون اور گردہ بھی مسموم ہوتا ہے، جو دوسرے مریض کو بھی بیمار کردیتا ہے، جب نشہ آور اشیاء نہیں ملتی ہیں تو کھانسی کی دوا کئی کئی شیشی پی جاتے ہیں، جس سے ان پر نشہ کی کیفیت طاری ہوتی ہے، سرکار نے اسی لیے کھانسی کی کئی دواؤں کی فروخت پر پابندی لگا رہی ہے، ڈاکٹروں کے نسخے کے بغیر انہیں خریدا نہیں جاسکتا، لیکن مانتا نہ خریدنے ولا ہے اور نہ بیچنے والا۔
بہار کی نتیش کمار حکومت نے شراب پر سخت پابندی لگا رکھی ہے، پینے، پلانے، لانے، لے جانے اور گھر پر کھنا قابل تعزیر جرم ہے، لیکن جب سے نتیش کمار نے بی جے پی کے ساتھ حکومت بنائی ہے اس میں کافی نرمی آئی ہے اور اب خبر ہے کہ سیاحتی مراکز پر اسے فروخت کی اجازت ہوگی، پہلے بھی چوری چھپے بک ہی رہا تھا، اب تھوڑی اجازت ہوگی تو اس کا بڑا فائیدہ لوگ اٹھائیںگے اور شاید دھیرے دھیرے حکومت کی بھی یہی منشاء بن جائے، کیوںکہ این ڈی اے کی حلیف پارٹیاں شراب اور نشہ بندی کے حق میں نہیں ہیں، نتیش کو اگر وزیر اعلیٰ رہنا ہے تو انہیں ان کی سننی پڑے گی اور وہ سن بھی رہے ہیں۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے