कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

شخصیت پرستی کے مضر اثرات

تحریر :مولانا ذاکر محمدی ،پربھنی
بذریعہ ، ضلع نامہ نگار اعتبار نیوز محمد سرور شریف

الحمد للہ رب العالمین۔ تمام تر بڑھاٸ اور تعریف اللہ کے لیے ہے۔ جس نے اس خوبصورت کاٸینات کی تخلیق کی۔ اور پھر انسان کو خوبصورتی کے ساتھ پیدا کیا۔ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔جو کسی شخص سے اللہ کے لیے محبت اور اللہ کے لیے نفرت کی ۔ اور اللہ کے لیے کچھ دیا اور اللہ کے لیے ر وکا تو اس نے اپنا ایمان مکمل کیا۔ لیکن انسان مال پرستی اور شخصیت پرستی کو زیادہ prefrence تر جیح دیتا ہے ۔ جو ایک سنگین جرم ہے۔ ہم کسی کو اتنا زیادہ importance اہمیت دیتے ہیں کہ پھر اس کے علاوہ اور ہمارے پاس کسی کی اہمیت اور قدر و منزلت کا فقدان ہوتاہے ۔ شخصیت پرستی اور اور کسی کی چاہت میں غلو کرنا ایک مضر اور ضرر رساں مرض۔ بلکہ یہ idol worship بت پرستی سے بھی زیادہ خطر ناک ہوتا ہے۔ بت کو دیکھنے کے لیے آنکھیں نہیں ہوتی سماعت کے لیے کان نہیں ہوتے اور دل و دماغ نہیں ہوتے کہ وہ ان کو سن سکے دیکھ سکے اور سمجھ سکے۔ لیکن جب انسان کسی کے علم وفضل مال و دولت جاہ و جلال کو دیکھ کر یا اس سے متاثر ہوکر اسقدر دیوانہ اور مجنوں بن جاتا ہے۔ اور کے علم و فضل کو بالاے طاق رکھ کر اتنی شخصیت پرستی کرتا ہے کہ پھر اچھے اچھے اللہ والوں کے دلوں میں شیطان یہ گھر کر لیتا ہے کہ تو بڑاہے تو ہی افضل ہے۔ اور باقی سب تجھ سے کم اور ناقابل ہیں۔ کیونکہ جب یہ ego اور خود نماٸ کا مرض دل و دماغ پر جب چھا جاتا ہے تو اس سب کو اپنے سے ادنی و کمتر سمجھنے لگتا ہے۔ کیونکہ انسان کو دماغ ہوتا ہے جس سے وہ سمجھتا ہے۔ آنکھیں ہوتی ہیں جس سے وہ دیکھ کر خوش ہوتا ہے۔ دل ہوتا ہے جس وہ سوچ اور سمجھ سکتا ہے۔ اور اپنے آپ کو بڑا سمجھنے لگتا ہے۔ اور یہی شخصیت پرستی idol worship۔غیراللہ کی پرستش سے زیادہ خطر ناک ہے۔ جس طرح اللہ شرک کو ناقابل معاف فرماتا ہے ، اسی طرح depersonalization شخصیت پرستی اور اس میں مبالغہ آراٸ کو بھی ایک جرم عظیم کہتا ہے۔ اور فرعون نے بھی یہی عمل کیا تھا کہ میں بڑا ہوں اور میں ہی خدا ہوں۔ کیونکہ اس کے دور اقتدار اور سلطنت میں رعایا نے اسکی پہلے شخصیت پرستی کی جس کے وجہ سے اس نے یہ سوچا کہ میں بادشاہ ہوں میں حاکم ہوں اور نعوذ باللہ اس نے اپنے آپ کو خداٸ کا بھی دعوی کرڈالا اور کہا انا ربکم الاعلی کہ میں ہی تمہارا رب ہوں۔ یہی شخصیت پرستی سے بعض جگہوں پرایسے معاملات بھی سامنے آے ہیں کہ اہل علم بھی حضرت مہدی کا دعوی یا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنا خاص عوام الناس کے لیے مبلغ یا ناصح بنا کر بھیجے ہیں ۔ وقت کے پیغمبر موسی علیہ السلام کو جب اللہ نے کہا اے موسی جا اور کاٸینات میں ایسی کو ٸ چیز تلاش کرو جو تم سے حقیر و فقیر ہو۔ موسی علیہ السلام نے کاٸنات میں تلاش بسیار کے بعد الل ہ سے کہا ۔ اے اللہ پوری کاٸینات میں مجھ سے حقیر اور فقیر کسی کو بھی نہیں پایا۔ سب اپنی اپنی جگہ اہمیت کے حامل ہیں۔ اللہ نے کہا اے موسی اگر تم کسی ایک بھی کمتر یا ادنی پیش کرتے تو میں تمہیں نبوت سے کبھی سرفراز نہ کرتا۔ لیکن ہمارا یہ حال ہے کہ ہم کسی کو حقیر اور ادنی ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں۔ اور کسی کو اتنا زیادہ محبوب بناتے ہیں کہ دوسروں کی کوٸ اہمیت ہی نہ ہو۔ لیکن یہ بات الگ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ۔ کیا میں تمہیں ایسے لوگو جو صالحین ہیں جن کو دیکھکر اللہ یاد آجاے۔ اولیاء صالحین خالص دینی شخصیات سے اور عام لوگوں سے بلاشبہ محبت و الفت رکھنا چاہیے ۔ اور یہ ہمارا شعار اسلام بھی ہے۔ اور انسان خود سراپا انسیت اور محبت سے تخلیق پایا ہے۔ لیکن آج ہم جب کسی سے اتنی محبت کرتے ہیں کہ ایک دوسرے کا موازنہ کرتے ہیں۔ اللہ نے ہر چیز کی ایک حد اور اصول رکھے ہیں۔ جس کوحد میں رہکر کرنا از حد ضروری ہے۔ خیرالامور اوسطہا ۔ جو کام اعتدال اور حدوں میں رہکر کیا جاتا ہے اس کو خیر امور سے تعبیر کیا گیا ہے۔ وضو میں اگر کوٸ شخص کہنیوں تک دھونے کے بجاے اپنے کندھے یا بازو تک دھوتا ہے۔ تین نا کلی کرنے کے بجاے کٸ کلیاں کرتا ہے ۔ مسح ایک ار کرنے کے بجاے دو بار یا تین بار کرتا ہے۔ یہ اصول اور خلاف اور پانی کا بیجا اصراف ہے ۔ اور اصباغ فی الوضو ہے۔ اسی طرح کسی سے حد سے زیادہ محبت شخصیت پرستی کے مترادف ہے۔

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے