कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

شب برات کی شرعی حیثیت اور امت مسلمہ کا عملی رویہ

تحریر:محمد عادل ارریاوی

محترم قارئین اللہ ربّ العزت نے اپنی رحمت سے ہمیں کچھ ایسی راتیں عطا فرمائی ہیں جن میں بندہ خاص طور پر اپنے رب کی طرف متوجہ ہو سکتا ہے شعبان کی پندرہویں رات بھی ایسی ہی ایک عظیم رات ہے مگر افسوس کہ اس کے بارے میں لوگ یا تو اس کی فضیلت کا انکار کرتے ہیں یا پھر اس میں حد سے تجاوز کر جاتے ہیں۔
شعبان کا پورا مہینہ بابرکت اور فضیلت والا ہونے کے ساتھ ساتھ شعبان کی پندرہویں رات خصوصیت کے ساتھ بہت فضیلت والی رات ہے عام بول چال میں آج کل شعبان کی پندرہویں رات کو شب برات کہتے ہیں۔ شب کے معنی فارسی میں رات کے ہیں اور برات عربی کا لفظ ہے جس کے معنی بری ہونے اور نجات پانے کے ہیں چونکہ اس رات میں رحمت الہی کے طفیل لا تعداد انسان جہنم سے نجات پاتے ہیں اس لئے اس رات کو شب برات کہتے ہیں۔ شعبان کی یہ پندرہویں رات چودہ تاریخ کو سورج غروب ہونے کے بعد شروع ہوتی ہے کیونکہ چاند کی تاریخوں میں عام قاعدہ کے مطابق رات پہلے آتی ہے اور دن بعد میں یعنی رات کی تاریخ اگلے دن کے اعتبار سے اور اس کے تابع شمار ہوتی ہے۔ آج کل کیونکہ اس رات اور اس سے متعلق احکام کے بارے میں بہت زیادہ افراط و تفریط پائی جارہی ہے ایک گروہ وہ ہے جو کہ سرے سے اس رات کی فضیلت ہی کا قائل نہیں اور اس کا دعوٰی یہ ہے کہ شب برات کی فضیلت کے بارے میں جو احادیث و روایات آئی ہیں وہ سب کی سب یا تو موضوع و من گھڑت ہیں یا شدید قسم کی ضعیف ہیں حالانکہ یہ دعویٰ صحیح نہیں۔ دوسرا گروہ وہ ہے جو شب برات کو ہی سب کچھ سمجھے ہوئے ہے اس کے نزدیک شعبان کی پندرہویں رات (یعنی شب برات) کی اہمیت شب قدر سے بھی زیادہ ہے اور اس نے صرف شعبان کی پندرہویں رات میں جاگ لینے اور عبادت کر لینے کو ہی دنیا اور آخرت کی کامیابی اور نجات کا ذریعہ خیال کر رکھا ہے اور شریعت کے دوسرے ضروری درجہ کے احکام کو نظر انداز کر رکھا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ شریعت کے دوسرے احکام میں نہ حلال و حرام کی فکر ہے اور نہ فرائض اور واجبات کا اہتمام ہے نہ حقوق اللہ کی فکر ہے اور نہ حقوق العباد کی۔
احادیث شریف میں اس مبارک رات کی بہت سے فضائل وارد ہوئے ہیں اور اسلاف امت بھی اس کی فضیلت کے قائل چلے آرہے ہیں اس کو شب برات کہتے ہیں اس لیے کہ اس رات لا تعداد انسان رحمت باری تعالیٰ سے جہنم سے نجات حاصل کرتے ہیں شب برات کے متعلق لوگ افراط و تفریط کا شکار ہیں جبکہ بعض لوگ فضیلت کے قائل تو ہیں لیکن اس فضیلت کے حصول میں بے شمار بدعات رسومات اور خود ساختہ امور کے مرتکب ہیں عبادت کے نام پر ایسے منکرات سر انجام دیتے ہیں کہ الامان و الحفیظ اس بارے میں معتدل نظریہ یہ ہے کہ شعبان کی اس رات کی فضیلت ثابت ہے لیکن اس کا درجہ فرض و واجب کا نہیں بلکہ محض استحباب کا ہے سرے سے اس کی فضیلت کا انکار کرنا بھی صحیح نہیں اور اس میں کیے جانے والے اعمال و عبادات کو فرائض و واجبات کا درجہ دینا بھی درست نہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب شعبان کی پندرہویں شب ہو تو اس رات میں قیام کرو اور اس دن روزہ رکھو اس لئے کہ اللہ ربّ العزت غروب آفتاب کے وقت سے آسمان دنیا پر اعلان فرماتے ہیں کیا کوئی ہے مغفرت طلب کرنے والا کہ میں اس کی مغفرت کروں؟ کیا کوئی ہے رزق کو تلاش کرنے والا کہ میں اسے رزق عطا کروں ؟ کیا کوئی مصیبت کا مارا ہے کہ میں اس کی مصیبت دور کروں ؟ کیا کوئی ایسا ہے ؟ حتی کہ صبح صادق کا وقت ہو جاتا ہے (سنن ابن ماجہ) اس رات عشاء اور فجر کی نمازیں وقت پر باجماعت ادا کریں اپنی ہمت اور توفیق کے مطابق نفل نمازیں خاص کر نماز تہجد ادا کریں انفرادی طور پر صلاة التسبیح پڑھیں قرآن کریم کی تلاوت کریں کثرت سے اللہ کا ذکر کریں اللہ ربّ العزت سے خوب دعائیں مانگیں دنیا و آخرت کی بھلائیاں مانگیں خاص کر اپنے گناہوں کی مغفرت چاہیں اس رات قبرستان جائیں اپنے اور میت کے لئے دعائے مغفرت کریں۔
شعبان کی پندرہویں رات میں شریعت کی جانب سے عبادت کا کوئی خاص طریقہ اور عبادت کی کوئی خاص قسم مقرر نہیں ہے۔ بعض لوگ اس رات میں خاص قسم کی عبادت کو اس رات کے لئے مخصوص سمجھتے ہیں مثلاً بعض لوگوں نے مخصوص تعداد میں مخصوص طریقہ پر نفلیں پڑھنے کو مقصود یا ضروری سمجھا ہوا ہے اور بعض لوگ اس رات میں باجماعت نفل نمازیں پڑھتے ہیں یہ سب چیزیں غلط ہیں اور نفل کی جماعت کرنا تو ویسے بھی منع ہے اسی طرح اس رات کی عبادت کے بارے میں ایک اہم بات یہ ہے کہ تنہائی میں اخلاص کے ساتھ جتنی توفیق ہو عبادت کی جائے کیونکہ اس رات کی عبادت فرض نمازوں کی طرح اجتماعی انداز کی نہیں ہے بلکہ انفرادی اور خلوت والی ہے۔
اے اللہ ربّ العزت ہم پر اپنی خاص رحمت نازل فرما ہمارے صغیرہ و کبیرہ گناہوں کو معاف فرما ہمارے ظاہر و باطن کی اصلاح فرما ہمیں جہنم سے نجات اور جنت الفردوس عطا فرما ہمارے والدین اساتذہ اور تمام مرحومین کی مغفرت فرما اور ہمیں اپنی رضا والے اعمال کی توفیق عطا فرما آمین یا رب العالمین۔

 

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے