कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

شب برأت کی فضیلت:اس رات میں کیا کیا عمل ثابت ہیں ، حدیث کی روشنی میں؟

تحریر:رضی اللہ قاسمی خیرآبادی

محترم قارئین!
شعبان کی پندرہویں شب”شب برأت“کہلاتی ہے۔یعنی وہ رات جس میں مخلوق کوگناہوں سے بری کردیا جاتاہے۔
اس رات کی بہت سی فضیلتیں ہیں
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ” شعبان کی پندرہویں شب کومیں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کواپنی آرام گاہ پر‌موجود‌نہ پایا توتلاش کرنے کے لئے نکلی، دیکھاکہ آپ جنت البقیع قبرستان میں مردوں کے لئے ایصال ثواب فرمارہے ہیں، مجھے دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ آج شعبان کی پندرہویں رات ہے ،اس رات میں اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پرنزول فرماتاہے اورقبیلہ بنو کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے بھی زیادہ گنہگاروں کی بخشش فرماتاہے۔
اسی طرح ایک روایت میں ہے کہ” اس رات میں تمام مخلوق کی مغفرت کردی جاتی ہے سوائے سات افراد کے ،وہ سات افراد یہ ہیں:(١) مشرک، (٢)والدین کانافرمان،(٣) کینہ پرور، (٤) شرابی، (٥) قاتل، (٦) اپنے ٹخنوں کو بند کرنے والا، خواہ پائجانہ سے بند ہو یا پینٹ سے یا شلوار سے ،یعنی اتنی لمبی شلوار پہننا جو ٹخنوں کو بند کردے۔(٧) چغل خور۔
ان سات افرادکی اس عظیم رات میں بھی مغفرت نہیں ہوتی جب تک کہ یہ اپنے جرائم اور گناہوں سے توبہ نہ کرلیں۔
اس لئے ہم سب اپنی زندگیوں پر غور کریں کہ کہیں میرا نام بھی تو ان سات افراد میں نہیں ہے۔ ورنہ مغفرت سے محرومی کا سبب ہوگا۔
اللہ تعالی ہم سب کو ان سات جرائم سے بچنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔آمین۔
شب برأت کی فضیلت کا اندازہ اس حدیث سے بھی لگایا جاسکتا ھے کہ
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ایک روایت منقول ہے کہ اس رات میں عبادت کیاکرو اوردن میں روزہ رکھاکرو،اس رات میں سورج غروب ہوتے ہی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی طرف متوجہ ہوتاہے اوراعلان فرماتا ہے :کون ہے جوگناہوں کی بخشش کروائے؟
کون ہے جورزق میں وسعت طلب کرے؟
کون ہے مصیبت زدہ ہے جومصیبت سے چھٹکارا‌حاصل کرنا چاہتاہو؟
یہ ندا صبح صادق تک ہوتی رہتی ہے،
اس لئے اس رات کو خرافات سے بچائیں ، اور خوب عبادت میں منہمک رہیں۔
اس رات میں مسلمانوں کو کیا کرنا چاہئے؟
احادیث کریمہ ،صحابہ کرام ؓاوربزرگانِ دینؒ کے عمل سے اس رات میں تین کام ثابت ہیں:
(١) قبرستان جاکر مردوں کے لئے ایصالِ ثواب اور مغفرت کی دعا کی جائے۔لیکن یادرہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ساری حیاتِ مبارکہ میں صرف ایک مرتبہ شب برأت میں جنت البقیع جانا ثابت ہے۔اس لئے اگرکوئی شخص زندگی میں ایک مرتبہ بھی اتباع سنت کی نیت سے چلاجائے تو اجرو ثواب کا مستحق اور متبع سنت میں شامل ہوجائے گا۔لیکن پھول پتیاں، چادرچڑھانا،اور چراغاں کااہتمام کرنا ،اگر بتی اور موم بتی لے کر جانا اورہر سال جانے کو لازم سمجھنا،اس کو شب برأت کے ارکان میں داخل کرنا یہ ٹھیک نہیں ہے۔جو چیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جس درجے میں ثابت ہے اس کواسی درجہ میں رکھنا چاہئے اسی کانام اتباع سنت اوردین ہے۔
(٢)۔اس رات میں نوافل،تلاوت،ذکرو اذکارکااہتمام کرنا۔اس بارے میں یہ واضح رہے کہ نفل ایک ایسی عبادت ہے جس میں تنہائی مطلوب ہے یہ خلوت کی عبادت ہے، اس کے ذریعہ انسان اللہ کا قرب حاصل کرتاہے۔لہذا نوافل وغیرہ تنہائی میں اپنے گھر‌میں ادا کرکے اس موقع کو غنیمت جانیں۔نوافل کی جماعت اورمخصوص طریقہ اپنانادرست نہیں ہے۔یہ فضیلت والی راتیں شوروشغب اورمیلے،اجتماع منعقدکرنے کی راتیں نہیں ہیں،بلکہ گوشۂ تنہائی میں بیٹھ کراللہ سے تعلقات استوارکرنے کے قیمتی لمحات ہیں ان کو ضائع ہونے سے بچائیں۔
(۳) اگلے دن یعنی 15 شعبان کو دن میں روزہ رکھنا بھی مستحب ہے،
ان تین کاموں کا ثبوت ملتا ہے ۔
باقی اس رات میں پٹاخے دگانا،آتش بازی کرنا اور حلوے کی رسم کااہتمام کرنا یہ سب خرافات اوراسراف میں شامل ہیں۔شیطان ان فضولیات میں انسان کو مشغول کرکے اللہ کی مغفرت اورعبادت سے محروم کردینا چاہتاہے اوریہی شیطان کااصل مقصد ہے۔
اس لئے ہم سب اس رات کی فضیلت سے محروم نہ ہوں ، خوب عبادت کریں ۔
اللہ تعالی ہم سب کو اس رات میں خوب عبادت کی توفیق عطافرمائے اٰمین ۔

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے