कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

سیکولر اور جہاد کا سچ — انہیں کیوں گوارا نہیں؟

تحریر: ڈاکٹر سید تابش امام
رابطہ۔۔۔۔9934933992

لفظ محض صوتی ارتعاشات نہیں؛ یہ انسانی شعور کا تاریخی خزانہ ہیں۔ ہر لفظ اپنے اندر کسی قوم کی فکری مسافت، کسی تہذیب کی روحانی دھنک، اور کسی دور کے فکری ارتقا کا گواہ ہوتا ہے۔ لفظ انسانی تجربہ کا آئینہ ہیں، اور جب کوئی قوت ان کے مفہوم سے کھیلتی ہے تو وہ دراصل قوم کی فکری سلامتی پر حملہ آور ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لفظوں سے چھیڑ چھاڑ زبان کی بےحرمتی نہیں بلکہ ذہن و ضمیر کی بغاوت کے مترادف ہے۔
ہندوستان کے موجودہ حالات میں یہ عمل کسی اتفاقی واقعہ کا نتیجہ نہیں۔ گزشتہ چند دہائیوں میں فسطائی سیاست نے بڑی ہوشیاری کے ساتھ کچھ ایسے الفاظ کو ہدف بنایا ہے جو انسانیت، مساوات، اور آزادی کی علامت تھے—اور ان میں سب سے نمایاں یہ دو الفاظ ہیں: “سیکولر” اور “جہاد”۔ان دونوں اصطلاحات کے ساتھ ایسا برتاؤ کیا گیا جیسے ان کے تلفظ سے ہی اقتدار کی بنیادیں لرز اٹھتی ہیں۔ دراصل یہ خوف لفظوں سے نہیں، بلکہ اس شعور سے ہے جو یہ لفظ زندہ کرتے ہیں۔ وہ شعور جو انسان کو مساوات سکھاتا ہے، ظلم کے خلاف کھڑا ہونے کا حوصلہ دیتا ہے، اور طاقت کو اخلاقی بندش میں باندھتا ہے۔
فسطائیت کا پہلا ہتھیار — معنی کی چوری :
تاریخ گواہ ہے کہ ہر آمرانہ قوت سب سے پہلے مفہوم پر قبضہ جمانے کی کوشش کرتی ہے۔ وہ لفظوں کی روح کو چُرا لیتی ہے، ان کے معنوں میں زہر گھول دیتی ہے، اور عوام کے ذہن میں ایسی لغوی فضا قائم کر دیتی ہے جہاں حق اور باطل کی تمیز ہی دھندلا جائے۔ یہی فسطائیت کا قدیم ترین حربہ ہے۔اسی سازش کے تحت “سیکولرزم”—جو برابری، انصاف، اور ضمیر کی آزادی کا منشور تھا—آہستہ آہستہ تحقیر اور طنز کا موضوع بنا دیا گیا۔ "سیکولر” کہلانا اب کسی قدر جرم سمجھا جا رہا ہے، گویا یہ کوئی سیاسی بدعت ہو۔اسی طرح “جہاد”—جو درحقیقت اخلاقی، روحانی، اور سماجی اصلاح کا استعارہ تھا—کو منظم طور پر شدت پسندی، دہشت اور خونریزی سے جوڑ دیا گیا۔یہ محض لفظوں کا قتل نہیں بلکہ اجتماعی عقل کا قتل ہے۔ کیونکہ جب کوئی معاشرہ اپنے الفاظ سے بدگمان ہو جائے تو وہ اپنی فکری خودمختاری کھو بیٹھتا ہے۔ وہ دوسروں کے بیانیہ کو سچ ماننے لگتا ہے، اور یہی وہ لمحہ ہے جہاں فسطائیت اپنی جڑیں گاڑتی ہے۔
سیکولرزم — ریاست کی غیر جانب داری، مذہب کی نہیں :
ںسیکولرزم کوئی مذہب دشمن نظریہ نہیں بلکہ ریاست کے اخلاقی کردار کی تعریف ہے۔ اس کا مقصد مذہب کو دبانا نہیں بلکہ ہر مذہب کے پیروکار کو برابری کا حق دینا ہے۔یہ نظریہ یورپ میں اس وقت ظہور میں آیا جب صدیوں تک کلیسا نے اقتدار پر قبضہ جما رکھا تھا۔ مذہب سیاسی طاقت کا آلہ بن چکا تھا، اور انسان کی آزادی کلیسائی فیصلوں کے تابع تھی۔ اسی غلامی کے ردعمل میں سیکولرزم کا نعرہ اٹھا—کہ ریاست خدا کی نمائندہ نہیں، انسان کی محافظ ہے۔ہندوستان کی تحریکِ آزادی نے اس تصور کو دل سے قبول کیا۔ گاندھی نے مذہبی ہم آہنگی کا پیغام دیا، نہرو نے تکثیری ثقافت کی بنیاد رکھی، اور مولانا آزاد نے قوم کی فکری بنیادوں میں مذہبی رواداری کو شامل کیا۔ ان سب کا اتفاق تھا کہ ایک نیا ہندوستان اس وقت تک مضبوط نہیں ہو سکتا جب تک ریاست پوری طرح غیر جانب دار نہ ہو۔سیکولرزم کے بنیادی اصول صاف ہیں:ریاست نہ مذہب سے رعایت دے، نہ مذہب کی بنیاد پر نفرت پھیلائے۔ہر شہری کو اپنی عبادت، عقیدے اور طرزِ زندگی کا حق حاصل ہو۔قانون سب کے لیے یکساں ہو، چاہے وہ مسجد جائے یا مندر۔لیکن فسطائیت کو یہی بات گوارا نہیں۔ اس کی بقا کی بنیاد ہی تعصب پر ہے۔ اگر ریاست واقعی سیکولر ہو گئی تو نفرت کی یہ تجارت بند ہو جائے گی۔ اسی لیے آج “سیکولر” لفظ کو مشکوک بنا دیا گیا ہے تاکہ مساوات ہی جرم لگنے لگے۔
جہاد — ظلم و جبر کے خلاف اخلاقی انکار:
فسطائی بیانیہ جب “جہاد” سنتا ہے تو اسے خطرہ محسوس ہوتا ہے۔ میڈیا کے خاص گروہ اس لفظ کو دہشت گردی کے مترادف دکھانے میں مصروف ہیں۔ لیکن قرآن و سنت کی روشنی میں "جہاد” سب سے پہلے فکری اور اخلاقی جدوجہد کا نام ہے۔جہاد کا مفہوم چند نکات میں بیان کیا جا سکتا ہے:جھوٹ کے مقابل سچ بولنے کی ہمت۔ظلم اور جبر کے خلاف عدل کے قیام کی کوشش۔نفس کی خواہشات پر قابو پانے کی تربیت۔جہالت کے اندھیروں میں علم کی شمع جلانا۔اور سب سے عظیم جہاد — قلم کا جہاد، یعنی سچ لکھنے کا حوصلہ۔جہاد کا عسکری مفہوم بالکل آخری درجہ ہے، وہ بھی صرف دفاع کے موقع پر اور سخت اخلاقی حدود کے ساتھ۔فسطائی طاقتیں جانتی ہیں کہ اگر عوام کو جہاد کی یہ اصل حقیقت سمجھ آ جائے، تو ان کے خوف پر مبنی بیانیہ کی دیواریں منہدم ہو جائیں گی۔ کیونکہ جہاد دراصل غلامی کے خلاف بیداری کا نام ہے — اور بیدار انسان کسی ظالم کو اقتدار میں نہیں رہنے دیتا۔
باشعور شہری — فسطائیت کی سب سے بڑی کمزوری :
فسطائیت کا سب سے بڑا دشمن ہے باشعور انسان۔ وہ شہری جو سوال کرتا ہے، دلیل مانگتا ہے، جذباتی نعروں کے بجائے فکری بنیاد پر بات کرتا ہے۔ایک سیکولر شہری مساوات اور انصاف کا داعی ہوتا ہے، اور ایک مجاہد شہری ظلم کے آگے جھکنے سے انکار کرتا ہے۔ جب یہ دونوں قوتیں یعنی عدل اور شعور ایک ساتھ کھڑی ہو جائیں، تو فسطائیت کے لیے زمین تنگ ہو جاتی ہے۔اسی لیے حکمران طبقہ کوشش کرتا ہے کہ عوام یا تو مذہب کے نام پر تقسیم ہو جائیں، یا پھر “جہاد” جیسے اعلیٰ نظریات سے بدظن ہو جائیں۔ مقصد ہے شعور کو مفلوج رکھنا تاکہ سوال پوچھنے کی جرات ہی ختم ہو جائے
سیکولرزم کا "جرم” — مساوات کا اعلان :
اگر غور کیا جائے تو سیکولرزم کا سب سے بڑا جرم یہی ہے کہ اس نے کہا:سب برابر ہیں۔وہ کہتا ہے:مندر بھی محفوظ ہو، مسجد بھی۔پوجا کی گھنٹی بھی بجے، اذان کی صدا بھی گونجے۔دلت کی عزت بھی محفوظ ہو، برہمن کی وقار بھی سلامت۔رہے۔ریاست کسی کو نفرت کی رعایت نہ دے، کسی شناخت کو سزا نہ دے۔یہی عمل ان طاقتوں کے لیے ناقابلِ برداشت ہے جو مذہب کو اپنے سیاسی مفاد کا آلہ بنائے ہوئے ہیں۔ اس لیے “سیکولرزم” کو پرانی سیاست، یا مغربی سازش قرار دے کر عوام کے ذہن میں شک کے بیج بوئے جا رہے ہیں۔
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ سیکولرزم سیاست نہیں، بلکہ انسانی تہذیب کی جائے پناہ ہے۔
جہاد کی بازیافت — قلم، تعلیم، اور شعور:
جہاد کی اصل روح کو زندہ کرنے کی سب سے بڑی ذمہ داری اب قلم اور صحافت پر ہے۔ جب صحافی خوف کے باوجود سچ لکھتا ہے، تو یہی جہاد ہے۔ جب طالب علم حق کے لیے سوال کرتا ہے، تو یہی جہاد ہے۔ جب استاد جھوٹے بیانیے کے خلاف علم بانٹتا ہے، تو وہ جہاد کر رہا ہوتا ہے۔یہی فکری جہاد ہے جو سماج کو زندہ رکھتا ہے، اور ظلم کے ایوانوں میں لرزہ طاری کرتا ہے۔اسی طرح تعلیم بھی فسطائیت کی مستقل دشمن ہے، کیونکہ تعلیم انسان کو آزاد ذہن عطا کرتی ہے۔ تعلیم یافتہ انسان پوچھتا ہے:“ریاست میرا مذہب کیسے طے کر سکتی ہے؟”
“کیا ظلم کے خلاف کھڑا ہونا جرم ہے؟”جب یہ سوال زندہ رہتے ہیں تو فسطائیت مردہ ہو جاتی ہے، کیونکہ قوتِ علم ہمیشہ ضمیر کی روشنی میں فیصلہ کرتی ہے، طاقت کے زور پر نہیں۔
اصل جنگ زبان کی نہیں، شعور کی ہےمسئلہ یہ نہیں کہ “سیکولر” اور “جہاد” کے الفاظ زبان سے مٹ جائیں گے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم ان الفاظ کی روح محفوظ رکھ پائیں گے؟ کیا آئندہ نسلیں سمجھ پائیں گی کہ یہ دونوں لفظ انسانی وقار کے محافظ ہیں؟اگر ہم انہیں نفرت کے شور سے نکالنے میں کامیاب ہو گئے، تو دراصل ہم اپنی فکری آزادی کو بچا لیں گے۔ کیونکہ جب ایک سماج اپنے لفظ واپس لے لیتا ہے، تو فسطائیت کی ہر جادوگری ٹوٹ جاتی ہے۔
آزاد لفظ، آزاد ذہن:
تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ طاقت لفظ کی روح کو ہمیشہ قید نہیں رکھ سکتی۔ لفظ اپنی اصل شناخت واپس لے لیتے ہیں۔ اور جب لفظ آزاد ہوتے ہیں، تو ذہن آزاد ہوتا ہے — اور یہی آزادی فسطائیت کی سب سے بڑی شکست ہے۔“سیکولر” انسانیت کی باہمی حرمت کا استعارہ ہے،
اور “جہاد” ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کی اخلاقی جرات کا۔یہ دونوں لفظ انسانیت کی امید ہیں —
اور امید کبھی غلام نہیں ہوتی۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے