कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

سکھوں کی طرح کیا مسلمان متحد نہیں ہوسکتے؟

تحریر: عارف عزیز (بھوپال)

یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ہندوستان کے مسلمان مختلف اعتبار سے بٹے ہوئے ہیں اور اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ ان اختلافات کو اگر یکسر ختم کرنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے لیکن کلمہ واحدہ ایسا ذریعہ ہے جس نے انہیں باہم مربوط کر رکھا ہے اور انہیں ایک دوسرے سے جوڑے رکھا ہے، لہٰذا اس پس منظر میں ان کی سوچ اگر تھوڑی سی اور مثبت ہوجائے اور وہ ملی انا اور ملی مفاد کو ذاتی و گروہی مفادات پر ترجیح دینے کا فیصلہ کر لیں اور اس پر پوری سنجیدگی کے ساتھ عمل بھی کریں تو وہ اپنے بہت سے مسائل اور مصائب سے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ کوئی ہوائی باتیں نہیں ہیں خود ہندوستان کے طول و عرض میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔ بس ضرورت اس بات کی ہے کہ دیکھنے والی آنکھیں، محسوس کرنے والا دل اور عمل کرنے والا جذبہ چاہیے۔ سکھ فرقہ کے لوگوں کو دیکھئے، مسلمانوں کی طرح ان کے یہاں بھی بہت سے مسلک ہیں اور سیاسی اختلافات اور گروہ بندیوں کی ان کے یہاں بھی کوئی کمی نہیں ہے لیکن جب سوال اجتماعی مفاد اور اس کے لئے مشترکہ جد و جہد کا اٹھتا ہے تو پھر وہ سب کے سب ایک ہوجاتے ہیں اور تمام سیاسی مسلکی اور گروہی اختلافات کو پس پشت ڈالنے میں ایک لمحے کی بھی دیر نہیں کرتے۔ سکھ کش فسادات کی تین تین بار عدالتی تحقیقات ہوئی۔ اس کے بعد کروڑوں روپے نقد کی صورت میں بطور معاوضے ادا کئے گئے۔ باز آبادکاری کے منصوبے اور پھر ڈاکٹر من موہن سنگھ کا دس برس تک ملک کا وزیر اعظم بن جانا یہ سارے واقعات مضبو سکھ اتحاد کا ہی نتیجہ ہیں۔ صرف دو فیصد کی سکھ آبادی کے اتحاد نے وہ کرشمہ کر دکھایا جو بے نظیر بھی ہے اور حیرت انگیز بھی۔ اس ضمن میں دل چسپ بات یہ بھی ہے کہ اس سکھ اتحاد کے لئے ملک کے طول و عرض میں نہ کہیں ورک شاپ منعقد ہوا اور نہ کانفرنسیں کی گئیں اور نہ بار بار مظاہرے ہوئے اور نہ نعرے لگے، نہ ارباب اقتدار کو بار بار عرض داشتیں پیش کی گئیں۔ صرف ان کے لئے لیڈروں نے دو چار بار ارباب اقتدار و اختیار سے ملاقاتیں ضرور کیں، ان کے سامنے سلیقے کے ساتھ اپنے مطالبات رکھے اور پھر چلے آئے۔ ارباب اقتدار نے بھی ہوا کا رخ محسوس کیا اور نبض پہچان لی اور پھر ان کا کام ہوگیا۔ صرف اس لئے کہ مشترکہ مقاصد کے معاملے میں ان کے اندر فکر کا بھی اتحاد تھا اور عمل کا بھی۔
اور تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ ملک کی مجموعی آبادی کا بیس فیصد ہونے کے باوجود ہندوستان کے مسلمان کسمپرسی کے حالات سے گزر رہے ہیں۔ چھوٹے بڑے خانوں میں بٹے ہوئے ہیں، کانفرنسیں اور کنونشن بلاتے ہیں مگر سب کچھ لاحاصل رہتا ہے۔ ان اجتماعات میں جو قراردادیں منظور ہوتی ہیں وہ بھی بے اثر رہتی ہیں، اس لئے کہ کانفرنس منعقد کرنے والے اور قرار دادیں منظور کرنے والے متحد نہیں ہوتے۔ وہ عزائم تو رکھتے ہیں مگر ان کو بروئے کار لانے کا جذبہ ان کے اندر بالعموم مفقود ہے۔ اگر کوئی مثبت فکر ہے بھی تو ان کے عمل سے ہم آہنگ نہیں ہے۔
مسلمانوں کی توانائیاں کہاں خرچ ہوتی ہیں؟ صرف جماعت سازی اور تنظیم سازی پر یا پھر اپنی اپنی سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے پر۔ اس روش کا نتیجہ ان کی صفوں میں انتشار کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ مگر بڑے افسوس کا مقام ہے کہ یہ تبدیلیاں ملی مفاد کی خاطر نہیں ہوتی ہیں بلکہ صرف ذاتی اور گروہی مفاد کے لئے۔ نتیجہ یہ ہے کہ وہ کسی بھی پارٹی میں کوئی باوقار اور مضبوط مقام نہیں بنا سکے۔ پارٹیاں انہیں استعمال کرتی ہیں اور پھر نظر انداز کر دیتی ہیں۔ بہر حال اس میں کچھ استثنا بھی ہیں اور اس زمرے میں جو لوگ آتے ہیں وہ یقینا وقار کی زندگی گزارتے ہیں۔ پتہ نہیں کہ ہم مسلمانوں کو کب ہوش آئے گا، ہم زمانے کے نشیب و فراز کو کب سمجھیں گے اور ہمارے اندر ملت کو فرد اور گروہ پر ترجیح دینے کا جذبہ کب پیدا ہوگا؟ ہندوستان میں سینکڑوں طبقے اور فرقے ہیں لیکن اختلافات مذہب، زبان، علاقہ، رسم رواج، تہذیب و ثقافت کے باوجود وہ ہندوستانی کے نام موسوم ہیں۔ کثرت میں وحدت کی یہ ایک بہترین مثال ہے۔ کیا ہم مسلمان بھی اپنے بہترے اختلافات کے باوجود اسی کثرت میں وحدت کا عملاً مظاہرہ نہیں کر سکتے، خاص کر ان معاملات میں جو مشترکہ نوعیت کے ہیں اور جن سے پوری ۲۰ کروڑ والی ملت کا اسلامی تشخص، ان کا اقتصادی تعلیمی اور سماجی مفاد وابستہ ہے۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے