कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

سپریم کورٹ نے بلڈوزر کی کارروائی کو غیر آئینی قرار دے دیا

جمعیۃ علما ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کا بیان

نئی دہلی، 13 نومبر:بدھ کو سپریم کورٹ میں بلڈوزر کارروائی کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ اس دوران بلڈوزر جسٹس پر فیصلہ سنا دیا۔ کہا کہ یہ غیر آئینی ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ قانون کی حکمرانی اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کی جائیداد بغیر کسی وجہ کے نہیں چھینی جا سکتی۔ سپریم کورٹ نے ملزمان کے خلاف بلڈوزر کی کارروائی کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیا ہے۔ اس کے ساتھ عدالت نے بلڈوزر ایکشن کے حوالے سے گائیڈ لائنز بھی مقرر کی ہیں۔ جس میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر ہدایات کی خلاف ورزی کی گئی تو متعلقہ اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ گھر سب کا خواب ہے اور اس خواب کو ٹوٹنا نہیں چاہیے۔ رہائش کا حق ہر ایک کا بنیادی حق ہے۔ بلڈوزر کارروائی سے پہلے نوٹس دیا جائے۔ اس کے بعد ہی مزید کارروائی کی جائے۔ عدالت نے کہا کہ نوٹس کے 15 دن کے اندر کوئی کارروائی نہ کی جائے۔ اس دوران متعلقہ فریق کو اپنا کیس پیش کرنے کا مناسب موقع دیا جائے۔ عدالت نے کہا کہ مقررہ طریقہ کار پر عمل کیے بغیر بلڈوزر کی کارروائی کی گئی تو متعلقہ حکام سے ہرجانہ بھی وصول کیا جائے گا۔ جسٹس بی آر گاوائی اور کے وی وشواناتھن کی بنچ نے کہا کہ کسی بھی ملزم کے گھر کو اس بنیاد پر نہیں گرایا جا سکتا کہ متعلقہ شخص مجرمانہ پس منظر سے ہے۔ ایسا اقدام سراسر غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔سپریم کورٹ نے کہا، ”اگر کسی کی جائیداد کو محض اس لیے منہدم کیا جا رہا ہے کہ اس کا مجرمانہ پس منظر ہے، تو یہ مکمل طور پر غیر آئینی ہے۔ ایگزیکٹو فیصلہ نہیں کر سکتا کہ قصوروار کون ہے۔ وہ جج بن کر فیصلہ نہیں کر سکتا کہ کس کو سزا دی جائے۔کس کو اس کی ضرورت ہے اور کس کو نہیں؟ ’’اس طرح کی کارروائی لکشمن ریکھا کو مکمل طور پر عبور کرنے کے مترادف ہے جسے کسی بھی قیمت پر قبول نہیں کیا جاسکتا‘‘۔ سپریم کورٹ نے کہا، ’’ایگزیکٹیو کی طرف سے اس طرح کی کارروائی قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کے مترادف ہے، جو کسی بھی لحاظ سے جائز نہیں ہے۔‘‘ بلڈوزر کارروائی سے متعلق دائر درخواست کی سماعت کرتے ہوئے، سپریم کورٹ نے کہا، "اگر ایگزیکٹو محض الزام کی بنیاد پر کسی شخص کے گھر کو گرا دیتا ہے، تو یہ یقینی طور پر قانون کے اصول پر بڑا حملہ ہوگا۔ ایگزیکٹو جج نہیں ہے جو کسی بھی شخص کی جائیداد گرانے کا فیصلہ دے سکے۔ سپریم کورٹ نے کہا، ’’بلڈوزنگ کی کارروائی ملزم یا مجرم کے اہل خانہ کو اجتماعی سزا دینے کے مترادف ہے اور جب کسی کی جائیداد کو منتخب بنیادوں پر منہدم کیا جاتا ہے، تو یہ بددیانتی دکھائی دیتی ہے۔‘‘ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ انہدام کی کارروائی وجہ بتائے بغیر نہیں کی جانی چاہئے۔
سرکار اور پولس انتظامیہ عدالت بننے سے باز رہے۔ ملوث افسران جوابدہ ہوں گے اور ان سے مکان کا معاوضہ بھی لیا جائے گا۔ بلڈوزر کارروائی پر سپریم کو رٹ کا فیصلہ
نئی دہلی: 13 نومبر:مقدمے کے اولین عرضی گزار جمعیت علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے فیصلے کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ یہ انصاف کا خون کرنے والوں کے لیے درس عبرت ہے۔ جمعی کے وکیلوں کو کامیابی پر مبارکباد دی۔
بلڈوزر انصاف” کی چل پڑی انصاف کش روایت کے خلاف سخت پیغام دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے آج یہ فیصلہ سنایا کہ سرکار یا انتظامیہ کسی بھی شخص کے گھر کو صرف اس بنیاد پر نہیں گرا سکتی کہ وہ کسی جرم کا ملزم یا سزا یافتہ ہے، نیز اس سے ایک شخص نہیں بلکہ پورا گھر متاثر ہوتاہے۔
یہ فیصلہ جمعی علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کی طرف سے دائر کردہ عرضی نمبر 295/2022 پر سماعت کرتے ہوئے سنایا گیا۔ سپریم کورٹ نے جمعی کے سینئر وکیل ایم آر شمشاد اور دیگر وکیلوں کا بھی شکریہ ادا کیا جنھوں نے گائیڈ لائن بنانے میں عدالت کی مدد کی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اس طرح کی کارروائی کی اجازت دینا قانون کی حکمرانی کی توہین اور اختیارات کی تقسیم کے اصول کی خلاف ورزی بھی ہے، کیونکہ کسی شخص کے قصوروار ہونے کا فیصلہ کرنا عدلیہ کا کام ہے۔انتظامیہ کسی شخص کو مجرم قرار نہیں دے سکتی۔ محض الزام کی بنیاد پر اگر انتظامیہ کسی شخص کی املاک کو مسمار کرتی ہے تو یہ قانون کی حکمرانی کو کمزور کرے گا۔ جب حکام بنیادی اصولِ انصاف پر عمل کرنے میں ناکام ہوں اور مناسب قانونی کارروائی کے بغیر کسی کا گھر گرادیا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہیکہ طاقت کا استعمال ہی سب کچھ ہے۔ ایسی سخت گیر اور غیر منصفانہ کارروائیاں آئینی جمہوریت میں ناقابلِ قبول ہیں۔ ایسی کارروائیوں کو سخت قانونی ردعمل کا سامنا کرنا چاہیے۔ ہمارے آئین میں ایسے عمل کی اجازت نہیں ہے…”۔
عدالت نے یہ بھی فیصلہ دیا کہ جو سرکاری افسران اس انداز میں املاک کو مسمار کرتے ہیں، انہیں جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔نیز اگر افسران قصور وار پائے گئے تو پراپرٹی کا معاوضہ بھی افسران سے لیا جائے گا۔ عدالت نے مزید کہا کہ ایسی کارروائیاں مجرم یا ملزم کے خاندان پر "اجتماعی سزا” مسلط کرنے کے مترادف ہیں۔واضح ہو کہ اس معاملے میں فیصلے کا اعلان یکم اکتوبر کو محفوظ کر لیا گیا تھا اور بنچ نے صاف لفظوں میں کہا تھا کہ سزا یافتہ شخص کے گھر کے خلاف بھی بلڈوزر کارروائی نہیں کی جا سکتی، کجا کہ کسی ایسے شخص کے گھر کے خلاف جس پر محض الزام ہو۔جب کیس کی سماعت ہو رہی تھی تو عدالت نے ملک بھر کے لیے ہدایات جاری کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا جو سب پر یکساں لاگو ہوں، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ غیر قانونی تعمیرات کو مسمار کرنے کے لیے مقامی قوانین کا غلط استعمال نہ ہو۔
جمعیۃ علما ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کا بیان
جمعیۃعلماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے "بلڈوزر انصاف” کے خلاف فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے قانون کی حکمرانی اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ انصاف کا خون کرنے والوں کو منہ توڑ جواب ملاہے۔ انھوں نے کہا، "یہ فیصلہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ کسی بھی فرد کے قصوروار ہونے کا فیصلہ عدالت کا اختیار ہے نہ کہ انتظامیہ کا۔ سرکاری ادارے اور افسران جو عدالت بن کر لوگوں کی املاک کو منہدم کر رہے تھے، انہیں یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ ایسے غیر قانونی اقدامات ناقابل قبول ہیں، مولانا مدنی نے کہا کہ بلڈوزر جسٹس کے مکروہ عمل سے حکومتوں کے دامن بھی صاف نہیں ہیں ، امید ہے کہ حکومتیں اس فیصلے سے نصیحت حاصل کرے گی۔”
مولانا مدنی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ان تمام افراد کو معاوضہ دیا جائے جن کی املاک بغیر مناسب قانونی عمل کے منہدم کی گئی ہیں۔انھوں نے کہا کہ آئین ہر شہری کے بنیادی حقوق کی حفاظت کرتا ہیاور ان کے خلاف کسی بھی غیر آئینی اقدام کو روکا جانا ضروری ہے۔ جمعیۃعلماء ہند نے ہمیشہ اصول انصاف اور آئینی حقوق کی حفاظت کے لیے آواز بلند کی ہیاور اس فیصلے کے بعد ہمارا عزم مزید مضبوط ہوا ہے کہ ہم اس مقصد کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔اس موقع پر مولانا محمود اسعد مدنی نے جمعیۃکے سبھی وکیلوں اور دیگر عرضی گزاروں کو مبارکباد دی جن کی جد و جہد سے انصاف کا چراغ جلا ہے۔
عدالت کی طرف سے "بلڈوزر انصاف” کی کارروائی کے لیے ہدایات
(۱) پراپرٹی کے منہدم کرنے سے قبل متعلقہ اتھارٹی کی جانب سے تفصیلی معائنہ رپورٹ تیار کی جانی چاہیے(۲) انہدام کی کارروائی کو ویڈیوگرافی کے ذریعے محفوظ کیا جائے (۳) انہدام کی رپورٹ میں پولیس اور سول افسران کی فہرست شامل ہو جو اس کارروائی میں شریک ہوں گے (۴) یہ رپورٹ میونسپل کمشنر کو بھیجی جائے اور ڈیجیٹل پورٹل پر عام کی جائے۔
اگر ان ہدایات کی خلاف ورزی کی گئی تو (۱) عدالت کی توہین کی کارروائی اور قانونی مقدمات شروع کیے جائیں گے (۲) عدالت کے احکامات کی خلاف ورزی کی گئی تو انہدامی کارروائی کے لیے ذمہ دار افسران کو ذاتی خرچ پر مسمار شدہ جائیداد کی بحالی اور نقصانات کی ادائیگی کے لیے جوابدہ ٹھہرایا جائے گا (۳) تمام ریاستوں اور یونین ٹیریٹریز کے چیف سیکریٹریز اور تمام ہائی کورٹس کے رجسٹرار جنرلز کو بھیجنے کی ہدایت کی گئی (۴) تمام ریاستی حکومتوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ اپنے متعلقہ حکام کو فیصلے سے آگاہ کرنے کے لیے سرکلر جاری کریں (۵) عدالت نے سینئر وکلاء کی تجاویز اور معاونت کو سراہا، جن میں شامل ہیں ڈاکٹر ابھیشیک منو سنگھوی، سی یو سنگھ، ایم آر شمشاد، سنجے ہیگڑے، نتیا راما کرشنن، پرشانت بھوشن، محمد نظام پاشا، فوزیہ شیخ، رشمی سنگھ وغیرہ۔سینئر وکیل ناچیکیتا جوشی کی تجاویز مرتب کرنے میں معاونت کرنے پر بھی تعریف کی گئی۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے