कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

سپرپاور صرف اللہ،اسرائیل امریکاکی مسلط کردہ بلاجوازجنگ اور منصبِ رہبری کا تاریخی تسلسل

تحریر:آغا سفیرحسین کاظمی

جب کوئی قوم یہ اعلان کر دے کہ وہ اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتی تو پھر اسے دبانا آسان نہیں رہتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ خوف میں جکڑی ہوئی قومیں ہمیشہ طاقتوروں کے سامنے جھک جاتی ہیں، مگر جو قوم اپنے عقیدے اور اصولوں پر کھڑی ہو جائے، اسے دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت بھی مکمل طور پر زیر نہیں کر سکتی۔ آج کے دور میں دنیا کے نقشے پر درجنوں اسلامی ممالک موجود ہیں جن کی زبانیں، ثقافتیں اور مسالک مختلف ہیں۔ ان اختلافات کے باوجود ایک حقیقت ایسی ہے جس سے انکار مشکل ہے کہ عالمی سیاست میں اگر کسی ریاست نے کھل کر اپنی خودمختاری اور استقلال کا اعلان کیا اور بڑے عالمی دبا¶ کے باوجود جھکنے سے انکار کیا تو وہ ایران ہے۔
یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ مسلمانوں کے درمیان مسلکی اختلافات پائے جاتے ہیں اور ان اختلافات کی وجہ سے فکری زاویے بھی مختلف ہو سکتے ہیں۔ تاہم ظلم کے خلاف کھڑا ہونا کسی ایک مسلک یا مکتبِ فکر کی میراث نہیں۔ اسلام کی تاریخ اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ حق کے لیے قیام اور باطل کے سامنے ڈٹ جانا مسلمانوں کی مشترکہ تعلیم ہے۔ یہی پیغام ہمیں 17 رمضان کی جنگِ بدر سے بھی ملتا ہے اور یہی سبق ہمیں کربلا کے واقعے میں بھی نظر آتا ہے۔ کربلا کا پیغام صرف ایک گروہ یا ایک فرقے تک محدود نہیں بلکہ یہ پوری انسانیت کے لیے ایک ابدی درس ہے۔ حضرت امام حسینؑ اس مزاحمت اور استقامت کی علامت ہیں جو ہر اس انسان کو حوصلہ دیتی ہے جو ظلم کے سامنے سر جھکانے سے انکار کرتا ہے۔
اسی تناظر میں جب ہم کسی قوم کو اصولوں پر ڈٹے ہوئے دیکھتے ہیں تو اختلاف کے باوجود اس کی استقامت انسان کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ مزاحمت کی یہ روح دراصل عقیدے، یقین اور قیادت کے امتزاج سے جنم لیتی ہے۔ جب کسی معاشرے میں قیادت لوگوں کو خوف سے آزاد کر دیتی ہے اور انہیں اپنے اصولوں پر قائم رہنے کا حوصلہ دیتی ہے تو پھر وہ قوم بڑی سے بڑی آزمائش میں بھی اپنے راستے سے نہیں ہٹتی۔
ایرانی قوم اور ان کی قیادت نے گزشتہ دہائیوں میں دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ حضرت علیؑ کا نام لینا آسان ہے مگر ان کے عدل، حوصلے اور استقلال کو زندہ رکھنا اصل امتحان ہے۔ تاریخ کے صفحات صرف طاقتوروں کے نام محفوظ نہیں رکھتے بلکہ وہ ان لوگوں کو بھی یاد رکھتے ہیں جنہوں نے مشکل حالات میں اصولوں پر سمجھوتہ کرنے سے انکار کیا۔ بظاہر مختصر نظر آنے والی زندگیاں بھی اگر سچائی اور اصولوں پر گزری ہوں تو وہ صدیوں تک اثر چھوڑ جاتی ہیں۔
شہادت ہو یا جدوجہد، اگر اس کے پیچھے حق پر یقین اور اصولوں کی پاسداری ہو تو وہ صرف ایک واقعہ نہیں رہتی بلکہ تاریخ کا حصہ بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بدر اور کربلا جیسے واقعات آج بھی انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑتے ہیں اور یہ یاد دلاتے ہیں کہ طاقت کا اصل سرچشمہ اسلحہ یا دولت نہیں بلکہ ایمان، یقین اور استقامت ہے۔ تاریخ ہمیشہ ان لوگوں کے نام یاد رکھتی ہے جو ثابت قدم رہتے ہیں، کیونکہ وقت گزر جاتا ہے مگر اصولوں پر قائم رہنے والوں کی داستانیں آنے والی نسلوں کے لیے چراغِ راہ بن جاتی ہیں۔
اسلامی جمہوریہ ایران کا سیاسی و دینی نظام ایک منفرد نظریاتی بنیاد پر قائم ہے جس کی اساس ولایتِ فقیہ کے اصول پر رکھی گئی ہے۔ اس نظام میں سب سے اعلیٰ منصب رہبرِ انقلاب یا سپریم لیڈر کا ہوتا ہے جو ریاستی، دفاعی، نظریاتی اور دینی معاملات میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ایران میں یہ منصب کسی موروثی بادشاہت کی طرح نہیں بلکہ ایک باقاعدہ آئینی اور مذہبی طریقہ کار کے ذریعے منتخب کیا جاتا ہے جس کی ذمہ داری مجلس خبرگانِ رہبری کے پاس ہوتی ہے۔
1979 میں جب ایران میں انقلابِ اسلامی برپا ہوا تو اس انقلاب کی قیادت عظیم دینی رہنما امام روح اللہ خمینیؒ نے کی۔ عظیم اسلامی انقلاب ایران کے بعد ایران میں ایسا نظام قائم کیا گیا جس میں اعلیٰ ترین قیادت کا انتخاب ایک آئینی اور دینی طریقہ کار کے تحت ہوتا ہے۔ اس نظام کی بنیاد یہ ہے کہ امت کی رہنمائی ایسے شخص کے ہاتھ میں ہو جو دین کا گہرا علم رکھتا ہو، سیاسی حالات کو سمجھتا ہو اور تقویٰ و عدالت کی صفات کا حامل ہو۔ نئے اسلامی نظام میں ولایتِ فقیہ کو ریاستی ڈھانچے کا مرکزی ستون قرار دیا گیا۔ امام خمینیؒ کو انقلاب کا بانی اور پہلا رہبرِ انقلاب تسلیم کیا گیا جنہوں نے نہ صرف ایران کے سیاسی نظام کو ازسرِ نو ترتیب دیا کہ اسلامی نظامِ حکومت میں قیادت محض اقتدار کا نام نہیں بلکہ ایک عظیم ذمہ داری اور امانت ہے۔بلکہ عالمی سطح پر استکبار کے خلاف مزاحمت کی ایک نئی فکر کو بھی جنم دیا۔
ایران کے آئین کے مطابق رہبرِ اسلامی کا انتخاب براہِ راست عوام نہیں کرتے بلکہ ایک منتخب آئینی ادارہ مجلس خبرگانِ رہبری کرتا ہے۔ اس مجلس کے ارکان کو عوام ووٹ کے ذریعے منتخب کرتے ہیں۔ یہ علماءاور فقہاءپر مشتمل ایک ایسا ادارہ ہے جس کی بنیادی ذمہ داری رہبر کا انتخاب اور اس کی کارکردگی کی نگرانی کرنا ہے۔ اگر کسی مرحلے پر رہبر اپنے فرائض انجام دینے کے قابل نہ رہے تو یہی مجلس آئینی طریقے سے نیا رہبر منتخب کرنے کی مجاز ہوتی ہے۔
1989 میں امام خمینیؒ کے انتقال کے بعد ایران کی مجلس خبرگانِ رہبری نے متفقہ طور پر آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کو رہبرِ انقلاب منتخب کیا۔ اس انتخاب نے اس بات کو ثابت کیا کہ ایران میں قیادت کا تسلسل ایک منظم آئینی عمل کے ذریعے جاری رہتا ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای نے گزشتہ کئی دہائیوں تک ایران کی قیادت کرتے ہوئے اسلامی انقلاب کے اصولوں، قومی استقلال اور خطے میں مزاحمتی پالیسی کو مضبوط رکھا۔
ایران کے آئین کے مطابق جب بھی منصبِ رہبری خالی ہوتا ہے تو مجلس خبرگانِ رہبری نئے رہبر کے انتخاب کی ذمہ داری ادا کرتی ہے۔ یہ مجلس ملک کے منتخب دینی و فکری ماہرین پر مشتمل ہوتی ہے جو اس بات کا جائزہ لیتی ہے کہ کون سی شخصیت فقاہت، تقویٰ، بصیرت، سیاسی شعور اور قیادت کی صلاحیتوں کے معیار پر پورا اترتی ہے۔
اسی تسلسل میں حالیہ مرحلے پر آیت اللہ العظمیٰ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کے منصبِ رہبری پر تقرر کو اسلامی جمہوریہ ایران کی سیاسی و نظریاتی تاریخ کا ایک اہم باب قرار دیا جا رہا ہے۔ اس فیصلے کو نہ صرف ایران کے اندر استحکام اور قیادت کے تسلسل کی علامت سمجھا جا رہا ہے بلکہ اسے ان عالمی قوتوں کے لیے بھی واضح پیغام قرار دیا جا رہا ہے جو ایران کے اندرونی نظام کو کمزور کرنے یا خطے میں رجیم چینج کے خواب دیکھتی رہی ہیں۔
رہبرِ اسلامی کی ذمہ داریاں بھی انتہائی وسیع ہیں۔ وہ ملک کی مسلح افواج کے سپریم کمانڈر ہوتے ہیں، اہم ریاستی پالیسیوں کی نگرانی کرتے ہیں اور عدلیہ سمیت کئی اہم عہدوں کی تقرری کا اختیار رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے اس منصب کو ایران کے نظام میں سب سے بااثر اور اہم مقام حاصل ہے۔یہی وجہ ہے کہ رہبرِ اسلامی کے لیے چند بنیادی شرائط رکھی گئی ہیں جن میں اسلامی فقہ میں مہارت، تقویٰ، عدل، سیاسی و سماجی بصیرت اور قیادت کی صلاحیت شامل ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ ریاست کی اعلیٰ ترین قیادت ایسے فرد کے پاس ہو جو نہ صرف دینی اعتبار سے مضبوط ہو بلکہ عالمی اور علاقائی سیاست کی پیچیدگیوں کو بھی سمجھتا ہو۔ موجودہ وقت میں ایران پراسرائیلی، امریکی جارحیت کے ساتھ ہی رہبرمعظم کی دی گئی دفاعی حکمت عملی نے یہودونصاریٰ کو سبق دیا ہے۔ دوسری جانب سیاسی و مذہبی حلقوں کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران میں رہبری کا ادارہ صرف ایک سیاسی منصب نہیں بلکہ ایک نظریاتی اور دینی ذمہ داری بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس منصب پر فائز ہونے والی شخصیت سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ فقاہت، انقلابی فکر، امتِ مسلمہ کے مسائل کا ادراک اور عالمی سیاسی حالات کی گہری سمجھ رکھتی ہو۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران میں قیادت کے اس تسلسل نے انقلابِ اسلامی کے بنیادی نظریات کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کا نظام گزشتہ کئی دہائیوں کے شدید عالمی دبا¶، اقتصادی پابندیوں اور سیاسی چیلنجز کے باوجود قائم اور فعال ہے۔
امریکا اور اسرائیل کی پالیسیوں کے تناظر میں جب ایران کی قیادت کا ذکر آتا ہے تو اکثر یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ آخر کیوں امریکہ نے دبا¶ اور پابندیوں کا رخ ایران کے رہبر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی طرف موڑا۔ دراصل ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور اسرائیل کی نظر میں ایران کی مزاحمتی پالیسیوں کا اصل مرکز وہ قیادت ہے جو خطے میں امریکی اثر و رسوخ اور اسرائیلی حکمت عملی کو چیلنج کرتی ہے۔ اسی لیے ایران کے اعلیٰ ترین منصب، یعنی رہبرِ انقلاب، کو سیاسی و سفارتی دبا¶ کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایران کی پالیسیوں میں مزاحمت، خودمختاری اور خطے میں مغربی بالادستی کی مخالفت کا تصور اسلامی انقلاب ایران کے بعد سے ریاستی فکر کا حصہ بن چکا ہے۔ موجودہ قیادت کے دور میں یہ پالیسی مزید واضح اور مضبوط ہوئی، جس کے باعث امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو یہ احساس ہوا کہ اگر ایران کی پالیسیوں کو تبدیل کرنا ہے تو اس کی نظریاتی اور سیاسی قیادت کو دبا¶ میں لانا ضروری ہے۔
اسی تناظر میں امریکہ نے مختلف ادوار میں پابندیاں عائد کیں اور سیاسی دبا¶ بڑھایا، جسے اسرائیل کی خواہشات اور خطے میں اس کی سکیورٹی حکمت عملی سے بھی جوڑا جاتا ہے۔ اسرائیل طویل عرصے سے ایران کو اپنے لیے سب سے بڑا علاقائی چیلنج قرار دیتا رہا ہے، لہٰذا وہ عالمی سطح پر ایران کی قیادت کے خلاف سخت اقدامات کی حمایت کرتا ہے۔
تاہم ایران کے سیاسی نظام میں رہبر کا منصب محض ایک فرد کی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ ایک ادارہ جاتی اور نظریاتی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی لیے دبا¶ اور پابندیوں کے باوجود ایران کی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلی لانا آسان نہیں رہا۔ یہی وجہ ہے کہ خطے کی سیاست میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی مسلسل ایک اہم موضوع بنی ہوئی ہے۔

اور جاری کشیدگی یا ممکنہ جنگی صورتحال کے تناظر میں بھی ایران کی اعلیٰ قیادت خاص طور پر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو عالمی سیاست میں ایک مرکزی کردار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، ایران اور اسرائیل کے درمیان شدید بیانات اور خطے میں مختلف محاذوں پر جاری تنا¶ نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ اس تناظر میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ بھی اپنے اتحادیوں کی حمایت میں سرگرم نظر آتا ہے، جس کی وجہ سے خطے کی سیاست مسلسل دبا¶ اور غیر یقینی کیفیت کا شکار ہے۔
موجودہ حالات میں ایران کی قیادت کا م¶قف یہ رہا ہے کہ اگر اس کی سلامتی یا مفادات کو خطرہ لاحق ہوا تو وہ بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کی پالیسیوں، بیانات اور حکمت عملی پر عالمی میڈیا اور سفارتی حلقوں کی گہری نظر ہے۔ دوسری طرف اسرائیل ایران کے اثر و رسوخ کو خطے میں اپنے لیے سب سے بڑا چیلنج سمجھتا ہے، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان سیاسی اور عسکری تنا¶ وقتاً فوقتاً شدت اختیار کرتا رہتا ہے۔
اسی جاری کشمکش نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک ایسے مرحلے پر لا کھڑا کیا ہے جہاں کسی بھی چھوٹے واقعے کے بڑے علاقائی بحران میں تبدیل ہونے کا خدشہ موجود رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی طاقتیں اور علاقائی ممالک سفارتی کوششوں کے ذریعے اس کشیدگی کو کم کرنے کی بات کرتے ہیں، تاہم زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان یہ تنازع صرف ایک وقتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک طویل المدتی سیاسی و تزویراتی کشمکش کی صورت اختیار کر چکا ہے۔
ایسے نازک حالات میں رہبرِ انقلاب آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے اس تاریخی م¶قف مدنظررہنا چاہیے جس میں انہوں نے واضح کیا تھا کہ اصل اہمیت کسی ایک ملک یا حکومت کی نہیں بلکہ اسلام کی ہے۔ ان کے بقول اگر کبھی ایسا وقت آئے کہ ایران اور اسلام میں سے کسی ایک کو بچانے کا سوال ہو تو ترجیح اسلام کو دی جانی چاہیے، کیونکہ ریاستیں بدلتی رہتی ہیں مگر دینِ اسلام ایک ابدی حقیقت ہے۔
یہی فکر دراصل اسلامی انقلاب ایران کے بنیادی فلسفے کی بھی عکاسی کرتی ہے، جس میں قومیت سے بڑھ کر امت اور اسلامی اقدار کو اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس نقط نظر کا مقصد یہ پیغام دینا تھا کہ جدوجہد کسی جغرافیے کے لیے نہیں بلکہ اسلام کے اصولوں، عدل اور حق کے قیام کے لیے ہے۔
یہ حقیقت بھی اپنی جگہ قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی منظرنامے میں ایران وہ ریاست دکھائی دیتی ہے جس پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی روایتی حکمتِ عملیاں مکمل طور پر کارگر ثابت نہیں ہو سکیں۔ سیاسی دبا¶، اقتصادی پابندیاں، سفارتی تنہائی اور مسلسل دھمکیوں کے باوجود ایران نے اپنے بنیادی م¶قف اور خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ یہ ریاست طویل عرصے سے اسلام دشمن قوتوں کی آنکھوں میں کھٹکتی رہی ہے۔ دوسری طرف یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ بہت سے مسلم ممالک بڑی طاقتوں کی خوشنودی حاصل کرنے کی سیاست میں اس قدر الجھ چکے ہیں کہ ان کی خارجہ پالیسیوں میں خودمختاری کم اور مصلحت زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ نتیجتاً بعض اوقات وہ ایسی پوزیشن میں نظر آتے ہیں جہاں ایک ناجائز قابض ریاست، یعنی اسرائیل، کے سامنے ان کی حیثیت کمزور یا محض ایک سیاسی مہرے کی سی محسوس ہوتی ہے۔ یہی تضاد آج کی عالمی سیاست میں امتِ مسلمہ کے لیے ایک اہم سوال بھی بن چکا ہے کہ خودمختاری، اصول اور قومی وقار کو کس حد تک برقرار رکھا جا سکتا ہے۔
اور پھر حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ تقریباً سینتالیس برسوں کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ مسلسل پابندیوں، سیاسی دبا¶، سفارتی تنہائی اور عسکری دھمکیوں کے باوجود اس ریاست نے اپنے بنیادی م¶قف اور خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ بڑی عالمی طاقتوں کے سامنے جھک جانا بہت سی حکومتوں کے لیے آسان راستہ ہوتا ہے، مگر ایران نے بارہا یہ پیغام دیا ہے کہ اصولوں اور استقلال کی حفاظت کے لیے مشکلات برداشت کرنا بھی قبول ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مزاحمت اور استقامت کی یہ مثال صرف سیاسی واقعہ نہیں بلکہ ایک ایسی تاریخی حقیقت بن چکی ہے جس نے دنیا کی سیاست میں ایک منفرد مثال قائم کی ہے۔ چنانچہ نئے رہبرِ معظم کے انتخاب کو اسی تاریخی تسلسل کی ایک نئی کڑی قرار دیا جا رہا ہے جس سے توقع کی جا رہی ہے کہ ایران نہ صرف داخلی طور پر مزید مستحکم ہوگا بلکہ عالمِ اسلام میں مزاحمت، استقلال اور نظریاتی خودمختاری کی علامت کے طور پر اپنا کردار جاری رکھے گا۔بلکہ مستقبل کا تقاضا یہی ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران عرب ممالک سمیت خطے کے تمام مسلم ممالک کے ساتھ موجود غلط فہمیوں اور بدگمانیوں کو ختم کرنے کے لیے آگے بڑھے۔ ماضی میں بعض ریاستوں کو یہ خدشہ رہا ہے کہ کہیں ایران کے نظریاتی اثرات ان کے داخلی سیاسی نظام یا اقتدار کے لیے خطرہ نہ بن جائیں، مگر اگر یہ ممالک باہمی اعتماد اور مکالمے کے ذریعے اپنے تحفظات کو دور کریں تو امتِ مسلمہ کے لیے ایک نئی راہ کھل سکتی ہے۔ ایسی صورت میں نہ صرف اسرائیل کی وہ حکمتِ عملی ناکام ہو سکتی ہے جس کے تحت فلسطینیوں کی سرزمین ان ہی پر تنگ کی جا رہی ہے، بلکہ قبلہ? اول مسجدِ اقصیٰ کو پنج? یہود سے آزاد کروانے کا خواب بھی حقیقت کا روپ دھار سکتا ہے۔ جس دن عالمِ اسلام اس مشترکہ مقصد پر متحد ہو گیا، اس دن عالمی سیاست میں مسلم اُمہ کا وقار، خودداری اور اجتماعی قوت ایک ناقابلِ نظرانداز حقیقت بن جائے گی۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ایران کے سرکاری میڈیا کی جانب سے یہ خبر سامنے آئی ہے کہ بعض اہم علاقائی ممالک کو اس ممکنہ صورتحال سے آگاہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سعودی عرب سمیت چند دیگر ریاستوں کو بتایا گیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے ایک خطرناک حکمتِ عملی پر غور کیا جا رہا ہے۔ یہ اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ چونکہ امام خمینیؒ کے دور سے ہر سال ماہِ رمضان کے آخری جمعة المبارک کو یومِ القدس کے طور پر منانے کی روایت جاری ہے جس کا بنیادی مقصد فلسطینیوں کی حمایت اور قبلہ? اول مسجدِ اقصیٰ کی آزادی کے لیے عالمی سطح پر آواز بلند کرنا ہے، اس لیے اس مرتبہ اسرائیل عین اسی موقع پر مسجدِ اقصیٰ میں کسی فالس فلیگ آپریشن کی کوشش کر سکتا ہے۔ مبصرین کے مطابق ایسی کسی کارروائی کا مقصد اس کا الزام ایران پر عائد کر کے خطے کے مسلم ممالک کے درمیان بداعتمادی اور انتشار پیدا کرنا اور ساتھ ہی ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو محدود کرنا ہو سکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے