कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

سونے کی چمک سے مسلک و محبت کو خطرہ

(طنز و مزاح)
ذکی نور عظیم ندوی۔ لکھنؤ

سونا آگ میں تپ کر خالص ہوتا ہے لیکن اس سال سونا خود نہیں تپا، بلکہ اس نے سب کو تپا دیا۔ سال گزشتہ فروری کی انہی تاریخوں میں سونے کی قیمت 80,000(اسی ہزار روپے) فی دس گرام تھی اور زندگی بہت حد تک متوازن اورگھروں میں سکون تھا۔ اس سال جب وہی دس گرام 1,60,00(ایک لاکھ ساٹھ ہزار )کی بلندی پر جا پہونچا تو صرف اس کادام ہی نہیں بڑھا، بلکہ وہ گھریلو سکون و اعتماد سے آٹکرایا اور ان گھرانوںکو پچھتاوا ہونے لگا جنھوں نے جہیز کی لالچ میں مالدار گھرانوں میں رشتے کئے تھے۔ اور دلہنیں صرف جہیز ہی نہیں بلکہ باری بھرکم زیورات کے ساتھ سسرال آئیں اور اس کی شان میں اضافہ اور گھر کی رونق میں اضافہ کیا تھا۔ مگر اب اسی گھرمیں اچانک فکر مندی اور تشویش کا ماحول بننے اورگفتگو کا درجہ حرارت چڑھنے لگا ،گھریلو خرچ کے ساتھ زکات کی ادائیگی کا مسئلہ سیدھا گھریلو ماحول کوتلخ کرگیا۔ جو زیورات پہلے خوشی کی علامت اور الماری کی زینت تھے اب کیلکولیٹر کے حساب و کتاب کے پیچ میں الجھنے لگے،جو ہار گلے کی زینت اور کنگن کلائی میں کھنکتے تھے، ، اب حساب و کتاب اورترازو پر آکر کھٹکنے لگے۔ سونے کی چمک نے چہرے پر دمک کے بجائے پیشانیوں کے شکن زیادہ بڑھادئے۔
ہندوستانی معاشرے میں سونا صرف دھات نہیں بلکہ خاندانی مقام و مرتبہ اور عزت و وقار کی علامت ہے۔ شادی کے صندوق میں رکھے سیٹ صرف زیور نہیں ، خاندان کی آبرو، بچی سے محبت اور مالی استطاعت کا اجتماعی اظہار اور والدین کی معاشی حیثیت کا بیان ہوتے ہیں۔ لڑکی والے سکون کی سانس لے کر کہتے ہیں کہ بیٹی کو خالی ہاتھ نہیں بھیجا، اور لڑکے والے فخریہ کہتے ہیں کہ ماشاء اللہ بہو خود بھی گھر کی رونق ہے اور گھر کی رونق میں اضافے کا سامان بھی لائی ہے۔ مگر کسی نے یہ نہیں سوچا تھا کہ ایک دن یہی رونق گھر میں فقہی مباحث اور گفتگو کا عنوان بن جائے گی،زکوٰ ۃکی ادائیگی اور اس کا حساب و کتاب سے گھر کے ماحول کو اس قدر سنجیدہ اور تلخ بنادے گی کہ ڈھائی فیصد کی شرح ازدواجی الفت و محبت کا اہم سوال بن جائے گا۔
شریعت میں زکوٰۃ کا مسئلہ واضح ہے اگر زیورات نصاب کو پہنچ جائیں تو ڈھائی فیصد ادا کرنا فرض ہے۔سو روپئے میں ’’ڈھائی روپئے’’ کوئی بہت زیادہ نہیں،لیکن جب اسے ایک لاکھ ساٹھ ہزار کے تناظر میں ضرب دیا جائے تو مختصر کا مطلب بدل جاتا ہے۔ جب قیمت کم تھی تو زکوٰۃ بھی نسبتاً کم تھی اور شوہر اپنی بیویوں سے محبت بھرے لہجے میں کہتے تھے ‘‘ تم رہنے دو، میں نکال دیتا ہوں’’ اور یہ جملہ ایثار و محبت کی سند سمجھا جاتا اور بیوی کی آنکھوں میں محبت کے ستارے جگمگا اٹھتے۔ چند ہزار روپے محبت کے نام پر قربان ہو جاتے۔ مگر اب جب زکوٰۃ کی رقم متوسط گھرانوں میں دسیوں ہزار اور کہیں کہیں لاکھوں اور کروڑوں میں جا پہنچی تو محبت سے زیادہ پسینے کے قطرے نمایاں ہونے لگے۔
ہندوستانی مسلمان نماز کے مسائل میں سالہا سال سے اپنے اپنے مسلک پر مضبوطی سے عمل کرتے آئے ہیں اور اس سے انحراف کو صریح بے دینی سمجھتے ہیں۔ رفع الیدین ہو یا آمین بالجہر، تراویح کی رکعات ہوں یا دعاء￿ قنوت کا مسئلہ، ان سب کو ایمان و کفر کا مسئلہ بنانے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔ لیکن زیورات کی زکوٰۃ کا سوال آیا تواچانک فقہی لچک پیدا ہو گئی ،تحقیق کا نیا ماحول بننے لگا۔ یوٹیوب کھلنے لگا، کلپس گردش کرنے لگیں، اور ہر گھر میں مفتی جنم لینے لگا، اور اکثریت اس رائے پر غور کرنے لگی کہ استعمال کے زیورات پر زکوٰۃ واجب نہیں، اور ایسا محسوس ہونے لگا کہ سونے کی چمک نے مسلکی تشدد کی آگ بجھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
اس پس منظر میں ان شوہروں کی کیفیت بھی قابلِ دید ہے جنھوں نے بڑے شوق سے بڑے اور صاحب حیثیت گھرانوں میں شادیاں کی تھیں، وہ بھی بدلے بدلے سے نظر آنے لگے۔ جو کل تک اعلان کرتے تھے کہ ‘‘مجھے اپنے لئے کچھ نہیں چاہیے، بس آپ کی بیٹی اپنے گھریلو معیار اور مزاج کے مطابق خوشی سے رہے’’، اب خاموشی سے کیلکولیٹر پر حساب لگا رہے ہیں۔ انہیں پہلی بار احساس ہواکہ ان کی شریکِ حیات جس نے ان کے گھر کی رونق اور ان کی شان میں اضافہ کیا تھاصرف محبت کا سرمایہ نہیں بلکہ ایسی قیمتی اثاثوں کی مالک ہیں جس پر زکات کا ثواب اس سال کئی گنا بڑھ گیا ہے۔ اثاثے توبیوی کے ، مگر ان کے زکوٰ ۃکی ادائیگی کا دباؤ اکثر شوہر کے کندھوں پر ہوتا ہے اور اگر وہ اس میں ناکام ثابت ہوا تو’’نکمے شوہر‘‘ یا ’’نکمے داماد ‘‘کا اعزاز ملنے میں تاخیر نہیں ہوگی۔ اور اس طرح سونے کی بڑھتی قیمت نے مسلک کی پابندی اور محبت کی دعویداری کو ایسے بھنور میں ڈال دیا جہاں سے نکلنے کیلئے سخت معرکہ درپیش ہے۔
سونے کی بڑھتی قیمت نے مفتیان کرام کی اہمیت اور ان کی افطاری دعوتوں میں اضافہ کردیا ، مختلف سوالات ذہنوں میں ، کیا ہر زیور کا یکساں حکم ہے؟ اس کی ادائیگی شوہر پر ہے یا نہیں؟خاص طور پر ان فقہاء￿ کی قدرو قیمت بڑھ گئی جن کی مسائل پر گہری نظر اور ’’باب الحیل ‘ پر اچھی پکڑ ہے۔ ان سے رابطہ کیا گیا تو مایوسی نہیں ہوئی اور سیکنڈوں میں اس گتھی کوسلجھا تے ہوئے یہ جواب سامنے آگیا کہ ’’ فقہی کتابوں میں لکھا ہے کہ اگر بیوی مالدار اور شوہر محتاج ہو تو بیوی اپنے شوہر کو زکوٰۃ دے سکتی ہے۔ یہ بعض لوگوں کیلئے امید کی کرن اور مشکل مسئلہ کا آسان حل بن گیا۔ سوچا کہ ادھار لے کر رقم بیوی کے ہاتھ میں رکھ دیں گے، اگلے دن وہی رقم بطور زکوٰ ۃ بحیثیت شوہر خود مجھ کو واپس مل جائے گی، ادھار بھی اتر جائے گااورشریعت و مسلک کی پابندی بھی ہوجائیگی، محبت بھی سلامت رہے گی اورحساب بھی درست۔
چنانچہ رقم ادھار لی۔ نہایت وقار سے بیوی کے سامنے رکھی اور عرض کیا کہ یہ لو اور پہلی فرصت میں زکوٰۃ ادا کردو اور پھر کچھ پیار و محبت اور انسیت و تعلق کا اظہار کرنے کے بعد گویا ہوئے ‘‘بیگم تم میری مالی حیثیت سے بخوبی واقف ہو، فقہاء￿ کرام نے مالدار بیوی کو اپنے ضرورتمند شوہر کو نہ صرف زکو ۃ دینے کی اجازت دی ہے بلکہ اسے مستحسن سمجھا ہے۔ میں نے کسی طرح تمہاری زکوٰ کا اس سال بھی انتظام کردیا ہے۔ لہذا تم فقہاء￿ کرام کے قول کو ضرور مد نظر رکھنا اور دعا کرنا کہ جلد از جلد قرض ادا کرسکوں ۔ان کے چہرے پر اطمینان اور دل میں پورا یقین تھا انہوں نے فقہی ذہانت اور ازدواجی تعلق و محبت کے حسین امتزاج کا بر وقت ثبوت دیا ہے۔ مگر انہیں اندازہ نہ تھا کہ سوشل میڈیا نے اس بار بیوی کو بھی شریعت سے نابلد نہیں رہنے دیا۔ بیوی نے ویڈیوز دیکھ رکھی تھیں، اور یہ نکتہ خاص طور پر ذہن نشین کر لیا تھا کہ اگر خونی رشتہ دار مستحق ہوں تو انہیں زکوٰۃ دینا زیادہ باعثِ ثواب ہے۔بیوی نے معصومیت سے جواب دیا، میرے ایک بھائی، منجھلی بہن، جھارکھنڈ والی خالہ اور اتراکھنڈ کی پھوپھی بہت مشکل حالات سے گزر رہے ہیں میں نے ان میں تقسیم کر دیا ہے۔ شوہر کو ااحساس ہوا کہ کس طرح فقہی باریکیاںاور اس کی ایک سطر زندگی کی مشکل ترین کتاب بن سکتی ہے اور اس طرح سونے کی چمک پوری شدت سے محبت کی آزمائش کاسبب بن گئی۔ نتیجہ قرض بھی باقی، واپسی کاتقاضا و مطالبہ بھی جاری، اور محبت کا امتحان برقرار اور شوہر کی مسکراہٹ پھیکی۔
اس طنزو مزاح کے درمیان یہ سنجیدہ پہلو ذہنوں سے اوجھل نہ ہونے پائے کہ زکوٰ ۃمحض رقم کی ادائیگی نہیں بلکہ معاشرتی انصاف کا ایک ایسانظام ہے جو دل کو بھی پاک کرتاہے اور مال کو بھی۔ اگر اسے بوجھ سمجھ کر ادا کیا جائے تو ڈھائی فیصد پہاڑ ہے اور اگر امانت سمجھ کر ادا کیا جائے تو دل کا سکون اور نفس کی پاکیزگی کا ذریعہ۔ مسئلہ سونے کا نہیں، نیت اور اعتماد کا ہے۔ اگر شوہر واقعی استطاعت رکھتا ہے تو بیوی کی زکوٰۃ ادا کرنا اس کی ذمہ داری تو نہیں لیکن اس کے لیے اچھے شوہر ہونے کا ثبوت اور بیشماراجر کا ذریعہ ہے، اور اگر بیوی صاحب حیثیت ہے تو خوش دلی سے اس ذمہ داری کی ادائیگی اس کی دیانت کا ثبوت ہے۔ باہمی الفت و محبت اور شفافیت ہو تو نہ مسلک خطرے میں اور نہ ہی محبت۔
اس پس منظر میں سب سے مثبت پہلو یہ ہے کہ کم از کم لوگوں نے زکوٰ ۃکے مسائل پڑھنے شروع کئے۔ گھروں میں دینی گفتگو ہونے لگی۔ شوہر اور بیوی نے ساتھ بیٹھ کر نصاب، قیمت اور شرح کا حساب لگایا،خواہ اس حساب میں مسکراہٹ کم اور سنجیدگی زیادہ ہو، مگر علم بڑھا۔ یہی سونے کی چمک کا اصل فائدہ ہے کہ اس نے لوگوں کو اپنے مال اور اپنی ذمہ داری کا شعور دلایا۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے