कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

سنت نکاح ادا اور نماز فرض قضا

تحریر: ڈاکٹر مولانا محمد عبد السمیع ندوی
اسسٹنٹ پروفیسر، مولانا آزاد کالج آف آرٹس، سائنس اینڈ کامرس، اورنگ آباد
موبائل: 9325217306

زندگی کے بگڑنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہماری ترجیحات بگڑ گئی ہیں۔ جن کاموں کو شریعت نے فرض قرار دیا، انہیں معمولی سمجھ لیا گیا، اور جن کاموں کو سنت یا مستحب کہا گیا، انہیں فخر اور نمائش کا ذریعہ بنا دیا گیا۔ آج ہمارا معاشرہ اسی الٹی ترتیب کی گرفت میں ہے۔
نکاح ایک عظیم سنت ہے، جس کے ذریعے انسان آدھے ایمان کی تکمیل کرتا ہے۔ نکاح کا مقصد محض ایک تقریب یا دعوت نہیں، بلکہ ایک پاکیزہ عہد اور شرعی ذمہ داری کا آغاز ہے۔ افسوس کہ اس سنت کی ادائیگی کے موقع پر اکثر مسلمان نماز جیسے عظیم فرض سے غافل نظر آتے ہیں۔
مشاہدہ ہے کہ نکاح کی تقریب عموماً مسجد میں انجام پاتی ہے۔ دلہا، دلہن کے سرپرست، رشتہ دار اور مہمان سب جمع ہوتے ہیں۔ نکاح کے ایجاب و قبول کے بعد جب امام صاحب یا قاضی دعا کرتے ہیں تو ماحول دینی نظر آتا ہے۔ مگر چند ہی لمحوں بعد یہ منظر بدل جاتا ہے۔ اذانِ نماز مغرب گونجتی ہے، لیکن اکثر لوگ جلدی سے مسجد سے نکل کر مقامِ طعام یا بینکویٹ ہال کی طرف روانہ ہوجاتے ہیں۔ ان کے چہروں پر خوشی ہوتی ہے، مگر افسوس کہ وہ فرض نماز کی ادائیگی کو غیر اہم سمجھ کر چھوڑ دیتے ہیں۔
یہ طرزِ عمل دراصل اس بات کا مظہر ہے کہ دین ہمارے لیے ایک رسمی چیز بن چکا ہے۔ نکاح کے وقت سنت کی ادائیگی پر خوشی، مگر اسی لمحے نماز جیسا فرض قضا ہو جانا، ایک ایسا تضاد ہے جو ایمان کی کمزوری اور دین سے غفلت کی علامت ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّینَ الَّذِیْنَ ہُمْ عَنْ صَلَاتِہِمْ سَاہُونَ”
(الماعون: 4-5)
یعنی “تباہی ہے اُن نمازیوں کے لیے جو اپنی نماز سے غافل ہیں۔”
یہ آیت اُن لوگوں پر بھی صادق آتی ہے جو نماز کے وقت دنیاوی مصروفیت کو ترجیح دیتے ہیں۔ نکاح کے بعد کھانے یا رسومات کی خاطر نماز چھوڑ دینا گویا اسی “سہو” (غفلت) کا مظہر ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
العهد الذي بيننا وبينهم الصلاة، فمن تركها فقد كفر”
(ترمذی)
یعنی "ہمارے اور ان کے درمیان عہد نماز ہے، جس نے نماز ترک کی اُس نے کفر کے قریب کام کیا۔”
یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ نماز محض ایک عبادت نہیں بلکہ ایمان اور کفر کے درمیان حدِ فاصل ہے۔
نکاح کے موقع پر اکثر لوگ کہتے ہیں “ہم نے سنت ادا کی”، مگر جب نماز چھوٹ جاتی ہے تو وہ بھول جاتے ہیں کہ فرض چھوڑنا کتنی بڑی محرومی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں یہ جملہ سچ ثابت ہوتا ہے:
“سنت ادا اور فرض قضا”
یہ جملہ محض طنز نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت ہے جو ہماری دینی بےحسی کی عکاسی کرتا ہے۔
دلہا جو نکاح کے موقع پر سب سے زیادہ مرکزی شخصیت ہوتا ہے، وہ خود بھی اکثر نماز میں شامل نہیں ہوتا۔ شادی کے دن کا بہانہ، کپڑوں کی نزاکت، فوٹوگرافی، یا کھانے کے اوقات، سب چیزیں نماز پر غالب آجاتی ہیں۔ حالانکہ اگر دلہا واقعی سنتِ نبوی پر عمل کرنے والا ہے تو اسے نکاح کے بعد سب سے پہلے نماز ادا کرنی چاہیے، تاکہ اس کی ازدواجی زندگی عبادت سے شروع ہو۔
اسلامی معاشرے کی اصلاح اسی وقت ممکن ہے جب ہم فرض کو فرض اور سنت کو سنت سمجھ کر ان کے حقوق ادا کریں۔ اگر نکاح کے بعد سب لوگ نماز باجماعت ادا کریں، تو یہ منظر نہ صرف بابرکت ہوگا بلکہ نئی نسل کے لیے بھی ایک عملی پیغام بنے گا کہ عبادت ہر خوشی پر مقدم ہے۔
یہ وہ پیغام ہے جو ہمیں اپنے معاشرے میں عام کرنا ہوگا۔ نکاح کے موقع پر امام صاحبان، نکاح خواں حضرات اور دینی ادارے اس بات کو لازم قرار دیں کہ نکاح کے بعد نماز جماعت سے ادا کی جائے۔ اس سے نہ صرف دینی شعور بڑھے گا بلکہ برکت بھی نصیب ہوگی۔
آخر میں یہی کہنا کافی ہے کہ:
نماز صرف عبادت نہیں، بلکہ زندگی کی ترتیب ہے۔
جس کی نماز بگڑ گئی، اس کی زندگی بھی بگڑ گئی۔
اور جو اپنی نماز سنوار لے، وہ اپنی دنیا و آخرت دونوں سنوار لیتا ہے۔
اللهم اجعلنا من المحافظين على الصلاة، المتمسكين بالسنة، المخلصين في القول والعمل۔ آمین۔

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے