कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

سر سید احمد خان ایک عظیم شخصیت

تحریر:سعدیہ فاطمہ عبدالخالق
ناندیڑ مہاراشٹر

تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اور ساری نعمتیں اسی کی دی ہوئی ہیں ، ہندوستان کی سر زمین پر جن عظیم ہستیوں نے جنم لیا ہے ان میں سے ایک سر سید احمد خان ہے ،
سر سید 17 اکتوبر 1817ء کو دہلی کے ایک سید گھرانے میں پیدا ہوئے نام احمد رکھا گیا حسینی سید تھے خان کا خطاب خاندانی تھا اور سر کا خطاب حکومت کی جانب سے ملا تھا اس بناء پر سر سید احمد خان کے نام سے مشہور ہوئے اللّٰہ نے انہیں اعلیٰ دماغ اور با حوصلہ قلب عطاء فرمایا تھا ، سرسید کی شخصیت ہمہ جہت تھی ، سر سید احمد خان کا تذکرہ متعد پہلوؤں سے کیا جا سکتا ہے سرسیداحمد خان بحیثیت ایک وفادار قوم و ملت کے خادم بحیثیت ہندو مسلم اتحاد کے ایک عظیم علمبردار ایک ماہر تعلیم ، بحیثیت ایک انقلاب آفرین شخصیت ، بحیثیت ایک دیانتدار دار کہنہ مشق صحافی ، ایک ممتاز اُردو ادیب ، ایک مورخ ، بحیثیت ایک نامور خطیب ، ایک عمدہ ایڈیٹر ، ایک باکمال مصنف ، ایک بے لوث ترجمان قوم ملت ، ایک ناقد ، ایک ماہر منتظم ، ایک مشفق والد ، وفادار شوہر قوم کے غریبوں اور دکھیاروں کا ایک سچا مسیحا ۔۔۔۔۔۔سر سید کی زندگی کا مطالعہ کرنے سے ہمیں یہ علم ہوتا ہے کہ یہ تنقید سے کبھی نہیں گھبراتے تھے تنقید برائے تنقید نہیں بلکہ اس کو برائے غور و فکر اور برائے اصلاح و تجدید سمجھتے تھے ، دوسری بات یہ کہ سر سید جرات مندانہ اور قلندرانہ دل رکھتے تھے حق بات کہنے سے کبھی پیچھے نہیں ہٹتے تھے سر سید کی شخصیت ہی تھی جس نے اسباب بغاوت ہند لکھ کر حکومت کو واقعات کا ذمہ دار ٹھہرایا ، وہ ہندو وہ مسلم اتحاد کے عظیم علمبردار تھے وہ فرمایا کرتے تھے اے میرے دوستو میں نے بار بار کہا ہے اور پھر کہتا رہوں گا کہ ہندوستان ایک دلہن کی مانند ہے جس کی خوبصورت اور رسیلی دو آنکھیں ہندو اور مسلمان ہیں اگر دونوں آپس میں نفاق کریں گے تو پیارے دلہن بھینگی ہو جائے گی اور اگر ایک دوسرے کو برباد کریں گے تو وہ کانی ہو جائے گی پس اے ہندوستان کے رہنے والوں ہندو اور مسلمانوں اب تم کو اختیار ہے کہ چاہے اس دلہن کو بھینگی بناؤ چاہے کانی ۔۔۔۔۔ وہ یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ ہندو مسلمان ایک مذہبی لفظ ہے ورنہ ہندو مسلمان اور عیسائی جو اس ملک میں رہتے ہیں اس اعتبار سے سب ایک قوم ہیں ، سر سید احمد خان ملت کے دھڑکتے ہوئے دل تھے وہ استقلال وہ استقامت کے عظیم پہاڑ تھے ، انہوں نے سستی اور کاہلی کو اپنے نزدیک کبھی جگہ نہیں دی ، فراخ دلی اور وسیع النظری سرسید کے خمیر اور افتاد طبع میں داخل تھی سر سید مسلمانوں کی پستی بیچارگی اور بے حوصلگی سے انتہائی بے چین تھے ان کے دل کی جو حالت تھی اس کا نقشہ خود ان کے قلم نے یوں کھینچا ہے ۔۔۔۔۔ ,, اور جو حال اس وقت قوم کا تھا وہ کسی طرح دیکھا نہیں جاتا آپ یقین کیجیے کہ اس غم نے مجھے بوڑھا کر دیا اور میرے بال سفید کر دیے مگر اس وقت یہ خیال پیدا ہوا کہ نہایت بے مروتی کی بات ہے کہ اپنی قوم کو تباہی کی حالت میں چھوڑ کر خود کسی گوشہ عافیت میں جا بیٹھوں ، نہیں اس مصیبت میں شریک ہونا چاہیے اور جو مصیبت پڑے اس کو دور کرنے میں ہمت باندھنا قومی فرض ہے ،، ,, تہذیب الاخلاق ،، نے مسلمانوں کی زندگی کے ہر گوشے کو متاثر کیا اور یہاں تک کہ قوم کو لکھنا پڑھنا سوچنا سمجھنا سکھایا سر سید نے ایک بے باک صحافی کی حیثیت سے دل و دماغ اور فکر کے گوشے گوشے میں تبدیلی لا دی ان کے طرز تحریر اور ,, تہذیب الاخلاق ,, پر کافی انگلیاں اٹھیں اور اعتراضات کیے گئے یہاں تک کہ ان کی تحریر اور ان کے پرچے کو ادب سے باہر قرار دیا گیا لیکن دھیرے دھیرے مخالفت کے بادل چھٹتے گئے اور اُردو ادب اور صحافت کا ایک نیا سورج طلوع ہوا جہاں ادب اور صحافت ایک دوسرے سے مشترک ہو گئے یہ سر سید کی بطور صحافی اور بطور ادیب سب سے بڑی کامیابی ہے اُردو صحافت کی تاریخ میں ,, تہذیب الاخلاق ،،کو اس لیے بھی اہم مقام دیا جائے گا کہ پہلی بار خالص صحافت کا آغاز اس پرچے سے ہوتا ہے ، سر سید نے کہا تھا کہ ,, جب کوئی قوم تعلیم سے دوری اختیار کرتی ہے تو غربت پیدا ہوتی ہے اور جب غربت آتی ہے تو ہزاروں جرائم ساتھ لاتی ہے ،، سر سید احمد خان کو مسلمانوں کیلئے تین اہم خدمات پر ہمیشہ یاد کیا جائیگا، 01)وہ اُردو زبان کے بے انتہا چاہنے والوں میں تھے ، وہ خود اپنے آخری لمحے تک بڑے زور و شور سے اُردو زبان کی مدافعت کرتے رہے ، بابائے اُردو مولوی عبد الحق سرسید احمد خاں کی اُردو نوازی پر لکھتے ہیں ,,انہوں نے زبان (اُردو) کو پستی سے نکالا، اندازِبیان میں سادگی کے ساتھ قوت پیدا کی، سنجیدہ مضامین کا ڈول ڈالا، سائنٹیفک سوسائٹی کی بنیاد ڈالی، جدید علوم و فنون کے ترجمے انگریزی سے (اُردو میں) کروائے، خود کتابیں لکھیں اور دوسروں سے لکھوائیں ، اخبار جاری کرکے اپنے انداز تحریر سے بے لاگ تنقید اور روشن صحافت کا مرتبہ بڑھایا ,, تہذیب الاخلاق “ کے ذریعے اُردو ادب میں انقلاب پیدا کیا
*مسلمانوں کو مشورہ دیا اُردو سے اپنا تعلق مضبوطی سے تھامے رکھیں*
02)دوسرا اہم کام اُردو کو سائنس سے جوڑا، غازی پور میں سائنٹفک سوسائٹی کا قیام ہوا ، سائنسی کتابوں اور رسالوں کا اُردو میں ترجمہ کیا اور کروایا ، سائنٹفک سوسائٹی کا مقصد اپنے ہم وطنوں کو جدید علوم سے روشناس کرانا تھا ، اس سوسائٹی کے جلسوں میں جس میں نئے نئے سائنسی مضامین پر لیکچر ہوتے اور آلات کے ذریعہ تجربے بھی کیے جاتے ، ان کا مقصد یہ تھا کہ بغیر جدید علوم خاص طور پر سائنس کے کسی میدان میں ترقی نہیں کی جا سکتی ،
03) تیسری اہم بات علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کا قیام سے ، وہ مسلمانوں کیلئے عالمی سطح پر ایک بہترین جامعہ یعنی جامع العلوم بنانا چاہتے تھے ، جس کی بنیاد اُن کی زبان اُردو پر رکھی گئ تھی ، حال حال تک اس یونیورسٹی میں داخلے کی شرط اُردو کا ایک امتحان ہوا کرتا تھا جسے اب ختم کردیا گیا ہے، نتیجتاً اب یہاں مسلمان طلبہ کے داخلے کی شرح بہت حد تک گھٹ گئ ہے ،
کاش ہم اُردو والے سر سید احمد خان کی ان کاوشوں پر عمل آوری کرتے ، فرنگیت کے اس طوفان سے خود کو بچا پاتے ، مگر ہم روز بروز مغربی جال میں الجھ رہے ہیں جس کا ہمیں احساس تک باقی نہیں ہے ، سر سید احمد خان کی وفات 27 مارچ 1898ء کو ہوئی ، سر سید احمد خان انیسویں صدی کے ایک ہندوستانی مسلم نظریہ عملیت کے حامل مصلح اور فلسفی تھے ، سر سید جیسی عظیم ہستی کو خراج کا بہترین طریقہ ہے کہ ہم اُردو سے محبت کریں اور اُردو کو پروان چڑھانے میں محنت کریں راستے خود بخود بنتے رہیں گے ، اللّٰہ پاک ہماری محنتوں کو قبول فرمائے آمین

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے