कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

سخاوت اسلامی زاویۂ نظر اور عربی ورثہ کی روشنی میں

تحریر:ابو خالد قاسمی

اسلام دینِ اعتدال و توازن ہے۔ اس نے انسانی اوصاف و ملکات کے لیے ایک واضح میزان قائم کیا، جس میں ہر عمل کا مقام بھی متعین ہے اور اس کی حدود بھی۔ اسی لیے اسلام نے ایک طرف اسراف و تبذیر سے روکا، تو دوسری طرف بخل و شح کی سخت مذمت کی، اور ایسی شریعت عطا کی جس میں انسان اپنی جبلّت کے بہترین پہلو سخاوت، ایثار اور جود کی بلندیوں تک پہنچ سکے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن و حدیث میں جود و انفاق کی خصوصی ترغیب وارد ہوئی اور اسے یقین، برکت، تطہیرِ نفس اور سماجی رحمتوں کا ذریعہ قرار دیا گیا۔
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: مَثَلُ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ، فِي كُلِّ سُنْبُلَةٍ مِائَةُ حَبَّةٍ
یہ آیت سخاوت کے بے پایاں اجر کی ایک بہترین مثال ہے کہ اللہ تعالیٰ انفاق کے اجر کو انسان کے تصور سے بھی بڑھ کر کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔
ایک اور مقام پر فرمایا: إِنَّ الْمُصَّدِّقِينَ وَالْمُصَّدِّقَاتِ وَأَقْرَضُوا اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا يُضَاعَفُ لَهُمْ وَلَهُمْ أَجْرٌ كَرِيمٌ۔
نبی کریم ﷺ نے سخاوت کا مقام یوں بیان فرمایا: السَّخِيُّ قَرِيبٌ مِنَ اللَّهِ، قَرِيبٌ مِنَ الْجَنَّةِ، قَرِيبٌ مِنَ النَّاسِ، بَعِيدٌ مِنَ النَّارِ۔
اور فرمایا: ما نَقَصَ مالٌ مِنْ صَدَقَةٍ
یعنی صدقہ سے مال میں کمی نہیں ہوتی۔
مذکورہ نصوص سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جود و سخا بہت بڑے اجر، عظیم برکت اور بلند اخلاق کا ذریعہ ہے۔
اسلام سے پہلے بھی عرب جود و سخا کے حامل تھے، بلکہ وہ اسے عزت و افتخار کا درجہ دیتے تھے۔ مہمان کی تکریم، محتاج کی دستگیری اور پڑوسی کا خیال رکھنا ان کے نزدیک شرافت کی علامت تھا، اور بخل ایک ایسا عیب تھا جسے وہ ناقابلِ برداشت سمجھتے تھے۔ شاعر کہتا ہے:
فَصِرْتَ الفَقِيرَ وَأَنْتَ الغَنِيُّ (العقد الفريد 1/189)
یعنی بخل نے تجھے فقیر بنا دیا حالانکہ تو مال دار تھا۔
قرآن نے بھی سخاوت کو تقویٰ کے ساتھ ملا کر ذکر کیا، فرمایا:
فَأَمَّا مَنْ أَعْطىٰ وَاتَّقىٰ (الليل/٥)
یعنی حقیقی پرہیزگار وہی ہے جو عطا بھی کرے اور اپنے رب سے ڈرے۔
سخاوت کی تاریخ میں سب سے نمایاں نام حاتم طائی کا ہے، جو جود و کرم کی علامت بن چکا ہے۔ ان کے یہاں مہمان آ جائے تو غلام آزاد کر دیے جاتے، اور وہ راتوں کو آگ روشن کرتے تاکہ راہگیر ان کے خیمے تک پہنچ سکیں۔
ان کے اشعار میں سخاوت کا فلسفہ یوں ملتا ہے: ما أنفقتُ كان نصيبي (حماسة الخالديين 1/160)
یعنی حقیقت میں میرا حصہ تو وہی ہے جو میں نے خرچ کیا۔
اس کی اہلیہ نے جب اسے ٹوکا تو اس نے سخاوت کے مزاج کی توضیح کرتے ہوئے کہا: إنّ الجوادَ يرى في مالِه سُبُلاً (الشعر والشعراء 1/238)
یعنی سخی اپنے مال میں خرچ کرنے کے بے شمار راستے دیکھتا ہے۔
عربی ادب کے شعرا نے بھی جود کی عظمت کو اپنے اشعار میں خوب سمویا ہے۔ ابو تمام نے المتوکل کی مدح میں کہا: هو البحرُ من أيّ النواحي أتيتَه (المحاسن والأضداد 1/87)
یعنی وہ تو سمندر ہے، جدھر سے آؤ، موجِ کرم ہی پاؤ گے۔
بکر بن النطاح نے جود کی حد بیان کرتے ہوئے کہا: هل تجب الزكاة على جواد؟ (الحماسة المغربية 1/671)
گویا وہ اتنا سخی ہے کہ اس پر زکاۃ فرض ہونے کی گنجائش ہی نہیں رہتی۔
ابوکدراء العجلی کہتا ہے: إنّي كريمٌ وإنّ اللومَ يؤذيني (الفاضل 1/38)
یعنی میں سخی ہوں اور ملامت مجھے دکھ دیتی ہے۔
اسحاق الموصلی نے کہا: أرى الناسَ خِلّانَ الجواد (المحاسن والأضداد 1/27)
کہ لوگ ہمیشہ سخی کے دوست ہوتے ہیں۔
النمر بن تولب نے مال کے فلسفہ پر یوں روشنی ڈالی:
ما أبقيتُ لم أكن ربَّه (الكامل في الأدب 1/292)
یعنی جو میں نے بچا کر رکھا، وہ میرا نہ رہا۔
اور بحتری نے کہا: لكفاهُ عاجلُ وجهِكَ المتهلّلِ (المحاسن والأضداد 1/87)
یعنی تیرا مسکراتا ہوا چہرہ ہی دوسروں کے لیے کافی عطیہ ہے۔
بکر بن النطاح نے انتہائی سخاوت کا نقشہ یوں کھینچا:
لقاسمَ مَن يرجوه شطرَ حياتهِ (العقد الفريد 1/198)
یعنی اگر مال نہ ہو تو سخی اپنی زندگی بھی بانٹ دے گا۔
عرب اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ سخاوت صرف مال خرچ کرنے کا نام نہیں، بلکہ مروّت، شجاعت، اخلاق اور بلند ہمتی کا مجموعہ ہے۔ اسی لیے کہا گیا: والحرُّ حرٌّ وإن ألمّ به الضرُّ (عيون الأخبار 1/414)
یعنی آزاد خوددار شخص مصیبت میں بھی اپنی شرافت نہیں بدلتا۔
سخاوت انسان کے دل کو وسعت دیتی ہے، تعلقات میں محبت بڑھاتی ہے، اور انسان کو سماج میں عزت کا مقام عطا کرتی ہے؛ جبکہ بخل انسان کو تنہا اور دلوں سے دور کر دیتا ہے۔
الغرض جود و سخا اخلاقی خوبی ہونے کے ساتھ ساتھ، اسلامی زندگی کا نہایت اہم حصہ ہے۔ قرآن و حدیث میں اس کی بے شمار فضیلتیں وارد ہیں، اور انسانی معاشروں میں اس کی برکتیں روزِ روشن کی طرح نمایاں ہیں۔ عربی ادب و تاریخ بھی اس خلقِ عظیم کی مثالوں سے بھری ہوئی ہے۔
اسلام چاہتا ہے کہ اس امت کا ہر فرد حاتم کا وارث، ابو تمام کا مضمون اور قرآن کا نور بنے؛ نہ کہ بخل و حرص کے اندھیروں کا اسیر۔
اللہ ہمیں سچی سخاوت، پاکیزہ نیت اور انفاق کی سعادت عطا فرمائے۔ آمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے