कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

سائنس، اخلاق اور خدا: ایک تاریخی مناظرہ نے الحاد کا پورا بیانیہ ہلا دیا

(جاوید اختر بمقابلہ مفتی شمائل:کس کا مقدمہ مضبوط؟)
اگر خدا نہیں… تو پھر یہ کائنات کیوں؟ ایک ایسا سوال جس سے الحاد بچ نہیں سکتا!

بقلم: ڈاکٹر محمّد عظیم الدین
(اسسٹنٹ پروفیسر) آرٹس کامرس کالج، ییودہ، امراوتی، مہاراشٹر(انڈیا)

دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب کی فضا حال ہی میں ایک ایسے فکری معرکہ کی گواہ بنی جس نے برصغیر کے علمی و سماجی حلقوں میں ایک طویل عرصے سے سرد پڑے ہوئے موضوع میں نئی روح پھونک دی ہے۔ ”کیا خدا موجود ہے؟” کے عنوان سے ہونے والا یہ تاریخی مباحثہ محض دو شخصیات(عہدِ حاضر کے ممتاز شاعر و دانشور جناب جاوید اختر اور معروف عالمِ دین و مفکر مفتی شمائل ندوی)کے درمیان کوئی روایتی مناظرہ نہیں تھا، بلکہ یہ درحقیقت انسانی تاریخ کے دو سب سے بڑے اور متصادم بیانیوں کا ٹکراؤ تھا۔ ایک جانب جدیدیت کے لبادے میں ملبوس ”الحاد” تھا جو اپنی بنیاد مادی مشاہدات، سائنسی بالادستی کے دعووں اور اکثر اوقات جذباتی استدلال پر رکھتا ہے، اور دوسری جانب وہ قدیم و جدید علمی روایت تھی جو عقلِ سلیم، منطق، وجدان اور وحی کی روشنی میں کائنات کے خالق کا اثبات کرتی ہے۔ اس مباحثے نے انٹرنیٹ کی دنیا میں جو ہلچل مچائی ہے، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آج کا انسان، خواہ وہ کتنا ہی مادہ پرست کیوں نہ ہو جائے، اپنے اندر کے اس ازلی سوال سے پیچھا نہیں چھڑا سکا کہ ”میں کون ہوں، کہاں سے آیا ہوں، اور اس کائنات کا خالق کون ہے؟” اگرچہ جاوید اختر صاحب اس مباحثے میں اپنے مخصوص شاعرانہ انداز، طنزیہ جملوں اور خطابت کے جوہر دکھاتے نظر آئے، لیکن اگر اس گفتگو کا فلسفیانہ اور منطقی تجزیہ کیا جائے تو یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ ان کا مقدمہ عقلی بنیادوں پر استوار ہونے کے بجائے عوامی مقبولیت کے حامل جذباتی نعروں اور سطحی مثالوں پر کھڑا تھا، جبکہ مفتی شمائل ندوی کے دلائل یہ ثابت کرتے ہیں کہ خدا کا وجود محض ایک مذہبی عقیدہ نہیں بلکہ ایک ”عقلی ناگزیر حقیقت” (Logical Necessity) ہے جس کے انکار سے انسانی عقل تضادات کی دلدل میں پھنس جاتی ہے۔
اس فکری قضیے کی سب سے بڑی اور بنیادی گرہ وہ غلط فہمی ہے جو جاوید اختر اور دورِ حاضر کے جدید ملحدین کا سب سے بڑا سہارا بنی ہوئی ہے، یعنی یہ مفروضہ کہ سائنس کی ترقی نے خدا کی ضرورت کو ختم کر دیا ہے۔ یہ دعویٰ دراصل علم کے دائرہ کار کو نہ سمجھنے اور ایک سنگین زمرہ جاتی غلطی (Category Error) کا نتیجہ ہے، کیونکہ سائنس کا دائرہ کار مشاہدہ اور تجربہ ہے جو ہمیں صرف یہ بتاتا ہے کہ کائنات کے طبعی قوانین کیا ہیں اور یہ نظام ”کیسے” کام کرتا ہے، مگر سائنس اس سوال پر مکمل خاموش ہے کہ یہ قوانین سرے سے موجود ہی ”کیوں” ہیں اور اس نظام کو ”کس نے” وضع کیا۔ میکانزم کی دریافت کسی بھی صورت میں بنانے والے یا فاعل کی نفی نہیں کرتی؛ بالکل اسی طرح جیسے اگر ہم جدید سائنس کی بدولت یہ سمجھ جائیں کہ ایک کار کا انجن کیسے کام کرتا ہے تو اس معلومات کی بنیاد پر ہنری فورڈ جیسے ڈیزائنر کے وجود کا انکار کرنا ایک انتہائی بچگانہ اور غیر منطقی استدلال ہوگا۔ طبعی قوانین بذاتِ خود کچھ تخلیق نہیں کرتے، وہ صرف اس عمل کی وضاحت کرتے ہیں جس کے تحت کائنات چل رہی ہے، اور ہر قانون منطقی طور پر ایک قانون ساز کا متقاضی ہوتا ہے، لہٰذا سائنس کو خدا کے متبادل کے طور پر پیش کرنا فلسفہِ سائنس کی رو سے ایک بے بنیاد دعویٰ ہے۔
اسی سائنسی مغالطے کے پردے میں جاوید اختر صاحب نے کائنات کے وجود کو ایک معمولی واقعہ قرار دیتے ہوئے اسے بس ”موجود” مان لینے پر اصرار کیا، لیکن فلسفیانہ دنیا میں یہ موقف دراصل علمی فرار ہے جسے ”Brute Fact” کہا جاتا ہے۔ مشہور جرمن فلسفی گوٹ فرائیڈ ولہیم لیبنز (Gottfried Wilhelm Leibniz)کے ”اصولِ کافی وجہ”(Principle of Sufficient Reason – PSR) کیمطابق کائنات میں کوئی بھی واقعہ، حقیقت یا وجود ایسا نہیں ہے جس کی کوئی معقول وضاحت یا وجہ موجود نہ ہو۔ وہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ”کچھ نہ ہونے کے بجائے کچھ کیوں ہے؟” (Why is there something rather than nothing)۔ ہماری کائنات اور اس میں موجود ہر شے ”ممکن الوجود” (Contingent) ہے، یعنی یہ ہو بھی سکتی تھی اور نہیں بھی، اور بگ بینگ تھیوری نے یہ حتمی طور پر ثابت کر دیا ہے کہ کائنات ازلی نہیں بلکہ اس کا ایک آغاز ہے۔ عقل یہ تقاضا کرتی ہے کہ علت و معلول کی یہ زنجیر ایک ایسی ذات پر رک جائے جو خود کسی کی محتاج نہ ہو، جو ازلی و ابدی ہو، اور جو تمام ممکنات کے وجود کا سبب ہو؛ یہی ہستی ”واجب الوجود” یا خدا ہے۔ ملحدین کے پاس اس بنیادی سوال کا کوئی جواب نہیں کہ ”کچھ نہ ہونے کے بجائے کچھ کیوں ہے؟” اور جاوید اختر کا اس سوال سے صرفِ نظر کرنا ان کے مقدمہ کی شدید فلسفیانہ کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔
خدا کے وجود پر عقلی استدلال کا سفر یہاں نہیں رکتا بلکہ جدید کاسمولوجی اور فلکیات نے اس کی تائید میں جو سب سے حیران کن اور ناقابلِ تردید شہادت فراہم کی ہے، وہ کائنات کی ”فائن ٹیوننگ” (Fine-Tuning) ہے۔ گزشتہ چند دہائیوں میں سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ کائنات کا نظام جن بنیادی ثوابت پر کھڑا ہے(مثلاً کششِ ثقل کی قوت، برقی مقناطیسی قوت، اور کائنات کے پھیلاؤ کی رفتار) وہ اس قدر باریک بینی اور درستگی کے ساتھ نپے تلے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ اگر بگ بینگ کے وقت کائنات کے پھیلاؤ کی شرح میں معمولی سا بھی فرق ہوتا، یا کششِ ثقل کی قوت ذرا سی بھی کم یا زیادہ ہوتی، تو ستارے نہ بن پاتے اور زندگی کا ظہور ناممکن ہو جاتا۔ شماریات کے اصولوں کے مطابق ایسی ریاضیاتی درستگی کسی اندھے دھماکے یا محض اتفاق کا نتیجہ نہیں ہو سکتی، بالکل ویسے ہی جیسے کسی پرنٹنگ پریس میں دھماکے سے ”دیوانِ غالب” کا خود بخود چھپ جانا ناممکن ہے۔ ملحدین اس دلیل کی کاٹ کے لیے اکثر ”ملٹی ورس” (Multiverse)یعنی ایک سے زیادہ کائنات کا غیر سائنسی نظریہ پیش کرتے ہیں، حالانکہ ایک ان دیکھے اور غیر مشاہداتی ”ملٹی ورس” پر یقین رکھنا لیکن ایک خالق کا انکار کرنا الحاد کا سب سے بڑا تضاد ہے۔ منطق کا اصول ”اوکھم کا استرا”(Occam’s Razor) ہمیں بتاتا ہے کہ سادہ ترین توجیہ ہی بہترین ہوتی ہے، اور ایک ذہین و قادرِ مطلق خالق کا ماننا اربوں خیالی کائناتوں کو ماننے سے کہیں زیادہ معقول اور سائنسی ہے۔
کائنات کی اس وسیع تر تنظیم سے نکل کر اگر ہم حیات کے خوردبینی مطالعے کی طرف آئیں تو وہاں بھی ہمیں ایک عظیم خالق کے نشانات ملتے ہیں۔ جاوید اختر اور دیگر سیکولر دانشور اکثر نظریہ ارتقاء کو خدا کے متبادل کے طور پر پیش کرتے ہیں، لیکن وہ اس سے بھی بنیادی سوال ”حیات کے آغاز” سے پہلو تہی کر جاتے ہیں۔ ڈی این اے (DNA) کے اندر موجود معلومات محض کیمیائی تعاملات نہیں بلکہ ایک باقاعدہ ”زبان” اور ”کوڈ” ہیں، اور انفارمیشن تھیوری کا مسلمہ اصول ہے کہ معلومات ہمیشہ ذہانت (Intelligence) سے جنم لیتی ہیں۔ سیاہی کے گرنے سے کاغذ پر بے ترتیب نشان تو بن سکتے ہیں لیکن کوئی نظم یا پیغام نہیں لکھا جا سکتا؛ اسی طرح اندھا مادہ اور وقت چاہے کتنا ہی زیادہ کیوں نہ ہو، وہ اربوں حروف پر مشتمل ڈی این اے کا پیچیدہ کوڈ خود بخود تحریر نہیں کر سکتے۔ یہ کوڈ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ زندگی کی بنیاد میں ایک ”عظیم پروگرامر” کا ہاتھ ہے جس نے مادے میں یہ معلومات ودیعت کیں، اور ملحدانہ سائنس آج تک یہ بتانے سے قاصر ہے کہ بے جان مادے سے شعور اور معلومات کیسے پیدا ہوئیں۔
اس مباحثے کا ایک اور پہلو جو جاوید اختر صاحب نے چھیڑا، وہ اخلاقیات کی نوعیت تھی جہاں انہوں نے ایک انتہائی سطحی بات کہی کہ ”اخلاقیات ٹریفک سگنل کی طرح ہیں”، یعنی یہ محض سماجی معاہدے ہیں جو انسانوں نے اپنی سہولت کے لیے بنا لیے ہیں۔ یہ الحاد کا سب سے کمزور اور خطرناک پہلو ہے، کیونکہ اگر اخلاقیات واقعی صرف سماجی معاہدہ ہیں اور ان کی کوئی آفاقی حیثیت نہیں، تو پھر نازی جرمنی میں ہٹلر کا یہودیوں کا قتل، جنوبی افریقہ میں رنگ بھید (Apartheid)، امریکہ اور یورپ میں صدیوں تک جاری رہنے والا غلامی کا نظام (Slavery)، یا روانڈا اور بوسنیا کی نسل کشی (Genocide) میں لاکھوں بے گناہوں کا قتل؛ ان میں سے کوئی بھی عمل ”فی نفسہٖ غلط” نہیں کہا جا سکتا، کیونکہ اپنے اپنے معاشروں کے طاقت ور طبقے ان سب کو اُس وقت ”قانونی” اور ”جائز” سمجھتے تھے۔ اگر خدا نہیں ہے تو ”خیر اور شر” کا کوئی معروضی وجود (Objective Existence) نہیں رہتا، لیکن جب جاوید اختر غزہ کے بچوں پر ہونے والے ظلم پر جذباتی انداز میں احتجاج کرتے ہیں، تو وہ دراصل اپنے ہی فلسفے کی تردید کر رہے ہوتے ہیں۔ ان کا غصہ اور رنج اس بات کی گواہی ہے کہ وہ لاشعوری طور پر مانتے ہیں کہ ظلم ”حقیقتاً” برا ہے، چاہے ساری دنیا اسے صحیح کہے۔ یہ ضمیر کی آواز اور اخلاقی شعور جو انسان کے اندر ودیعت کیا گیا ہے، کسی اندھے مادی ارتقاء کا نتیجہ نہیں ہو سکتا بلکہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارا خالق ایک اخلاقی ذات ہے جس نے ہمارے اندر اچھائی اور برائی کا فرق الہام کیا ہے۔
اس پورے مباحثے کا شاید سب سے جذباتی اور عوامی سطح پر مشہور ہونے والا موڑ وہ تھا جب جاوید اختر نے دنیا میں پھیلے دکھ درد کو بنیاد بنا کر خدا کی رحمت پر سوال اٹھایا۔ یہ اعتراض، جسے فلسفے میں ”مسئلہِ شر” (Problem of Evil) کہا جاتا ہے، بظاہر بہت جاندار لگتا ہے لیکن علمی اعتبار سے یہ ایک حل شدہ مسئلہ ہے۔ خدا نے انسان کو روبوٹ نہیں بنایا بلکہ اسے ”اختیار” دے کر پیدا کیا ہے تاکہ وہ نیکی کو شعوری طور پر اختیار کر سکے، اور اختیار کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ انسان نیکی کے ساتھ ساتھ بدی کا راستہ بھی چن سکتا ہے۔ دنیا میں موجود ظلم خدا کی طرف سے نہیں بلکہ انسان کے اپنے اختیار کے غلط استعمال سے پیدا ہوتا ہے۔ مزید برآں، مذہب کی نظر میں یہ دنیا ”جنت” نہیں بلکہ ”امتحان گاہ” ہے جہاں تکلیف اور بیماری ایک عارضی آزمائش ہیں۔ جاوید اختر کا یہ طنز کہ ”خدا سے بہتر تو وزیر اعظم نریندرا مودی ہیں”، ان کی فلسفیانہ کم مائیگی کا عکاس ہے کیونکہ ایک فانی اور محدود انسان کا موازنہ ابدی خالق سے کرنا منطقی مغالطہ ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ الحاد کے پاس مظلوم کے لیے سوائے مایوسی کے کچھ نہیں؛ ملحد کے نزدیک مرنے کے بعد ظالم اور مظلوم دونوں مٹی ہو جائیں گے اور کوئی انصاف نہیں ہوگا، جبکہ خدا کا وجود ہی ”حتمی انصاف” کی امید دلاتا ہے کہ آخرت میں ذرے ذرے کا حساب ہوگا۔ خدا کے ہونے کا تصور ہر رنج اور آزمائش کو ایک بڑے معنوی پس منظر میں رکھ دیتا ہے، جبکہ خدا کا انکار انسان کی پوری حیات اور اس کے انجام دونوں کو محض بیربط حادثات کی لڑی بنا دیتا ہے۔
آخر میں، انسانی ”شعور” (Consciousness) ایک ایسا قلعہ ہے جسے مادی سائنس آج تک فتح نہیں کر سکی۔ دماغ کے بے حس اور بے جان ایٹم مل کر یہ احساس کیسے پیدا کر سکتے ہیں کہ ”میں ہوں”؟ محبت، امید، خوف اور موسیقی کا لطف؛یہ سب کیفیات مادی کیمیکل ری ایکشنز سے ماورا ہیں۔ اگر ہم محض مادے کا مجموعہ ہوتے تو ہماری سوچ بھی کمپیوٹر کی طرح میکانیکی اور جبری ہوتی اور ہمیں سچائی تلاش کرنے کا کوئی اختیار نہ ہوتا۔ ہماری عقل اور استدلال کا معتبر ہونا اسی وقت ممکن ہے جب ہم یہ مانیں کہ ہماری عقل ایک ”برتر عقل” کا پرتو ہے، نہ کہ اندھے ارتقائی عمل کا اتفاقی نتیجہ۔
مختصر یہ کہ نئی دہلی میں ہونے والا یہ مباحثہ دراصل ”اندھے مادے” اور ”روشن حقیقت” کا مکالمہ تھا جس میں جاوید اختر صاحب نے اپنی گفتگو میں جذبات، طنز اور عوامی خطابت کے رنگ تو بھرے، لیکن وہ ان بنیادی فلسفیانہ اور سائنسی سوالات کا کوئی ٹھوس جواب نہ دے سکے جو آج کا جدید علم خدا کے وجود کے حق میں کھڑے کر رہا ہے۔ الحاد بظاہر ”آزادیِ فکر” کا نعرہ لگاتا ہے لیکن درحقیقت یہ فکری تضادات، اخلاقی لاقانونیت اور مایوسی (Nihilism) کا راستہ ہے۔ خدا کو ماننا محض پرانی روایت نہیں بلکہ یہ کائنات کی واحد ”معقول توجیہ” (Rational Explanation) ہے۔ دلیلِ امکان ہو یا کائنات کی فائن ٹیوننگ، ڈی این اے کی پیچیدہ زبان ہو یا انسانی ضمیر کی آفاقی آواز؛یہ سب مل کر ایک ہی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اس کائنات کا کوئی خالق، مالک اور مدبر ہے۔ مفتی شمائل ندوی کے دلائل نے یہ ثابت کیا کہ ایمان اندھا نہیں ہوتا، بلکہ ایمان تو عقل کی آنکھ کھول دیتا ہے، اور ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہم تعصب کی عینک اتار کر کائنات کی ان نشانیوں پر غور کریں جو ہر لمحہ پکار رہی ہیں کہ ” نہیں ہے کوئی معبودِ حق سوائے اللہ کے” ۔
=============

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے