कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

زوال پذیر جمہوریتیں اور عالمی امن کا بحران

تحریر: ابو خالد القاسمی، فاضل دارالعلوم دیوبند

جمہوریت ایک ایسا طرزِ حکومت ہے جس کا بنیادی اصول عوام کی شراکت، مساوات، آزادی، اور عدل و انصاف پر مبنی ہوتا ہے۔ اگر جمہوریت اپنی حقیقی روح کے ساتھ نافذ ہو، تو یہ عوام کی بہتری، انسانی حقوق کے تحفظ، اور اجتماعی ترقی کی ضامن ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے انسانوں نے اسے اپنے خوابوں کی حکومت کے طور پر اپنایا ہے۔
ابراہم لنکن نے جمہوریت کی نہایت بلیغ تعریف ان الفاظ میں کی تھی:
جمہوریت عوام کی حکومت، عوام کے ذریعہ، عوام کے لیے”
لیکن افسوس کہ آج جمہوریت کی عملی صورت اس اعلیٰ تصور سے کوسوں دور جا چکی ہے۔ اب جمہوریت نام ہے محض انتخابات، سیاسی نعروں، ووٹ بینک، اور طاقت کے حصول کے لیے عوام کو استعمال کرنے کا۔ حقیقی جمہوری اقدار دم توڑ چکی ہیں، عوامی رائے کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے، اور حکومتیں مخصوص طبقے یا پارٹی کے مفادات کی محافظ بن چکی ہیں۔
علامہ اقبال کی پیش گوئی۔
علامہ اقبالؒ نے مغرب کی جمہوریت کے باطن کو بہت پہلے بھانپ لیا تھا۔ وہ کہتے ہیں:
جمہوریت اک طرزِ حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گِنا کرتے ہیں، تو لا نہیں کرتے
یہی حال آج کے بیشتر جمہوی ممالک کا ہے۔ ووٹ صرف عددی گنتی بن کر رہ گیا ہے، نہ کہ عوامی فلاح کی نمائندگی۔
جمہوریت سے ہٹ کر ابھرتی ہوئی دو خطرناک طرز حکومتیں-
آج دنیا میں دو غیر جمہوری طرز حکومتیں مسلسل بڑھتی جا رہی ہیں، جو نہ صرف بنیادی انسانی حقوق پر حملہ آور ہیں بلکہ عالمی امن کے لیے بھی شدید خطرہ بن چکی ہیں:
١. اتھارٹیریئنزم (Authoritarianism)
یہ طرز حکومت ایک مضبوط حکمران یا محدود طبقے کے ہاتھوں میں مکمل طاقت کے ارتکاز کا نام ہے۔ اس میں:
شفاف انتخابات کا فقدان ہوتا ہے
سیاسی آزادی محدود ہوتی ہے
اختلاف رائے کو دبایا جاتا ہے
حکومت عوام کی آواز سے کٹ کر محض طاقت کے زور پر فیصلے مسلط کرتی ہے
یہ درحقیقت "مطلق العنانیت” (ڈکٹیٹرشپ) کی جدید شکل ہے، جسے بعض ممالک خوشنما جمہوری لبادہ اوڑھا کر نافذ کرتے ہیں۔
٢. ٹوٹلٹریئنزم (Totalitarianism)
یہ اتھارٹیریئنزم کی سخت تر شکل ہے، جہاں:
حکومت صرف سیاست پر ہی نہیں، بلکہ تعلیم، میڈیا، معیشت، عقائد، حتیٰ کہ نجی زندگی پر بھی مکمل کنٹرول رکھتی ہے۔
ایک شخصیت پرستی کا ماحول ہوتا ہے
پروپیگنڈہ، سنسرشپ اور سخت نگرانی کے ذریعہ ہر سوچ اور ہر آواز کو قابو میں رکھا جاتا ہے
روس، چین اور دیگر ممالک کی مثالیں۔
دنیا کی کئی بڑی طاقتیں اب بظاہر جمہوریت کی دعوے دار ہیں، لیکن عملی طور پر ان کا نظام انہی دو غیر جمہوری طرز حکومتوں کے تابع ہے۔
اگرچہ روس آئینی طور پر ایک وفاقی نیم صدارتی جمہوریہ ہے، مگر عملی طور پر وہاں کی حکومت ایک محدود طبقہ چلا رہا ہے۔
ولادیمیر پوتن 1999 سے مسلسل اقتدار میں ہیں
میڈیا پر مکمل کنٹرول ہے
انتخابات ہوتے تو ہیں مگر آزاد و شفاف نہیں
عوام کی رائے کو درخورِ اعتنا نہیں سمجھا جاتا، جیسا کہ یوکرین جنگ کے موقع پر واضح ہوا
چین میں کمیونسٹ پارٹی کے زیرِ سایہ ٹوٹلٹریئنزم پوری شدت سے رائج ہے:
میڈیا اور تعلیم پر مکمل نگرانی
انٹرنیٹ پر سخت پابندیاں
اقلیتوں بالخصوص مسلم اویغور قوم پر جبر
حکومت مخالف آوازوں کو سختی سے دبانا
جمہوریت کا اندرونی زوال:
جمہوریت کے انحطاط کی ایک بڑی وجہ اس کا داخلی استبداد ہے، جو بسا اوقات "جمہوری آمریت” (Democratic Autocracy) کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
یہ نظام عوام کے ووٹ سے وجود میں آتا ہے، لیکن پھر آہستہ آہستہ تمام اختیارات کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ یہی کچھ ترکی، ہنگری، بھارت، اور دیگر کئی ممالک میں دیکھا جا رہا ہے۔
جمہوریت کا مصنوعی چہرہ اور عالمی امن کو خطرہ:
جب جمہوریت مخصوص طبقے کے مفاد تک محدود ہو جائے
اقلیتوں کے حقوق پامال کرے
اظہار رائے کو دبائے
صرف طاقت اور پروپیگنڈے پر قائم ہو
تو یہ جمہوریت نہیں رہتی، بلکہ جبر کا نیا نام بن جاتی ہے۔
ایسی حکومتیں اندرونی بغاوت، معاشرتی عدم استحکام، نسلی و مذہبی منافرت، اور عالمی سطح پر ٹکراؤ کو جنم دیتی ہیں۔
جیسے:
روس-یوکرین جنگ
چین کی تائیوان پالیسی
بھارت میں اقلیتوں کی پالیسی
یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ جمہوریت اگر حقیقی اقدار سے خالی ہو تو وہ صرف ایک نقاب ہوتی ہے، جس کے پیچھے ظلم، فسطائیت اور مفاد پرستی چھپی ہوتی ہے۔
اہم کتب کی روشنی میں جمہوریت کا تجزیہ۔
چند معروف کتابیں جو موجودہ جمہوریتوں کے زوال کی حقیقت کو بے نقاب کرتی ہیں:
1. To Kill a Democracy
بھارت کے جمہوری نظام پر تنقیدی جائزہ
مصنفین: دبیاشے باسو، آرتی جیرت
2. How Democracies Die
مصنفین: اسٹیون لیوسٹکی اور ڈینیل زبلات
وضاحت کہ جمہوریتیں کیسے اندر سے کھوکھلی ہو کر تباہ ہوتی ہیں
3. Twilight of Democracy
مصنفہ: این اپلیبام
جمہوریت کے تاریک مستقبل کی عکاسی
آج دنیا کو دو راستوں میں سے ایک کو چننا ہے:
یا تو اصل جمہوری اقدار کو اپنایا جائے: عدل، مساوات، شفافیت، اور عوامی نمائندگی
یا پھر اقتدار، جبر، اور قوم پرستی کے ان راستوں کو جاری رکھا جائے جو جنگ و ظلم کو جنم دیتے ہیں
اگر عالمی برادری نے جمہوریت کو اس کی روح کے ساتھ نہ اپنایا، تو دنیا ایک نئے فاشزم کی طرف بڑھ رہی ہے، جس میں نہ فرد محفوظ ہوگا نہ قوم۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے