कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

زبانِ مادری پر فخر — مولانا ابو الکلام آزاد کے نظریے کی روشنی میں

از قلم: ڈاکٹر اسما بنتِ رحمت اللہ

قوموں کی پہچان ان کی زبان، تہذیب اور فکر سے ہوتی ہے۔ زبان نہ صرف اظہار کا وسیلہ ہے بلکہ یہ انسان کی فکری و جذباتی شناخت کا آئینہ بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو قومیں اپنی زبانوں کی حفاظت کرتی ہیں، وہ اپنی تہذیب، ثقافت اور علمی میراث کو بھی محفوظ رکھتی ہیں۔ مولانا ابو الکلام آزاد جیسے عبقری مفکر اور رہنما نے ہمیشہ زبانِ مادری کی عظمت و تقدیس کو اجاگر کیا اور اس کے ذریعے قومی وقار کا احساس دلایا۔
یہ واقعہ معروف ہے کہ جب وائس رائے ہند مولانا آزاد سے ملاقات کے لیے ان کے گھر آئے، تو ان کے ساتھ ایک انگریزی مترجم بھی تھا۔ مولانا نے گفتگو اردو میں کی اور مترجم نے اسے انگریزی میں ترجمہ کرنے کی کوشش کی، مگر وہ صحیح طور پر مولانا کے الفاظ کا مفہوم ادا نہ کر سکا۔ اس پر مولانا نے تبسم کے ساتھ فرمایا:
> “اس طرح نہیں، اس طرح ہے۔”
گفتگو کے اختتام پر وائس رائے ہند نے حیرت سے پوچھا:
> “مولانا! آپ کو انگریزی آتی ہے، پھر آپ انگریزی میں گفتگو کیوں نہیں کرتے؟”
مولانا آزاد نے جو جواب دیا، وہ نہ صرف زبان کی عظمت بلکہ خودی اور قومی شعور کا اعلان تھا۔ انہوں نے فرمایا:
> “آپ لاکھوں میل دور اپنی زبان نہیں چھوڑتے، تو میں اپنے گھر میں اپنی زبان کیوں چھوڑ دوں؟”
یہ ایک سادہ مگر گہرے معنی رکھنے والا جواب تھا۔ اس میں خودداری، تہذیبی شعور، اور قومی زبان سے محبت کے وہ تمام جذبات پوشیدہ تھے جو ایک زندہ قوم کے لیے لازم ہیں۔
مولانا آزاد کے اس جواب میں یہ پیغام پوشیدہ ہے کہ زبانِ مادری محض رابطے کا ذریعہ نہیں بلکہ قوم کی روح ہے۔ اگر زبان کو پسِ پشت ڈال دیا جائے تو شناخت مٹنے لگتی ہے۔ افسوس کہ آج کے تعلیمی و معاشرتی ماحول میں بہت سے والدین اور طلبہ انگریزی کو برتری کی علامت سمجھ کر اپنی مادری زبانوں سے دوری اختیار کر رہے ہیں۔ یہی احساسِ کمتری رفتہ رفتہ ثقافتی غلامی میں بدل جاتی ہے۔
مولانا آزاد کی یہ سوچ آج بھی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ وہ تعلیم کے اعلیٰ معیار کے ساتھ ساتھ زبانِ اردو کے عاشق تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ جب تک تعلیم اپنی زبان میں نہ ہو، علم کا اصل ذائقہ حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ چنانچہ انہوں نے ہمیشہ قومی زبان کو ذریعہ تعلیم بنانے کی حمایت کی۔
آج جب ہم عالمی سطح پر ترقی کی دوڑ میں شامل ہیں، تو ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ترقی اپنی زبان چھوڑ کر نہیں بلکہ اپنی زبان کے ساتھ آگے بڑھنے سے ممکن ہے۔
چین، جاپان، اور فرانس جیسے ممالک اس بات کی زندہ مثال ہیں کہ جنہوں نے اپنی زبان کو اپنایا، وہی دنیا میں سرخرو ہوئے۔
لہٰذا ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنی اردو زبان سے محبت کریں، اسے اپنی شناخت اور فخر سمجھیں، اور اپنی نئی نسل کو یہ احساس دلائیں کہ زبان کی حفاظت دراصل اپنی تہذیب، ایمان اور تاریخ کی حفاظت ہے۔
مولانا آزاد کے اس تاریخی جملے کو یاد رکھیے:
> “میں اپنی زبان کیسے چھوڑ دوں؟”
یہ جملہ دراصل ہمیں جھنجھوڑتا ہے کہ ہم اپنی شناخت کے محافظ بنیں، نہ کہ مقلدِ غیر۔
مولانا ابو الکلام آزاد کا یہ واقعہ محض ایک مکالمہ نہیں بلکہ قومیت، خودداری اور لسانی خود شعوری کا اعلان ہے۔ جو قوم اپنی زبان سے محبت کرتی ہے، وہ کبھی غلام نہیں رہتی۔ ہمیں چاہیے کہ ہم بھی اپنی زبان، اپنی ثقافت، اور اپنے علمی ورثے پر اسی طرح فخر کریں جس طرح مولانا آزاد نے کیا۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے