कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

روزے کے فوائد طبّ اور سائنسی نظریات کی روشنی میں

تحریر: ابو خالد قاسمی

اہلِ ایماں کے لئے ہے یہ مسرت کا پیام
آگیا سرچشمہء فضلِ خدا ماہِ صیام
روح پرور ہے یہ تسبیح و تلاوت کا سماں
کررہے ہیں سب بقدرِ ظرف اس کا اہتمام
مسجدیں فضلِ خدا سے مطلعِ انوار ہیں
پی رہے ہیں اہلِ ایماں بادہء وحدت کا جام
بارگاہِ رب العزت میں سبھی ہیں سجدہ ریز
دید کے قابل ہے یہ قانونِ قدرت کا نظام
طالبِ فضلِ خدا ہیں بچے بوڑھے اور جوان
بھوکے پیاسے ہیں مگر پھر بھی نہیں ہیں تشنہ کام
ماہِ رمضاں میں یہ افطار و سحر کا انتظار
ہے نشاطِ روح کا ساماں برائے خاص و عام
پیش خیمہ عید کا ہے ماہِ رمضاں اس لئے
ہو مبارک سب کو برقی اِس کا حُسنِ اختتام

لَكَ الأَرْوَاحُ.. يَا رَمَضَانُ تَهْفُو
وَتَغْسِلُ النُّفُوسَ.. وَتَسْتَقِيمُ
لَئِنْ.. أَقْبَلْتَ.. مُشْتَاقًا.. إِلَيْنَا
فَعَلَى قُلُوبِنَا شَوْقٌ عَظِيمٌ
روزہ اسلام کی ایک عظیم عبادت ہے، جس کے ذریعہ بندہ اپنے رب کا قرب حاصل کرتا ہے۔ روزہ جہاں روحانی فیوض و برکات کا سرچشمہ ہے، وہیں انسانی جسم کے لیے ایک بے مثال علاج بھی ہے، جسے جدید سائنس نے بھی پوری وقعت کے ساتھ تسلیم کیا ہے۔ انسان کا معدہ، جگر، دل، اعصابی نظام اور خون کی روانی پورا سال مسلسل محنت میں مشغول رہتے ہیں۔ روزہ اُن مصروف اعضاء کو عارضی آرام مہیا کرتا ہے، جس کے اثرات جسم کے ہر ہر عضو پر حیرت انگیز طور پر ظاہر ہوتے ہیں۔ قدیم طبی حکیموں سے لے کر جدید میڈیکل سائنس تک سب کا اتفاق ہے کہ روزہ جسم، ذہن اور دماغ پر نہایت مثبت اثرات ڈالتا ہے۔
أتى رمضانُ مزرعةَ العبادِ
فأدِّ حقوقَه قولًا وفعلًا
فمَن زرعَ الحبوبَ وما سقاها
تأوَّهَ نادمًا يومَ الحصادِ
لتطهيرِ القلوبِ منَ الفسادِ
وزادِكَ فاتَّخِذْهُ للمعادِ
ذیل میں روزے کے چند نمایاں طبّی اور سائنسی نظریات کی روشنی میں فوائد پیش کیے جاتے ہیں:
(١). جگر کے لیے روزے کے فوائد
ماہرینِ طب کہتے ہیں کہ سال میں کم از کم ایک مہینہ نظامِ ہضم کو آرام دینا نہایت ضروری ہے۔ روزہ رکھنے سے معدہ آرام پاتا ہے، اور یہ آرام براہ راست جگر کے لیے مفید ثابت ہوتا ہے، کیونکہ معدے کی ساری تھکن اور دباؤ سب سے پہلے جگر ہی پر پڑتا ہے۔
عیسائی محقق Allan Cott اپنی کتاب “Fasting as a Way of Life” میں لکھتے ہیں:
Fasting brings a wholesome physiological rest for the digestive tract and central nervous system and normalizes metabolism.
یعنی روزہ نظامِ ہضم اور مرکزی اعصابی نظام کو نہایت صحت بخش آرام دیتا ہے، اور جسم کے میٹابولزم کو اعتدال پر لاتا ہے۔
(٢). دل کے لیے فوائد
روزے کے نتیجے میں خون کی گردش کچھ حد تک کم ہو جاتی ہے، جس سے دل کو بے شمار فائدے پہنچتے ہیں۔ خون کی روانی ہموار ہوتی ہے، دل پر دباؤ کم ہوتا ہے، اور امراضِ قلب کا خطرہ نمایاں طور پر گھٹ جاتا ہے۔
(٣). پھیپھڑوں کی کارکردگی میں اضافہ
پھیپھڑوں کا اصل کام خون کی صفائی ہے۔ روزے کی برکت سے خون میں جمع شدہ فاسد مادّے تیزی سے خارج ہوتے ہیں، اور پھیپھڑوں کی کارکردگی عام حالات کے مقابلے مزید مضبوط ہو جاتی ہے۔
(٤). خون کے سرخ خلیات میں اضافہ
طبی ماہرین کے مطابق صرف ۱۲ دن کے روزے سے خون کے سرخ خلیات (RBC) کی تعداد پانچ لاکھ کی کمی سے بڑھ کر تقریباً 36 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔
امریکہ کی کیلی فورنیا یونیورسٹی کے ماہرِ جیرونٹولوجی Professor Valter Longo کی تحقیق کے مطابق صرف تین دن کے لگاتار روزے سے جسم کا مدافعتی نظام ازسرِ نو تشکیل پاتا ہے، نئے سفید خلیات بنتے ہیں، اور قوتِ مدافعت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔
(٥). جسم سے زہریلے مادّوں کا اخراج
روزہ شروع ہوتے ہی جسم میں جمع شدہ تمام زہریلے اور نقصان دہ مادّے تیزی سے خارج ہونے لگتے ہیں۔ خون میں چینی کے مضر اثرات کم ہوتے ہیں، بلڈ پریشر نارمل ہوتا ہے، دل کی دھڑکن متوازن رہتی ہے، اور جسم میں جمع شدہ چربی گلوکوز میں تبدیل ہو کر توانائی کا ذریعہ بنتی ہے۔
میڈیکل محقق James Balch, M.D. اپنی کتاب “Prescription for Nutritional Healing” میں لکھتے ہیں:
Relieved of the work of digesting foods, fasting permits the body to rid itself of toxins while facilitating healing. Fasting regularly gives your organs a rest and helps reverse the ageing process for a longer and healthier life.
یعنی روزے کی حالت میں جسم ہضم کے عمل سے فارغ ہو کر آسانی سے زہریلے مادّے خارج کرتا ہے، شفا کے عمل کو تیز کرتا ہے، اعضاء کو آرام فراہم کرتا ہے اور بڑھاپے کے عمل کو سست کر دیتا ہے۔
(٦). کولیسٹرول کم کرنے میں روزے کی اہمیت
متحدہ عرب امارات کے ماہرِ امراضِ قلب کے مطابق روزہ رکھنے سے جسم میں چربی بننے کا عمل کم ہوتا ہے، کولیسٹرول اعتدال میں رہتا ہے اور ہارٹ اٹیک کا خطرہ نہایت حد تک کم ہو جاتا ہے۔
(٧). ذہنی صلاحیت میں اضافہ
امریکی ماہرینِ نیوروسائنس کا کہنا ہے کہ روزے کے دوران جسم کچھ ایسے مفید خلیات تیار کرتا ہے جو دماغی کارکردگی کو کئی گنا بڑھا دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں توجہ، یادداشت اور تخلیقی صلاحیتیں بہتر ہو جاتی ہیں۔
ترک سائنسداں Dr. Haluk Nurbaki اپنی کتاب “Kur’an-ı Kerim ve Modern İlimler” میں لکھتے ہیں:
روزے کا سب سے بڑا اثر خون کی نالیوں پر پڑتا ہے، کیونکہ خون میں جمع شدہ ٹھوس ذرات شریانوں کو کمزور کرتے ہیں۔ روزے کے ذریعے یہ ذرات تحلیل ہو جاتے ہیں، چربی جمنے کا امکان ختم ہوتا ہے، اور شریانوں کے سکڑنے اور بند ہونے کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔
(٨). عالمی طبی تحقیق اور مشاہدات
جرمنی، امریکہ اور برطانیہ کی طبی ٹیموں نے رمضان المبارک میں مسلم ممالک میں تحقیق کر کے ثابت کیا کہ:
نماز کی زیادتی،
بار بار وضو،
معتدل غذا
ان سب کی وجہ سے نہ صرف ناک، کان اور گلے کی بیماریاں کم ہوتی ہیں بلکہ معدے، جگر، اعصاب اور دل کے امراض بھی نمایاں طور پر گھٹ جاتے ہیں۔
سکندرِ اعظم اور ارسطو دونوں نے طاقت، کارکردگی اور طویل عمر کے لیے فاسٹنگ کو ضروری قرار دیا ہے۔
سکندر اعظم کا قول ہے:
جو شخص دن میں صرف دو وقت کھانا کھاتا ہے، وہی پرسکون اور صحت مند زندگی گزارتا ہے۔
مہاتما گاندھی کا روزہ بھی مشہور ہے۔ وہ کہتے تھے:
انسان زیادہ کھا کر اپنے جسم کو تکلیف دیتا ہے؛ اگر صحت مند اور فعال زندگی چاہیے تو کم کھانا چاہیے اور روزہ رکھنا چاہیے۔
(رسالہ داستانِ گاندھی، دہلی)
(٩). جدید سائنسی تحقیق:
روزہ بہترین بنیادِ صحت
جدید طب کے مطابق روزہ جسم کی اندرونی صفائی کرتا ہے، نظامِ ہضم مضبوط کرتا ہے، فاسد مادّے خارج کرتا ہے اور انسان کو زیادہ فعال حالت میں واپس لاتا ہے۔
مشہور روسی پروفیسر نکولائیو بیلوی اپنی کتاب “الجموع من أجل الصحة” میں لکھتے ہیں:
چار سے چھ ہفتے تک ہر انسان کے لیے کھانے سے اجتناب کرنا اور روزہ رکھنا انتہائی ضروری ہے، تاکہ وہ اپنی پوری زندگی صحت و تندرستی کے ساتھ گزار سکے۔
(الریان فی فقہ الصیام، ص 93)
مشہور مصنف نجيب كيلاني لکھتے ہیں کہ امریکہ کے ممتاز ڈاکٹر Phadon McFaroun مختلف امراض کا علاج صرف روزے کے ذریعے کرتے تھے۔
اُن کا بیان ہے:
روزے کے ذریعے شفا مختلف امراض کی نوعیت کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے… جسم میں زہریلے اثرات جمع ہو جاتے ہیں… روزہ رکھنے سے یہ مضر اثرات ختم ہو جاتے ہیں، اور وزن بھی متوازن رہتا ہے۔
عربی کتاب “روائع الإعجاز في الوضوء والصلاة والصوم” میں بتایا گیا ہے کہ صرف تین دن کے روزے سے جسم میں حیرت انگیز تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں اور اس میں کوئی جسمانی نقصان نہیں پایا جاتا۔
محقق Halbrook کہتے ہیں:
روزہ صحت کی ضمانت ہے۔
ہارورڈ یونیورسٹی کی تحقیق
سعودی عرب کے مجلہ Ahlan Wasahlan (فروری 1996) کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر اسامہ قندیل (Harvard Medical School) نے کینسر اور ایڈز کے مریضوں پر روزے کے اثرات کا تجرباتی مطالعہ کیا۔
نتیجہ حیرت انگیز تھا:
جن کینسر مریضوں نے روزہ رکھا، اُن کے جسم میں Killer T-Cells کی تعداد بڑھ گئی۔
جنہوں نے روزہ نہیں رکھا ان میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ایڈز کے مریضوں اور صحت مند افراد میں بھی یہی نتیجہ سامنے آیا: روزہ رکھنے والوں میں Helper T-Cells میں نمایاں اضافہ ہوا، جبکہ نہ رکھنے والوں میں کچھ بھی نہیں بدلا۔
ڈاکٹر قندیل کہتے ہیں:
Helper T-Cells انسانی جسم کے دفاعی نظام کے اصل “Field Marshal” ہیں۔
Qandil, Usama. (February 1996). Ahlan Wasahlan, pg. 73
حیوانات اور نباتات میں روزے کا نظام:
یورپی کیتھولک مصنف ڈاکٹر جو فری اپنی کتاب “Fasting” میں حیرت انگیز حقائق ذکر کرتے ہیں:
روزہ صرف انسان کا عمل نہیں، بلکہ پوری فطرت میں اس کے آثار موجود ہیں۔
سردیوں میں بے شمار جنگلی جانور خوراک کی عدم دستیابی کے باعث قدرتی روزہ رکھتے ہیں۔
پرندے، سانپ اور دیگر جانور Hibernate ہو کر مکمل فاسٹنگ کے ذریعے اپنی جسمانی تعمیرِ نو کرتے ہیں۔
پرندوں کے پر جھڑ کر نئے پر نکل آتے ہیں۔
سانپ کی پرانی کھال اتر کر نئی جلد بن جاتی ہے۔
سردیوں میں درخت بھی “روزہ” رکھتے ہیں: پانی نہیں پاتے، پتے جھڑ جاتے ہیں؛ بہار آتے ہی نئی کونپلیں، پتے اور پھول نمودار ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر فری کا نتیجہ:
انسان کو بھی ہر سال روزہ ضرور رکھنا چاہیے—یہ صحت، قوت اور جوانی کے لیے ناگزیر ہے۔
وہ مزید حیرت سے لکھتے ہیں:
مسلمان سالانہ تقریباً 40 روزے رکھتے ہیں—رمضان کے 30 اور شوال کے 6—جو جدید تحقیق کے مطابق بالکل اُتنا ہی ہے جتنا صحت کے لیے سب سے موزوں قرار دیا جاتا ہے۔
روزہ اور دماغی امراض
جو لوگ جوانی میں باقاعدگی سے روزہ رکھتے ہیں، بڑھاپے میں اُن میں دماغی بیماریوں کا امکان بہت کم رہ جاتا ہے۔
امریکہ کے شہر بالتیمور میں واقع National Institute of Aging کے سربراہ Dr. Mark P. Mattson نے اپنی لیبارٹری میں حیوانوں پر تجربات سے ثابت کیا ہے کہ روزہ:
الزائمر (Alzheimer’s)
پارکنسن (Parkinson’s)
اور دیگر دماغی امراض
سے بچاؤ میں مؤثر کردار ادا کرتا ہے۔
ڈاکٹر مارک میٹسن کہتے ہیں:
Reducing your calorie intake could help your brain… intermittent fasting appears to be a crucial element in protecting the brain.
(McKie, Robin. 18 February 2012 guardian.co.uk)
بوسنیا کے عظیم مفکر علی عزت بیگووچ اپنی کتاب “Islam Between East and West” (امریکہ، 1994) میں لکھتے ہیں:
روزہ صرف عبادت کا مسئلہ نہیں، بلکہ ایک سماجی و تہذیبی فریضہ ہے۔
مغربی طبی ماہر Dr. Elson Haas فرماتے ہیں:
Fasting is the single greatest healing therapy.
(روزے کے روحانی اور طبّی فوائد، ڈاکٹر گوہر مشتاق، ص 29)
الغرض جدید سائنسی تحقیقات، طبی تجربات اور مشاہدات سب اس حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں کہ روزہ انسان کی جسمانی و ذہنی صحت کے لیے نہایت مفید ہے۔ یہ نہ صرف جسم سے مضر مادّے خارج کرتا ہے، بلکہ قوتِ مدافعت بڑھاتا ہے، دماغی کارکردگی بہتر کرتا ہے، اور متعدد دائمی بیماریوں سے حفاظت فراہم کرتا ہے۔
روزہ رکھنے سے:
جسم فعال
ذہن بیدار
اور صحت متوازن ہو جاتی ہے۔
یہ سب اسلام کے فطری و سائنسی احکام کی سچائی کا روشن ثبوت ہے۔
قارئین کرام! اب آپ خود ہی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اسلامی تعلیمات اور احکامات میں کس قدر خوبصورتی اور جامعیت ہے کہ ہر ہر عبادت کو اگر دیکھا جائے تو اس میں ایک تو بحیثیت عبادت خداوند متعال کی خوشنودی مضمر ہے ، مزید انسانی صحت کے لیے بھی بے حد مفید ہے ۔ تو کیوں نہ ہم اسلامی تعلیمات کو سینے سے لگائیں ، اور جی جان لگا کر ان پر عمل کریں ۔ یہ سائنس اور جدید طبیات جن چیزوں کو آج بتا رہے کہ یہ فلاں چیز کے لیے مفید ہے ، فلاں چیز کے لیے مضر ہے ۔ اسلام نے روز اول سے ہی ان کی تعلیم دے دی ۔ یہ اسلام کی حقانیت کی روشن دلیل ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو سمجھنے کی توفیق ارزانی فرمائے اور ہر امر کی بجا آوری، ہر نہی سے اجتناب کلی کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ۔
ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں
راہ دکھلائیں کسے رہ رو منزل ہی نہیں
مراجع :
قرآنی آیات اور سائنسی حقائق — 105
داستانِ گاندھی، خاص نمبر، دہلی
الریان فی فقہ الصیام — 93
روائع الاعجاز فی الوضوء والصلاۃ والصیام
ماہنامہ اھلا و سہلا — فروری 1996، ص 73
روزے کے روحانی و طبّی فوائد — ڈاکٹر گوہر مشتاق، ص 29
نقوشِ رمضان — 84‌
اس موضوع کو مزید شرح و بسط کے ساتھ دیکھنے کے لیے احقر کا رسالہ ” نقوشِ رمضان” کا مطالعہ کریں!

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے