कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

روزہ اور صبر کی تعلیم

تحریر:بنتِ ابوالخیر اعظمیؔ

رمضان المبارک کا مقدس مہینہ انسان کی روحانی تربیت، اخلاقی تطہیر اور باطنی اصلاح کا عظیم ذریعہ ہے۔ اس ماہِ مبارک میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عبادت، توبہ، صبر اور شکر کے نور سے منور ہونے کا خاص موقع عطا فرماتا ہے۔ روزہ دراصل صرف بھوک اور پیاس برداشت کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک جامع عبادت ہے جو انسان کو صبر، برداشت، ضبطِ نفس اور اعلیٰ اخلاق کی تعلیم دیتی ہے۔
روزہ اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک رکن ہے جس کی فرضیت کا ذکر مقدس کتاب القرآن الکریم میں اس طرح آیا ہے کہ روزہ انسان کو تقویٰ کی روش پر گامزن کرتا ہے۔ روزہ رکھنے والا شخص اللہ کی رضا کی خاطر اپنی خواہشات کو محدود کر لیتا ہے اور نفس کی سرکشی پر قابو پانا سیکھتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ روزہ انسان کے اندر صبر کی وہ قوت پیدا کرتا ہے جو زندگی کی مشکلات میں اسے ثابت قدم رکھتی ہے۔
صبر انسانی زندگی کا سب سے حسین اور طاقتور وصف ہے۔ صبر کا مطلب صرف تکلیف برداشت کرنا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہتے ہوئے حالات کا سامنا کرنا ہے۔ روزہ انسان کو یہی سبق دیتا ہے کہ جب وہ حلال کھانے پینے کو بھی ایک مقررہ وقت تک چھوڑ سکتا ہے تو پھر وہ حرام اور ناپسندیدہ اعمال سے کیوں نہیں بچ سکتا۔ اس طرح روزہ نفس کی اصلاح کا بہترین مدرسہ ثابت ہوتا ہے۔
رمضان کا ماحول انسان کے دل کو نرم اور روح کو بیدار کرتا ہے۔ جب روزہ دار بھوک اور پیاس کی شدت محسوس کرتا ہے تو اسے غریب اور محتاج انسانوں کی تکلیف کا احساس ہوتا ہے۔ اس احساسِ ہمدردی سے معاشرے میں محبت، اخوت اور بھائی چارے کی فضا پیدا ہوتی ہے۔ روزہ دراصل انسان کو یہ تعلیم دیتا ہے کہ وہ صرف اپنے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے جینا سیکھے۔
صبر کی تعلیم روزے کا ایک عظیم پیغام ہے۔ زندگی میں مشکلات، بیماری، غربت اور آزمائشیں انسان کا امتحان ہوتی ہیں۔ روزہ دار جب اللہ کی خاطر صبر کا راستہ اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے درجات بلند فرما دیتا ہے۔ صبر کرنے والوں کے لیے قرآن مجید میں بشارت دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ صبر انسان کو ذہنی سکون اور قلبی اطمینان عطا کرتا ہے اور اس کے دل کو نورِ ایمان سے روشن کرتا ہے۔
روزہ انسان کو اخلاقی بلندی بھی عطا کرتا ہے۔ روزہ دار کو غیبت، جھوٹ، لڑائی جھگڑے اور بدزبانی سے بچنے کی خاص تاکید کی گئی ہے۔ اگر کوئی شخص روزہ رکھ کر بھی اخلاقی برائیوں میں مبتلا رہے تو اس کا روزہ روحانی اعتبار سے مکمل نہیں ہوتا۔ روزہ انسان کی زبان، نگاہ اور دل سب کو پاکیزگی کی طرف لے جاتا ہے۔
روزہ انسان کے اندر شکر گزاری کا جذبہ بھی پیدا کرتا ہے۔
جب انسان کچھ دیر کے لیے اپنی پسندیدہ چیزوں سے دور رہتا ہے تو اسے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی قدر معلوم ہوتی ہے۔ پانی کا ایک گھونٹ اور روٹی کا ایک لقمہ بھی اسے اللہ کی عظیم نعمت محسوس ہونے لگتا ہے۔ یہی احساس انسان کو ناشکری سے بچاتا ہے اور شکر کے راستے پر گامزن کرتا ہے۔
صبر اور روزہ دونوں ایک دوسرے کے لازم و ملزوم ہیں۔ روزہ صبر کی عملی تربیت ہے اور صبر ایمان کی مضبوطی کا ذریعہ ہے۔ جو انسان روزے کی حالت میں اپنے نفس پر قابو رکھتا ہے وہ زندگی کے دیگر معاملات میں بھی ضبطِ نفس کی دولت حاصل کر لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رمضان المبارک کو روحانی اصلاح کا موسمِ بہار کہا جاتا ہے۔
روزہ انسان کو اللہ تعالیٰ کی قربت عطا کرتا ہے کیونکہ روزہ خاص طور پر اللہ کے لیے ہوتا ہے اور اس کا اجر بھی اللہ خود عطا فرماتا ہے۔ روزہ دار جب سحر و افطار کے درمیان اللہ کو یاد کرتا ہے تو اس کا دل نورِ ایمان سے روشن ہو جاتا ہے۔ صبر کی یہی کیفیت انسان کو روحانی بلندیوں تک پہنچا دیتی ہے۔
روزہ صرف ایک عبادت نہیں بلکہ زندگی گزارنے کا ایک مکمل ضابطہ ہے۔ روزہ انسان کو صبر، برداشت، اخلاق، ہمدردی اور تقویٰ کی اعلیٰ تعلیم دیتا ہے۔ جو شخص رمضان کے پیغام کو سمجھ لے وہ اپنی دنیا اور آخرت دونوں کو سنوار سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں روزے کی حقیقی روح سمجھنے، صبر کی دولت حاصل کرنے اور رمضان المبارک کی برکتوں سے فیضیاب ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے