कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

رودادِ جلسہ:یاد ِاقبال اور جشنِ ارتکاز افضل

منعقدہ مجلس انتظامی مدرسہ مدینۃ العلوم ناندیڑ

ناندیڑ: 26 اکتوبر(نمائندہ اعتبار):قدیم تعلیمی ادارہ مدینۃ العلوم ہائی اسکول ناندیڑ ثقافت ،تعلیم،ادب اور فنون لطیفہ کے مرکز کی حیثیت سے ہمیشہ سرگرم رہا ہے۔25 اکتوبر 2023 کادن ادارہ میںیاد ِاقبال اور جشنِ ارتکاز افضل کے عنوان سے ایک جلسہ رکھا گیا ۔یہ جلسہ ہمیں اپنے ماضی اور حال کی اُن مشہور شخصیات سے جوڑے رکھنے کا وسیلہ ہے جنہوں نے انسانی ذہن و فِکر پر رَوشن ترین نقوش چھوڑے ہیں۔اس طرح کے مواقع ہمیں یہ یاد دلاتے ہیں کہ ہم کسی بھی مشکلات کا سامنا کرنے کے اہل ہیں اور ہماراادبی و ثقافتی ورثہ ہمیں اپنے مقصدوں کے تعین میں رہنمائی کرتارہا ہے اور کرتا رہے گا۔
علامہ اقبال ایک بڑے اور معتبر شاعر اور فکری تصورات کے حامی تھے ۔ان کے اشعار اور فکریات نے ملی اور فکری تشکل کو ترویج دیا اور ان کا وِرثہ آج تک جاری ہے۔مذکورہ تقر یب مجلسِ انتظامی مدرسہ مدینۃ العلوم ناندیڑروزنامہ ورق تازہ ناندیڑ اور وارثانِ حرف وقلم اورنگ آباد کے اشتراک سے منعقد ہوئی۔یہ تقریب صبح 10 بجے سے اردو گھر ناندیڑ میں کثیر تعدادِ طلبہ و طالبات ٗ سرپرست و اساتذہ کی موجودگی میں دوپہر2بجے تک چلتی رہی۔ مہمان شرکا ء کی تقریروں سے سامعین کو علامہ اقبال اور ارتکاز افضل کے فکری اثاثے اور ان کی ادبی تخلیقات کی اہمیت کا علم حاصل ہوا اور ان دو شاندار شخصیتوں کے اندازِ فکر، شعری و نثری تخلیقات کو بہترطور پر سمجھنے میں مدد ملی۔
تلاوتِ قرآن کے بعد مجلس انتظامی مدرسہ مدینۃ العلوم کے صدر جناب شفیع احمد قریشی صا حب کے ہاتھوں صاحبِ جشن جناب ارتکاز افضل کی گلپوشی و شال پوشی کی گئی اورساتھ ہی صاحب جشن کو ادارہ کی جانب سے سند ِ اعزاز اور مومینٹوعطا کیا گیاعلاوہ ازیں اس موقع پر انھیں مقامی شاعر جناب علیم اسرار کی توصیفی نظم بھی نذر کی گئی ۔
جشنِ ارتکاز افضل پورے مراٹھواڑہ میں منائے جانے والے جشن کا ایک حصہ ہے ۔اس ضمن میں اورنگ آباد کی ادبی فورم وارثانِ حرف و قلم کی کاوشیں لائق تحسین ہیں کہ وہ اپنے پلیٹ فارم سے گزشتہ کئی برسوں سے عصرِ حاضر کی ادبی شخصیات کے ورثے کونئی نسل میں منتقل کرنے کا کام انجام دے رہی ہے ۔ وارثانِ حرف و قلم کے ذمہ دار جناب ابو بکر رہبر نے ارتکاز افضل کی ہمہ جہتی شخصیت کے نمایاں پہلووں کا تعارف کرایا اور محترم کو بہت احسن کلمات سے نوازا۔اسی طرح فورم کے ایک اور ذمہ دار جناب اختر لالہ نے جناب ارتکاز افضل سے اپنی والہانہ وابستگی کو نظم کی صورت میں سامعین کی سماعتوں تک پہنچایا۔
اس موقع کومزید یادگار بنانے کے لیے روزنامہ ورق تازہ ناندیڑ کے مدیر جناب محمد تقی نے علامہ اقبال اور جناب ارتکاز افضل پر اپنے اخبار کی ایک خصوصی اشاعت کا اجراء کیا اورارتکاز افضل سے اپنےدیرینہ مراسم کے عہد کو بڑی خوش اسلوبی سے بیان کرتے ہوئے خراج پیش کیا۔اسی طرح اُردوگھر کے منتظم اعلیٰ جناب شجاع کامل صاحب نے صاحبِ جشن سے اپنی والہانہ وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے اُن کے اخلاقی صفات و کردار کا ذکر کیااور ان کی فنی خوبیوںکی بھرپور ستائش کی۔
پروفیسر ڈاکٹر ارشاد احمد خان کے ذریعہ لکھا گیااُن کا ایک مقالہ بعنوا ن ڈاکٹر ارتکاز افضل کی تنقیدی بصیرتٗ جناب مسعود اختر صاحب کے ذریعے سامعین کی سماعتوںتک پہنچا ۔مقالہ کی تلخیص یہ تھی کہ جناب ارتکا افضل کی کتابیں حسب مراتب ٗ حسب مقدورٗ اور حسب ِ معمولٗ کےتمام مضامین اپنے اندرایک جہانِ معانی لئے ہوئے ہیں اوراس کی اہمیت اس لئے بھی بڑھ جاتی ہے کہ ایک مستندادیب کے قلم کی جنبش سے وجود میں آئے ہیں۔اس کتاب کے کئی اہم مضامین ایسے ہیں جن کو کسی بھی صورت میں نظرانداز نہیں کیاجاسکتاہے۔
یادِاقبال سیشن کی نظامت کے فرائض جناب حبیب مسعودنے انجام دئے۔ اس موقع پر جناب مسعود اختر صاحب نے علامہ اقبال کی شاعری کی بہت سی اہم خصوصیات کی طرف توجہ دلائی۔ دنیائے شعر و ادب میں علامہ اقبال کا انوکھا اور منفرد مقام ہے ٗ ان کےموضوعات کا تنوع ،اور اندازِ بیان یکسر نرالہ اور نیا ہے ۔ آپ مذہب اسلام کے سچے شیدائی ہیں ۔قرآن مجید آپ کی فکرکا نمایاں ترین منبع و مآخذ ہے کلام کی خوبی کے بابت صاحب مضمون فرماتے ہیں کہ ’’مسجدِ قرطبہ‘‘ اقبالؔ کی ایک ایسی مشہور و معروف نظم ہے جس میں اقبال نے دورِ حاضر یا عہدِ ماضی میں جہاں جہاں انقلابی تحریکیں عمل میں آئی ہیں ان کا ذکرپسندیدگی سے کیا۔ اقبال ملتِ اسلامیہ کی زندگی کے جمود کو توڑ کر اس میں زندگی کی نئی وسعتیں اور جدید قوتیں پیدا کرنے کے متمنی تھے۔ نظم کے ساتویں بند کےچند اشعار ملاحظہ فرمائیں۔
دیکھ چکا المنیؔ شورشِ اصلاحِ دیں
جس نے نہ چھوڑے کہیں نقشِ کہن کے نشاں
حرفِ غلط بن گئی عظمت پیر کنشت
اور ہوئی فکر کی کشتیٔ نازک رواں
چشمِ فرانسیس بھی دیکھ چکی انقلاب
جس سے دیگر گوں ہوا مغربیوں کا جہاں
ملتِ رومی نژاد کہنہ پرستی سے پیر
لذتِ تجدیدہ سے وہ بھی ہوئی پھر جواں
شیواجی کالج ہنگولی کے پروفیسر وشعبہ اُردو کے صدر ڈاکٹر محمد اقبال جاوید نےعلامہ اقبالؒ کےکلام میں تلمیحات کے استعمال کو فکر وفن کی خوبی قرار دیتے ہوئے اقبال کی جمالیاتی پہلو اور حسنِ سخن کی خوبصورت عکاسی کی ہے ۔تلمیحات سے علامہ اقبال کی دقیق بصیرت کا پتہ چلتا ہے۔ علامہ اقبال کی تلمیح میں تاریخی واقعاتٗ حوادث خصوصیت کے ساتھ پائے جاتے ہیں ان کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ کلام ِاقبال میں تلمیح کا مقصد تقویت معنی میں اضافہ کرنا اور قارئین سے اپنی شاعری کااثبات کراناہے۔
پروفیسر حسنین عاقب پوسد نے علامہ اقبالؔ پردو قومی نظریے کی حمایت کا الزام خلافِ حقیقت کے عنوان سےاپنا مقالہ پیش کیا ۔ انھوں نے علامہ اقبالؔ کو دو قومی نظریہ کا بانی اور قیامِ پاکستان کا ذمہ دار قرار دینے کوغیر منصفانہ و منفی پروپیگنڈہ کہا کہ انھوں نے کہا کہ اقبال ہندوستان کے اندر ایک اسلامی ہندوستان کے قیام کےمتمنی تھے ۔ ہندوستان کے ’اندر‘ سے مراد ہندوستان کے ٹکڑے کرکے یا اسے تقسیم کر کے ‘ نہیں بلکہ’ ہندوستان کی جغرافیائی، سیاسی اور معاشرتی سالمیت کو بر قرار رکھتے ہوئے، اسی ایک ملک میں مسلمانوں کے لیے ایک اسلامی ہندوستان قائم کیا جائے۔اقبالؔ کے اس خیال کواشرارکے ذریعے علاحدہ ریاست کی تشکیل کے مفہوم میں کشید کیا گیا ہے۔ انگریزی اخبار ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق۱۹۲۴ میں لالہ لاجپت رائےنے دو قومی نظریہ کو پیش کیا تھا، جس کا سب سے اہم خالق ہندو مہا سبھا کا مینو فیسٹو تھا۔
جناب ارتکاز افضل نے یاد اقبال کے ضمن میں اقبال کی اہم شعری اصطلاح ’’خودی‘‘سے اقبال کی مراد کیاہےاُسےسمجھانے کی کوشش کی ہے ۔انھوں نے بتایا کہ خودی سے مراد خود ستائی یا خود نمائی نہیں بلکہ خودی سے مراد خود شناسی ہے خود شناسی وہ اعلیٰ ترین انسانی صفات ہے جس کی بدولت انسان کو اشرف المخلوقات کے بلند درجہ پر فائز کیا گیا ہے۔ اس خودی کو پیدا کرنے کے لئے جذبۂ عشق ضروری ہے کیونکہ عشق ہی خودی کی تکمیل کرتا ہے اور دونوں اک دوسرے سے قوت حاصل کرتے ہیں۔
اقبال اک عہد شناس اور عہد ساز شاعر تھے۔ انھوں نے مشرق و مغرب کے سیاسی، تہذیبی، معاشرتی اور روحانی حالات کا گہرا مشاہدہ کیا تھا ۔انھوں نے محسوس کیا تھا کہ اعلیٰ انسانی قدروں کا جو زوال دونوں جگہ مختلف انداز میں انسانیت کو جکڑے ہوئے ہے اس کا حل ضروری ہے۔انھوں نے مغربی دانشوروں کے افکار پر جا بجا سخت گرفت کی ہے اور اس کے مقابلے میں مشرقی حکمت و فلسفہ کے حوالے سے اپنی آراء بیان کی ہیں اوراپنے پیام میں انھوں نے ساری دنیا میں مشرقی اندازِ فکر کو متعارف کروانے کی سعی کی ہے۔ آپ کی شاعری میں فکر و فلسفے کا ایسا گہرا رچاؤ ہے کہ جب آپ کے کلام کا مطالعہ کیا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ ہر اعتبار سےایک بہت عظیم شاعر ہیں ۔
مہمان شرکاء کی تقاریر کے بعد اپنے صدارتی خطبے میں جناب شفیع احمد قریشی نے پروگرام کی غرض وغایت کو سراہتے ہوئے آئے تمام مقامی و بیرونی شرکاء کا شکریہ اداکیا اورچوں کہ اس طرح کےپروگرام اپنے جلو میں افادی پہلو رکھتے ہیں ۔خاص طورپر طلبہ وطالبات کی صلاحیتوں میں اضافہ کا سبب بنتے ہیں لہٰذا انھوں نے یہ تیقن دیا کہ اس طرح کے ادبی ٗ ثقافتی پروگرام مستقبل میں ہوتے رہیں گے تاکہ نئی نسل مسلم ادباء و شعراء کےادبی ورثے سے واقف ہو سکے ۔
(ختم شد)

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے