कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

رواں سال حج کے دوران سینکڑوں اموات کی ممکنہ وجوہات کیا ہیں؟

مکہ:23؍جون:سعودی عرب میں رواں برس حج کے دوران سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے جن میں سے زیادہ تر کی موت کی وجہ شدید گرمی تھی کیونکہ درجہ حرارت 51 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا تھا۔خبر وں کے مطابق ایک عرب سفارتکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ 658 مصری ہلاک ہوئے ہیں۔انڈونیشیا کا کہنا ہے کہ اس کے 200 سے زائد شہری ہلاک ہوئے ہیں۔انڈیا کا کہنا ہے کہ اس کے 98 شہری ہلاک ہوئے جبکہ پاکستان، ملائیشیا، اردن، ایران، سینیگال، تیونس، سوڈان اور عراق کے خود مختار کردستان علاقے نے بھی ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کے بھی متعدد باشندے ہلاک ہوئے ہیں۔مرنے والوں کے دوست اور رشتہ دار ہسپتالوں میں لاپتہ افراد کی تلاش کر رہے ہیں اور ان کے لیے آن لائن پیغامات پوسٹ کر رہے ہیں۔مسلمان ہر سال مقدس شہر مکہ مکرمہ میں حج کرتے ہیں۔ تمام مسلمان جو مالی اور جسمانی طور پر استطاعت رکھتے ہیں، وہ اپنی زندگی میں کم از کم ایک بار حج کرتے ہیں۔سعودی عرب کا کہنا ہے کہ اس سال تقریبا 18 لاکھ افراد نے فریضہ حج ادا کیا۔خبر وں کے مطابق مرنے والوں میں نصف سے زائد غیر رجسٹرڈ عازمین تھے اور غیر قانونی ذرائع سے حج میں شامل ہوئے جس کی وجہ سے وہ ایئر کنڈیشنڈ خیموں اور کولنگ والی بسوں جیسی سہولیات تک رسائی حاصل کرنے سے قاصر رہے۔جمعے کے روز اردن نے کہا تھا کہ اس نے متعدد ٹریول ایجنٹوں کو حراست میں لیا ہے جنھوں نے مسلمان زائرین کو مکہ مکرمہ کے غیر سرکاری سفر میں سہولت فراہم کی تھی۔ مصر بھی اسی طرح کی تحقیقات کر رہا ہے۔سعودی عرب نے حالیہ برسوں میں حج کے موقع پر حفاظتی اقدامات میں اضافہ کیا ہے لیکن اسے اب بھی خاص طور پر غیر رجسٹرڈ عازمین حج کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہ کرنے پر تنقید کا سامنا ہے۔سعودی عرب نے ابھی تک ہلاکتوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ہم یہاں ایسے عوامل کا ذکر کریں گے جو ممکنہ طور پر اموات کی وجہ بنے۔
شدید گرمی
خیال کیا جاتا ہے کہ سعودی عرب میں غیر معمولی ہیٹ ویو ہلاکتوں کی زیادہ تعداد کی ایک بڑی وجہ ہے۔سعودی وزارت صحت کی جانب سے گرمی سے بچنے اور پانی کی کمی دور کرنے کی ہدایات کے باوجود بہت سے عازمین ہیٹ سٹریس اور ہیٹ سٹروک کا شکار ہوگئے۔نائیجیریا سے تعلق رکھنے والی ایک حاجی عائشہ ادریس نے بی بی سی ورلڈ سروس کے پروگرام نیوز ڈے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کے فضل سے شدید گرمی کے باوجود میں زندہ بچ گئی۔انھوں نے کہا کہ مجھے چھتری کا استعمال کرنا پڑا اور میں مسلسل آب زم زم پیتی رہی۔اطلاعات کے مطابق ایک اور حاجی نائم ہیٹ سٹروک کی وجہ سے فوت ہو گئیں جس کے بعد ان کے اہل خانہ جوابات کی تلاش میں ہیں۔ان کے بیٹے نے بی بی سی نیوز عربی کو بتایا کہ ہماری والدہ کے ساتھ رابطہ اچانک منقطع ہو گیا تھا۔ ہم کئی دن سے انھیں تلاش کر رہے ہیں اور صرف یہ معلوم ہوا ہے کہ وہ حج کے دوران فوت ہو گئیں۔ہر سال غیر معمولی گرمی کی شدت، سخت جسمانی سرگرمی اور وسیع کھلی جگہوں کی وجہ سے حجاج کو خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بہت سے لوگ بوڑھے یا بیمار بھی ہوتے ہیں۔تاہم حج کے دوران گرمی سے ہونے والی اموات کوئی نئی بات نہیں ہیں۔ ایسا سنہ 1400 کے بعد سے ہو رہا ہے۔سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے حالات خراب ہو رہے ہیں۔خبر وں کے مطابق کلائمیٹ اینالٹکس کے کارل فریڈرک شلیسنر نے بتایا کہ ایک ہزار سال سے زیادہ عرصے سے حج گرم آب و ہوا میں ہورہا ہے لیکن ماحولیاتی بحران ان حالات کو مزید خراب کر رہا ہے۔ان کی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ عالمی درجہ حرارت میں 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ اضافے سے حج کے دوران ہیٹ سٹروک کا خطرہ پانچ گنا تک بڑھ سکتا ہے۔
ہجوم اور صفائی کے مسائل
متعدد بیانات کے مطابق سعودی حکام کی بدانتظامی نے پہلے سے مشکل حالات کو مزید خراب کر دیا جس کے نتیجے میں حاجیوں کے لیے مخصوص کئی علاقوں میں بحران پیدا ہو گیا۔لوگوں کا کہنا ہے کہ حجاج کے لیے رہائش اور سہولیات کی کمی تھی اور بھیڑ والے خیموں میں ٹھنڈک اور صفائی ستھرائی کی مناسب سہولیات کا فقدان تھا۔اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی 38 سالہ آمنہ (فرضی نام) کہتی ہیں کہ مکہ کی گرمی میں ہمارے خیموں میں ایئر کنڈیشنر نہیں تھے۔ جو کولر لگائے گئے تھے ان میں زیادہ تر وقت پانی نہیں ہوتا تھا۔ان خیموں میں اتنا دم گھٹ رہا تھا کہ ہمارے پسینے سے ٹپک رہے تھے اور یہ ایک خوفناک تجربہ تھا۔جکارتہ سے تعلق رکھنے والی ایک حاجی فوزیہ اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ خیموں میں زیادہ ہجوم اور زیادہ گرمی ہونے کی وجہ سے بہت سے لوگ بے ہوش ہو گئے۔سعودی وزیر صحت نے عازمین حج کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے مختص وسائل پر روشنی ڈالی ہے۔ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ان میں 189 ہسپتال، صحت کے مراکز اور موبائل کلینک شامل ہیں جن کی مجموعی گنجائش 6500 بستروں سے زیادہ ہے اور 40000 سے زیادہ طبی، تکنیکی، انتظامی عملہ اور رضاکار شامل ہیں۔
نقل و حمل
حاجی اکثر شدید گرمی میں طویل فاصلے تک پیدل چلنے پر مجبور ہوئے اور اس کے لیے انھوں نے رکاوٹوں اور ناقص انتظام کو مورد الزام ٹھہرایا۔ایک نجی گروپ کے حج آرگنائزر کا کہنا ہے کہ موسم گرما کے دوران عام عازمین کو روزانہ کم از کم 15 کلومیٹر پیدل چلنا پڑ سکتا ہے۔ اس سے انھیں ہیٹ سٹروک، تھکاوٹ اور پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔انھوں نہ بتایا کہ یہ میرا 18 واں حج ہے اور میرے تجربے کے مطابق سعودی کنٹرولر سہولت کار نہیں ہیں۔ وہ کنٹرول کرتے ہیں، لیکن وہ مدد نہیں کرتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ماضی میں خیموں تک رسائی کے لیے یوٹرن کھلے تھے لیکن اب ان تمام راستوں کو بند کر دیا گیا ہے۔ نتیجتا ایک عام حاجی چاہے وہ زون ون میں کیٹیگری اے کے خیمے میں ہی کیوں نہ رہیں انھیں اپنے خیمے تک پہنچنے کے لیے گرمی میں ڈھائی کلومیٹر پیدل چلنا پڑتا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ اگر اس راستے پر کوئی ہنگامی صورتحال ہوجائے تو بھی مدد آپ تک 30 منٹ تک نہیں پہنچی گی۔ زندگیاں بچانے کا کوئی انتظام نہیں ہے اور نہ ہی ان راستوں کے ساتھ پانی کے مقامات ہیں۔
غیر رجسٹرڈ حاجی
حج کی ادائیگی کے لیے ایک حاجی کو خصوصی حج ویزا کے لیے درخواست دینا ضروری ہے لیکن کچھ افراد مناسب دستاویزات کے بغیر پانچ روزہ حج پر جانے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ ایسے افراد کے خلاف سعودی حکام نے کریک ڈان کرنے کی کوشش بھی کی۔مناسب دستاویزات کے بغیر حاجی اکثر حکام سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں، یہاں تک کہ جب انھیں مدد کی ضرورت ہوتی ہے تب بھی۔خیال کیا جاتا ہے کہ غیر رجسٹرڈ حج کا یہ مسئلہ اضافی اموات کا سبب بنتا ہے اور حکام نے خیموں میں کچھ بھیڑ کا ذمہ دار انھیں ٹھہرایا ہے۔انڈونیشیا کے قومی حج و عمرہ کمیشن کے چیئرمین مستولیح سرادج کا کہنا ہے کہ ہمیں شبہ ہے کہ حج ویزا استعمال نہ کرنے والے افراد حاجیوں کے علاقوں میں گھس آئے تھے۔قومی کمیٹی برائے حج و عمرہ کے مشیر سعد القرشی نے بی بی سی کو بتایا کہ جس کے پاس حج ویزا نہیں ہے، اسے برداشت نہیں کیا جائے گا اور اسے اپنے ملک واپس جانا ہوگا۔انھوں نے بتایا کہ غیر قانونی زائرین کی شناخت نسک کارڈ سے کی جاتی ہے جو سرکاری زائرین کو دیے جاتے ہیں اور اس پر مقدس مقامات پر داخلے کے لیے بار کوڈ ہوتا ہے۔
عمر رسیدہ، کمزور یا بیمار حاجی
حج کے دوران ہر سال بہت سی اموات ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بہت سے عازمین زندگی بھر کی بچت کرنے کے بعد اپنی زندگی کے آخر میں حج پر جاتے ہیں۔بہت سے مسلمان اس امید میں بھی جاتے ہیں کہوہ حج کے دوران مر جائیں کیونکہ مقدس شہر میں مرنا اور دفن ہونا ایک نعمت سمجھا جاتا ہے۔
اگر کوئی شخص حج کی ادائیگی کے دوران فوت ہو جائے تو کیا ہوگا؟
جب کوئی حاجی حج کی ادائیگی کے دوران فوت ہو جاتا ہے تو اس کی موت کی اطلاع حج مشن کو دی جاتی ہے۔وہ شناخت کی تصدیق کرنے کے لیے کلائی کے بینڈ یا گلے میں لٹکی آئی ڈی کا استعمال کرتے ہیں۔اس کے بعد انھیں ڈاکٹر کا سرٹیفکیٹ مل جاتا ہے اور سعودی عرب ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کرتا ہے۔نماز جنازہ مکہ مکرمہ کی مسجد الحرام یا مدینہ منورہ کی مسجد نبوی جیسی اہم مساجد میں ادا کی جاتی ہے۔میت کو غسل دیا جاتا ہے، کفن پہنایا جاتا ہے اور سعودی حکومت کی طرف سے فراہم کردہ فریزر میں منتقل کیا جاتا ہے، سعودی حکومت اس کے لیے تمام اخراجات ادا کرتی ہے۔تدفین سادہ، بغیر نشانات کے ہوتی ہے۔ کبھی کبھی ایک ہی جگہ پر بہت ساری میتیں دفن ہوتی ہیں۔قبرستان کی کتاب میں درج ہے کہ کون کہاں دفن کیا گیا ہے، لہذا خاندان اگر چاہیں تو قبروں کی زیارت کرسکتے ہیں۔سعودی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ مختلف گروہوں اور ہلال احمر کی مدد سے تدفین کے باوقار اور باعزت عمل کو یقینی بناتی ہے۔

حج کے دوران سینکڑوں اموات کی وجہ "سعودی حکومت کی ناکامی نہیں”: عہدہ دار
ریاض:23؍جون: خبر وں کے مطابق ایک سینئر سعودی اہلکار نے اپنے ملک کے حج کے انتظامات کا دفاع کیا۔ یہ ردعمل اس کے بعد سامنے آیا ہے جب مختلف ممالک میں 1,100 سے زیادہ عازمین حج کی اموات کی اطلاع دی گئی یے، جن میں سے بیشترکی وجہ شدید گرمی تھی۔خبر وں کے مطابق اہلکار نے اموات پر حکومت کے پہلے بیان میں بتایا۔”ریاست ناکام نہیں ہوئی، لیکن یہ ان لوگوں کی غلط فہمی تھی جنہوں نے خطرات کا اندازہ نہیں لگایا۔خبر وں کے مطابق جمعے کے روز ایک اعداد و شمار کے مطابق، جو سرکاری بیانات اور ردعمل میں شامل سفارت کاروں کی رپورٹوں سے مرتب کیے گئے ہیں،اموات کی تعداد 1,126 بتائی گئی ہے، جن میں سے نصف سے زیادہ افراد کا تعلق مصر سے ہے۔سینئر سعودی عہدیدار نے کہا کہ سعودی حکومت نے حج کے دو مصروف ترین دنوں میں 577 اموات کی تصدیق کی ہے: ہفتہ کے روز جب حجاج کرام میدان عرفات پر جمع ہوئے، اور اتوار، جب انہوں نے منی میں”شیطان کو کنکر مارنے” میں حصہ لیا۔”یہ حج مشکل موسمی حالات اور انتہائی سخت درجہ حرارت کے درمیان عمل میں آیا،” اہلکار نے کہا۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ 577 کی تعدادحتمی نہیں ہے اور حج کے تمام دنوں کا احاطہ نہیں کرتی۔سعودی حکام نے قبل ازیں کہا تھا کہ اس سال 1.8 ملین عازمین نے شرکت کی، جو پچھلے سال کے برابر ہے، اور یہ کہ 1.6 ملین بیرون ملک سے آئے تھے۔
پرمٹ سے کم حجاج
حج اجازت نامے کوٹہ سسٹم پر ممالک کو مختص کیے جاتے ہیں اور قرعہ اندازی کے ذریعے افراد میں تقسیم کیے جاتے ہیں۔یہاں تک کہ ان لوگوں کے لیے جو انہیں حاصل کر سکتے ہیں، بھاری اخراجات بہت سے عازمین کو بغیر اجازت کے حج کی کوشش کرنے پر مجبور کرتے ہیں، حالانکہ اگر سعودی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں پکڑے گئے تو انہیں گرفتاری اور ملک بدری کا خطرہ ہے۔یہ فاسد راستہ، جو حاجیوں کے لیے ہزاروں ڈالر بچا سکتا ہے، 2019 کے بعد سے اس وقت تیزی سے مقبول ہوا جب سعودی عرب نے ایک عام سیاحتی ویزا متعارف کرایا، جس سے خلیجی مملکت میں داخلے کو آسان بنایا گیا۔خبر وں کے مطابق اس سال کے حج سے قبل، سعودی حکام نے کہا تھا کہ انہوں نے مکہ سے آنے والے 300,000 سے زائد عازمین کو کلیئر کیا ہے جن کے پاس حج پرمٹ نہیں تھے۔لیکن بعد میں، سینئر سعودی اہلکار نے جمعہ کو کہا، "اوپر سے ایک حکم آیا کہ ہم مقدس مقامات کے دروازوں پر پہنچنے والے لوگوں کو شرکت کی اجازت دیتے ہیں”۔عہدیدار نے کہا کہ "ہم غیر رجسٹرڈ حاجیوں کی تعداد کا اندازہ لگ بھگ 400,000 بتا سکتے ہیں۔”اہلکار نے بظاہر مصر کاحوالہ دیتے ہوئے کہا،”تقریبا سبھی ایک قومیت سے ہیں۔خبر وں کے مطابق عرب سفارت کاروں نے اس ہفتے کے اوائل میں بتایا تھا کہ 658 مصریوں کی اموات ہوئی ہیں، جن میں سے 630 غیر رجسٹرڈ حجاج تھے۔
جھلسا دینے والا درجہ حرارت
حج، جس کے وقت کا تعین اسلامی قمری کیلنڈر سے ہوتا ہے، اس سال سعودی عرب کی شدید گرمی کے دوران عمل میں آیا۔غیر رجسٹرڈ حاجیوں کو ان سہولیات تک رسائی حاصل نہیں تھی جس کا مقصد حج میں شدید موسم کو قابل برداشت بنانا ہوتا ہے، جس میں ایئر کنڈیشنڈ خیمے شامل ہیں۔خبر وں کے مطابق غیر رجسٹرڈ مصری عازمین نے اس ہفتے بتایا کہ کچھ معاملات میں انہیں اپنے عزیزوں کے لیے اسپتالوں یا ایمبولینس تک رسائی حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کرنی پڑی، جن میں سے کچھ کی موت واقع ہوگئی۔کچھ عازمین نے یہ بھی کہا کہ وہ مقررہ کرائے سے زیادہ رقم ادا کیے بغیر سرکاری حج بسوں تک رسائی حاصل نہیں کر سکتے ہیں۔ جو مقدس مقامات کے ارد گرد نقل و حمل کا واحد ذریعہ ہے۔تیز دھوپ میں کئی کلومیٹر پیدل چلنے پر مجبور، کچھ لوگوں نے سڑک کے کنارے بے حرکت لاشیں دیکھیں اور لوگوں کو تھکن کی وجہ سے گرتے ہوئے دیکھا۔خبر وں کے مطابق سینئر سعودی اہلکار نے جمعہ کو بتایا کہ بسوں کا استعمال کرنے والے غیر رجسٹرڈ عازمین پر کوئی مکمل پابندی نہیں ہے۔اہلکار نے کہا، "ان پر بسوں کے استعمال کی کوئی پابندی نہیں ہے لیکن یہ بسیں رجسٹرڈ حاجیوں کے لیے تیار کی جاتی ہیں جن کی آمد کے بارے میں ہمیں معلوم ہوتا ہے۔”غیر رجسٹرڈ عازمین حج اپنا سفر بس کے ان راستوں پر پیدل چل کر طے کرتے ہیں جہاں کھانے پینے یا ایمبولینس جیسی طبی خدمات موجود نہیں ہوتیں۔ یہ ہائی وے محض بسوں کے لیے ہے۔”

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے