कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

رمضان کی آمد: خود احتسابی اور عملی تبدیلی کا وقت

تحریر:ڈاکٹر محمد سعید اللہ ندوی
رابط نمبر 8175818019

رمضان المبارک کی آمد اب زیادہ دور نہیں رہی۔ وقت تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور وہ بابرکت مہینہ ہمارے قریب آ چکا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے ہدایت، رحمت، مغفرت اور جہنم سے نجات کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ یہ مہینہ محض تاریخوں کا مجموعہ نہیں بلکہ انسان کی پوری زندگی کا رخ بدل دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ رمضان آئے گا یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم رمضان کے لیے تیار ہیں، اور کیا ہم اس کا استقبال محض ایک روایت کے طور پر کریں گے یا ایک شعوری، سنجیدہ اور فیصلہ کن موقع سمجھ کر۔
رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ وہ عظیم نعمت ہے جو سال میں صرف ایک مرتبہ آتی ہے، مگر اپنے اندر بے شمار مواقع، امکانات اور پیغامات سموئے ہوتی ہے۔ یہ مہینہ انسان کو اس کی کمزوریوں کا احساس دلاتا ہے، نفس کو قابو میں رکھنا سکھاتا ہے اور تقویٰ، صبر اور شکر کی عملی تربیت کرتا ہے۔ لیکن یہ سب اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب رمضان کو سنجیدگی سے لیا جائے۔ جو لوگ بغیر تیاری کے رمضان میں داخل ہوتے ہیں، ان کے لیے یہ مہینہ بھی اکثر دوسرے مہینوں کی طرح گزر جاتا ہے، نہ سوچ بدلتی ہے، نہ کردار سنورتا ہے اور نہ ہی زندگی میں کوئی نمایاں تبدیلی آتی ہے۔
آج ہمیں دیانت داری کے ساتھ اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم رمضان کی تیاری کس سطح پر کر رہے ہیں۔ کیا ہماری تیاری صرف بازاروں کی چہل پہل، سحری و افطار کے اہتمام اور کھانوں کی فہرستوں تک محدود ہے، یا ہم نے اپنے دل، اپنی زبان، اپنی نگاہ اور اپنے اعمال کی اصلاح کا بھی کوئی ارادہ کیا ہے؟ رمضان دراصل پیٹ خالی کرنے کا نہیں بلکہ دل کو اللہ تعالیٰ کی یاد سے بھرنے کا مہینہ ہے۔ اگر دل بدستور غفلت میں ڈوبا رہے، زبان بے قابو رہے، آنکھیں حرام کی عادی رہیں اور معاملات میں بددیانتی قائم رہے تو پھر ایسے رمضان سے کیا حاصل ہوگا؟رمضان المبارک کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ انسان اپنی خواہشات پر قابو پانا سیکھے۔ دن کے اوقات میں حلال چیزوں سے رک جانا دراصل اس بات کی عملی مشق ہے کہ انسان حرام سے رکنے کی طاقت بھی اپنے اندر پیدا کرے۔ روزہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اگر ہم اللہ کے حکم پر پانی کے ایک گھونٹ سے رک سکتے ہیں تو جھوٹ، غیبت، ظلم اور ناانصافی سے رکنا بھی ناممکن نہیں۔ مگر یہ سبق اسی وقت مؤثر بنتا ہے جب رمضان کو مقصد کے ساتھ گزارا جائے، نہ کہ محض عادت کے طور پر۔یہ حقیقت بھی ذہن میں رہنی چاہیے کہ روزہ صرف کھانے پینے سے رکنے کا نام نہیں ہے۔ روزہ ایک ہمہ جہت اخلاقی اور روحانی تربیت ہے۔ روزہ دار کی زبان جھوٹ، گالی اور غیبت سے رکی ہوئی ہونی چاہیے، اس کی نگاہ حرام مناظر سے محفوظ ہونی چاہیے، اس کے کان فضول اور فحش باتوں سے بچے ہونے چاہئیں اور اس کا دل کینہ، حسد اور بغض سے پاک ہونا چاہیے۔ اگر یہ سب نہ ہو تو اندیشہ ہے کہ انسان ان لوگوں میں شامل ہو جائے جن کے بارے میں نبی کریم ؐنے فرمایا کہ بہت سے روزہ دار ایسے ہیں جنہیں روزے سے سوائے بھوک اور پیاس کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
رمضان المبارک توبہ، رجوع اور واپسی کا مہینہ ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو خصوصی طور پر اپنی طرف بلاتا ہے، ان کی خطاؤں کو معاف فرمانے کے مواقع عطا کرتا ہے اور انہیں نئی شروعات کا موقع دیتا ہے۔ لیکن یہ معافی اور یہ قربت خود بخود حاصل نہیں ہو جاتی۔ اس کے لیے دل کا نرم ہونا، ندامت کا پیدا ہونا اور آئندہ زندگی میں بہتری کا پختہ ارادہ ضروری ہے۔ رمضان کا استقبال اس نیت کے ساتھ ہونا چاہیے کہ ہم اپنی سابقہ کوتاہیوں پر شرمندہ ہیں اور آئندہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچنے کی پوری کوشش کریں گے۔
اسلام نے رمضان کے روزے کی اہمیت کو اس قدر واضح کیا ہے کہ بغیر کسی شرعی عذر کے جان بوجھ کر ایک روزہ ترک کرنا بھی انتہائی سنگین جرم قرار دیا گیا ہے۔ فقہی اعتبار سے اس کا کفارہ مسلسل دو ماہ کے روزے ہیں، اور یہ حقیقت بھی بیان کی گئی ہے کہ اگر کوئی شخص ایک روزے کے بدلے ساری عمر بھی روزے رکھ لے تو وہ اس ایک روزے کا اجر حاصل نہیں کر سکتا۔ یہ بات ہمیں جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے کہ ہم رمضان کے ہر دن اور ہر لمحے کی کتنی قدر کریں۔اسی لیے ہر عاقل و بالغ مسلمان مرد اور عورت کو یہ عہد کرنا چاہیے کہ وہ بغیر کسی شرعی عذر کے رمضان المبارک کا ایک بھی روزہ ترک نہیں کرے گا۔ اس کے ساتھ یہ عہد بھی ضروری ہے کہ روزہ اس کے تقاضوں کے ساتھ رکھا جائے گا، یعنی صرف بھوک اور پیاس برداشت نہیں کی جائے گی بلکہ اخلاق، کردار اور معاملات میں بھی بہتری لائی جائے گی۔ رمضان کا اصل فائدہ اسی وقت حاصل ہوتا ہے جب انسان اس مہینے کے بعد خود کو پہلے سے بہتر محسوس کرے۔رمضان المبارک صرف فرد کی اصلاح کا نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کی اجتماعی تربیت کا بھی ایک عظیم موقع ہے۔ اگر اس مہینے میں صبر، برداشت، ہمدردی اور ایثار کو اپنایا جائے تو معاشرتی بگاڑ خود بخود کم ہو سکتا ہے۔ یہ مہینہ ہمیں بھوکوں اور محتاجوں کا احساس دلاتا ہے، دلوں میں نرمی پیدا کرتا ہے اور انسان کو انسان کے قریب لاتا ہے۔ اگر رمضان گزرنے کے بعد بھی ہمارے رویّے نہ بدلیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ ہم نے اس عظیم موقع کو ضائع کر دیا۔
آج امتِ مسلمہ جن اخلاقی اور سماجی بحرانوں سے گزر رہی ہے، ان کا حل کسی اور جگہ نہیں بلکہ رمضان کے پیغام میں پوشیدہ ہے۔ شرط یہ ہے کہ ہم اس پیغام کو سنجیدگی سے لیں اور اسے اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں۔ رمضان ہمیں موقع دیتا ہے کہ ہم اپنی ترجیحات درست کریں، اپنی زندگی کا رخ بدلیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو اپنا اصل مقصد بنا لیں۔اب جبکہ رمضان کی آمد قریب ہے، یہ وقت غفلت کا نہیں بلکہ بیداری کا ہے۔ اگر اس رمضان میں بھی ہم نے خود کو نہ بدلا تو پھر کب بدلیں گے؟ زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں، نہ معلوم اگلا رمضان ہمیں نصیب ہو یا نہ ہو۔ عقل کا تقاضا یہی ہے کہ ہم آنے والے رمضان کا استقبال اس عزم کے ساتھ کریں کہ یہ رمضان ہماری زندگی کا بہترین اور فیصلہ کن رمضان ہوگا۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں رمضان المبارک کی حقیقی تیاری، اس کا شعوری استقبال اور اس کے تقاضوں کے ساتھ روزے رکھنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمیں ان خوش نصیب بندوں میں شامل فرما دے جو رمضان سے خالی ہاتھ نہیں بلکہ بدلی ہوئی زندگی کے ساتھ نکلتے ہیں۔ آمین

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے