कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

رمضان کردار سازی اور روحانی ارتقا کا مہینہ

تحریر:محمدمعروف سیدنپوری
ناظم مکتب نور القرآن کھدرا ،لکھنؤ
رابطہ:9648997110

رمضان المبارک صرف ایک مذہبی مہینہ نہیں بلکہ روحانی بیداری، اخلاقی تربیت اور اجتماعی اصلاح کا مکمل نظام ہے۔ یہ وہ ماہ صیام ہے جسے اگر شعور کے ساتھ گزار لیا جائے تو ہماری زندگی کا رخ بدل سکتا ہے۔ موجودہ دور میں جہاں مادیت، بے چینی اور خود غرضی نے ہمارے دلوں کو تھکا دیا ہے، رمضان ایک ایسی خدائی دعوت ہے جو ہم کو اپنے اصل مرکز، یعنی اپنے رب کی طرف لوٹنے کی یاد دہانی کراتی ہے۔ یہ مہینہ ہمیں سکھاتا ہے کہ انسان صرف جسم نہیں، ایک روح بھی ہے، اور روح کی غذا ذکر، عبادت، خدمت اور محبت ہے۔
رمضان کی آمد دراصل ہمارے اندر ایک نئی ابتدا کا اعلان ہے۔ دلوں میں نرم گوشہ پیدا ہوتا ہے، آنکھیں نم ہوتی ہیں، اور گناہوں کا بوجھ محسوس ہونے لگتا ہے۔ یہی احساس دراصل قربِ الٰہی کی پہلی سیڑھی ہے۔ جب بندہ اپنی کمزوری کو پہچان لیتا ہے تو رب کی رحمت اس کے قریب آجاتی ہے۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں انسان مشین بنتا جا رہا ہے،تعلقات رسمی ہو چکے ہیں، عبادات عادت بن گئی ہیں اور دل غفلت کی تہوں میں دب گیا ہے۔ رمضان اس غفلت کو توڑنے کا مہینہ ہے۔ روزہ صرف بھوک اور پیاس کا نام نہیں بلکہ خواہشات کی تربیت کا عملی کورس ہے۔ یہ انسان کو سکھاتا ہے کہ وہ چاہے تو اپنے نفس کو قابو کر سکتا ہے۔
قرآن سے تعلق رمضان کی روح ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں وحی نازل ہوئی، یعنی انسانیت کو اندھیروں سے نکالنے کا پیغام دیا گیا۔ مگر آج المیہ یہ ہے کہ قرآن اکثر گھروں میں موجود ہے مگر زندگیوں میں موجود نہیں۔ رمضان ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم قرآن کو صرف تلاوت تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے سمجھیں، اس پر غور کریں اور اپنی اجتماعی زندگی میں نافذ کرنے کی فکر کریں۔ جب تک قرآن ہمارے فیصلوں، اخلاق اور معاشرت میں داخل نہیں ہوگا، رمضان کی برکات ادھوری رہیں گی۔
رمضان دعا کا مہینہ ہے، اور دعا دراصل بندے کا اپنے رب سے براہِ راست رابطہ ہے۔ افطار سے پہلے کے لمحات، سحری کے اوقات اور رات کی تنہائیاں قبولیت کے سنہرے مواقع ہیں۔ لیکن دعا صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں، ایک کیفیت کا نام ہے۔ جب دل ٹوٹ کر جھکتا ہے، آنکھیں بھیگتی ہیں اور زبان عاجزی سے لرزتی ہے، تب دعا آسمانوں کے دروازے کھول دیتی ہے۔ موجودہ دور کے مسائل ، بے روزگاری، ذہنی دباؤ، خاندانی ٹوٹ پھوٹ، اخلاقی انحطاط ، سب کا حل محض مادی تدبیروں میں نہیں بلکہ روحانی رجوع میں بھی پوشیدہ ہے۔ رمضان ہمیں یہی توازن سکھاتا ہے، کوشش بھی کرو اور دعا بھی کرو۔
اجتماعی اعتبار سے رمضان ہمدردی اور مساوات کا سبق دیتا ہے۔ روزہ امیر کو غریب کی بھوک کا احساس دلاتا ہے۔ جب پیاس حلق میں کانٹے کی طرح چبھتی ہے تو انسان سمجھتا ہے کہ وہ لوگ کیسے جیتے ہیں جن کے لیے یہ کیفیت روز کا معمول ہے۔ اگر رمضان کے بعد بھی ہمارے معاشرے میں غربت، ناانصافی اور بے حسی جوں کی توں رہے تو ہمیں اپنے روزوں پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ حقیقی روزہ وہ ہے جو انسان کے اندر رحم، سخاوت اور خدمت کا جذبہ پیدا کرے۔
تراویح رمضان کی راتوں کا روحانی سرمایہ ہے۔ یہ صرف ایک عبادت نہیں بلکہ قرآن کے ساتھ اجتماعی تعلق کا اظہار ہے۔ افسوس کہ بعض لوگ اسے رسمی بوجھ سمجھ کر چھوڑ دیتے ہیں، حالانکہ تراویح کی اصل روح تسلسل اور شوق میں ہے۔ جب ایک مہینہ مسلسل قرآن سنا جائے تو اس کے اثرات دل پر نقش ہو جاتے ہیں۔ جدید دور میں جہاں راتیں اسکرینوں کی روشنی میں ضائع ہو رہی ہیں، تراویح ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اصل سکون اللہ کے کلام میں ہے، نہ کہ ڈیجیٹل شور میں۔
رمضان خود احتسابی کا بھی مہینہ ہے۔ انسان کو رک کر سوچنا چاہیے کہ وہ کہاں کھڑا ہے، اس کی زندگی کا مقصد کیا ہے، اور وہ کس سمت جا رہا ہے۔ آج کا انسان مصروف تو بہت ہے مگر مطمئن نہیں۔ کامیابیاں بڑھ رہی ہیں مگر سکون کم ہو رہا ہے۔ رمضان اس تضاد کو سمجھنے کا موقع دیتا ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ اصل کامیابی کردار کی تعمیر، نیت کی اصلاح اور دل کی صفائی میں ہے۔
میڈیا، سوشل نیٹ ورک اور صارفیت کے اس دور میں رمضان کا پیغام اور بھی اہم ہو جاتا ہے۔ اشتہارات اور مارکیٹ نے اس مقدس مہینے کو بھی خرید و فروخت کے تہوار میں بدلنے کی کوشش کی ہے۔ افطار پارٹیاں، فضول خرچی اور نمود و نمائش روحانیت کو دبا دیتی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم رمضان کو سادگی، اخلاص اور شعور کے ساتھ گزاریں۔ کم کھانا، کم بولنا، کم سونا اور زیادہ سوچنا، زیادہ پڑھنا، زیادہ عبادت کرنا ، یہی رمضان کا اصل مقصد ہے۔
رمضان دراصل ایک تربیتی کیمپ ہے۔ اگر اس کی تربیت سال بھر باقی نہ رہے تو سمجھ لیجیے ہم نے سبق یاد نہیں کیا۔ جھوٹ چھوڑنا، غیبت سے بچنا، نظر کی حفاظت کرنا، معاملات میں دیانت اختیار کرنا، یہ سب رمضان کے بعد بھی جاری رہنا چاہیے۔ اصل امتحان عید کے بعد شروع ہوتا ہے کہ ہم رمضان کے اثرات کو اپنی مستقل عادت بنا پاتے ہیں یا نہیں۔
یہ مہینہ امت کے اجتماعی شعور کو بھی جگاتا ہے۔ دنیا بھر کے مسلمان ایک ہی وقت میں روزہ رکھتے، نماز پڑھتے اور دعا کرتے ہیں۔ یہ وحدت کا عملی منظر ہے۔ مگر اس وحدت کو صرف عبادات تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ ہمیں علمی، اخلاقی اور سماجی میدانوں میں بھی متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ رمضان ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم ایک امت ہیں، اور ایک جسم کی مانند ہیں ، ایک حصے کو تکلیف ہو تو دوسرا بے چین ہو جاتا ہے۔
بلاشبہ رمضان ایک دعوت ہیکہ اپنے رب کی طرف لوٹ آؤ، یہ مہینہ گزر جاتا ہے مگر اس کا پیغام باقی رہتا ہے۔ خوش نصیب وہ ہے جو اس پیغام کو سن لے، سمجھ لے اور اپنی زندگی کا رخ بدل لے۔ ہمیں چاہیے کہ اس رمضان کو معمول کے طور پر نہ گزاریں بلکہ ایک فیصلہ کن موڑ بنائیں۔ اپنے دل صاف کریں، تعلقات درست کریں، مظلوموں کا ساتھ دیں، اور اپنے رب سے سچا تعلق قائم کریں۔
اگر ہم نے رمضان کو واقعی غنیمت جان لیا تو یہ مہینہ ہمارے لیے صرف تیس دن نہیں بلکہ پوری زندگی کی اصلاح کا نقط آغاز بن جائے گا۔ یہی رمضان کا اصل مقصد ہے: انسان کو انسان بنانا، اور انسان کو اپنے خالق سے جوڑ دینا۔

 

Misbah Cloth Center Advertisment

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے