कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

رمضان کا آخری عشرہ انتہائی فضلیت کا حامل

تحریر:ڈاکٹرمحمدسعیداللہ ندویؔ

ماہ رمضان کو تین عشروں میں باٹا گیا ہے پہلا عشرہ رحمت کا ہے اس عشرے میں اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اپنے بندوں کو نوازتا ہے۔ دوسرا عشرہ مغفرت ہے یعنی رب العالمین سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنے کا ہے، اس عشرے میں اللہ کا کوئی بھی بندہ اگر دل سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہے تو رب العالمین اسے معاف کر دیتا ہے۔ تیسرا عشرہ نجات کا ہے اس عشرے میں خدا کی عبادت کرنے والوں کو جہنم کی آگ سے چھٹکارا ملتا ہے۔ ویسے تو رمضان کا پورا مہینہ ہی رحمتوں کا مہینہ ہے لیکن سب سے اہم ہے تیسرا عشرہ کیونکہ اس عشرے کی طاق راتوں میں یعنی 29,27،25،23،21 شب قدر ہو سکتی ہے اور ایک شب قدر کی عبادت کا ثواب ہزار سال کی عبادتوں کے برابر ہوتا ہے 27 رمضان کی رات کو قرآن کریم نازل ہوا اس لئے ان راتوں کی اہمیت کافی بڑھ جاتی ہے۔ اسی لئے روزے داران پانچ راتوں کو جاگ کر خداوند کریم کی عبادت کرتے ہیں۔ جمعۃ الوداع رمضان المبارک مہینے کا آخری جمعہ ہے۔ اور اسلام کے جمعہ کی نماز کی فضیلت بہت زیادہ ہے۔ رہا سوال جمعۃ الوداع جمعہ کی آخری نماز الوداع کا تو اس کی الگ سے کوئی اہمیت نہیں ہے، ہاں رمضان کا مبارک مہینہ اچھے سے گزر گیا ہم سب لوگوں نے روزے رکھے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت ہم پر بنی رہی ،ہمیں اس بات کی خوشی ہوتی ہے، تو اس بات کا غم بھی ہوتا ہے کہ اتنی جلدی گزرگیا رحمتوں کا مہینہ۔ تیسرے عشرے میں اللہ کے نیک بندے فطرہ اور زکوٰۃ بھی نکالتے ہیں۔ جس سے عید کی نماز غریب لوگ بھی خوشی سے بڑھ سکے ویسے عید کے بعد بھی فطرہ اور اور زکوٰۃ نکالی جاسکتی ہے۔ لیکن رمضان میں نکالنا بہتر ہوتا ہے کیونکہ ہر نیکی کا ثواب ستر گنا بڑھ کر ملتا ہے۔ رمضان ہمیں بتاتا ہے کہ ہر کسی کے ساتھ مل کر رہیں، برائیوں سے بچیں، صرف بھوکے نہ رہے، بلکہ پورے جسم کا روزہ رکھیں، مطلب جو انسان کو تمام برائیوں سے بچانے والا ہوتا ہے۔
اس کے برعکس ہمارے یہاں ایک غلط روایت قائم ہوچکی ہے کہ آخری عشرہ میںعبادت کے بجائے گھر کی صفائی کا عشرہ بن گیاہے۔ گھروں کو سجانے میں بعض اوقات غلو سے کام لیا جاتا ہے اور یوں عشرہ عبادت و ریاضت ،تھکن کی نذر ہو جاتا ہے یہ بھی جہالت کا فعل ہے۔ خواتین کو بھی اس عشرے میں گھر کی صفائی سے زیادہ روحانی صفائی اور طہارت پر توجہ دینی چاہیے (صفائی سے منع نہیں کر رہے لیکن غلو سے پرہیز ہونا چاہیے) غیر ضروری کاموں سے توجہ ہٹاکر وقت اعتکاف اور ذکر و دعا میں لگانا چاہیے۔ جن خواتین کے لیے ممکن ہو دس دن کا اعتکاف کریں(اس دوران اٹھ کر کھانا وغیرہ پکا سکتی ہیں اگر کوئی اور انتظام نہ ہو تو)۔جن کے بچے چھوٹے ہوں اورپورااعتکاف ممکن نہ ہو تو چند دنوں اور چند گھنٹوں کا اعتکاف بھی ہو سکتا ہے۔ اور گھر کاکام کرنے والی خواتین تو دہرا اجر سمیٹ سکتی ہیں اپنے نیک اور نمازی شوہر اور اولاد کی خدمت اور ان کے کھانے پینے کا بندوبست کرنا باعث اجرہے اور یہ کام کرتے ہوئے وہ مسلسل تلاوت اور ذکر کرتی رہیں اور اپنا نامہ اعمال دونوں طرح سے بھرتی رہیں۔
رمضان میں بازاروں میں پھرنا ،انتہائی نقصان دہ ہے۔بازار میں جا کر انسان کی نیکیاں ایسے جھڑتی ہیں جیسے درخت کے پتے۔کیونکہ ایک تو وہاں ہر طرف سامان دنیا ہوتا ہے جو انسان کو غافل کر دیتا ہے اور دوسری جانب عورتیں ہوں یا مرد کثرت سے نا محرموں کے درمیان ہوتے ہیں اور نظریں بچانا بہت مشکل ہوتا ہے۔
رحمت مغفرت اور جہنم سے رہائی حاصل کرنے کی فکر میں مومنین نے مہینہ بھر محنت اور مشقت میں گزارا ،دن بھر بھوک پیاس برداشت کی ،زبان آنکھ کان، دیگر اعضاء کو ہر طرح کے گناہوں سے روکے رکھا ،قرآن و اذکار ورد زبان رہے اور راتیں اپنے رب کے حضور قیام و سجود میں گزاریں۔اس کا پاک کلام سنا۔غفلت کی نیند سے بچ بچ کر راتیں گزارنے کی سعی کرتے رہے۔سحر و افطار رب کے حضور گڑ گڑاتے رہے۔ سحر کے وقت اور طاق راتوں میں فرشتے اترتے رہے ،مومنین کو دیکھتے رہے ، ان کی دعاؤں پر آمین۔کہتے رہے اور جبرائیل خوش نصیبوں سے مصافحہ کرتے رہے۔
عبدالفطر کی صبح اللہ تعالیٰ فرشتوں کو تمام شہروں میں بھیجتے ہیں۔وہ زمین سے اتر کر تمام ،گلیوں، راستوں کی سروں پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور ایسی آواز سے جس کو جنات اور انسان کے سوا ہر مخلوق سنتی ہے ، پکارتے ہیں کہ محمد ؐ کی امت اس کریم رب کی (درگاہ) کی طرف چلو جو بہت زیادہ عطا کرنے والا ہے اور بڑے سے بڑے قصور کو معاف کرنے والا ہے۔پھر جب لوگ عید گاہ کی طرف نکلتے ہیں تو اللہ فرشتوں سے دریافت فرماتے ہیں کہ کیا بدلہ ہے اس مزدور کا جو اپنا کام پورا کر چکا ہو ،وہ عرض کرتے ہیں کہ ہمارے معبود اور ہمارے مالک اس کا بدلہ یہی ہے کہ اس کی مزدوری پوری پوری دی جائے تو حق تعالیٰ شانہ ارشاد فرماتے ہیں کہ اے فرشتو! میں تمھیں گواہ بناتا ہوں میں نے ان کو رمضان کے روزوں اور تراویح کے بدلہ میں اپنی رضا اور مغفرت عطا کر دی ،اور بندوں سے خطاب فرما کر ارشاد ہوتا ہے کہ اے میرے بندو ! مجھ سے مانگو میری عزت کی قسم ،میرے جلال کی قسم ، آج کے دن مجھ سے آخرت کے بارے میں جو سوال کرو گے عطا کروں گا، اور دنیا کے بارے میں جو سوال کرو گے ،اس میں تمہاری مصلحت پر نظر رکھوں گا۔میری عزت کی قسم کہ جب تک تم میرا خیال رکھو گے میں تمہاری لغزشوں پر ستاری کرتا رہوں گا (اور ان کو چھپاتا رہوں گا) میری عزت کی قسم اور میرے جلال کی قسم میں تمھیں مجرموں ( کافروں) کے سامنے رسوا اور فضیحت نہ کروں گا۔بس اب بخشے بخشائے اپنے گھروں کو لوٹ جاؤ۔تم نے مجھے راضی کر دیا اور میں تم سے راضی ہو گیا۔پس فرشتے اس اجر و ثواب کو دیکھ کر جو اس امت کو افطار کے دن ملتا ہے ،خوشیاں مناتے ہیں اور کھل جاتے ہیں۔ (ترغیب۔بہیقی)۔ہم نے رمضان سے کیا حاصل کیا ؟اس کا بہت اچھا اندازہ روزِ عید ہی ہو جاتا ہے۔کیا عید کے دن خوشیاں مناتے ہوئے ہمیں حدود اللہ کا خیال رہتا ہے۔۔؟
مہینہ بھر ضبط نفس کی جو مشق کی تھی وہ بر قرار رہتی ہے۔؟ یا عید کا مطلب ہمارے یہاں یہ ہوتا ہے کہ آج ساری پابندی ختم۔خوب کھل کھلیں ،خوب فلمیں دیکھیں ،مخلوط پارٹیاں کریں،گھومیں پھریں،نمازیں قضا کریں، اور نہ جانے کیا کیا غلط اعمال کیے جاتے ہیں۔ نہیں ، عید کادن ہمارے جائزے کا دن ہے۔ایک ٹیسٹ کا دن ہوتا ہے کہ ہم نے رمضان سے کیا پایا ؟ کتنی تربیت حاصل کی ؟ کتنی پابندیوں پر قائم رہے اور عید کے بعد۔۔سارا سال ہمارے اس کردار کا آئینہ ہوتا جو ہم نے رمضان میں تعمیر کیا ہوتا ہے۔

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے