किया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

رمضان المبارک کے بعد؟

از قلم: ظفر ھاشمی ندوی
بذریعہ ضلع نامہ نگار اعتنار نیوز محمد سرور شریف

ہر سال رمضان کے بعد جو ہوتا آیا ہے وہی تو اس سال ، اور اللہ نہ کرے قیامت تک ہوتا رہے گا۔ یعنی رمضان ختم ہوتے ہی کم زیادہ ڈاڑھی کے بالوں کی صفائی اور وہی بے نور چہرہ ، مسجدیں سال بھر خالی سوائے جمعہ کی دو رکعت نماز، قرآن گھر کے طاقوں میں اور مسجد کی چھوٹی بڑی الماریوں میں بند ہو جائے گا- ویسے رمضان کا مہینہ ہو یا اس سے پہلے یا بعد ، قرآن کھلا ہی کب ہے؟ ہاں رمضان میں تقریبا ہر مسلمان عرب کا ہو یا عجم کا، قرآن کے چند یا سارے الفاظ پڑھ لیتا ہے مگر بچپن سے لے کر قبر میں جانے تک نہ سمجھتا ہے اور نہ سمجھنا چاھتا ہے۔ وہ زندگی جو دنیا بھر کے کافر یھودی اور عیسائی یا کسی اور مذہب کے لوگ گزار رہے ہیں، رمضانی مسلمان بھی ویسی ہی زندگی گزار رہا ہے۔ یعنی رات دن اچھے سے اچھا کھانا کھانے کی فکر، چہرہ کے خد و خال، تہذیب و تمدن ،ثقافت خوشی اور غم منانے کا انداز بھلا وہ کونسی بات ہے جو ایک مسلمان اور غیر مسلم میں ایک جیسی نہیں ہے؟ ہاں بیچاری مسلم عورتیں برقع پہنتی ہیں۔ مگر اب تو “پڑھی لکھی” مسلمان عورت نے بھی برقع اتار پھینکا ہے-
کیا ہر سال کا رمضان اسی غیر اسلامی زندگی کی تربیت دینے آتا ہے؟ قرآن کریم نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ روزہ فرض کرنے کا مقصد تقویٰ حاصل کرنا ہے یعنی روزہ دار مہینہ بھر کی ٹرینگ میں زندگی کے ھر معاملہ میں اللہ تعالیٰ کا لحاظ رکھنا اور لحاظ کرنا سیکھ جائے۔ مگر مسلمانوں نے عام طور پر تقویٰ کا مطلب یہ طے کر دیا ہے کہ رمضان میں دن کا روزہ رات کی تراویح اور قرآن کریم کے چند پارے زندگی بھر بغیر سمجھے پڑھ لینا کافی ہے اور رمضان ختم ہونے کے بعد تو غیر مسلموں کی طرح مکمل آزاد ہیں۔
ایک پاکستانی دوست نے مجھے بتایا کہ وہ اپنی تجارت کے لئے بمبئ آتے جاتے رہتے ہیں۔ ایک دفعہ ایرپورٹ سے باھر آکر ٹیکسی لی تو سمجھ گئے کہ ٹیکسی ڈرائیور مسلمان ہے۔ کہنے لگے میں نے انھیں سلام کیا لیکن مجھے حیرت ہوئی کہ اس نے مجھے سلام کا جواب نہیں دیا ۔ میں نے اس سے پوچھا بھائی صاحب آپ نے سلام کا جواب نہیں دیا۔ اس نے کہا کیوں دوں مجھے کیسے معلوم ہوگا کہ آپ مسلمان ہیں آپ کی شکل و صورت لباس وغیرہ میں اور کسی غیر مسلم میں بظاہر کوئی فرق نہیں ہے۔ اللہ نے مجھے ہدایت دی اور میں نے ڈاڑہی رکھ لی-
ایک صاحب جو جاپان میں کام کرتے تھے کہنے لگے کہ میری کمپنی میں ساتھ میں کام کرنے والی عورت نے مجھ سے پوچھا یہ تم لوگوں کو دن بھر بھوکا پیاسا رکھ کر تمہارے اللہ کو کیا ملتا ہے؟ میں نے جواب دیا ہم لوگ صرف بھوکے پیاسے نہیں رہتے بلکہ اس کے ساتھ جھوٹ بولنے اور کسی گناہ سے بچنے کی بھی بھر پور کوشش کرتے ہیں۔ اس نے مسکرا کر کہا حیرت ہے تم لوگوں کو صرف ایک مہینہ غلط کاموں سے دور رہنا ہے مگر ہم لوگوں کو تو زندگی بھر غلط کاموں سے دور رہنا ہے۔
کیا آپ کو ان واقعات میں اپنی حقیقت نظر آتی ہے؟ اگر نظر آتی ہے تو اب اس سال آپ نے اپنے بارہ میں کیا فیصلہ کیا ہے؟
رمضان آیا تھا کھانا پینا کم کرانے کے لئے اور اس سے توجہ ہٹانے کے لئے۔ لیکن تقریبا ہر مسلمان سحری اور افطار کے نام پر عام دنوں کے مقابلہ میں کہیں زیادہ کھا جاتا ہے- حضرت مولانا زکریا رحمۃ اللہ علیہ ( مصنف فضائل اعمال) نے روزہ کے بارے میں بڑی سچی بات لکھی ہے کہ ہم لوگ سحری کے وقت سوچتے ہیں کہ دن بھر بھوکا رہنا ہے اس لئے زیادہ سے زیادہ کھاتے ہیں ۔پہر افطار کرنے کے وقت سوچتے ہیں کہ دن بھر بھوکے تھے اس لئے پھر زیادہ سے زیادہ کھاتے ہیں۔ غرض دونوں وقت زیادہ سے زیادہ کھاتے ہیں اور روزہ مفت میں بدنام ہوتا ہے۔
آخر وہ دن کب آئے گا جب ہر رمضانی مسلمان کم از کم نمازوں میں سال بھر مسجد میں نظر آئے گا اور کھانے پینے وغیرہ میں فضول خرچی سے بچے گا۔
ائے اللہ ہم سب کو سچا مسلمان بنا دے ۔ آمین۔

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor aitebar news, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے