कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

رمضان المبارک کا مہینہ اور ہماری ذمہ داریاں

تحریر: عرفان عبدالرزاق پٹیل
صحافی و معلم

رمضان المبارک کا مہینہ اور ہماری ذمہ داریاں دراصل رمضان المبارک کا مبارک مہینہ جب آتا ہے تو تمام امتِ مسلمہ کے دل و دماغ، ذہن، تن من میں ایک عجیب سی کیفیت اور جذبات اجاگر ہوتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے بچوں کو اپنے گھر سے شروعات کریں، اس مہینے کی اہمیت، افادیت، خصوصیت اپنے بچوں کو بتاتے رہیں۔ روزانہ ہم اپنے بچوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے رمضان المبارک کی اہمیت، افادیت، خصوصیت بتاتے رہیں۔ انہیں یہ بتائیں کہ رمضان کا مہینہ سال میں ایک مرتبہ آتا ہے، پورے مہینے کے روزے ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہیں۔ رمضان کے مہینے میں نیکیاں بڑھا دی جاتی ہیں، شیاطین کو قید کیا جاتا ہے، فرض نماز کا ثواب زیادہ کیا جاتا ہے۔ نفل اور سنت نمازوں کا ثواب فرض نمازوں کے برابر کیا جاتا ہے اور یہ مہینہ اتنا مقدس اور پاک مہینہ ہے کہ اس مہینے میں ہم تمام گناہوں کی معافی طلب کرتے ہیں۔ اللہ کے سامنے گڑگڑا کر روتے ہیں، نمازوں کا اہتمام کرتے ہیں۔ قرآن شریف کی تلاوت کرنے کا اہتمام کرتے ہیں، ذکر و اذکار کرتے ہیں۔ بے شمار نعمتیں اس مہینے میں ہمیں اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی ہیں۔ بس اسے کس ترتیب سے لینا ہے، کس ترتیب سے اس مہینے کی ہمیں اہمیت کو سمجھنا ہے، نمازوں کی پابندی کرنا ہے، مستحق کی مدد کرنا ہے۔ ہمارے اطراف، پاس پڑوس میں جو لوگ ہیں وہ خیر خیریت سے ہیں یا نہیں، انہیں مسکرا کر بات کرنا ہے۔ اس کے علاوہ اپنے بچوں کو ہم بار بار بتاتے رہیں کہ یہ جو مہینہ ہے، یہ صرف اور صرف گھومنے پھرنے، کھانے پینے کا مہینہ نہیں ہے بلکہ اس مہینے میں ہمیں نیکیوں کو کس طرح سے اکٹھا کیا جا سکتا ہے، نیکیاں کس طرح سے ہمیں مل سکتی ہیں، ہم حاصل کر سکتے ہیں، یہ کوشش جاری و ساری رکھنا ہے۔ جیسے تہجد کی نماز کا اہتمام کرنا ہے، نفل نمازوں کی پابندی کرنا ہے، صلوٰۃ التسبیح کی پابندی کرنا ہے، طاق راتوں میں بہت ساری عبادتیں کرنا ہیں، نمازیں ادا کرنا ہے، دعائیں مانگنا ہے، اللہ کے سامنے رو رو کر دعا مانگنا ہے، اپنے لیے، اپنے بزرگوں کے لیے، ماں باپ کے لیے، آس پاس کے پڑوسیوں کے لیے، امتِ مسلمہ کے لیے، اپنے بچوں کے لیے، اولاد کے لیے یہ تمام دعائیں ہم سچے دل سے اور عصر اور مغرب کے درمیان اور تہجد کے وقت رو رو کر، گڑگڑا کر مانگیں گے تو اللہ تعالیٰ اس وقت قبولیت کا جو اثر ہوتا ہے وہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اس لیے کہا جاتا ہے کہ عصر کے بعد اور افطار سے پہلے زیادہ سے زیادہ دعائیں مانگتے رہیں۔ عورتوں کو بھی ہمیں اپنی ماں، بہنیں، بیوی بچوں کو اس وقت عورتیں گھر کے کاموں جیسے پکوان میں ہوتی ہیں۔ ان سے بھی ہمیں کہنا ہے، جو بھی کام ہے وہ عصر سے پہلے ہی ختم کرنے کی کوشش کریں اور عصر سے افطار سے پہلے کا وقت دعاؤں کے لیے رکھیں۔ افطار سے پہلے اپنے گھر کے لیے، اولاد کے لیے، شوہر کے لیے، بچوں کے لیے، ماں باپ کے لیے، بزرگوں کے لیے، پاس پڑوس کے لیے، اپنے لیے خاص دعائیں مانگنا ہے۔ یہ دعائیں مانگنے کا جو سلسلہ ہے اس سے اللہ تعالیٰ بہت خوش ہوتے ہیں۔ یہ تمام چیزیں ہمیں اپنے بچوں کو بتانا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ اس مہینے میں زکوٰۃ ادا کرنا ہے۔ زکوٰۃ کس طرح نکالنا ہے، کیسے نکالنا ہے، یہ تمام چیزیں ہماری شریعت میں ہمیں بتایا گیا ہے۔ اگر ہمیں نہیں معلوم ہے تو ہمارے علماء سے رابطہ کر کے ہم زکوٰۃ نکال کر زکوٰۃ کے جو صحیح حقدار ہیں ان تک پہنچانا ہمارا اولین فرض ہے۔ زکوٰۃ نکالنا اور زکوٰۃ کے پیسے گھر میں ہی لے کر بیٹھنا اور لوگوں پر احسان کر رہے ہیں، ایسا ادا کرنا بالکل اسلام میں نہیں ہے اور اسلام ایسا نہیں بتاتا ہے بلکہ زکوٰۃ کے پیسے ایسے ادا کرنا ہے جیسے کہ ہم جو زکوٰۃ دے رہے ہیں تو اس پر احسان نہیں کر رہے ہیں بلکہ وہ لے رہے ہیں تو ہمارے اوپر احسان کر رہے ہیں۔ یہ سمجھ کر ہمیں زکوٰۃ کے پیسے ادا کرنا ہے اور زکوٰۃ پہلے تو ہمارے رشتہ داروں میں، پاس پڑوس میں، پھر اس کے بعد جو حقدار ہیں ان میں ہمیں زکوٰۃ کے پیسے ادا کرنا ہے۔ جیسے مدرسوں میں، یتیم خانوں میں، بچوں میں جو یتیم بچے ہیں، ان کے ماں باپ نہیں ہیں، ماں نہیں ہے تو باپ نہیں ہے، باپ نہیں ہے تو ماں نہیں ہے، ایسے بچوں کو بھی ہمیں مدد کرنا ہے۔
اس کے علاوہ رمضان کے مہینے میں تین عشرے ہوتے ہیں، پہلا رحمت والا، دوسرا مغفرت والا اور تیسرا جہنم کی آگ سے نجات والا۔ ان تینوں عشروں کی معلومات بچوں تک پہنچانا ہے۔ بچوں کو بتانا ہے رمضان کے 30 روزے ہوتے ہیں۔ 30 روزوں میں پہلا جو ہے رحمت والا عشرہ ہوتا ہے، دوسرا جو ہے مغفرت والا عشرہ ہوتا ہے، تیسرا جو ہے جہنم کی آگ سے نجات والا عشرہ ہوتا ہے۔ یہ تمام بچوں کو بتاتے رہیں، بار بار ان کے ذہنوں میں ڈالتے رہیں تاکہ بچوں میں بھی ڈر، خوف اور خوشی اجاگر ہو کہ غلط کام کرنے سے ہمیں گناہ ملے گا اور اچھے کام کرنے سے ہمیں ثواب ملے گا۔ اگر یہ کام کریں گے تو ہم جنت میں جائیں گے۔ جنت اور جہنم یہ دو چیزیں مرنے کے بعد ہمیں دیکھنا ہی ہے۔ ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ یہ بھی بچوں کو بتانا ہے۔ ہمارے گھر میں بھی اس سے متعلق تعلیم دیں۔ اس طرح سے ہم رمضان کی اہمیت اور افادیت بچوں میں ڈال سکتے ہیں اور سمجھ سکتے ہیں۔ ہم خود بھی اس پر عمل کریں اور دوسروں تک بھی اس کو پہنچانے کی کوشش کریں۔ شکریہ، جزاک اللہ خیراً کثیراً۔

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے