कया अप भी अपने न्यूज़ पेपर की वेब साईट बनाना चाहते है या फिर न्यूज़ पोर्टल बनाना चहाते है तो कॉल करें 9860450452 / 9028982166 /9595154683

رمضان المبارک اور فلسطین: خون میں بھیگے سحر و افطار

از قلم: محمد شہزاد جامعی
امام و خطیب مسجد عائشہ و نائب صدر جمعیت علماء سلوڈ ضلع اورنگ آباد
پیش کردہ (سیّد عبدالقدوس علی)

رمضان… رحمتوں کا مہینہ… برکتوں کی گھڑیاں… وہ وقت جب دنیا بھر کے مسلمان سحری کے وقت بیدار ہوکر اللہ کے حضور ہاتھ بلند کرتے ہیں، افطار کے وقت اپنے رب کی نعمتوں پر شکر بجا لاتے ہیں، اور تراویح میں قرآن کی تلاوت سن کر آنکھوں کو اشک بار کرتے ہیں۔ مگر فلسطین میں رمضان کی سحری بمباری کے دھماکوں کے ساتھ ہوتی ہے، افطار شہداء کے جنازوں کے سائے میں کیا جاتا ہے، اور تراویح کے بعد گلیوں میں لاشیں شمار کی جاتی ہیں۔

یہاں روزہ رکھنے والے صرف بھوک اور پیاس نہیں سہتے، بلکہ ہر لمحہ زندگی اور موت کے درمیان جھولتے ہیں۔ وہاں کسی بچے کی سحری کا وقت نیند سے جاگنے کے بجائے ملبے کے نیچے دم توڑنے کا وقت بن چکا ہے۔ کسی باپ کے ہاتھ میں کھجور اور پانی نہیں، اپنے ہی جگر گوشے کی بے جان لاش ہوتی ہے۔ کسی ماں کے لیے افطار کا لمحہ خوشی نہیں، بلکہ اپنی اجڑی گود کی یاد میں سسکنے کا لمحہ ہوتا ہے۔

یہاں روزہ بھی شہادت کا پیش خیمہ ہے

جب دنیا کے کسی اور حصے میں سحری کے وقت مائیں محبت سے اپنے بچوں کو اٹھا رہی ہوتی ہیں، انہیں نرمی سے کھانے کے لیے بلا رہی ہوتی ہیں، تو فلسطین میں سحری سے پہلے کے دھماکوں میں ماؤں کی گودیں اجڑ رہی ہوتی ہیں، اور وہ چیخ چیخ کر اپنے بچوں کو زندہ تلاش کر رہی ہوتی ہیں۔

جب دنیا میں افطار کے وقت دسترخوانوں پر کھجوریں، پھل، اور مشروبات سجے ہوتے ہیں، تو فلسطین میں دسترخوان پر راکھ، ٹوٹے برتن، اور خون آلود چادریں بچی ہوتی ہیں۔

یہاں کھانے کے لیے کچھ نہیں، مگر پھر بھی روزے نہیں چھوٹتے! یہاں پانی کا ایک قطرہ بھی مشکل سے ملتا ہے، مگر لبوں پر شکوہ نہیں، بلکہ "الحمدللہ” کا ورد ہوتا ہے!

"امی! کیا آج افطار ہوگا؟”

یہ سوال ایک چھوٹے فلسطینی بچے نے کیا، جو بھوک سے بلکتا ہوا اپنی ماں کی گود میں سر رکھے بیٹھا تھا۔ ماں نے اپنے آنسو چھپاتے ہوئے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا اور کہا:
"بیٹا! شاید آج اللہ ہمیں جنت میں افطار کرائے!”

یہ کوئی کہانی نہیں، بلکہ وہ حقیقت ہے جسے لفظوں میں بیان کرنا بھی مشکل ہے۔ وہ ماں جو اپنے بچے کے لیے کھانے کا ایک لقمہ بھی نہ ڈھونڈ سکے، وہ ماں جو اپنے جگر گوشے کو بھوک سے تڑپتے دیکھے، اور پھر اچانک اس کے وجود کو ایک بم کا ٹکڑا چیر دے… وہ ماں کیسی ہوگی؟

"بابا! مجھے بھوک لگی ہے…”

یہ وہ جملہ ہے جو فلسطین کی ہر گلی میں گونجتا ہے۔ مگر یہاں مائیں اپنے بچوں کو کھانا نہیں دے سکتیں، کیونکہ کھانے کے لیے کچھ نہیں بچا۔ کسی کے گھر کی روٹی کے ٹکڑے بھی ملبے میں دب چکے ہیں، کسی کے دسترخوان کی جگہ زمین پر خون کے دھبے لگے ہیں۔

کیا تمہیں یہ سب سن کر نیند آتی ہے؟
کیا تمہیں اپنے سجے ہوئے دسترخوانوں پر شرمندگی محسوس نہیں ہوتی؟
کیا تمہیں یہ خیال نہیں آتا کہ اگر تمہارے اپنے بچے بھوک سے تڑپ رہے ہوتے، تو تم پر کیا گزرتی؟

امت کے ضمیر کو کیا ہوگیا؟

کہاں ہیں وہ جو مسلم اُمہ کے اتحاد کی باتیں کرتے ہیں؟
کہاں ہیں وہ حکمران جو اپنے بیانات میں مظلوموں کی حمایت کا دعویٰ کرتے ہیں؟
کیا فلسطین کے معصوم بچے کسی کو نظر نہیں آتے؟
کیا ان ماؤں کی چیخیں کسی کے کانوں تک نہیں پہنچتیں؟

یہ امت خاموش ہے، یہ امت بے حس ہے، یہ امت اپنے ہی بھائیوں کے خون کا سودا کر چکی ہے! وہ مسجدیں، جہاں کبھی اذانیں گونجتی تھیں، آج ویران کھنڈر بن چکی ہیں۔ وہ گلیاں، جہاں کبھی بچے کھیلتے تھے، آج قبریں بن چکی ہیں۔ وہ بستے، جو علم کی روشنی کے لیے کھلنے تھے، آج خون میں لت پت زمین پر بکھرے پڑے ہیں۔

یہ خون رائیگاں نہیں جائے گا…!

یہ معصوم بچے، یہ بے بس مائیں، یہ خون میں لت پت نمازی… یہ سب قیامت کے دن ہم سے سوال کریں گے!

"جب ہم پر ظلم ہورہا تھا، تب تم کہاں تھے؟ جب ہمارے بچے بھوک سے مر رہے تھے، تمہارے دسترخوان کیوں بھرے ہوئے تھے؟ جب ہماری مسجدوں پر بم برس رہے تھے، تمہاری مسجدوں میں دعائیں کیوں خاموش تھیں؟”

اگر آج تمہارا دل نہ رویا، اگر آج تمہاری آنکھوں سے آنسو نہ نکلے، اگر آج تم نے فلسطین کے مظلوموں کے لیے دعا نہ کی، تو پھر کب کروگے؟

یہ رمضان ہماری آزمائش ہے۔ اگر آج ہم نے فلسطین کے یتیموں اور بیواؤں کے لیے کچھ نہ کیا، اگر ہم نے ان کے حق میں آواز نہ اٹھائی، اگر ہم نے ان کی مدد کے لیے ہاتھ نہ بڑھایا، تو یاد رکھو… ہم سب مجرم ہوں گے!

اٹھو! دعا کرو، مدد کرو، اور امت کے اس زخم پر مرہم رکھو، اس سے پہلے کہ تمہاری بے حسی کا حساب تم سے لیا جائے!

Shaikh Akram

Shaikh Akram S/O Shaikh Saleem Chief Editor Aitebar News, Nanded (Maharashtra) Mob: 9028167307 Email: akram.ned@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے